Page is loading...

باب ٦

کتاب الخمس

ھبہ ، ھدیہ ( تحفہ) بینکوں کے انعامات اور مھر و میراث

س۸۶۸۔ ھبہ اور عید کے تحفے ( عیدی) پر خمس ہے یا نہیں ؟

ج۔ ھبہ اور ھدیہ پر خمس نہیں ہے ۔ اگرچہ ان میں سے جو کچھ سالانہ اخراجات سے بچ جائے اس کا خمس نکالنا احوط ہے ۔

س۸۶۹۔ آیا بینکوں اور قرض الحسنہ کے اداروں سے ان کے حصہ داروں کو ملنے والے انعامات پر بھی خمس ہے یا نہیں ؟ اسی طرح وہ نقدی تحائف جو انسان اپنے شناسا افراد یا عزیزوں سے پاتا ہے ،ا س پر بھی خمس ہے یا نہیں ؟

ج۔ انعامات اور تحائف اگر بہت زیادہ قیمتی نہیں ہیں تو ان میں خمس واجب نہیں ہے لیکن اگر وہ بہت زیادہ قیمتی ہوں تو ان میں خمس کا واجب ہونا بعید نہیں ہے ۔

س۸۷۰۔ شھید کے اھل و عیال کے خرچ کے لئے جو رقم بنیاد شھید ( شھید فاوٴنڈیشن ) سے ملتی ہے ، اگر وہ ان کے سالانہ اخراجات سے زائد ہو تو اس میں خمس ہے یا نہیں ؟

ج۔ شھیدان محترم کے پسماندگان کو ” بنیاد شھید “ سے جو کچھ ملتا ہے اس میں خمس نہیں ہے ۔

س۸۷۱۔ وہ نان و نفقہ جو باپ یا بھائی یا قریبی رشتہ دار کی جانب سے کسی کو دیا جاتا ہے وہ ھدیہ محسوب ہوگا یا نہیں ؟ اور جب نفقہ دینے والا اپنے اموال کا خمس نہ دیتا ہو تو نفقہ لینے والے پر (پائے ہوئے نفقہ کا)خمس نکالنا واجب ہے یا نہیں ؟

ج۔ ھبہ اور تحفہ کے عنوان کا تحقق ان کے دینے والوں کے ارادہ کے تابع ہے ۔ اور جب تک نفقہ لینے والے کو یہ یقین حاصل نہ ہو کہ جو کچھ اسے خرچ کے لئے دیا گیا ہے اس پر خمس ( واجب ) ہے ۔ اس کے لئے خمس نکالنا واجب نہیں ہے ۔

س۸۷۲۔ میں نے اپنی بیٹی کو جھیز میں ایک گھر رہنے کے لئے دیا ہے اس پر خمس ہے یا نہیں ؟

ج۔ آپ نے اپنی بیٹی کو جو مکان دیا ہے اگر وہ عرف عام میں آپ کی حیثیت کے مطابق ہے تو آپ پر اس کا خمس دینا واجب نہیں ہے ۔

س۸۷۳۔ کیا سال پورا ہونے سے پھلے کسی شخص کو اپنی زوجہ کو ھدیہ کے طور پر کچھ دینا جائز ہے جبکہ اسے علم ہو کہ اس کی زوجہ اس مال کو مستقبل میں گھر خریدنے یا وقت ضرورت خرچ کے لئے رکھ دے گی؟

ج۔ ہاں اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے اور جو کچھ اس نے اپنی زوجہ کو دیا ہے اگر وہ عرف عام میں اس کے مناسب حال اور اس جیسے لوگوں کی حیثیت کے مطابق ہو اور یہ ( بخشش) خمس کی ادائیگی سے فرار کے لئے نہ ہو تو ا س پر خمس نہیں ہے ۔

س۸۷۴۔ شوھر اور زوجہ صرف اس لئے کہ نہیں اپنے مال میں سے خمس نہ دینا پڑے خمس کی تاریخ آنے سے پھلے ھی اپنے اموال کا تخمینہ کرکے سالانہ بچت کو بعنوان ھدیہ ایک دوسرے کو دے دیتے ہیں ۔ مھربانی کرکے ان کے خمس کا حکم بیان فرمائیے؟

ج۔ اس کی بخشش سے ان دونوں سے واجبی خمس ساقط نہیں ہوسکتا، البتہ فقط اس مقدار پر خمس ساقط ہوجائے گا جس کا ھدیہ دینا عرف عام میں دونوں کی حیثیت کے مطابق ہو۔

س۸۷۵۔ ایک شخص نے حج کمیٹی کے کہاتے میں مستحب حج بجالانے کے لئے اپنا پیسہ جمع کیا مگر خانہ خدا کی زیارت کے لئے جانے سے پھلے ھی اسے موت آگئی تو اس جمع شدہ رقم کا کیا حکم ہے ؟ کیا اس رقم کو مرنے والے کی نیابت میں حج کروانے پر صرف کرنا واجب ہے ؟ اور کیا اس رقم میں سے خمس نکالنا واجب ہے ؟

ج۔ حج کرنے کے لئے جو سند نامہ اس کو حج کمیٹی میں جمع کی گئی رقم کے عوض میں ملا ہے اس وقت اس کی قیمت کو مرنے والے کے ترکے میں محسوب کیا جائے گا۔ اور اگر مرنے والے پر حج واجب نہیں ہے تو اس کی قیمت کو اس کی نیابت میں حج کرانے پر صرف کرنا واجب نہیں ہے اور اس کا خمس نکالنا بھی واجب نہیں ہے اگرچہ سفر حج کے لئے جمع کی ہوئی رقم اس مال کی منفعت میں سے رھی ہو جو اس وقت باعتبار قیمت یا باعتبار اجرت غیر مخمس تھی۔ چونکہ ایسی صورت میں حج کمیٹی کے ساتھ طے شدہ معاھدے میں دی گئی رقم ایسا مال ہوگا جسے میت نے اپنے سال کے اخراجات میں صرف کیا تھا۔

س۸۷۶۔ باپ کا باغ بیٹے کو بعنوان ھبہ یا میراث ملا اس وقت باغ کی قیمت بہت زیادہ نہ تھی۔ لیکن بیچتے وقت اس باغ کی قیمت سابقہ قیمت سے زیادہ ہے تو کیا اس صورت میں بڑھی ہوئی قیمت میں خمس ہے ؟

ج۔ میراث وھبہ اور فروخت کے نتیجے میں ان دونوں سے حاصل شدہ قیمت میں خمس واجب نہیں ہے چہے ان کی قیمت بڑھ ھی کیوں نہ گئی ہو۔

س۸۷۷۔ بیمہ کمپنی میری مقروض ہے اور یقینی ہے کہ آج ھی کل میں وہ میرا قرض ادا کرے تو اس ( بیمہ) سے ملنے والی رقم میں خمس ہے یا نہیں ؟

ج۔ بیمہ سے ملنے والی رقم پر خمس نہیں ہے ۔

س۸۷۸۔ کیا اس رقم پر بھی خمس ہے ، جسے میں اپنی مہانہ تنخواہ سے اس لئے بچا کر رکھتا ہوں کہ بعد میں اس سے شادی کے لوازمات مھیا کرسکوں؟

ج۔ اگر تنخواہ میں ملنے والی رقم سے بچا رکہا ہے تو آپ پر واجب ہے کہ سال پورا ہوتے ھی اس کا خمس ادا کریں خواہ اسے شادی کے ضروری اسباب خریدنے کے لئے ھی کیوںنہ رکہا ہو۔

س۸۷۹۔ کتاب تحریر الوسیلہ میں بیان کیا گیا ہے کہ عورت کو دئیے جانے والے مھر پر خمس نہیں ہے ۔ مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ مھر موجل ( بعد میں ادا کی جانے والی رقم ) پر معجل ( عقد کے وقت دی گئی رقم) پر نہیں ہے ۔ امیدوار ہوں کہ اس کی وضاحت فرمائیں گے؟

ج۔ اس ( خمس) میں مھر معجل اور موجل اور نقد رقم یا سامان میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

س۸۸۰۔ حکومت اپنے ملازموں کو عید کے دن عیدی کے نام سے کچھ دیتی ہے جس میں سے کبھی کبھی سال گذر جانے کے بعد کچھ بچ جاتا ہے ۔ چنانچہ باوجودیکہ ملازمین کی عیدی پر خمس نہیں ہے پھر بھی ہم لوگ اس میں سے کچھ نکال دیا کرتے ہیں کیونکہ اسے کامل طور پر ھدیہ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ ہم اس کے مقابلہ میں قیمت ادا کرتے ہیں البتہ وہ قیمت بازار کے بہوٴ سے بہت کم ہوتی ہے ، توکیا جو قیمت ہم نے اس کے خریدنے میں صرف کی ہے اس کا خمس دینا ہم پر واجب ہے یا اس چیز کی بازاری قیمت کا خمس دینا واجب ہے یا یہ کہ چونکہ وہ عیدی کے نام سے ملتی ہے لھذا اس میں خمس ہے ھی نہیں ؟

ج۔ مذکورہ صورت میں بقیہ اصل جنس کا یا اس کی موجودہ قیمت کا خمس نکالنا آپ پر واجب ہے ۔

س۸۸۱۔ ایک شخص مر گیا اس نے اپنی حیات میں اپنے ذمہ خمس کو لکہ رکہا تھا اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ مگر اس کی وفات کے بعد اس کی ایک بیٹی کے سوا تمام ورثاء خمس کی ادائیگی میں مانع ہیں اور میت کے ترکہ کو اپنے اور میت اور اس کے علاوہ دیگر امور میں صرف کررہے ہیں ۔ لھذا درج ذیل مسائل میں آپ کی رائے کیا ہے بیان فرمائیں ۔

۱۔ میت کے منقولہ یا غیر منقولہ اموال میں اس کے داماد یا کسی دوسرے وارث کے لئے تصرف کرنے کا کیا حکم ہے ؟

۲۔ مرحوم کے گھر میں اس کے داماد یا ورثاء میں سے کسی دوسرے کے کہانا کہانے کا کیا حکم ہے ؟

۳۔ مذکورہ افراد کی طرف سے جو اخراجات ہوگئے ہیں یا جو کہانا وغیرہ تناول کیا گیا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ اگر مرنے والے نے وصیت کی تھی کہ اس کے ترکہ سے بطور خمس رقم ادا کی جائے یا خود ورثاء کو یقین حاصل ہوجائے کہ مرنے والا ایک مقدار خمس کا مقروض ہے تو اس وقت تک ان کو ترکہ میں تصرف کا حق نہیں جب تک کہ وصیت کے مطابق یا جس مقدار میں اس کے ذمہ خمس یقینی ہے اس کے ترکہ سے ادا نہ کردیا جائے اور ان( ورثاء) کے تمام وہ تصرفات جو اس کی وصیت کی تکمیل یا قرض کی ادائیگی سے پھلے ہوئے ہیں وہ غصب کے حکم میں ہوں گے۔ اور ان ( ورثاء) کو مذکورہ تصرفات کے سلسلہ میں ضامن مانا جائے گا۔ (ہوگا یعنی ان کو بھر حال اسے ادا کرنا)

قرض ، تنخواہ ، بیمہ اور پینشن

س۸۸۲۔ میرے پاس کاروبار کے سالانہ منافع میں سے جو کچھ موجود ہے اس میں خمس واجب ہے اور میں فی الحال کسی حد تک مقروض بھی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مجہ کو یہ حق ہے کہ میں اپنے مجموعی سالانہ منافع سے اس قرض کی رقم کو علیحدہ کرلوں؟ واضح رہے کہ قرض کا سبب نجی موٹر کار خریدنا ہے ۔

ج۔ وہ قرض جو نجی گاڑی خریدنے کے سلسلہ میں لیا ہے اسے کاروبار کے سالانہ منافع سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

س۸۸۳۔ وہ ملازمین جن کے پاس کبھی کبھی سالانہ اخراجات سے کچھ بچ جاتا ہے کیا ان پر خمس واجب ہے جبکہ وہ لوگ یک مشت یا بالاقساط ادائیگی کی شرط پر مقروض بھی ہیں ؟

ج۔ اگر وہ قرض سالانہ اخراجات کے ضمن میں اسی سال لیا گیا ہے ےا اسی سال کے اخراجات کے لئے بعض ضروری اشیاء کی خریداری کے لئے لیا گیا ہو تو اسے سالانہ بچت سے الگ کرکے خمس نکالا جائے گا۔ ورنہ جتنی بچت ہوئی ہے سب کا خمس دیا جائے گا۔

س۸۸۴۔ کیا حج تمتع کی غرض سے حاصل کئے ہوئے قرض کا مخمس (پاک ہونا) واجب ہے اس طرح کہ خمس نکالنے کے بعد جو رقم بچ جائے اسے حج پر خرچ کیا جائے؟

ج۔ جو مال بعنوان قرض لیا گیا ہو اس پر خمس واجب نہیں ہے ۔

س۸۸۵۔ میں نے گذشتہ پانچ سال کے دوران ایک ہوٴسنگ کمپنی کو اس امید پر کچھ رقم دی ہے کہ وہ تہوڑی سی زمین خرےد کہ میرے رہنے کے لئے مکان مھیا کردے لیکن ابھی تک مجھے زمین دئیے جانے کا حکم صادر نہیں ہوا ہے ۔ لھذا اب میرا ارادہ یہ ہے کہ میں اپنی دی ہوئی رقم اس کمپنی سے واپس لے لوں۔ واضح رہے کہ کل رقم کا ایک حصہ تو میں نے قرض لے کردیا ہے اور ایک حصہ گھر کے فرش کو بیچ کردیا تھا اور باقی میں نے اپنی بیوی کی تنخواہ سے جمع کیا تھا جو پیشہ کے لحاظ سے معلمہ ہے ۔ آپ اس تفصیل کی روشنی میں ذیل کے دو سوالوں کا جواب مرحمت فرمائیے:

۱۔ اگر میں اپنی رقم واپس لے سکا اور اس سے مکان یا زمین خریدلی تو کیا اس پر خمس واجب ہے ؟

۲۔ اس رقم میں جو خمس واجب ہے اس کی مقدار کیا ہوگی؟

ج۔ جو رقم آپ نے اپنی زوجہ سے بطور ھبہ لی ہے اور جو رقم قرض لی ہے اس میں خمس نکالنا آپ پر واجب نہیں ہے ۔ لیکن گھر کا جو قالین آپ نے بیچا ہے اگر وہ کاروبار کے سالانہ منافع سے سالانہ خرچ کے حساب میں خریدا تھا تو اس کی قیمت میں بنابر احتیاط خمس واجب ہے ۔ مگر یہ کہ آپ مکان خریدنے میں کامل طور پر اس رقم کے محتاج ہوں ، اس طرح کہ اگر اس رقم کا خمس ادا کریں تو بقیہ رقم سے آپ وہ مکان نہ خرید سکیں جس کی آپ کو ضرورت ہے تو پھر آپ پر اس کا خمس نکالنا واجب نہیں ہے ۔

س۸۸۶۔ چند سال قبل میں نے بینک سے قرض لیا اور اس کو اپنے کرنٹ اکاوٌنٹ میں ایک سال کے لئے رکہ دیا لیکن اس قرض کی رقم کو کام پر نہ لگاسکا ، البتہ ھر مہینہ اس کی قسط ادا کرتا رہا ہوں تو کیا اس قرض میں خمس نکالنا ہوگا؟

ج۔ بنابر فرض سوال قرض لئے ہوئے مال کی اسی مقدار میں سے خمس نکالنا ہوگا جس کی قسطیں آپ نے کاروبار کے منافع سے ادا کی ہیں ۔

