Page is loading...

باب ٩

متفرقات

 
س
۱۱۰۲
۔ میری بھن نے کچھ عرصہ پھلے ایک بے نمازی سے شادی کرلی ہے  چونکہ وہ ہم ارے ساتھ ھی رھتا ہے  لھذا میں اس سے گفتگو اور معاشرت پرمجبور ہوں بلکہ اکثر اس کے کھنے پر بعض کاموں میں اس کی مدد کرتا رھتا ہوں پس کیا شریعت کی رو سے اس سے گفتگو و معاشرت اور بعض کاموں میں اس کی مدد کرنا جائز ہے ؟
ج۔ اس سلسلہ میں آپ کے اوپر صرف یہ ہے  کہ جب بھی اس کے وجوب کے حالات اور شرائط موجود ہوں تو آپ متواتر امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرتے رہیں  اور آپ کی مدد معاشرت اسے ترک نماز پرجبری نہ بنائے تو اس کی مدد کرنے میں کوئی اشکال نہیں  ہے ۔
س
۱۱۰۳
۔ اگر ظالموں اور حاکم جور کے پاس علمائے اعلام کی آمدو رفت و معاشرت سے ان کے ظلم میں کمی واقع ہوتی ہو تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
ج۔ اگر ایسے حالات میں عالم پر یہ ثابت ہوجائے کہ اس کا ظالم کے پاس آنا جانا ظالم کو ظلم کے ترک کرنے اور منکرات سے روکنے میں موثر ہوگا۔ یا کوئی ایسا مسئلہ ہو جس کو ہم یت دینا واجب ہو تو اس صورت میں اس میں کوئی اشکال نہیں ۔
س
۱۱۰۴
۔ میں نے چند سال قبل شادی کی ہے  اور میں دینی امور اور شرعی مسائل کو بھت زیادہ ہم یت دیتا ہوں اور امام خمینی
 
(
رہ) کا مقلد ہوں مگر میری زوجہ دینی مسائل کو ہم یت نہیں  دیتی، بعض اوقات ، ہم اری بہم ی بحث و نزاع کے بعد وہ ایک مرتبہ نما زپڑھ  لیتی ہے  مگر زیادہ تر نہیں  پڑھتی ہے  جس سے مجہے  بھت دکہ ہوتا ہے  ایسی صورت میں میرا کیا فریضہ ہے ؟
ج۔ آپ پر اس کی اصلاح کے اسباب فرہم  کرنا واجب ہے  خواہ کسی بھی طریقہ سے ہوں اور ایسی خشونت سے پرھیز ضروری ہے  جس سے بدخلقی اور عدم نظم و نسق کی بو آتی ہے ۔ لیکن آپ کی یاد دھانی کے لئے عرض ہے  کہ دینی مجالس میں شرکت کرنا اور دین دار خاندانوں کے یھاں آنا جانا اصلاح میں بڑا موثر ہے ۔
س
۱۱۰۵
۔ اگر ایک مسلمان قرائن کی مدد سے اس نتیجہ پر پھنچے کہ اس کی زوجہ ، چند بچوں کی ماں ہونے کے باوجود ، پوشیدہ طور پر ایسے افعال کا ارتکاب کرتی ہے  جو عفت کے خلاف ہیں  لیکن اس موضوع کے اثبات پر اس کے پاس کوئی شرعی دلیل نہیں  ہے ۔ مثلاً گواھی دینے کے لئے گواہ نہیں  ہے  تو شرعاً اس عورت کے ساتھ انسان کیسا سلوک کرے ؟ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بچے اسی کے زیر سایہ پرورش پائیں گے اور اگر وہ شخص یا اشخاص ، جو کہ ایسے قبیح اور احکام خدا کے برخلاف افعال کے مرتکب ہوتے ہیں ، پھچان لئے جائیں تو ان کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاھئیے؟ واضح رہے  کہ ان کے خلاف ایسی دلیلیں نہیں  ہیں  جنہیں  شرعی عدالت میں پیش کیا جاسکے؟
ج۔ ظنی قرائن و شواھد کے ذریعہ پیدا ہونے والے سوء ظن سے اجتناب واجب ہے  اور اگر محرمات شرعی کا وقوع ثابت ہوجائے تو اسے وعظ و نصیحت اور نھی عن المنکر کے ذریعہ اس فعل سے روکنا واجب ہے  اور اگر نھی عن المنکر کا اس پر کوئی اثر نہ ہو تو اس وقت وہ عدلیہ سے رجوع کرسکتا ہے  بشرطیکہ اس کے پاس ثبوت موجود ہو۔
س
۱۱۰۶
۔ کیا لڑکی کے لئے جائز ہے  کہ وہ جوان کو نصیحت اور راھنمائی کرے اور تعلیم وغیرہ میں موازین شرعیہ کی رعایت کے التزام کے ساتھ اس کی مدد کرے؟
ج۔ مفروضہ سوال میں کوئی مانع نہیں  ہے  لیکن شیطانی وسوسوں اور بھکانے والی باتوں سے پرھیز ضروری ہے  اور اس سلسلہ میں شرع کے احکام کی رعایت کرنا، جیسے اجنبی کے ساتھ تنھا نہ رھنا واجب ہے ۔
س
۱۱۰۷
۔ مختلف اداروں اور دفاتر کے ان ماتحت ملازمین کی تکلیف کیا ہے  جو کبھی کبھی اپنے دفاتر میں اپنے افسران بالا سے اداری اور شرعی مخالفت دیکہیں  ؟ اور کیا اس شخص سے اس جگہ تکلیف ساقط ہے  جب اس بات کا اندیشہ ہو کہ اگر وہ نھی عن المنکر کرے گا تو اسے افسران بالادست سے نقصان پھنچے گا؟
ج۔ اگر امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے شرائط موجود ہوں تو انہیں امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرنا چاھئیے ورنہ اس سلسلہ میں ان کے اوپر کوئی شرعی ذمہ داری نہیں  ہے ۔ اسی طرح اگر انہیں  اس سے ضرر کا خوف ہو تو بھی ان سے تکلیف ساقط ہے  یہ اس جگہ کا حکم ہے  جھاں اسلامی حکومت کا نظام نافذ نہ ہو لیکن جھان اسلامی حکومت ہو اور وہ اس فریضہ کو ہم یت دیتی ہو تو اس وقت امر
بالمعروف اور نھی عن المنکر سے عاجز شخص پر واجب ہے  کہ اس سلسلہ میں حکومت نے جو مخصوص ادارے سے قائم کئے ہیں  ان کو اطلاع دے تاکہ فساد و مفسدین کی بیخ کنی تک چارہ جوئی کی جائے۔
س
۱۱۰۸
۔ اگر کسی ادارہ کے بیت المال میں غبن اور چوری ہوجائے اور یہ سلسلہ جاری ہو اور وھاں ایک ایسا شخص موجود ہو جو خود کو اس لائق سمجھتا ہے  کہ اگر یہ ذمہ داری اس کے سپرد کردی جائے تو اس کی اصلاح کرسکے گا اور یہ ذمہ داری اسے اس وقت تک نہیں  ملے گی جب تک وہ اسے لینے کے لئے بعض مخصوص افراد کو رشوت نہ دے تو کیا بیت المال کو دست برد سے بچانے کے لئے رشوت دینا جائز ہے  ؟ درحقیقت یہ بڑی بد عنوانی کو چہوٹی بدعنوانی کے ذریعہ ختم کرنا ہے ؟