س۸۸۷۔ میں نے اپنے سال کی ابتداء میں تنخواہ لیتے ھی حساب کیا تو باقی ماندہ رقم اور گھر کی بچی ہوئی چیزوں کا خمس ۸۱۰ روپے ہوئے۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ میں مکان کے سلسلہ میں مقروض ہوں اور یہ قرض بارہ سال تک رہنے والا ہے امید رکھتا ہوں کہ خمس کے سلسلہ میں میری راھنمائی فرمائیں گے؟

ج۔ اگرچہ تعمیرمکان کی خاطر لئے گئے قرض کی قسطوں کا اسی سال کے کاروباری منافع سے ادا کرنا جائز ہے لیکن اگر ادا نہ کیا جائے تو نہیں اس سال کے منافع سے جدا نہیں کیا جاسکتا بلکہ آخر سال میں جو بچت آئی ہے اس کا خمس نکالنا واجب ہے ۔

س۸۸۸۔ طالب علم نے جن کتابوں کو والد کی کمائی یا اس قرض سے جو طلاب کو کالج سے دیا جاتا ہے خریدا ہو اور خود اس کے پاس کوئی ذریعہ آمدنی نہ ہو تو کیا ان میں خمس واجب ہے ؟ اور اگر یہ معلوم ہو کہ باپ نے کتاب کی خریداری میں جو مال دیا ہے اس نے اس کا خمس ادا نہیں کیا ہے تو کیا اس میں خمس دینا واجب ہوگا؟

ج۔ قرض کی رقم سے خریدی ہوئی کتابوں میں خمس نہیں ہے ۔ اسی طرح اس مال میں بھی خمس نہیں ہے کہ جس کو باپ نے اسے دیا ہے ۔ مگر یہ کہ اس بات کا یقین پیدا ہوجائے کہ یہ وھی مال ہے جس میں خمس واجب تھا تو اس صورت میں اس کا خمس دینا واجب ہے ۔

س۸۸۹۔ جب کوئی شخص کچھ مال قرض کے طور پرلے اور اپنے سال کے حساب سے پھلے اسے ادا نہ کرسکے تو اس قرض کا خمس، لینے والے پر ہے یا دینے والے پر؟

ج۔ قرض کی رقم میں قرض لینے والے پر مطلقاً خمس نہیں ہے لیکن اگر قرض دینے والے نے اپنے کاروباری سالانہ منافع کا خمس نکالنے سے پھلے یہ قرض دیا ہے تو اگر وہ سال کے تمام ہونے تک قرضدار سے قرض وصولی کرسکے تو تاریخ خمس آتے ھی اس پر واجب ہے کہ اس کا بھی خمس نکالے اور اگر سال کے آخر تک وصول نہ کرسکے تو ابھی اس کا خمس نکالنا اس پر واجب نہ ہوگا بلکہ اس کی وصولی کا منتظر رہے گا اور جب وصولی ہوجائے تو اس وقت اس پر اس کا خمس نکالنا واجب ہے ۔

س۸۹۰۔ ریٹائرڈ ( وظیفہ یاب) افراد جن کو پینشن مل رھی ہے ، کیا ان پر بھی واجب ہے کہ سال بھر کی تنخواہ کا خمس نکالیں؟

ج۔ یہ لوگ پینشن کے طور پر جو رقم پارہے ہیں اگر وہ ان کی ملازمت کے زمانے کی تنخواہ سے کاٹی گئی ہے تو جس سال نہیں وہ رقم پینشن کے طور پر دی جائے اگر وہ اس سال کے خرچ سے زائد ہو تو اس میں خمس واجب ہے ۔

س۸۹۱۔ ایسے تمام وہ قیدی جن کی مدت اسیری میں ان کے والدین کو جمہوری اسلامی کی طرف سے مہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے اوران کی وہ رقم بینک میں جمع ہے کیا اس میں خمس واجب ہے ؟ جبکہ یہ معلوم ہے کہ اگر وہ لوگ آزاد ہوتے تو اس رقم کو خرچ کر ڈالتے ؟

ج۔ مال مذکورہ میں خمس نہیں ہے ۔

س۸۹۲۔ مجہ پر کچھ قرض ہے کہ اب جبکہ سال کا آخری دن آیا ہے اور سالانہ بچت بھی میرے پاس اتنی ہے کہ قرض واپس کرنے پر قدرت رکھتا ہوں ۔ لیکن قرض دینے والے نے قرض کا مطالبہ نہیں کیا تو کیا میں قرض کی رقم کو سالانہ بچت سے علیحدہ کرسکتا ہوں؟

ج۔ قرضہ چہے رقم قرض لینے کی وجہ سے ہو اگر یہ زندگی کے ساز و سامان قرض پر لئے جانے کی وجہ سے ہو اگر یہ زندگی کے سالانہ اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ہے تو اس کو سالانہ بچت سے جدا کیا جاسکتا ہے اور اس کے برابر سالانہ منفعت میں خمس نہیں ہے ۔ لیکن اگر یہ قرض زندگی کے سالانہ اخراجات پورا کرنے کے لئے نہ ہو یا گذشتہ برسوں کا قرض ہو تو اگرچہ سالانہ بچت سے اس کا ادا کرنا جائز ہے لیکن اگر اس کو سال کے تمام ہونے سے پھلے ادا نہیں کیا گیا تو سالانہ منفعت سے اس کو جدا نہیں کیاجاسکتا۔

س۸۹۳۔ جس کے سالانہ حساب میں کچھ مال بچ گیا ہو تو کیا اس پر خمس واجب ہے جبکہ سال پورا ہونے کے وقت وہ مقروض ھی ہو لیکن اسے معلوم ہے کہ قرض ادا کرنے کے لئے اس کے پاس چند سال کی مھلت ہے ؟

ج۔ قرض چہے ابھی دینا ہو یا بعد میں سالانہ منفعت سے جدا نہیں کیا جائے گا سوائے اس قرض کے جس کو اسی سال زندگی کے اخراجات کے لئے لیا گیا ہو اس قرض کو منفعت سے جدا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس قرض کے برابر سالانہ بچت میں خمس نہیں ہے ۔

س۸۹۴۔ بیمہ کمپنیاں جسمانی یا مالی نقصان کے بدلے میں جو رقم اپنی قرارداد کے مطابق دیتی ہیں کیا اس پر خمس ہے ؟

ج۔ بیمہ کمپنیاں جو رقم بیمہ شدہ اشیاء کے مقابل میں دیتی ہیں اس پر خمس نہیں ہے ۔

س۸۹۵۔ گزشتہ سال میںنے کچھ رقم لے کر اس سے ایک زمین اس امید پر خریدلی کہ اس کی قیمت بڑہے گی تاکہ بعد میں اس زمین اور اپنے موجودہ گھر کو بیچ کر آئندہ کے لئے رہائشی مشکل کو حل کرسکوں۔ اور اب جبکہ میرے خمس کا سال آپہونچا ہے تومیرا سوال یہ ہے کہ آیا میں گذشتہ سال کے کاروباری منافع میں سے کہ جس پر خمس واجب ہوچکا ہے اپنا قرض جدا کرسکتا ہوں یا نہیں ؟

ج۔ اس فرض کی بناء پر کہ قرض کا مال زمین کی خریداری میں اس کو آئندہ بیچنے کی امید پر خرچ ہوا ہے اس لئے جس سال قرض لیاگیا ہے اس سال کے منافع میں سے اسے جدا نہیں کیا جاسکتابلکہ واجب ہے کہ سالانہ اخراجات کے بعد جو کچھ بھی کاروباری منافع میں سے بچ گیا ہو اس سب کا خمس ادا کیاجائے۔

س۸۹۶۔ میں نے بینک سے کچھ رقم قرض لی تھی جس کے ادا کرنے کا وقت میرے خمس کی تاریخ کے بعد آئے گا اور مجھے ڈر ہے کہ اگر اس سال میں نے اس قرض کو ادا نہ کیا تو آئندہ سال اس کے اد ا کرنے پر قادر نہیں رہوں گا اب جب میرے خمس کی تاریخ آئے گی تو اس مشکل کے پیش نظر میرے خمس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ اگرسال ختم ہونے سے پھلے سال کے منافع کو قرض کی ادائیگی میں خرچ کردیں اور وہ قرض بھی اصل سرمایہ کو زیادہ کرنے کے لئے نہ لیا گیا ہو تو اس پر خمس نہیں ہے لیکن اگر قرض اصل سرمایہ کی زیادتی کے لئے ہو یا سال کے منافع اس سال کے ختم ہونے کے بعد قرض کی ادائیگی کے لئے ہو یاذخےرہ کئے گئے ہوں تو آپ پر واجب ہے کہ اس کا خمس ادا کریں۔

گھر ، وسائل نقلیہ ( گاڑی وغیرہ) اور زمین کی خرید و فروخت

س۸۹۷۔ آیا غیر مخمس مال سے بنوائے ہوئے گھرمیں خمس ہے ؟ اگر خمس واجب ہے توموجودہ قیمت کو سامنے رکہ کر خمس نکالا جائے گا یا جس سال بنا ہے اس سال کی قیمت کے مطابق ؟

ج۔ اگر وہ اپنی رہائش کا گھر نہیں ہے اور اس نے اس گھر کی تعمیر کی غیر مخمس مال سے کی ہو، اس طریقہ سے کہ مال کو اس گھر کے مصالحہ کی خریداری اور مزدوروں کی اجرت وغیرہ میں خرچ کیا ہے تو اس کو حال حاضر میں اس گھر کی عادلانہ قیمت میں سے خمس نکالنا ہوگا لیکن اگر اس نے قرض اور ادہار لے کر بنایا اور بعد میں اس قرض کو غیر مخمس مال سے چکایا ہو تو صرف اسی مال میں خمس نکالنا ضروری ہے جو اس نے قرض چکانے میں صرف کیا ہے ۔

س۸۹۸۔ میں نے اپنا مکان اس بنیاد پر بیچا کہ دوسرا خریدوں گا بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی قیمت میں خمس ہوگا۔ اب اگر خمس نکالتا ہوں تو دوسرا مکان خریدنے پر قادر نہ رہوں گا واضح رہے کہ اس کو بیچنے سے قبل میں اس کے فرش کے لئے کچھ رقم کا محتاج تھا تو اس صورت میں میرے لئے کیا حکم ہے ؟

ج۔ بیچے ہوئے گھر کی قیمت اگر اسی سال دوسرے گھر ، جس کی ضرورت ہو ، کی خریداری میں یا نذر کے دوسرے اخراجات پر صرف کی جائے تو اسں میںخمس نہیں ہے ۔

س۸۹۹۔ میں نے اپنا رہائشی فلیٹ بیچ دیا اور یہ معاملہ خمس کا سال آتے ھی واقع ہوا اور میں اپنے کو حقوق شرعیہ کی ادائیگی کا سزاوار سمجھتا ہوں لیکن اس سلسلہ میں اپنے خاص حالات کی وجہ سے مشکل سے رو برو ہوں۔ گذارش ہے کہ اس مسئلہ میں میری راھنمائی فرمائیں؟

ج۔ جس گھر کو آپ نے بیچا ہے ، اگر وہ ایسے مال سے خریدا گیا تھا جس میں خمس نہیں تھا تو اب بیچنے کے بعد بھی اس کی قیمت میں خمس نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر گھر کی قیمت اس سال کے اخراجات زندگی میں خرچ ہوئی ہے ۔ مثال کے طور پر ایسے گھر کے خریدنے میں جس کی ضرورت تھی یا زندگی کی ضروریات کے خریدنے میں تو اس میں بھی خمس نہیں ہے ۔

س۹۰۰۔ میرے پاس ایک شھر میں نصف تعمیر شدہ مکان ہے اور مجھے رہنے کے لئے حکومت کی طرف سے ملے ہوئے گھر کی وجہ سے اس کی ضرورت نہیں ہے میں چاھتا ہوں کہ اس کو بیچ کر اس سے ایک گاڑی اپنی ضرورت کے لئے خرید لوں تو کیا اس کی قیمت میں سے خمس نکالنا ہوگا؟

ج۔ اگر مذکورہ گھر جسے آپ نے دوران سال ، سال کے منافع میں سے خانگی اور رہائشی اخراجات کے حساب سے بنوایا یا خریدا ہے تو اس گھر کی قیمت میںخمس نہیں ہے جبکہ اس کی قیمت کو اسی سال زندگی کی ضروریات میں خرچ کیا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو احتیاطاً اس میں خمس واجب ہے ۔

س۹۰۱۔ میں نے اپنے گھر کے لئے چند دروازے خریدے لیکن دو سال کے بعد ناپسند ہونے کی بنا پر نہیں بیچ دیا اور اس کی قیمت کو المونیم کمپنی میں اپنے لئے المونیم کے دروازے بنانے کے لئے رکہ دیا جو اسی بیچے ہوئے دروازے کی قیمت کے برابر ہے تو کیا ایسے مال میں خمس نکالنا ہوگا؟

ج۔ اگر دروازوں کی قیمت فروخت اسی سال دوسرے دروازے خریدنے میں صرف ہوئی ہے تو اس میں خمس نہیں ہے ۔

س۹۰۲۔ میں نے ایک لاکہ تومان ایک کمپنی کو مکان کی زمین کے لئے دیا ہے اور اب اس رقم پر سال تمام ہوچکا ہے ، صورت حال یہ ہے کہ ایک حصہ اس رقم کا میرا اپنا ہے اور ایک حصہ میں نے قرض لیا تھا جس میں سے کچھ ادا کرچکا ہوں تو کیا اس میں خمس ہے اور اگر ہے تو کتنا؟

ج۔ اگر ضرورت کے مطابق گھر بنوانے کے لئے زمین کی خریداری اس بات پر موقوف ہے کہ بیعانہ کے طور کچھ رقم پھلے سے جمع کرنی ہے تو دی ہوئی قیمت پر خمس دینا ضروری نہیں ہے چہے آپ نے اس کو اپنے سالانہ منافع سے ھی ادا کیا ہو۔

س۹۰۳۔ اگر کسی نے اپنا گھر بیچا اور اس کی قیمت کے منافع سے فائدہ اٹہانے کے لئے اس کو بینک میں جمع کردیا پھر خمس کی تاریخ آگئی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ اور اگر اس مال کو اس نے گھر خریدنے کے لئے رکہا ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ اگر گھر کو اثناء سال میں اسی سال کے منافع سے خانگی اور رہائشی اخراجات سے بنوایا یا خریدا ہے تو اس صورت میں گھر کی قیمت اگر اس سال میں صرف کی گئی ہے تب بھی اس میں خمس نہیں ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو احوط یہ ہے کہ اس کا خمس نکالا جائے۔

س۹۰۴۔ وہ رقم جو انسان گھر کے کرایہ پر لینے کے لئے رھن کے طور پر دیتا ہے آیا اس میں خمس ہے یا نہیں ؟ آیا ایسے مال پر جسے تہوڑا تہوڑا کرکے گھر یا گاڑی خریدنے کے لئے جمع کیا گیا ، خمس ہے ؟

ج۔ ضروریات زندگی خریدنے کے لئے جمع کردہ مال پر اگر کاروبار کے منافع میں سے ہو اور اس پر ایک سال گذر چکا ہے تو اس میں خمس ہے لیکن وہ مال جو مالک مکان کو قرض کے طورپر دیا گیا ہے اس میں اس وقت تک خمس نہیں ہے جب تک کہ قرض لینے والا واپس نہ کردے۔

س۹۰۵۔ ایک شخص کے پاس اپنی گاڑی ہے جس کو اس نے درمیان سال کے منافع سے خریدا ہے اور چند سال کے بعد اس نے اس کو خمس کے حساب کے وقت بیچ دیا۔ اس گاڑی کی فروخت سے پھلے اس شخص نے دوسری گاڑی خریدی تھی جس کا کچھ قرض اس کے ذمے تھا، جس کو پھلی گاڑی کے فروخت کرنے کے بعد ادا کیا اور باقی قیمت میں سے کچھ بینک کو گذشتہ سالوں کے ٹیکس کی ادائیگی کے لئے دیا جس کو وہ قسطوںکے طور پر دیتتھا۔ لیکن چند سال سے قسطیں ادا نہیں کی تہیں ۔ لھذا اس نے وہ ساری قسطیں ایک ساتھ ادا کردیں، ایسی صورت میں باقی رقم میں مضاربہ یا نفع کے لئے رکہ دی ، ایسی صورت میں :

۱۔ کیا گاڑی کی سب قیمت میں خمس ہے ؟

۲۔ کیا پھلی گاڑی کی قیمت فروخت سے ( خمس نکالتے وقت)نئی گاڑی کی قیمت خرید کا قرض الگ کیا جاسکتا ہے ؟

۳۔ کیا گاڑی کا قرض اور گذشتہ سالوں کے تمام ٹیکس یا کم ازکم سال جاری کے ٹیکس کو گاڑی کی قیمت فروخت سے خمس نکالتے وقت الگ کرلیا جائے اور جو باقی بچے اس کا خمس دینا واجب ہو؟

ج۔ گاڑی کی قیمت فروخت سے خمس کے سال میں جو رقم اخراجات زندگی اور قرض وغیرہ ادا کرنے وغیرہ کے لئے صرف کی ہے ، اس میں خمس نہیں ہے لیکن جو رقم بینک میں فائدے کے لئے رکھی ہے یا آئندہ برسوں کی ٹیکس کی ادائیگی کے لئے رکھی ہے تو احتیاط واجب کے طور پر سال خمس کی تاریخ خمس آنے پر ا س میں خمس دینا واجب ہے ۔

س۹۰۶۔ میں نے ایک گاڑی چند سال پھلے خریدی جسے اب کئی گنا قیمت پر بےچا جاسکتا ہے جبکہ جس رقم سے اس کو خریدا تھا وہ غیر مخمس تھی اور اب جو قیمت مل رھی ہے اس سے میں گھر خریدنا چاھتہوں تو کیا قیمت وصول ہوتے ھی اس تمام رقم پر خمس واجب ہوگا؟ یا جتنے میں گاڑی خریدی تھی بس اسی میں خمس نکالا جائے گا؟ اور بقیہ رقم جو قیمت بڑھنے کی وجہ سے ملی ہے اس کو گاڑی بیچنے والے سال کی منفعت میں حساب کیا جائے گا اور سال تمام ہونے کے بعد اگر وہ مصرف سے بچی رھی تو اس وقت اس کا خمس نکالنا ہوگا؟

ج۔ اگر گاڑی ضروریات زندگی میں سے ہے اور سال جاری کے منافع سے خریدی گئی ہے تو اس کی قیمت میں خمس نہیں ہے جبکہ وہ رقم خمس کے اسی سال میں اپنی ضروریات میں صرف کی جائے جیسے رہنے کے لئے گھر یا اس کے مثل کوئی چیز خریدی ہو ورنہ بنابر احوط واجب ہے کہ آخر سال میں آپ اس کا خمس نکالیں۔ اور اگر گاڑی کرائے پر چلانے کے لئے خریدی ہے تو اگر اس کو آپ نے ادہار لیا ہے یا قرض لے کر خرید لیا ہے اور پھر اس ادہار یا قرض کو اپنے کاروبار کے منافع سے ادا کیا ہے تو اس صورت میں آپ کو اتنے ھی مال کا خمس نکالنا ہوگا جتنا قرض ادا کرنے میں خرچ کیا ہے ۔ اور اگر آپ نے گاڑی اپنے کاروباری منافع سے خریدی ہے تو آپ پر واجب ہے کہ جس دن گاڑی فروخت کریں اس کی تمام قیمت کا خمس ادا کریں۔

س۹۰۷۔ میں ایک بہت ھی معمولی مکان کا مالک تھا۔ چند وجوہات کی بناء پر دوسرا گھر خریدنے کا ارادہ کرلیا لیکن مقروض ہونے کی بناء پر میں اپنے استعمال کی گاڑی بیچنے پر مجبور ہوا اسی طرح صوبے کے بینک سے اور اپنے شھر کے قرض الحسنہ سوسائٹی سے قرض لینے پر مجبور ہوا تاکہ میں گھر کی قیمت ادا کرسکوں واضح رہے کہ میں نے اپنے خمس کی تاریخ آنے سے قبل گاڑی بیچی ہے اور جو قیمت ملی ہے اس کو اپنے قرض کی ادائیگی میں خرچ کیا ہے ۔ آیا گاڑی کی قیمت میں خمس ہے یا نہیں ؟

ج۔ مفروضہ سوال میں بیچی ہوئی گاڑی کی قیمت میں کوئی خمس نہیں ہے ۔

س۹۰۸۔ گھر، موٹر یا دوسری وہ چیزیں جن کی انسان کو یا ان کے بچوں کو ضرورت ہوتی ہے اور سالانہ منافع سے ان اشیاء کو خریدتا ہے ، اب اگر ان کو کسی ضرورت کی بناء پر یا اس سے بہت ر خریدنے کے لئے بیچا جائے تو ان کے بارے میں خمس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ اگر ضروریات زندگی میں سے کوئی چیز بیچ کر اس کی قیمت سے اسی خمس کے سال میں ضروریات زندگی میں سے کوئی چیز بیچ کر اس کی قیمت سے اسی خمس کے سال میں ضروریات زندگی میں سے کوئی چیز خریدے تو اس میں خمس نہیں ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو نیا خمس سال آتے ھی اس کا خمس نکالنا بربنائے احوط واجب ہے ۔ مگر یہ کہ جب بقیہ قیمت جس کو وہ اگلے سال کے مخارج میںصرف کرنا چاھتا ہے وہ اتنی مقدار میں نہ ہو جو اس کی احتیاج کو پورا کرسکے تو اس پر خمس نہیں ہے ۔

س۹۰۹۔ ایک متدین انسان نے اپنی نجی گاڑی یا اپنا گھر بیچ دیا تاکہ اس سے بھرحال مکان یا گاڑی خریدے۔ اس نے اس رقم کے علاوہ الگ سے کچھ رقم اس میں اضافہ کی اور پھلے سے بہت ر گاڑی اور گھر خریدا تو اس کے لئے خمس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ اگر ا س نے اپنی ضروریات زندگی میں سے کچھ بیچ کر اس کی قیمت اسی سال کی لازمی چیزوں میں صرف کی تو اس پر خمس نہیں ہے ۔ لیکن اگر اس نے رقم آخر سال تک اپنے پاس رکھی تو احوط یہ ہے کہ اس میں خمس نکالنا واجب ہے اور اگر خمس کے بعد باقیماندہ رقم اس کے اگلے سال کے اخراجات کے لئے کافی نہ ہوتی ہو تو اس صورت میں اس پر خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے ۔

س۹۱۰۔ گھر ، گاڑی یا ان جیسی دیگر ضرورت کی چیزیں اگر خمس نکالے ہوئے مال سے خریدی جائیں اور فروخت یا تجارت کی غرض سے نہیں بلکہ استفادہ کی نیت سے خریدی جائیں اور بعد میں کسی وجہ سے ان کو بیچ دیں تو کیا اصل قیمت سے زیادہ میں خمس ہے ؟

ج۔ بناء بر فرض سوال قیمت بڑھنے سے جو منفعت حاصل ہوئی ہے اس میں خمس نہیں ہے ،

خزانہ ، چوپائے اور وہ مال حلال جو مال حرام سے مل گیا ہے

س۹۱۱۔ جو لوگ اپنی ملکیت کی زمین میں سے کوئی خزانہ پاجاتے ہیں اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟

ج۔ اگر یہ احتمال نہ ہو کہ جو خزانہ اس نے پایا ہے وہ اس زمین کے سابقہ مالک کا مال ہے تو دفینہ اس پانے والے کی ملکیت مانا جائے گا اور جب وہ ( دفینھ) ۲۰ دینا رسونا یا دو سو درہم چاندی ہو اور اگر ان دونوں کے علاوہ ہو تو قیمتاً کسی ایک کے مساوی ہو ایسی حالت میں اس کے پانے والے کو اس کا خمس نکالنا ہوگا یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب کہ اس کو کوئی اس پر ملکیت جتانے سے روکنے والا نہ ہو۔ لیکن اگر اس کو حکومت منع کرے یا کوئی اور مانع ہوجائے اور زور اور غلبہ سے اس چیز پر قبضہ کرلے جو ا س نے پایا تھا تو اس صورت میں اگر اس کے پاس نصاب کے برابر بچا ہو تو صرف اس میں اس کو خمس دینا ہوگا۔ اب اگر اس کے پاس نصاب سے کم ہے تو جو کچھ اس سے زور اور غلبہ سے لیا گیا ہے ، اس کے خمس کی ذمہ داری اس پر نہیں ہے ۔

س۹۱۲۔ اگر چاندی کے ایسے سکے میں جن کو کسی شخص کی مملوکہ عمارت میں دفن ہوئے تقریباً سو سال گذر چکے ہوں تو کیا یہ سکے عمارت کے اصلی مالک کی ملکیت سمجھے جائیں گے یا یہ قانونی مالک ( خریدار عمارت) کی ملکیت مانے جائیں گے؟

ج۔ اس کا حکم بعینہ اس دفینہ کا ہے جس کو ابھی سابقہ مسئلہ میں بیان کیا جاچکا ہے ۔

س۹۱۳۔ ہم ایک شبھہ میں مبتلا ہیں وہ یہ کہ موجود ہ دور میں کانوں سے نکالی گئی معدنیات کا خمس نکالنا واجب ہے کیونکہ فقہا عظام کے نزدیک جو مسلم احکام ہیں ان میں معدنیات کے خمس کا وجوب بھی ہے اور اگر حکومت اسے صرف شھروں اور مسلمانوں میں خرچ کرتی ہے تو یہ وجوب خمس کی راہ میں مانع نہیں بن سکتا اس لئے کہ معدنیات کا نکالنا یا تو حکومت کی جانب سے عمل میں آتا ہے اور یھی وجہ ہے کہ وہ اس کو لوگوں پر خرچ کرتی ہے تو اس صورت میں حکومت اس شخص کی مانند ہے کہ جو معدنیات کو نکالنے کے بعد ان کو تحفہ ، ھبہ یا صدقہ کی شکل میں کسی دوسرے شخص کو دے دے اور خمس کا اطلاق اس صورت کو شامل ہے کیونکہ اس صورت میں وجوب خمس کے مستثنیٰ ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ یا پھر حکومت لوگوں کی وکالت کے طور پر معاون کو نکالتی ہے ۔ یعنی حقیقت میں نکالنے والے خود عوام ہیں اور یہ ان سب وکالتوں کی طرح ہے جن میں خود موکل پر خمس نکالنا واجب ہوتا ہے یا حکومت عوام کے سرپرست اور ولی کی حیثیت سے نکالتی ہے تو اس صورت میں یا ولی کو معاون نکالنے والا مانا جائے گا۔ یا وہ نائب کی طرح ہوگا اور اصل نکالنے والا وہ ہوگا جس پر اس کو ولایت حاصل ہے ۔ بھر صورت معدنیات کے عمومات خمس سے خارج کرنے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ جیسا کہ یہ بھی مسئلہ ہے معدنیات جب نصاب تک پھنچ جائیں تو اس پر خمس واجب ہوتا ہے اور یہ منافع کے مانند نہیں ہے کہ اگر ان کو خرچ کیا جائے یا ھبہ کیا جائے تو وہ سال کے خرچ میں شمار ہوگا اور خمس سے مستثنیٰ ہوگا۔ لھذا اس ہم مسئلہ میں آپ کی کیا رائے ہے بیان فرمائیں؟

ج۔ معادن میں خمس کے واجب ہونے کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ اس کو ایک شخص زمین سے نکالے یا کئی لوگ مل کر نکالیں بشرطیکہ ان میں سے ھر ایک کا حصہ حد نصاب تک پہونچے وہ بھی اس طرح کہ جو کچھ وہ نکالے وہ اس کی ملکیت ہو اور چونکہ وہ معدنیات جن کو خود حکومت نکلواتی ہے وہ کسی خاص شخص یا اشخاص کی ملکیت نہیں ہوا کرتی بلکہ مقام اور جھت کی ملکیت ہوتی ہیں اس لئے ان میں شرط وجوب خمس نہیں پائی جاتی لھذا کوئی وجہ نہیں کہ حکومت پر خمس واجب ہو۔ اور یہ حکم معدن میں خمس کے واجب ہونے ( کی دلیل) سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔ ہاں وہ معادن جن کو شخص واحد یا چند اشخاص نکالتے ہیں تو ان پر اس میں خمس نکالنا واجب ہے یہ اس صورت میں کہ جب شخص واحد کا یا چند اشخاص میں سے ھر ایک کا حصہ معادن نکلوانے اور تصفیہ کروانے کے مخارج کو جدا کرنے کے بعد نصاب تک پہونچے کہ وہ نصاب ۲۰ دینار سونے کا اور دو سو درہم چاندی کا ہے چہے خود سونا یا چاندی ہو یا قیمت۔

س۹۱۴۔ اگر حرام مال کسی شخص کے مال سے مخلوط ہوجائے تو اس مال کا کیا حکم ہے ؟ اور اس کے حلال کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟ اور جب حرمت کا علم ہو یا نہ ہو تو اس صورت میں اس کو کیا کرنا چاھئیے؟

ج۔ جب یہ یقین پیدا ہوجائے کہ اس کے مال میں حرام مال بھی ملا ہوا ہے لیکن اس کی مقدار واقعی کے بارے میں نہ جانتا ہو اور صاحب مال کو بھی نہ جانتا ہو تو اس کے حلال بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کا خمس نکال دے لیکن اگر اپنے مال میں حرام مال کے مل جانے کا صرف شک کرے تو کچھ بھی اس کے ذمہ نہیں ہے ۔

س۹۱۵۔ میں نے شرعی سال شروع ہونے سے قبل ایک شخص کو کچھ رقم بطور قرض دی اور وہ شخص اس مال سے تجارت کی نیت رکھتا ہے جس کامنافع ہم ارے درمیان نصف نصف تقسیم ہوگا اور واضح رہے کہ وہ مال فی الحال میری دسترس سے باھر ہے اور میں اس کا خمس بھی نہیں ادا کررہا ہوں تو اس کے لئے آپ کی کیا رائے ہے ؟

ج۔ اگر آپ نے مال قرض کے عنوان سے دیا ہے تو ابھی آپ پر اس کا خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے ہاں جب آپ کو واپس ملے گا تب ھی آپ پر اس کا خمس دینا واجب ہوگا لیکن اس صورت میں اس منافع میں آپ کا کوئی حق نہیں ہے جو قرض دار کے عمل سے حاصل ہوا ہے اور اگر آپ اس کا مطالبہ کریں گے تو وہ سود اور حرام ہوگا۔ اور اگر آپ نے اس رقم کو مضاربہ کے عنوان سے دیا ہے تو معاھدہ کے مطابق منافع میں آپ دونوں شریک ہوں گے اور آپ پر اصل مال کا خمس ادا کرنا واجب ہوگا۔