ج۔ جو اشخاص اس بات سے باخبر ہیں  کہ شریعت کی مخالفت ہورھی ہے  ، ان پر واجب ہے  کہ وہ نھی عن المنکر کے شرائط و ضوابط کا لحاظ کرتے ہوئے نھی عن المنکر کریں اور کسی کام کی ذمہ داری خود سنبھالنے کے لئے اگرچہ وہ مفاسد کو روکنے ھی کی غرض سے ہو، رشوت دینا اور غیر قانونی اختیار کرنا جائز نہیں  ہے ۔ ھاں اگر یہ چیزیں اس شھر میں فرض کی جائیں جھاں اسلامی حکومت ہو تو وھاں کے لوگوں سے یہ واجب صرف امر بالمعروف اور نھی عن المنکر سے عاجز ہونے کی بنا پر ساقط نہیں  ہوگا بلکہ وھاں واجب ہے  کہ حکومت کے قائم کردہ محکمہ کو اطلاع دے۔
س
۱۱۰۹
۔ کیا منکرات ، نسبی امور میں سے ہیں  تاکہ یونیورسٹیوں کے موجودہ ماحول کا باھر کے فاسد ماحول سے موازنہ کیا جائے اور اس طرح بعض منکرات سے نھی نہ کی جائے اور نہ ان سے روکا جائے، اس لئے کہ ان کو حرام اور منکر نہیں  قرار دیا جاتا؟
ج۔ نامشروع اور برے افعال ، برے ہونے کی حیثیت سے نسبی نہیں  ہیں ۔ البتہ جب بعض برے افعال کا دوسرے قبیح افعال سے موازنہ کیا جائے گا تو کچھ زیادہ ھی قبیح و حرام ثابت ہوں گے ۔ بھر حال اس شخص پر نھی عن المنکر کرنا واجب ہے  جس کے لئے شرائط فرہم  ہوں، اور اس کو ترک کرنا اس کے لئے جائز نہیں  ہے  اور اس سلسلہ میں برے افعال کے درمیان کوئی فرق نہیں  ہے  اور نہ ھی یونیورسٹی کے ماحول کو دوسرے ماحول سے اس لحاظ سے جدا کیا جاسکتا ہے ؟
س
۱۱۱۰
۔ الکحل والے ایسے مشروبات کا کیا حکم ہے  جو ان اجنبیوں کے پاس پائے جاتے ہیں  جو اسلامی ممالک کے بعض اداروں میں ملازمت کے لئے آتے ہیں  اور
انہیں  وہ اپنے گھروں میں یا ان جگہوں پر پیتے ہیں  جو ان کے لئے مخصوص ہیں ؟ اور اسی طرح ان کے خنزیر کا گوشت لانے اور اسے کھانے کا کیا حکم ہے  ؟ اور جو صفت اور اقدار انسانی کے خلاف اعمال کا ارتکاب کرتے ہیں  ان کا کیا حکم ہے ؟ کارخانہ کے ذمہ داروں اور ان اجنبیوں کا ساتھ کام کرنے والوں کی تکلیف کیا ہے ؟ ایسی حالت میں ہم  کیا قدم اٹھائیں جبکہ مربوط ادارے اور کارخانوں کے ذمہ دار افراد اطلاع کے بعد بھی اس بارے میں کسی قسم کی کاروائی نہ کریں؟
ج۔ ان کے ذمہ دار حکام پر واجب ہے  کہ ان لوگوں کو کھلے عام ایسے امور جیسے شراب خواری اور حرام گوشت کھانے سے منع کریں اسی طرح لوگوں کے سامنے ان اشیاء کا حمل و نقل نہ کریں، لیکن جو امور عفت عامہ کے خلاف ہیں  انہیں  انجام دینے کی انہیں  اجازت نہیں  ہے  بھر حال اس سلسلہ میں ان کے لئے قانون کا اجراء ان ھی عھدھداروں کے توسط سے ہونا چاھئیے جو ان کے لئے مختص ہیں ۔
س
۱۱۱۱
۔ بعض برادران امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی غرض سے ایسے مقامات پر جاتے ہیں  جھاں اکثر بے پردہ عورتیں جمع ہوتی ہیں  تاکہ انہیں  وعظو نصیحت کریں کیا ان کے لئے جائز ہے  کہ بے پردہ عورتوں کی طرف نگاہ کریں؟ اس اعتبار سے کہ وہ اس جگہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کی غرض سے گئے ہیں  ؟
ج۔ غیر ارادی طور پر پھلی مرتبہ نگاہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں  ہے  لیکن جان بوجہ کر چھرہ اور دونوں ھتھیلیوں کے علاوہ کسی چیز کو دیکھنا جائز نہیں  ہے  اگرچہ مقصد امر بالمعروف ھی کیوں نہ ہو۔
س
۱۱۱۲
۔ ان مومن جوانوں کا کیا فریضہ ہے  جو بعض مخلوط
 
(
 
نظام تعلیم والی
 
)
 
یونیورسٹیوں میں برے اعمال کا مشاھدہ کرتے ہیں ؟
ج۔ ان پر واجب ہے  کہ خود کو برائیوں میں ملوث نہ کریں اور اگر شرائط موجود ہوں اور وہ قدرت رکھتے ہوں تو ان پر امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے لئے اٹھ کھڑے ہونا واجب ہے ۔

Share this page