س۹۱۶۔ میں بینک میں کام کرتا ہوں اور بینک کے کاموں میں براہ راست دخیل ہونے کی وجہ سے لامحالہ ۵ لاکہ تومان بینک میں رکھنا پڑا۔ فطری بات ہے کہ رقم میرے ھی نام سے ایک طولانی مدت کے لئے رکھی گئی ہے اور مجھے ھر ماہ اس کا نفع دیا جارہا ہے تو کیا اس رکھی ہوئی رقم میں میرے اوپر خمس ہے قابل ذکر ہے کہ اس رکھی ہوئی رقم کو چار سال ہورہے ہیں ؟

ج۔ امانت کے طور پر رکھی ہوئی رقم کو اگر آپ نکال کر اپنے اختیار میں نہیں لے سکتے تو اس وقت تک اس پر خمس عائد نہیں ہوگا جب تک کہ آپ کو مل نہ جائے۔

س۹۱۷۔ یہاں بینکوں میں اموال کے رکھنے کا ایک خاص طریقہ ہے کہ صاحبان اموال کا ہاتہ اس تک اصلاً نہیں پھنچ سکتا۔ لیکن وہ اموال ایک معین نمبر میں اس کے حساب میں رکہ دئیے جاتے ہیں ۔ تو کیا ان اموال میں خمس واجب ہے ؟

ج۔ اگر بینک میں رکہا ہوا مال سالانہ منافع کے ساتھ ہے اور صاحب مال کے لئے خمس کے حساب کا سال آتے ھی اس مبلغ کو حاصل کرنا اور بینک سے واپس لینا ممکن ہو تو خمس کا سال آتے ھی اس مال میں خمس ادا کرنا واجب ہے ۔

س۹۱۸۔ جو مال کرایہ دار رھن یا قرض الحسنہ کے طور پر مالک کے پاس رکھتے ہیں کیا اس میں خمس ہے ؟ اگر ہے تو کیا مالک پر ہے یا کرایہ دار پر؟

ج۔ اگر وہ رقم دینے والے کے کاروباری منافع میں سے ہے تو واپس ملنے کے بعد کرایہ دار پر واجب ہے اس کا خمس ادا کرے اور مالک مکان نے قرض کے عنوان سے جو رقم لی تھی اس پر خمس نہیں ہے ۔

س۹۱۹۔ نوکری پیشہ لوگوں کی وہ تنخوہیں جو چند سال سے حکومت نے نہیں دی ہیں آیا سال جاری میں ملنے پر اس کو اسی سال کے منافع میں سے حساب کیا جائے گا اور خمس کا سال آنے پر اس کا حساب کرنا واجب ہے یا یہ کہ ایسے مال پر سرے سے خمس ھی نہیں ہے ؟

ج۔ وہ تنخواہ اسی سال کی منفعت میں شمار کی جائے گی اور سال کے اخراجات کے بعد باقیماندہ رقم میں خمس واجب ہے ۔

اخراجات

س۹۲۰۔ اگر ایک شخص کے پاس ذاتی کتب خانہ ہو اور اس نے معین اوقات میں اس کی کتابوں سے استفادہ کیا لیکن پھر چند سال گذرنے پر دوبارہ اس سے استفادہ نہ کرسکا لیکن احتمال ہے کہ آئندہ اس کتب خانہ سے فائدہ اٹہائے گا۔ تو آیا جس مدت میں اس نے کتابوں سے استفادہ نہیں کیا اس پر ان کا خمس واجب ہے ؟ اور خمس کے وجوب میں کچھ فرق ہے جبکہ یہ کتابیں اس نے خود خریدی ہوں یا اس کے والد نے خریدی ہیں ؟

ج۔ اگر کتاب خانہ کی حاجت اسے اس اعتبار سے ہے کہ آئندہ وہ اس سے استفادہ کرے گا اور کتب خانہ اس شخص کی شان کے مناسب اور متعارف مقدار میں ہو تو اس صورت میں اس میں خمس نہیں ہے حتیٰ کہ اگر وہ کچھ زمانے تک اس سے فائدہ نہ بھی اٹہاسکے اور یھی حکم ہے اگر کتابیں اسے میراث میں یا تحفہ کے عنوان سے والدین یا دوسرے افراد نے دی ہوں تو ان پر خمس نہیں ہے ۔

س۹۱۲۔ وہ سونا جو شوھر اپنی بیوی کے لئے خریدتا ہے آیا اس پر خمس ہے یا نہیں ؟

ج۔ اگر وہ سونا اس کی شان کے مناسب اور متعارف مقدار میں ہے تو اس میں خمس نہیں ہے ۔

س۹۲۲۔ کتابوں کی خریداری کے لئے جو رقم بین الاقوامی نمائش گاہ تھران کو دی گئی ہے اور ابھی تک وہ کتابیں نہیں ملی ہیں ، کیا اس رقم میں خمس ہے ؟

ج۔ جب کتابیں ضرورت کے مطابق ہوں اور اس مقدار میں ہوں کہ عر ف میں اس شخص کی حیثیت کے مناسب ہوں اور ان کا حاصل کرنا بھی بیعانہ کے عنوان سے قیمت دینے پر موقوف ہو تو اس صورت میں اس پر خمس نہیں ہے ۔

س۹۲۳۔ اگر کسی شخص کے پاس اس کی حیثیت کے مناسب دوسری زمین ہے اور اس کی ضرورت ہو کیونکہ وہ بال بچے رکھتا ہے اور وہ خمس کے سال اس زمین پر مکان بنوانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو یا ایک سال میں عمارت کی تعمیر مکمل نہ ہوتی ہو، تو کیا اس پر خمس دینا واجب ہے ؟

ج۔ زمین ، جس کی مکان بنانے کے لئے انسان کو ضرورت ہو ،اس پر خمس واجب نہ ہونے میں فرق نہیں ہے کہ زمین کا ایک ٹکڑا ہو یا متعدد یا ایک مکان ہو یا ایک سے زیادہ بلکہ معیار، ضرورت ، شان و حیثیت کے مطابق اور متعارف ہونا ہے اور تدریجی تعمیر میں اس شخص کی مالی حیثیت پر موقوف ہے ۔

س۹۲۴۔ اگر ایک شخص کے پاس بہت سارے برتن ہوں تو کیا بعض کا استعمال خمس واجب نہ ہونے کے لئے کفایت کرے گا؟

ج۔ خمس واجب نہ ہونے کا معیار گھر کی ضروریات کے بارے میں یہ ہے کہ شایان شان اور ضرورت کے مطابق اور متعارف ہواگرچہ سال میں کبھی بھی ان برتنوں کو استعمال نہ کرے۔

س۹۲۵۔ جب برتن اور فرش سرے سے استعمال میں نہ لایا جائے۔ یہاں تک کہ سال بھی گذر جائے لیکن انسان کو مہم انوں کی ضیافت کے لئے ان کی ضرورت ہے تو کیا اس میں خمس نکالنا واجب ہے ؟

ج۔ اس میں خمس ادا کرنا واجب نہیں ہے ۔

س۹۲۶۔ دلھن کے اس جھیز سے متعلق کہ جس کو لڑکی اپنی شادی کے وقت شوھر کے گھر لے جایا کرتی ہے ، امام خمینی(رہ)کے فتویٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائیں کہ جب کسی علاقے یا ملک میں یہ رواج ہو کہ لڑکے والے جھیز ( سامان زندگی اور گھر کی ضرورت کی چیزیں) مھیا کرتے ہوں اور عام طریقہ یہ ہے کہ ان چیزوں کو رفتہ رفتہ مھیا کرتے ہوں ، اگر ایک سال ان پر گذر جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ اگر اسباب اور ضروریات زندگی کا آئندہ کے لئے جمع کرنا عرف میں اخراجات زندگی میں شمار کیا جاتا ہو اور تدریجی طور پر حاصل کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ ہو تو اس میں خمس نہیں ہے ۔

س۹۲۷۔ جن کتابوں کے دورے کئی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں (مثلاً وسائل الشیعہ وغیرہ) تو کیا ان کی ایک جلد سے استفادہ کرلینے سے یہ ممکن ہے کہ پورے دورے پر سے خمس ساقط ہوجائے یا اس کے لئے واجب ہے کہ ھر جلد سے ایک صفحہ پڑہا جائے؟

ج۔ اگر مورد احتیاج پورا دورہ ہو یا جس جلد کی ضرورت ہے وہ موقوف ہو کامل دورہ خریدے جانے پر تو اس صورت میں اس میں خمس نہیں ہے ۔ ورنہ جن جلدوں کی انسان کو ابھی ضرورت نہیں ہے ان میں خمس کا نکالنا واجب ہے ۔ اور تنہا ھر جلد سے ایک صفحہ کا پڑھ لینا خمس کے ساقط ہونے کے لئے کافی نہیں ہے ۔

س۹۲۸۔ وہ دوائیں جنہیں درمیان سال ہونے والی آمدنی سے خریدا جاتا ہے اور پھر اس کی قیمت بیمہ کمپنی ادا کرتی ہے اگر وہ دوائیں خمس کی تاریخ آنے تک خراب نہ ہوں تو ان میں خمس واجب ہے یا نہیں ؟

ج۔ اگر آپ نے دوا کو اس لئے خریدا ہے کہ وقت ضرورت استعمال کریں گے اور وہ معرض احتیاج میں رھی ہوں اور ابھی بھی ان کی ضرورت ہوتو ایسی صورت میں ان میں خمس نہیں ہے ۔

س۹۲۹۔ اگر کسی شخص کے پاس رہنے کے لئے گھر نہ ہو اور و ہ اسے خریدنے کے لئے کچھ رقم جمع کرے تو کیا اس مال پر اس کو خمس اد اکرنا ہوگا؟

ج۔ سال کے منافع سے جمع کیا ہوا مال اگرچہ وہ آئندہ زندگی کی ضروریات مھیا کرنے کے لئے کیوں نہ ہو اگر اس پر ایک سال گذرجائے تو خمس نکالنا واجب ہے ۔

س۹۳۰۔ میری زوجہ ایک قالین بن رھی ہے جس کا اصلی مال میری ملکیت ہے کیونکہ میں نے اس کے لئے کچھ رقم قرض لی ہے اور اب تک صرف کچھ ھی حصہ اس قالین کا تیار ہوا ہے ۔ جبکہ میری خمس کی تاریخ گذر چکی ہے تو کیا اتنے ھی بنے ہوئے حصہ کا خمس بنائی تمام ہونے اور اس کو بیچے جانے کے بعد دینا ہوگا یا نہیں حالانکہ میراا رادہ اس کو بیچ کر اس کی قیمت گھریلو ضروریات میں خرچ کرنے کا ہے ؟ نیز اصل مال کے سلسلہ میں کیا حکم ہے ؟

ج۔ قالین کی قیمت سے اس اصل مال کو جسے قرض لیا گیا ہے ، جد اکرنے کے بعد رقم کو بیچے جانے کے سال کے منافع میں محسوب کیا جائے گا۔ لھذا جب رقم بنائی ختم ہونے اور بیچنے کے بعد اسی سال کے مخارج زندگی میں صرف کی جائے تو اس میں خمس نہیں ہے ۔

س۹۳۱۔ میری پوری جائیداد تین منزلہ عمارت ہے ، ھر منزل پر دو کمرے ہیں ۔ ایک میں خود رہتا ہوں اور دو میں میرے بچے رھتے ہیں ۔ کیا میری حیات میں اس پر خمس ہے ؟ میری وفات کے بعد اس میں خمس ہے تاکہ میں ورثاء کو اپنے مرنے کے بعد اسے ادا کرنے کی وصیت کروں؟

ج۔ مفروضہ سوال کے مطابق آپ پر اس عمارت کا خمس واجب نہیں ہے ۔

س۹۳۲۔ اسباب خانہ کے خمس کا حساب کیونکر کیا جائے گا؟

ج۔ وہ چیزیں جن کے بعینہ باقی رھتے ہوئے ان سے انسان فائدہ اٹہاتا ہے جیسے فرش ، چادر وغیرہ ان میں خمس نہیں ہے لیکن روزمرہ استعمال کی جانے والی چیزیں جیسے چاول روغن یا ان کے علاوہ دیگر چیزیں تو اگر وہ خرچ سے زیادہ ہوں اور عند الحساب باقی ہوں تو ان میں خمس واجب ہے ۔

س۹۳۳۔ زید کے پاس تھوڑ ی سی زمین ہے لیکن اس کے پاس خود اپنا کوئی مکان رہنے کے لئے نہیں ہے لھذا اس نے ایک زمین خرید لی تاکہ رہنے کے لئے ایک گھر تعمیر کروائے لیکن اس کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ اس زمین پر گھر بنواسکے یہاں تک کہ زمین لئے ہوئے سال گذرگیااور اس نے اس کو بیچا بھی نہیں ۔ تو کیا اس زمین میں خمس واجب ہے بنا بر وجود اس کے لئے خریدی ہوئی قیمت میں خمس نکالنا کافی ہے یا زمین کی موجودہ قیمت پر خمس کا نکالنا واجب ہے ؟

ج۔ اگر سال خرید کے منافع سے اس نے گھر بنوانے کے لئے زمین خریدی ہیں جس کی اس کو ضرورت ہے تو اس میں خمس نہیں ہے ۔

س۹۳۴۔ سابقہ سوال کی روشنی میں اگر اس نے مکان بنوانا شروع کردیا ہے مگرمکمل نہیں ہوا یہاں تک کہ سال گذر گیا تو کیا اس پر واجب ہے کہ تعمیر کے سلسلہ میں جو لوازمات و مصالحہ وغیرہ خرچ کیا ہے اس میں خمس نکالے؟

ج۔ سوال کے مطابق اس پر خمس نکالنا واجب نہیں ہے ۔

س۹۳۵۔ جس شخص نے گھر کا دوسرا طبقہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے بنوایا ہو حالانکہ خود وہ پھلے طبقہ پر رہتا ہے اور اس کو دوسرے طبقہ کی احتیاج چند سال کے بعد ہے تو کیا جو کچھ اس نے دوسرا طبقہ بنوانے میں صرف کیا ہے اس میں خمس نکالنا واجب ہے ؟

ج۔ جب دوسرا طبقہ بچوں کے مستقبل کے خیال سے بنوایا ہے اور اس وقت اس کے اخراجات زندگی میں شمار ہوتا ہے اور عرف عام میں اس کی شان کے مطابق ہے تو اس کے بنوانے میں جو خرچ کیا ہے اس میں خمس نہیں ہے ۔

س۹۳۶۔ آپ فرماتے ہیں کہ جو کچھ سال کا خرچ ہے اس میں خمس واجب نہیں ہے تو ایک انسان جس کے پاس اپنا رہائشی مکان نہیں ہے اس کے پاس ایک زمین ہے جس پر ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے اور وہ اس پر عمارت نہیں بنواسکا تو اس کو خرچ میں کیوں نہیں شمار کیا جاتا ہے ؟ امیدوار ہوں کہ اس کی وضاحت فرمائیں ، خدا آپ کو اجر دے؟

ج۔ اگر زمین ، مکان بنانے کے لئے ہے جس کی اس کو ضرورت ہے تو اس کو سال کے اخراجات میں شمار کیا جائے گا اور اس پر خمس نہیں ہے ۔ لیکن اگر زمین بیچنے کے لئے ہو اور پھر اس کی قیمت سے مکان تعمیر کرنا مقصود ہو تو اگر زمین تجارتی منفعت میں سے ہے تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے ۔

س۹۳۷۔ میرے خمس کے سال کی ابتداء ھر سال کے ستمبر کی پھلی تاریخ سے ہوتی ہے ۔ اور عموماً سال کے دوسرے یا تیسرے مہینہ میں مدرسوں اور کالجوں کے امتحانات شروع ہوتے ہیں اور اس کے چہ ماہ کے بعد ہم کو اضافی کام کی ( جو امتحانات کے دوران کیا ہے ) اجرت ملتی ہے ۔ لھذا برائے مھربانی وضاحت فرمائیں کہ : وہ کام جو ہم نے تاریخ خمس سے پھلے کیا ہے اس کی اجرت جو ہم کو سال کے تمام ہونے کے بعد ملی ہے آیا اس میں خمس ادا کرنا ہے ؟

ج۔ اس اجرت کا حساب اسی سال کی منفعت میں کیا جائے گا جس سال وہ ملی ہے اور جب وہ رقم اسی سال کے اخراجات میں صرف کی گئی تو اس رقم کا خمس آپ پر واجب نہیں ہے ۔

س۹۳۸۔ کبھی کبھی ہم لوگوں کو گھریلو سامان کی جیسے ریفریجریٹر وغیرہ جو بازار سے کم قیمت پر بیچا جاتا ہے ۔ آئندہ یعنی شادی کے بعد ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ لحاظ کرتے ہوئے کہ ہم ارے لئے ان سامان کا خریدنا اس وقت لازمی ہوگا جبکہ اس کی قیمت اس وقت کئی گنا زیادہ ہوگی تو کیا ایسا سامان جو اس وقت استعمال میں نہیں ہے اور گھر میں پڑا ہوا ہے اس میں خمس نکالنا ہوگا؟

ج۔ اگر آپ نے ان چیزوں کو کاروباری منافع سے اس خیال سے خریدا کہ آئندہ ان سے استفادہ کریں گے اور جس سال آپ نے ان کو خریدا ہے اس سال آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو سال پورا ہوتے ھی ان کی اوسط قیمت میں خمس ادا کرنآپ پر واجب ہے سوائے اس کے کہ وہ ان اشیاء میں سے ہوں جنہیں عام طور پر رفتہ رفتہ خریدا جاتا ہے اور وقت ضرورت کے لئے بہت پھلے سے، اس لئے مھیا کیاجاتا ہے کہ نہیں یکبارگی خریدنا ممکن نہیں نیز یہ کہ وہ معمولاً آپ کی حیثیت کے مطابق بھی ہوں تو اس صورت میں ان کو اخراجات میں شمار کیا جائے گا اور آپ پر ان کا خمس نکالنا واجب نہیں ۔

س۹۳۹۔ وہ رقوم جن کو انسان امور خیر میں صرف کرتا ہے جیسے مدارس کی امداد سیلاب زدہ لوگوں اور فلسطینی و بوسنیائی مظلوموں کی امداد وغیرہ کیا ان کو سال کے اخراجات میں محسوب کیا جائے گا یا نہیں ؟ یعنی کیا ہم پر واجب ہے کہ ہم پھلے اس کا خمس ادا کریں پھر ان امور میں خرچ کریں یا اس کے لئے خمس نہیں نکالا جائے گا ( بلکہ خمس نکالے بغیر دیا جاسکتا ہے )؟

ج۔ امور خیر میں صرف کی جانے والی رقوم کا حساب و شمار اسی سال کے اخراجات میں ہوگا جس سال اسے خرچ کیا گیا ہے اور ان میں خمس نہیں ہے ۔

س۹۴۰۔ گزشتہ سال میں نے ایک قالین خریدنے کے لئے کچھ رقم جمع کی اور آخر سال میں قالین بیچنے والے چند محلوں کا چکر لگایا۔ ان محلوں میں سے ایک محلہ میں یہ طے پایا کہ میری پسند کا ایک قالین میرے لئے تیار کریں یہ مسئلہ اس سال کے دوسرے مہینہ تک درپیش رہا چونکہ میرے خمس کی تاریخ ھجری شمسی سال کے آغاز سے ہے تو کیا اس مذکورہ رقم پر خمس عائد ہوگا؟

ج۔ چونکہ جمع کی گئی رقم تاریخ خمس آنے تک ضرورت کے مطابق قالین کی خریداری میں خرچ نہیں کی جاسکی لھذا اس میں خمس نکالنا واجب ہے ۔

س۹۴۱۔ چند لوگ ایک پرائیویٹ مدرسہ بنانے کے لئے تیار ہوئے۔ مگر شرکاء کی تنگ دستی کے پیش نظر مدرسہ بنوانے والی کمیٹی نے طے کیا کہ دیگر اخرجات کے لئے بینک سے قرض لیا جائے، اسی طرح کمیٹی نے یہ بھی طے کیا کہ شرکاء کی مشترک رقم کو مکمل کرنے اوربینک کی قسطیں ادا کرنے کے لئے ممبران مدرسہ سے ھر ماہ کچھ معین رقم جمع کریں گو کہ یہ مدرسہ ابھی تک منفعت بخش نہیں ہوسکا ہے ۔ تو کیا ممبران جو مہانہ رقم ادا کریں گے اس میں نہیں خمس دینا ہوگا ؟ اور کیا وہ اصل سرمایہ جس سے یہ مدرسہ بنوایا گیا ہے ، اس میں خمس نکالنا ہوگا؟

ج۔ ھر ممبر کو اصل سرمایہ میں شریک ہونے کی بناء پر ھر مہینہ میں جو کچھ دینا ہے اس میں اور جو کچھ اس نے پھلی بار شراکت کے طور پر مدرسہ بنوانے کے لئے دیا ہے اس میں خمس کا ادا کرنا واجب ہے ۔ اور جب ھر ممبر اپنے حصہ کا خمس ادا کردے گا تو مجموعی سرمایہ میں خمس نہیں ہوگا۔

س۹۴۲۔ وہ ادارہ جہاں میں ملازمت کرتا ہوں چند سال سے میری کچھ رقم کا مقروض ہے اور ابھی تک اس نے میری رقم ادا نہیں کی ہے ۔ توکیا اس رقم کے ملتے ھی مجھے خمس نکانا ہوگا یا ضروری ہے کہ ایک سال اس پر گذر جائے؟

ج۔ اگر رقم خمس کے سال میں نہ ملے تو پھر وہ جس سال ملے گی اسی سال کی منفعت مانی جائے گی۔ اور اگر اسے اسی ملنے والے سال کی ضروریات میں صرف کردیا جائے تو اس میں خمس واجب نہ ہوگا۔

س۹۴۳۔ کیا سال کے کاروباری منافع سے حاصل شدہ اموال کے مخارج زندگی میں خمس واجب نہ ہونے کا معیار یہ ہے کہ اس کو سال کے اندر ھی استعمال میں لایا جائے یا سال میں ان کی ضرورت پڑنا ھی کافی ہے خواہ ان کو استعمال نہ کیا جاسکے؟

ج۔ کپڑے ، فرش وغیرہ جیسی اشیاء جن سے بعینہ فائدے اٹہایا جاتا ہے ان کا معیار صرف ان کی ضرورت پڑنا ہے ۔ لیکن روزمرہ کی اشیاء زندگی جیسے چاول ، گھی وغیرہ ان کا معیار سال کے اندر ان کا خرچ ہونہے ۔ لھذا ان میں سے جو کچھ بچ جائے ان میں خمس ادا کرنا واجب ہے ۔

س۹۴۴۔ اپنے بال بچوں کی سہولت اور ان کی ضرورت کے لئے ایک شخص نے ایک گاڑی غیر مخمس مال سے خریدی وہ بھی درمیان سال کے منافع سے تو کیا اس کو اس مال کی خمس دینا ہوگا۔ اسی طرح اگر اس نے اپنے کام سے مربوط امور کے لئے یا دونوں (اپنے کام نیز بچوں کی سہولت) کے لئے گاڑی خریدی ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ اگر اس نے اپنے کام یا تجارت سے متعلق امور کے لئے گاڑی خریدی ہے تو اس گاڑی کے لئے وھی حکم ہے جو دیگر سازو سامان تجارت کے خریدنے پر خمس واجب ہونے کا حکم ہے ۔ لیکن اگر گاڑی ضروریات میں ہو جو اس کے شان کے مطابق ہو تو اس صورت میں اس میں خمس نہیں ہے ۔

مصالحت ، اور خمس میں غیر خمس کی ملاوٹ

س۹۴۵۔ یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جن پر خمس واجب تھا مگر انہوں نے ابھی تک ادا نہیں کیا ہے ، اور فی الوقت یا تو وہ خمس دینے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں یا ان کے لئے خمس کا ادا کرنا دشوار ہے تو ان کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

ج۔ جن پر خمس دینا واجب ہے تنہا ادائیگی دشوار ہونے کہ وجہ سے خمس ان سے ساقط نہیں ہوسکتا ہے بلکہ جس وقت بھی اس کا ادا کرنا ان کے لئے ممکن ہو اس وقت دینا واجب ہوگا۔ وہ لوگ خمس کے ولی امر یا اس کے وکیل سے اپنی استطاعت کے مطابق خمس ادا کرنے کے لئے وقت اور مقدار کے بارے میں صلاح و مشورہ کریں۔

س۹۴۶۔ میں نے قرض پر ایک مکان اور دوکان ، جس میں کاروبار کرتا ہوں،حاصل کی ہے اور یہ قرض قسط وار ادا کررہا ہوں اور شریعت پر عمل کرتے ہوئے اپنے خمس کا سال بھی معین کرلی ہے ۔ آپ سے التجا ہے کہ مجہ پر اس گھر کا خمس معاف فرمادیں جس میں میرے بچے زندگی گذار رہے ہیں ۔ رہا دوکان کا خمس تو اس کو قسطوں کی شکل میں ادا کرنا میرے امکان میں ہے ۔

ج۔ بنابر فرض سوال جس مکان میں آپ رھتے ہیں اس پر خمس نکالنا واجب نہیں ہے ۔ رھی دوکان تو اس کا خمس دینا آپ پر واجب ہے چہے اس کے لئے میری طرف سے جن وکلاء کو اس کام کی اجازت ہے ان میں سے کسی سے بھی صلاح و مشورہ کرنے کے بعد رفتہ رفتہ ادا کریں۔

س۹۴۷۔ ایک شخص ملک سے باھر رہتا تھا اور خمس نہیں نکالتا تھا اس نے ایک گھر غیرمخمس مال سے خریدا لیکن اس وقت اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے جس سے وہ اپنے اوپر واجب خمس کو ادا کرے البتہ اس پر جو خمس قرض ہے اس کے عوض میں ھر سال خمس کی محسوبہ رقم سے کچھ زیادہ نکالتا رہتا ہے تو اس کا یہ عمل قبول ہوگا یا نہیں ؟

ج۔ فرض سوال کے مطابق اس کو واجب خمس کی ادائیگی کے سلسلہ میں مصالحت کرنا ضروری ہے پھر وہ رفتہ رفتہ اس کو ادا کرسکتا ہے اور اب تک جتنا اس نے ادا کیا ہے وہ قبول ہے ۔

س۹۴۸۔ ایک شخص جس پر چند سال کی منفعت کا خمس ادا کرنا واجب ہے لیکن اب تک اس نے خمس کے عنوان سے کچھ بھی ادا نہیں کیا ہے اور اس پر کتنا خمس نکالنا واجب ہے یہ بھی اس کو یاد نہیں ہے تو وہ کیوں کر خمس سے سبکدوش ہوسکتا ہے ؟

ج۔ ضروری ہے کہ وہ اپنے ان تمام اموال کا حساب کرے جن میں خمس واجب ہے اور ان کا خمس ادا کرے اور مشکوک معاملات میں حاکم شرع یا اس کے وکیل مجاز سے مصالحت کرلینا ھی کافی ہے ۔

س۹۴۹۔ میں ایک نوجوان ہوں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتا ہوں اور میرے والد نہ خمس نکالتے ہیں اور نہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ، یہاں تک انہوں نے سود کے پیسے سے ایک مکان بھی بنا رکہا ہے ۔ چنانچہ اس مکان میں ، میں جو کچھ کہاتا پیتا ہوں اس کا حرام ہونا واضح ہے ۔ اس بات کومدنظر رکھتے ہوئے کہ میں اپنے گھر والوں سے الگ رہنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ امیدوار ہوں کہ میری ذمہ داری بیان فرمائیں گے۔

ج۔ بالفرض آپ کو یہ یقین ہو کہ آپ کے باپ کے مال میں سود ملا ہوا مال ہے ، یا آپ کو علم ہو کہ آپ یقین کرلیں کہ جو کچھ آپ باپ کے مال میں سے خرچ کرچکے ہیں یا خرچ کریں گے وہ آپ کے لئے حرام ہے اور جس وقت تک حرمت کا یقین نہ ہو آپ کا اس مال سے استفادہ کرنا حرام نہیں ہوگا ۔ ہاں جب حرمت کا یقین حاصل ہوجائے تو آپ کے لئے اس میں تصرف جائز نہیں ہوگا، اسی طرح جب آپ کا گھر والوں سے جدا ہونا اور ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ترک کرنا موجب حرج ہو تو اس صورت میں آپ کے لئے ان کے اموال سے استفادہ کرنا جائز ہوجائے گا البتہ آپ ان اموال میں سے جس قدر خمس و زکوٰۃ اور دوسرے مال سے استفادہ کریں گے ان کے ضامن رہیں گے۔

س۹۵۰۔ میں جانتا ہوں کہ میرے والد خمس و زکوٰۃ نہیں ادا کرتے ہیں اور جب میں نے اس کی طرف ان کو متوجہ کیا تو انہوں نے یھی جواب دیا کہ ہم خود ھی محتاج ہیں لھذا ، ہم پر خمس و زکوٰۃ واجب نہیں ہے تو اس سلسلہ میں آپ کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ جب آپ کے پاس وہ مال نہیں کہ جس پر زکوٰۃ واجب ہے اور اتنا مال بھی نہیں کہ جس میں خمس واجب ہو تو ان پر نہ خمس ہے نہ زکوٰۃ اور اس مسئلہ میں آپ پر تحقیق کرنا بھی ضروری نہیں ہے ۔

س۹۵۱۔ ہم ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جو خمس ادا نہیں کرتے، اور نہ ان کے پاس اپنا سالانہ حساب ہے تو ہم ان کے ساتھ جو خرید و فروخت اور کاروبار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کہاتے پیتے ہیں اس سلسلہ میں کیا حکم ہے ؟

ج۔ جو اموال آپ ان لوگوں سے خرید و فروخت کے ذریعہ لیتے ہیں یا ان کے ہاں جا کر ان میں تصرف کرتے ہیں ، اگر ان میں خمس کے موجود ہونے کا یقین ہو تو ان میں آپ کے لئے تصرف جائز نہیں ۔ اور جو اموال ان سے آپ خرید و فروخت کے ذریعے لیتے ہیں تو جتنی مقدار میں ان میں خمس واجب ہے اتنا معاملہ فضولی ہوگا جس کے لئے ولی امر خمس یا ا س کے وکیل سے اجازت لینا ضروری ہے ۔البتہ اگر ان کے ساتھ معاشرت کہانے پینے اور ان کے اموال میں تصرف سے پرھیز آ پ کے لئے دشوار ہو تو اس صورت میں آپ کے لئے ان چیزوں میں تصرف جائز تو ہے لیکن جتنا مال آپ نے ان کا صرف کیا ہے اس کے خمس کے آپ ضامن ہوں گے۔

س۹۵۲۔ کیا جو مال کاروبار کی منفعت سے گھر خریدنے یا بنوانے کے لئے جمع کیا گیا ہے اس میں خمس دینا ہوگا؟

ج۔ اگر گھر خریدنے یا بنوانے سے پھلے جمع کئے ہوئے مال پر خمس کا سال پورا ہوجائے تو مکلف کو خمس دینا ہوگا۔

س۹۵۳۔ جب کوئی شخص کسی مسجد کے لئے ایسا مال دے جس کا خمس نہیں نکالا گیا ہے تو کیا اس کا لینا جائز ہے ؟

ج۔ اگر اس امر کا یقین ہو کہ اس شخص نے جو مال مسجد کو دیا ہے اس کا خمس نہیں نکالا گیا ہے تو اس مال کا اس شخص سے لینا جائز نہیں ہے ۔ اور ا گر اس سے لیا جاچکا ہے تو اس کی جس مقدار میں خمس دینا واجب ہے اتنی مقدار کے لئے حاکم شرع یا اس کے وکیل کی طرف رجوع کرنا واجب ہے ۔

س۹۵۴۔ ایسے لوگوں کے ساتھ معاشرت کا کیا حکم ہے کہ جو مسلمان تو ہیں مگر دینی امور کے پابند نہیں ہیں خاص طور سے نما زاور خمس کے پابند نہیں ہیں ؟ اور کیا ان کے گھروں میں کہانا کہانے میں اشکال ہے ؟ اگر اشکال ہے تو جو چند مرتبہ ایسے فعل انجام دے چکا ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟

ج۔ ان کے ساتھ رفت و آمد رکھنا اگر ان کے دینی امور میں لاپرواھی برتنے میں معاون و مددگار نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ ہاں اگر آپ کا ان کے ساتھ میل جول نہ رکھنا ان کو دین کا پابند بنانے میں موثر ہو تو ایسی صورت میں وقتی طور پر ان کے ساتھ میل جول نہ رکھنا ھی کچھ مدت کے لئے امر بالمعروف و نھی عن المنکر کے عنوان سے واجب ہے ۔ البتہ ان کے اموال سے استفادہ مثلاً کہانا پینا وغیرہ تو جس وقت تک یہ یقین نہ ہو کہ اس مال میں خمس باقی ہے ، اس وقت تک استفادہ کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے ورنہ یقین کے بعد حاکم شرع یا اس کے وکیل کی اجازت کے بغیر استفادہ کرنا جائز نہیں ۔

س۹۵۵۔ میری سھیلی اکثر مجھے کہانے کی دعوت دیا کرتی ہے لیکن ایک مدت کے بعد مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوھر خمس نہیں نکالتا۔ تو کیا میرے لئے ایسے شخص کے یہاں کہانا پینا جائز ہے ؟

ج۔ ان کے یہاں اس وقت تک کہانا کہانے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ یہ معلوم نہ ہوجائے کہ جو کہانا وہ پیش کررہے ہیں وہ غیر مخمس مال سے تیار کیا گیا ہے ۔

س۹۵۶۔ ایک شخص پھلی مرتبہ اپنے اموال کا حساب کرنا چاھتا ہے تاکہ ان کا خمس ادا کرسکے تو اس کے اس گھر کے لئے کیا حکم ہے جسے اس نے خریدا تو ہے لیکن اس کو یہ یاد نہیں ہے کہ کس مال سے خریدا ہے ؟ اور اگر یہ جانتا ہو کہ یہ ( مکان) اس مال سے خریدا گیا ہے جو چند سال تک ذخیرہ تھا تو اس صورت میں اس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ جب وہ خریدنے کی کیفیت سے بے خبر ہو تو بنا بر احوط اس پر واجب ہے کہ اس کے خمس میں سے کچھ دے کر حاکم شرع سے مصالحت کرلے اور اگر اس نے غیر مخمس مال سے گھر خریدا ہے تو اس پر فی الحال مکان کی قیمت کے حساب سے خمس ادا کرنا واجب ہے مگر یہ کہ اس نے ما فی الذمہ قرض سے گھر خریدا ہو اور اس کے بعد غیر مخمس مال سے اپنا قرض ادا کیا ہو تو اس صورت میں صرف اتنے ھی مال کا خمس ادا کرنا واجب ہوگا جس سے اس نے قرض چکا یا ہے ۔

س۹۵۷۔ ایک عالم دین کسی شھر میں وہاں کے لوگوں سے خمس کے عنوان سے ایک رقم لیتا ہے لیکن اس کے لئے عین مال کو آپ کی جانب یا آپ کی جانب یا آپ کے دفتر کی جانب ارسال کرنا دشوار ہے تو کیا وہ یہ رقم بینک کے حوالے سے ارسال کرسکتا ہے ، یہ جانتے ہوئے کہ بھی کہ بینک سے جو مال وصول کیا جائے گا بعینہ وھی مال نہ ہوگا جو اس نے اپنے شھر میں بینک کے حوالے کیا ہے ؟

ج۔ خمس یا دیگر رقوم شرعیہ بینک کے ذریعہ بھیجنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

س۹۵۸۔ اگر میں نے غیر مخمس مال سے زمین خریدی ہو تو اس میں نما زصحیح ہے یا نہیں ؟

ج۔ اگر عین غیر مخمس اموال سے زمین کی خریداری عمل میں آئی ہے ، تو جتنی مقدار خمس کی بنتی ہے اتنا معاملہ فضولی ہے جس میں ولی امر کی اجازت ضروری ہے لھذا جب تک اس کی اجازت نہ ہو اس زمین میں نماز صحیح نہ ہوگی۔

س۹۵۹۔ جب خریدنے والا یہ جان لے کہ خریدے ہوئے مال میں خمس کی ادائیگی باقی ہے اور فروخت کرنے والے نے خمس نہیں دیا ہے تو کیا اس میں خریدنے والے کے لئے تصرف جائز ہوگا؟

ج۔ اس فرض کے ساتھ کہ بیچے ہوئے مال میں خمس ہے ، خمس کی مقدار کے برابر معاملہ فضولی ہوگا جس کے لئے حاکم شرع سے اجازت لینی ضروری ہے ۔

س۹۶۰۔ وہ دوکاندار جو یہ نہ جانتا ہو کہ خریدار نے اپنے مال کا خمس ادا کیا ہے یا نہیں اور وہ اس کے ساتھ معاملہ کررہا ہے تو آیا اس کے لئے اس مال کا خمس ادا کرنا واجب ہوگا یا نہیں ؟

ج۔ جب تک یہ علم نہ ہو کہ خریدار سے ملنے والی رقم میں خمس ہے خود دوکاندار پر کچھ نہیں ہے ۔ اور نہ تو اس کے لئے چھان بین و تحقیق کرنا ضروری ہے ۔

س۹۶۱۔ اگر چار آدمی مل کر ایک لاکہ روپے شراکت کے عنوان سے جمع کریں تاکہ اس سے کام کرکے فائدہ اٹہائیں لیکن ان میں سے ایک شخص خمس کا پابند نہ ہو تو کیا اس کی شراکت میں کام کرنا صحیح ہو گا یا نہیں ؟اور آیا ان کے لئے ممکن ہے کہ اس شخص سے جو پابند خمس نہیں ہے مال لے کر اس سے فائدہ اٹہائیں ( اس طرح کہ مال قرض الحسنہ کے عنوان سے لیں) اور عام طورپر چند افراد شریک ہوں تو کیا ھر ایک پر اپنے حصہ کی منفعت سے علیحدہ طور پر خمس دینا واجب ہوگا یا اس کو مشترک کہاتے سے ادا کرنا ضروری ہے ؟

ج۔ ایسے شخص کے ساتھ شریک ہونا کہ جس کے اصل مال میں خمس ہے اور اس نے ادا نہیں کیا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ خمس کی مقدار کے برابر مال میں معاملہ فضولی ہوگا جس کے لئے حتمی طور پر حاکم شرع کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور اگر بعض شرکاء کے لگائے ہوئے مال میں خمس باقی ہو تو شراکت کے اصل مال میں تصرف ناجائز ہوگا۔ اور جس وقت شراکت کے مال کے منافع کو افراد وصول کررہے ہیں تو ھر شخص مکلف ہے کہ وہ اپنے حصہ میں خرچ سے بچے ہوئے مال کا خمس ادا کرے۔

س۹۶۲۔ جب میرے کاروبار شریک اپنے حساب کا سال نہ رکھتے ہوئے ہوں تو میری کیا ذمہ داری ہے ؟

ج۔ جو لوگ شریک ہیں ان میں سے ھر ایک پر واجب ہے کہ وہ اپنے حصہ کے حقوق شرعی کو ادا کرے تاکہ مشترک اموال میں ان کے تصرفات جائز ہوسکیں۔ اور اگر تمام شرکاء ایسے ہوں جو اپنے ذمہ کے حقوق شرعی نہ اد اکرتے ہوں اور کمپنی ( شرکت) کا توڑ دینا یا شرکاء سے جدا ہونا آپ کے لئے موجب حرج ہو تو آپ کے لئے کمپنی میں کام کو جاری رکھنے کی اجازت ہے ۔

اصل سرمایہ

س
۹۶۳
۔
۱۳۶۵
ء ھ۔ش
۱۹۸۶
ء میں تعلیم و تربیت کے مقصد سے کسی کمپنی میں کام کرنے والوں نے ایک کواپریٹیو سوسائٹی قائم کی اور ابتداء میں سرمایہ کی رقم حصص کے طور پر تعلیم و تربیت کے چند ملازمین نے فرہم کی۔
 
(
 
اس وقت
)
 
ان میں سے ھر ایک نے سو سو تومان دئیے تھے ۔ ابتداء میں کمپنی کی اصل پونجی بہت کم تھی، لیکن اس وقت ممبروں کی کثرت کی وجہ سے گاڑی وغیرہ کے علاوہ کمپنی کا اصل سرمایہ
۱۸
ملین تومان ہے ، اور اس سرمایہ سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ ممبروں کے درمیان ان کے حصے کے مطابق تقسیم ہوتا ہے اور ان میں کا ھر شخص جب بھی چاہے اپنا حساب ختم کرسکتا ہے ؟
ابھی تک نہ تو اصل سرمایہ سے خمس دیا گیا ہے اور نہ فائدے سے توکیا کمپنی کا انچارج ہونے کی حیثیت سے کمپنی کی جن چیزوں میں خمس ہے اس کا اد اکرنا میرے لئے جائز ہے ؟ اور کیا حصہ داروں کی رضامندی شرط ہے یا نہیں ؟
ج۔ اصل مال اور اس سے حاصل ہونے والے فائدے کا خمس دینا ھر ممبر پر اپنے حصے کے لحاظ سے واجب ہے اور کمپنی کے انچارج کا خمس نکالنا کمپنی کے حصہ داروں کی اجازت و وکالت پر موقوف ہے ۔
س
۹۶۴
۔ چند افراد بوقت ضرورت ایک دوسرے کی مدد کے لئے قرض الحسنہ کا بینک قائم کرنا چاھتے ہیں اس طرح کہ ھر ممبر پر
 
(
پھلی مرتبہ دی جانے والی رقم کے علاوھ
)
 
اصل سرمایہ میں اضافے کے لئے ھر مہینہ کچھ رقم کا دینا ضروری ہے ، لھذا وضاحت فرمائیے کہ ھر ممبر نے ہم یشہ کے لئے قرض کے طور پر خود لیا ہو تو اس صورت میں خمس کی کیا شکل ہوگی؟
ج۔ اگر ممبر نے اپنے حصے کی رقم کاروبار کے منافع سے خمس سال کے ختم ہونے کے بعد دی ہے تو ا س پر پھلے خمس کا ادا کرنا واجب ہے لیکن اگر اپنے حصے کی رقم اثناء سال میں دی ہے تو خمس کی ادائیگی سال کے آخر میں واجب ہے اگر اس
رقم کا وصول کرنا ممکن ہو ورنہ جب تک اس رقم کا وصول کرنا ممکن نہ ہو اس وقت تک اس پر خمس نکالنا واجب نہیں ہے ۔
س
۹۶۵
۔ کیا صندوق قرض الحسنہ
 
(
 
امدادی بہم ی بینک
)
 
مستقل حیثیت رکھتا ہے ؟ اور اگر ایسا ہے تو اس سے حاصل ہونے والے فائدے پر خمس ہے یا نہیں ؟ اور اگر مستقل حیثیت نہیں رکھتا تو اس کے خمس نکالنے کا کیا طریقہ ہے ؟
ج۔ اگر قرض الحسنہ کے اصل سرمایہ میں چند افراد شریک ہوں تو اس سے حاصل ہونے والا فائدہ ھر شخص کے حصے کے لحاظ سے اس کی ملکیت ہوگا اور اسی میں اس پر خمس واجب ہوگا۔لیکن اگر قرض الحسنہ کا سرمایہ کسی ایک یا چند اشخاص کی ملکیت نہ ہو جیسے کہ وہ وقف عام کے مال سے ہو تو اس سے حاصل ہونے والے فائدے میں خمس نہیں ہے ۔
س
۹۶۶
۔ بارہ مومنین نے یہ طے کیہے کہ ان میں ھر ایک ھر ماہ خاص فنڈ میں بیس دینار جمع کرے گا اور ھر مھینے ان میں سے ایک نفر ، اس رقم کو لے کر اپنے خاص ضروریات کے لئے صرف کرے گا اور جب آخری شخص کا نمبر آئے گا تو وہ بارہ مھینے کے بعد رقم لے گا جس میں اس مدت میں اس کی دی ہوئی رقم مثلاً
۲۴۰
دینار بھی ہوں گے تو کیا اس شخص کی اپنی رقم پر بھی خمس واجب ہوگا یا اس رقم کا شمار اس کے اخراجات میں کیا جائے گا؟ اور اگر خمس کے حساب کے لئے اس کی تاریخ معین ہو ، اور اس نے جو رقم لی ہے اس میں سے معین تاریخ کے بعد کچھ رقم باقی ہے ، تو کیا اس شخص کے لئے جائز ہے کہ اس رقم کے لئے دوسری مستقل تاریخ رکہے تاکہ وہ اس تاریخ پر اس کے خمس سے بری الذمہ ہوجائے؟
ج۔ فنڈ میں جمع شدہ رقم اگر اس کے سال کے منافع میں سے ہے اور اب جو رقم اس سال کے خرچ کے لئے لی ہے اگر وہ اسی سال کے منافع سے ہے جس کو اس نے جمع کیا ہے تو اس پر خمس نہیں ہے لیکن اگر اس نے گذشتہ سال کے منافع میں سے جمع کیا ہے تو جو رقم اخراجات کے لئے لی ہے اس کا خمس نکالنا واجب ہے اور اگر وہ منافع دونوں سال کا ہو تو ھر سال کے منافع کا اپنا حکم ہوگا۔ لیکن اس نے جو رقم لی ہے اگر وہ اس سال کے اخراجات سے زائد ہو تو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ خمس سے بچنے کے لئے اضافی مقدار کی خاطر مستقل تاریخ خمس مقرر کرے بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ پورے سال کی آمدنی کے خمس کے لئے ایک تاریخ معین کرے اور اخراجات سے جو بچ جائے اس تاریخ میں اس کا خمس نکال دے۔
س
۹۶۷
۔ میں نے رھن پر کرایہ کا مکان لیا ہے اور بطور رھن
 
(
 
مالک مکان کو
)
 
ایک رقم دی ہے ، کیا مجہ پر ایک سال کے بعد بطور رھن دی جانے والی رقم کا خمس واجب ہوگا؟
ج۔ اگر وہ
 
(
 
رقم
)
 
منفعت میں سے ہو تو مالک مکان کے لوٹانے کے بعد اس رقم پر خمس ہوگا۔
س
۹۶۸
۔ آبادکاری کے لئے ایک خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کو یکمشت دینا ہم ارے لئے مشکل ہے ۔ لھذا اس کام کو انجام دینے کے لئے ہم لوگوں نے ایک فنڈ قائم کیا ہے اور اس میں ہ رمھینے کچھ رقم جمع کرتے ہیں اور رقم جمع ہونے کے بعد اسے آبادکاری میں صرف کرتے ہیں ، کیا جمع شدہ رقم میں خمس ہے ؟
ج۔ ھر شخص کی جانب سے دی جانے والی رقم اگر آبادکاری میں خرچ کی جانے تک اس کی ملکیت میں رہے اور خمس کا سال پورا ہونے تک اسے فنڈ کے کہاتے سے واپس لینا ناممکن ہو تو اس پر خمس واجب ہے ۔
س
۹۶۹
۔ چند سال پھلے میں نے اپنے مال کا حساب کیا اور خمس کی تاریخ مقرر کردی ، میرے پاس نقد رقم اور موٹر سائیکل کے علاوہ خمس نکالی ہوئی
۹۸
بھیڑ بکریاں تھیں لیکن چند سال سے میری بھیڑ بکریاں بیچنے کی وجہ سے کم ہوگئی ہیں لیکن نقدی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اس وقت میرے پاس
۶۰
بھیڑ بکریاں ہیں اور اس کے علاوہ نقد رقم ہے ، پس کیا اس مال کا خمس نکالنا مجہ پر واجب ہے یا صرف اضافی مال کا خمس نکالنا ہوگا؟
ج۔ اگر موجودہ بھیڑ بکریوں کی مجموعی قیمت اور نقدی مال کی مقدار اور
۹۸
بھیڑ بکریوں کی کل قیمت اور خمس دئے ہوئے مال کے مجموعہ سے زیادہ ہو تو اب زائد پر خمس ہے ۔
س
۹۷۰
۔ ایک شخص کے پاس ایک ملکیت
 
(
 
گھر یا زمین
)
 
ہے جس پر خمس ہے ، تو کیا وہ اس کا خمس اپنے سال کی منفعت سے ادا کرسکتا ہے یا واجب ہے کہ پھلے وہ منفعت کا خمس نکال ڈالے پھر اس خمس نکالی ہوئی رقم سے اس ملکیت کا خمس اد اکرے؟
ج۔ اگر سال کی منفعت کا خمس نکالنا چاھتا ہے تو واجب ہے کہ اس کا بھی خمس نکالے۔
س
۹۷۱
۔ ہم نے شھیدوں کے بچوں کے لئے کچھ شھیدوں کا کارخانوں ، زرعی زمینوں اور بنیاد شھداء سے ملنے والے وظیفہ سے کچھ مال جمع کیا ہے جس سے بعض اوقات ان کی ضرورتوں کو پورا کیا جاتا ہے ۔ براہ کرم یہ فرمائیے کہ کیا ان منافع اور مہانہ جمع شدہ رقم پر خمس واجب ہے یا ان لوگوں کے بڑے ہونے تک انتظار کیا جائے گا؟
ج۔ شھداء کی اولاد کو ان کے باپ کی طرف سے جو چیزیں میراث میں ملی ہیں یا جو بنیاد شھید کی طرف سے نہیں دیا گیا ہے ان میں خمس واجب نہیں ہے ، لیکن ارث میں یا بنیاد شھید کی طرف سے ھدیہ ملنے والے مال سے حاصل ہونے والے منافع کا اگر وہ ان کے بالغ ہونے تک ان کی ملکیت میں رہیں تو خمس نکالنا احتیاط واجب ہے ۔
س
۹۷۲
۔ کیا نفع کمانے اور تجارت میں جو مال انسان لگاتا ہے اس میں خمس ہے ؟
ج۔ اگر اصل سرمایہ کاروبار سے حاصل ہوا ہو تو اس میں خمس ہے ، لیکن نفع کمانے میں جو مال اصل سرمایہ سے خرچ ہوتھے جیسے ذخیرہ کرانے، مزدوری ، وزن کرانے اور دلالی وغیرہ تو ان سب کو تجارت کے منافع سے منہا کرلیا جائے گا اور ان میں خمس نہیں ہے ۔
س
۹۷۳
۔ اصل مال اور اس کے منافع میں خمس ہے یا نہیں ؟
ج۔ اگر اصل مال کو انسان نے کسب
 
(
 
تنخواہ وغیرہ سے
)
 
حاصل کیا ہو تو اس میں خمس ہے صرف جو مال منافع تجارت سے حاصل ہو تو اس میں سال کے خرچ سے زائد پر خمس واجب ہے ۔
س
۹۷۴
۔ اگر کسی کے پاس سونے کے سکے ہوں اور وہ نصاب تک پھنچ جائیں تو کیا اس پر زکوٰۃ کے علاوہ خمس بھی ہوگا؟
ج۔ اگر اسے کاروباری منافع میں شمار کیا جاتا ہو تو وجوب خمس کے سلسلے میں اس کا وھی حکم جو دوسرے منافع کا ہے ۔
س
۹۷۵
۔ میری زوجہ اور میں وزارت تعلیم میں کام کرتے ہیں اور وہ اپنی تنخواہ ہم یشہ مجھے ھبہ کردیتی ہے اور میں نے وزارت تعلیم میں کام کرنے والوں کی زرعی
سوسائٹی میں ایک رقم لگادی ہے اور میں خود بھی اس کا ممبر ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ وہ رقم میری تنخواہ سے تھی یا میری اھلیہ کی تنخواہ سے تھی یہ جانتے ہوئے کہ میری اھلیہ کی جمع شدہ تنخواہ کی رقم اس مقدار سے کم ہے جتنا وہ ھر سال مجہ سے لیتی ہے ، تو کیا اس مبلغ میں خمس ہے یا نہیں ؟
ج۔ جمع شدہ مال جو آپ کی تنخواہ کہے اس میں خمس ہے اور جو آپ کی اھلیہ نے آپ کو ھبہ کیا ہے اس میں خمس واجب نہیں ہے ، اسی طرح جس مال میں شک ہو کہ وہ آپ کا ہے یا آپ کی اھلیہ نے ھبہ کیا ہے اس کا خمس نکالنا بھی واجب نہیں ہے لیکن احوط یھی ہے کہ اس کا خمس نکالا جائے یا تہوڑا مال دے کر خمس کے بارے میں
 
(
 
حاکم شرع سے
)
 
مصالحت کی جائے۔
س
۹۷۶
۔جو رقم بےنک میں دوسال کےلئے بطور قرض الحسنہ موجود تھی کےا اس میں خمس ہے ؟
ج۔ سال کے منافع میں سے جو مقدار جمع ہو اس میں ایک مرتبہ خمس ہے اور بینک میں قرض الحسنہ کے طور پر جمع کرنے سے خمس ساقط نہیں ہوتا ۔ البتہ جب تک قرض لینے والے سے وہ رقم نہ مل جائے اس پر خمس واجب نہیں ہے ۔
س
۹۷۷
۔ ایک شخص اپنے یا اپنے
 
(
 
زیر کفالت
)
 
عیال کے خرچ میں سے کٹوتی کرتا ہے تاکہ کچھ مال جمع کرسکے یا کچھ رقم قرض لیتا ہے تاکہ اپنی زندگی کی پریشانیوں کو دور کرسکے، پس اگر خمس کی تاریخ تک جمع شدہ مال یا قرض لی ہوئی رقم باقی رہ جائے تو کیا اس پر خمس ہوگا؟
ج۔ جمع شدہ منفعت اگر خمس کی تاریخ تک رہ جائے تو اس میں ھر حال میں خمس واجب ہوگا، قرض لینے والے پر قرض کا خمس واجب نہیں ہے لیکن قرض کو سال کے منافع میں سے قسط وار ادا کرے اور قرض کا عین مال خمس کی تاریخ کے وقت اس کے پاس موجود ہو تو اس کا خمس دینا واجب ہے ۔
س
۹۷۸
۔ دو سال پھلے مکان بنانے کے لئے میں نے تہوڑی سی زمین خریدی تھی، اگر میں مکان کی تعمیر کے لئے
 
(
 
روزانہ کے خرچ سے بچا کر
)
 
کچھ مال جمع کروں ، تو کیا سال کے آخر میں اس
 
(
 
جمع شدھ
)
 
رقم میں خمس ہے ؟ جبکہ میں کرایہ کے مکان میں رہتا ہوں؟
ج۔ اگر اس رقم کو سال کے منافع میں سے جمع کیا ہو یہاں تک کہ خمس کی تاریخ
آگئی ہو تو اس میں خمس واجب ہے ، لیکن سال کے داخل ہونے سے پھلے اگر اس رقم کو مکان کے لوازمات میں تبدیل کردیا جائے تو اس پر خمس نہیں ہے ۔
س
۹۷۹
۔ میں شادی کرنا چاھتہوں اور مالی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے میںنے اپنی رقم ایک شخص کے پاس بطور بیع شرط رکہا ہے ، اور اس وقت مالی ضرورت کے پیش نظر جب کہ میں کالج کا ایک طالب علم ہوں، کیامسئلہ خمس میں مصالحت کا امکان ہے ؟
ج۔ اگر مذکورہ مال آپ کے منافع کسب میں سے تھا تو سال خمس کے پورا ہونے پر اس کا خمس نکالنا واجب ہے ۔ اور خمس نکالنا یقینی ہو تو اس میں مصالحت نہیں ہوسکتی۔
س
۹۸۰
۔ گذشتہ سال حج کمیٹی نے حاجیوں کے قافلوں کے تمام سامان اور اسباب ان سے خرید لئے اور میں نے اس سال گرمی میں اپنے سامان کی قیمت
۳
لاکھ
۲۱
ھزار تومان وصول کی۔ اس کے علاوہ میں نے گذشتہ سال اسی ھزار تومان لئے تھے ۔ اس بات کے پیش نظر کہ میں نے خمس کی تاریخ معین کردی ہے اور خرچ سے بچے ہوئے مال پر ھر سال خمس دیتہوں ، نیز یہ کہ مذکورہ چیزیں میری ضرورت کی تہیں ، کیا اس وقت اس رقم میں خمس نکالنا واجب ہے ؟ جبکہ اس وقت ان کی قیمتوں میں بہت زیادہ اختلاف ہوچکا ہے ؟
ج۔ مذکورہ سامان اگر مخمس مال سے خریدا گیا تھا توبیچنے کے بعد ان کی قیمتوں میں خمس نہیں ہے ، ورنہ اس کا خمس نکالنا واجب ہے ۔
س
۹۸۱
۔ میں ایک دوکاندار ہوں اور ھر سال نقد مال اور سامان کا حساب کرتا ہوں۔ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو سال کے آخر تک فروخت نہیں ہو پاتیں تو کیا سا ل کے آخر میں ان کو بیچنے سے پھلے ان کا خمس نکالنا واجب ہے یا یہ کہ اس کو بیچنے کے بعد اس کا خمس نکالنا واجب ہے ؟ اور اگر ان چیزوں کا خمس دے دیا ہو اور پھر نہیں فروخت کیا ہو تو اگلے سال ان کا کس طرح حساب کروں گا؟ اور اگر نہیں نہ بیچا ہو اور ان کی قیمت میں فرق آگیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟
ج۔ جن چیزوں کو نہیں بیچا ہے اور نہ اس سال نہیں کوئی خریدنے والا ہے تو ان کی بڑھی ہوئی قیمتوں پر خمس نکالنا واجب نہیں ہے بلکہ آئندہ بیچ کر حاصل ہونے والا منافع اس سال کا شمار ہوگا جس سال اسے فروخت کیا ہے ،اور اگر جن چیزوں کی قیمتیں بڑہیں تہیں اور ان کا مشتری بھی اس وقت موجود تھا لیکن زیادہ
 
(
 
منافع
)
کی
خاطر آپ نے اسے سال کے آخر تک نہیں بیچا تو سال کے داخل ہوتے ھی ان کی بڑھی ہوئی قیمت کا خمس نکالنا واجب ہے ۔

س۹۸۲۔ ایک مکان تین منزلوں پر مشتمل ہے اور مکان کی سند (قانونی کاغذات) کی رو سے وہ ۱۹۷۳ سے چار افراد کی درج ذیل تفصیل سے ملکیت میں ہے :

پورے گھر کے پانچ حصوں میں سے تین حصے تین اولاد کی ملکیت میں ہیں اور دو حصے ان کے والدین کے ہیں ، اور ایک طبقہ پر اولاد میں سے کوئی ایک رہتا ہے اور دوسری دو منزلوں پر ان کے مالکوں کی مالی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے دو کرایہ دار رھتے ہیں ، اور یہ جانتے ہوئے کہ ان دو مالکوں میں سے ایک کے پاس اس گھر کے علاوہ دوسرا گھر نہیں ، کیا ان دونوں منزلوں پر خمس واجب ہے ؟ اور کیا یہ ان دونوں منزلوں کی آمدنی سال کے خرچ میں شمار ہوگی؟

ج۔ معیشت چلانے کے لئے مذکورہ گھر کا جو حصہ کرایہ پر دیا گیا ہے اس کا حکم اصل مال کا حکم ہے ، پس اگر وہ کاروبارہ فائدے میں شمار ہوتا ہو تو اس میں خمس ہے اور اگر وہ ارث میں ملا ہو یا ھبہ کے طور پر ملا ہو تو اس میں خمس نہیں ہے ۔

س۹۸۳۔ ایک شخص کے پاس ایسا گیہوں تھا جس کا خمس دے چکا ہے اور جب وہ ( دوسری فصل کے لئے) گیہوں بو رہا تھا تو اسی مخمس گیہوں کو صرف کرتا رہا ، پھر وہ اس ( خمس دئیے ہوئے گیہوں) کی جگہ نئے گیہوں کو رکھتا رہا اس طرح کئی سال گذر گئے تو کیا اس نئے گیہوں پر خمس ہوگا جنہیں استعمال کے لئے گیہوں کی جگہ رکھتا تھا ؟ اور ایسا ہونے کی صورت میں کیا سب پر خمس ہوگا؟

ج۔ جب اس نے خمس دئیے ہوئے گیہوں کو صرف کیا تو اس کے لئے درست نہیں تھا کہ نئے گیہوں کو الگ کرے تاکہ اس طرح وہ مقدار خمس کے حکم سے مستثنیٰ ہو۔ پس جدا کئے ہوئے نئے گیہوں کو اگر سال کے اخراجات میں صرف کیا ہے تو اس میں خمس نہیں ہے اور اس میں سے جو سال تک بچ جائے اس میں خمس واجب ہے ۔

س۹۸۴۔ بحمد اللہ میں ھر سال اپنے مال کا خمس نکالتا ہوں لیکن خمس کا حساب کرتے وقت ہم یشہ مجہ کو شک ہوتا ہے پس اس شک کا کیا حکم ہے ؟ اور کیا واجب ہے کہ اس سال سارے نقد مال میں حساب کروں اس سلسلے میں شک کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا؟

ج۔ اگر آپ کا شک گذشتہ برسوں کی منفعت کے حساب کے صحیح ہونے کے بارے میں ہے تو ا س کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا اور دوسری مرتبہ اس کا خمس نکالنا واجب نہیں ہے لیکن اگر آپ کو آمدنی کے بچے ہوئے مال میں اس بارے میں شک ہو کہ یہ اس سال کا ہے جس میں خمس دیا جاچکا ہے یا اس سال کا کہ جس کا خمس نہیں دیا ہے ، تو اس صورت میں آپ پر اس کا خمس نکالنا واجب ہے مگر اس بات کا یقین ہوجائے کہ اس کا خمس پھلے نکالا جاچکا تھا۔

س۹۸۵۔ میں نے بالفرض مخمس مال سے دس ھزار تومان میں ایک قالین خریدا اور کچھ دنوں کے بعد اسے ۱۵ ھزار تومان میں بیچ دیا تو کیا ۵ ھزار تومان کہ جو مخمس مال سے زیادہ ہیں ، کاروبار کے منافع میں شمار ہوں گے اور ان پر خمس ہوگا؟

ج۔ اگر اسے بیچنے کے ارادے سے خریدا تھا تو خرید سے زیادہ وصول ہونے والی رقم منفعت میں شمار ہوگی اور اگر سال کے آخر میں اس میں کچھ بچ جائے تو اس پر خمس واجب ہوگا۔

س۹۸۶۔ جو شخص اپنے منافع میں سے ھر منفعت کے لئے خمس کی ( جدا) تاریخ معین رکھتا ہے کیا اس کے لئے جائز ہے کہ اس منفعت کا خمس جس کی تاریخ آگئی ہے ، ان منافع سے دے جن کی تاریخیں نہیں آئی ہیں ؟ اور جن منافع کے بارے میں جانتا ہو کہ یہ منافع آخر سال تک باقی رہیں گے اور زندگی کے اخراجات میں صرف نہیں ہوں گے تو اس صورت میں کیا حکم ہے ؟

ج۔ اگر یہ جائز بھی ہو کہ ھر آمدنی کے لئے خمس کی مستقل تاریخ رکھی جائے تو بھی یہ جائز نہیں کہ ایک کاروبار کے منافع کا خمس دیا جاچکا ہو اور جو منافع سال کے آخر تک خرچ نہ ہوں ان میں اختیار ہے کہ ان کے حصول کے بعد ھی خمس دی دے یا سال کے ختم ہونے کا انتظار کرے۔

س۹۸۷۔ ایک شخص کے پاس دو منزلہ مکان ہے جس کی اوپری منزل میں وہ خود رہتا ہے اور نچلی منزل کو ایک شخص کو دے دیا ہے اور چونکہ وہ مقروض تہوراس نے اس شخص سے کرایہ لینے کے بجائے قرض لے لیا ہے ، تو کیا اس رقم میں خمس ہوگا؟

ج۔ قرض لے کر مفت میں مکان دینے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے ، بھر حال جس مال کو بطور قرض لیا ہے اس میں خمس نہیں ہے ۔

س۹۸۸۔ میں نے ادارہ اوقاف سے ایک مکان مطب ( کلینک) کے لئے مہانہ کرایہ پر لیا ہے ۔ میری درخواست قبول کرنے کے عوض انہوں نے مجہ سے پگڑی بھی لی ہے پس کیا اس پگڑی پر خمس ہے ؟ واضح رہے کہ اس وقت مذکورہ رقم میری ملکیت سے خارج ہوچکی ہے اور وہ مجھے کبھی نہیں ملے گی؟

ج۔ اگر یہ رقم پگڑی کے طور پر دی گئی ہے اور سال بھر کے بچے ہوئے مال سے اس کا تعلق تھا تو اس کا خمس دینا واجب ہے ۔

س۹۸۹۔ ایک شخص نے بنجر زمین کو آباد کرنے اور اس میں پھل دار درخت لگانے کے لئے تاکہ ان کے پھلوں سے مستفید ہوسکے، ایک کنواں کہودا اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہ درخت سالہا بعد پھل دیتے ہیں اور ان پر کافی سرمایہ خرچ ہوتا ہے ، اس شخص نے اب تک ایک ملین تومان سے زیادہ ان پر خرچ کیا ہے لیکن اب تک اس نے خمس کا حساب نہیں کیا، اب جب اس نے خمس ادا کرنے کے لئے اپنے اموال کا حساب کیا تو معلوم ہوا کہ کنویں ، زمین اور باغ کی قیمت شھروں کی آبادی بڑھ جانے کی وجہ سے لگائی گئی رقم کا کئی گنا ہوگئی ہے ۔ پس اگر اسے موجودہ قیمت کا خمس ادا کرنے کی تکلیف دی جائے تو اس میں اس کی استطاعت نہیں ہے ، اور اگر اسے خود زمین اور باغ کا خمس دینے کی تکلیف دی جائے تو اس سے وہ مشکلوں میں مبتلا ہوگا کیونکہ اس سلسلہ میں اس نے اس امید پر خود مشقت اٹہائی کہ وہ اپنے معاش اور اپنے عیال کے اخراجات کو باغ کے پھلوں سے پورا کرے گا پس اس کے اموال سے خمس نکالنے کے بارے میں اس کیا کیا فریضہ ہے ؟ اور اس پر جو خمس ہے اس کا وہ کس طرح حساب کرے کہ اس کے لئے اس کا ادا کرنا آسان ہوجائے گا؟

ج۔ جس بنجر اور غیر آباد زمین کو اس نے باغ بنانے اور اس میں پھل دار درخت لگانے کے لئے آباد کیا ہے اور اس کا اس کی آبادکاری پر ہونے والے اخراجات کو الگ کرکے خمس دینا ہوگا اوراس سلسلہ میں اسے اختیار ہے کہ وہ خود زمین کا خمس دے یااس کی موجودگی قیمت کے لحاظ سے خمس نکالے لیکن کنویں، پائپ ، واٹر پمپ ، نلکے اور درختوں وغیرہ پر جو پیسہ خرچ ہوا ہے اسے اگر اس نے قرض لیا ہو یا ادہا ر حاصل کیا ہو اور پھر اس ادہار کو غیر مخمس مال سے ادا کیہو تو اسے صرف اس رقم کا خمس دینا پڑے گا جو اس نے قرض میں ادا کیا ہے لیکن اگر اس نے اسے غیر مخمس مال سے حاصل کیا ہے توموجودہ قیمت کے لحاظ سے اس کا خمس دینا ہوگا پس اگر اس خمس کو جو کہ اس پر واجب ہے ایک مرتبہ ادا نہیں کرسکتا ہے تو ہم ارے کسی وکیل سے مصالحت کرکے خمس کی رقم کو جتنی مقدار و مدت معین کی جائے اس میں رفتہ رفتہ اد اکرے۔

س۹۹۰۔ خمس ادا کرنے کے لئے ایک شخص کے پاس سال بھر کا حساب نہیں ہے اور اب وہ خمس نکالنا چاھتا ہے اور شادی سے آج تک وہ مقروض چلا آرہا ہے پس اپنے خمس کا وہ کیسے حساب کرے؟

ج۔ اگر ماضی سے آج تک اس کے پاس اس کے اخراجات کے بعد کچھ بچت نہیں ہے تو خمس نہیں ہے ۔

س۹۹۱۔ موقوفہ اشیاء اور زمین کے منافع اور محصول پر خمس و زکوٰۃ کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ موقوفہ چیزوں پر مطلقاً خمس نہیں ہے خواہ وہ وقف خاص ھی کیوں نہ ہو اور نہ ان کے فوائد خمس ہے اور نہ ھی وقف عام میں موقوف علیہ کے قبضہ کرنے سے اس قبل اس کے محصول میں زکوٰۃ ہے ۔ لیکن قابض ہونے کے بعد وقف کے محصول پر زکوٰۃ واجب ہے ، بشرطیکہ اس میں زکوٰۃ کے شرائط پائے جاتے ہوں ، لیکن وقف خاص کے محصول میں جس شخص کے حصہ کا محصول حد نصاب تک پہونچ جائے تو اس پر اس کی زکوٰۃ دینا واجب ہے ۔

س۹۹۲۔ کیا چہوٹے بچوں کی کمائی میں بھی سہم سادات کثرہم اللہ تعالیٰ ، اور سہم امام (ع) ہے ؟

ج۔ احتیاط واجب ہے کہ وہ بالغ ہونے کے بعد اپنی اس کمائی کے منافع کا خمس ادا کریں جو بلوغ سے قبل کی تھی بشرطیکہ بالغ ہونے تک وہ ان کی ملکیت میں رہے ۔

س۹۹۳۔ کیا ان آلات پر بھی خمس ہے جو کاروبار میں استعمال ہوتے ہیں ؟

ج۔ کاروبار کے وسائل اور آلات کا حکم وھی ہے جو وجوب خمس میں راس المال کا حکم ہے ۔

س۹۹۴۔ چند سال قبل ہم نے حج بیت اللہ جانے کی غرض سے بینک میں کچھ پیسے جمع کئے مگر ابھی تک ہم حج کے لئے نہیں جاسکے اور یہ یاد نہیں کہ ماضی میں ہم نے اس پیسہ کا خمس نکالا تھا یا نہیں ۔ کیا اب اس پر خمس دینا واجب ہے ؟ اور حج پر جانے کی نام نویسی کے لئے ہم نے جو پیسہ جمع کیا تھا اس کو کئی سال ہوگئے ہیں کیا اس پر بھی خمس واجب ہے یا نہیں ؟

ج۔ حج کے لئے اسم نویسی کے سلسلہ میں جو پیسہ آپ نے جمع کیا تھا اگر وہ آپ کی سال بھرکی کمائی میں سے تھا یا جمع کرتے وقت وہ اس قول و قرار کے تحت کہ وہ آنے جانے کے اخراجات اور وہاں کی خدمات کی قیمت یا اجرت کے لئے ہے ، جو آپ کے اور ادارہ حج و زیارت کے درمیان ہوا تھا تو اس کا خمس دینا آپ پر واجب نہیں ہے ۔

س۹۹۵۔ جن ملازمت پیشہ لوگوں کے خمس کے سال کا پھلا دن بارہویں مھینے کا آخری دن ہو اور وہ سال کا پھلا مہینہ شروع ہونے سے پانچ روز قبل ھی اپنی تنخواہ لے لیں تاکہ اسے آنے والے سال کے آغاز میں خرچ کریں تو کیا اس کا خمس دینا واجب ہے ؟

ج۔ جو تنخواہ انہوں نے سال ختم ہونے سے قبل ھی لے لی ہے ، اس میں سے خمس والے سال کے آخر تک جتنی مقدار خرچ نہیں ہوئی ہے اس پر خمس ہے ۔

س۹۹۶۔ یونیورسٹیوں کے اکثر طلبہ غیر متوقع مشکلوں کو حل کرنے کے لئے اپنی زندگی کے اخراجات میں میانہ روی سے کام لیتے ہیں لھذا ان کے پاس پیسہ وافر مقدار میں جمع رہتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ :اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہ مال قناعت اور وزارت تعلیم کے وظیفہ سے حاصل ہوتا ہے تو کیا ان اموال پر خمس ہے ؟

ج۔ وظیفہ اور تعلیمی امداد پر خمس نہیں ہے ۔

خمس کے حساب کا طریقہ

س۹۹۷۔ اگر خمس ادا کرنے میں آنے والے سال تک تاخیر ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ حکم یہ ہے کہ خمس ادا کیا جائے چہے آئندہ سال ھی کیوں نہ ہو لیکن خمس کے سال کے داخل ہونے کے بعد اس مال میں تصرف کا حق نہیں ہے جس کا خمس ادا نہیں کیا ہے اور اگر خمس دینے سے قبل اس سے کوئی چیز یا زمین وغیرہ خرید لی تو خمس کی مقدار کے معاملے میں ولی امر خمس کی اجازت کے بعد اس ملکیت یا زمین کی موجودہ قیمت کے مطابق حساب کرے اور اس کا خمس ادا کرے۔

س۹۹۸۔ میں ایسے مال کا مالک ہوں جس کا کچھ حصہ نقد کی صورت میں اور کچھ قرض الحسنہ کی شکل میںدیگر اشخاص کے پا س ہے ، دوسری طرف میں مکان کی خاطر زمین خریدنے کی وجہ سے مقروض ہوں اور اس زمین کی قیمت سے متعلق ایک نقدی چیک ہے جس کو مجھے چند ماہ تک ادا کرنا ہے پس کیا میں موجودہ رقم ( نقد و قرض الحسنہ) میں سے زمین کا قرض نکال کر باقی رقم کا خمس دے سکتا ہوں؟ اور کیا اس زمین پربھی خمس ہے جس کو رہائش کے لئے خریدا ہے ؟

ج۔ آپ کو خمس کا سال شروع ہوجانے کے بعد سال بھر کے منافع میں سے اس قرض کو دے سکتے ہیں جس کا چند ماہ بعد اد اکرنا ضروری ہے لیکن اگر آپ نے اس پیسے کو سال کے دوران قرض میں ادا نہیں کیا یہاں تک کہ خمس کا سال آگیا تو اسکے بعد آپ قرض کو اس سے جدا نہیں کرسکتے بلکہ پورے مال کا خمس دینا واجب ہے ۔ لیکن آپ نے جو زمین رہائش کے لئے خریدی ہے اگر آپ کو اس کی ضرورت ہے تو اس پر خمس نہیں ہے ۔

س۹۹۹۔ میں نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے تو کیا مستقبل میں اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے میں موجودہ مال سے کچھ ذخیرہ کرسکتا ہوں؟

ج۔ اگر آپ نے سال بھر کے نفع سے ذخیرہ کیا یہاں تک خمس کی تاریخ آگئی تو آپ پر اس کا خمس نکالنا واجب ہے خواہ وہ پیسہ مستقبل میں شادی میں خرچ کرنے کے لئے کیوں نہ رکہا ہو۔

س۱۰۰۰۔ میں نے سال کے دسویں مھینے کی آخری تاریخ کو خمس نکالنے کے لئے مقرر کیا ہے ۔ پس میری دسویں مھینے کی تنخواہ اس ماہ کے آخر میںملتی ہے ۔ کیا اس پر بھی خمس ہے ؟ اور اگر میں تنخواہ لینے کے بعد کچھ پیسہ اپنی زوجہ کو ھدیہ کردوں جس کو ھر مھینے جمع کرتا ہوں۔ تو کیا اس پر بھی خمس ہے ؟

ج۔ جو تنخواہ آپ نے خمس کی تاریخ آنے سے پھلے لی ہے یا خمس کی تاریخ سے ایک دن پھلے جس تنخواہ کو لے سکتے ہیں اس میں سے اگر سال کے خرچ سے کچھ بچ جائے تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے لیکن جو پیسہ آپ نے اپنی زوجہ یا کسی دوسرے شخص کو ھدیہ کردیا ہے اگر خمس سے بچنے کی غرض سے ایسا نہ کیا ہو اور وہ عرف عام میں آپ کی حیثیت کے مطابق بھی ہو تو اس پر خمس نہیں ہے ۔

س۱۰۰۱۔ میرے پاس کچھ مال یا پونجی ایسی ہے جس کا خمس دیا جا چکا ہے اسے میں خرچ کرنا چاھتا ہوں ۔ کیا سال کے آخر میں جب مال کے خمس کا حساب ہوگا میں سال بھر کے منافع میں سے کچھ مقدار مال کو اس خرچ شدہ مخمس مال کے بدلے خمس سے الگ کرسکتا ہوں؟

ج۔ سال بھر کے منافع میں سے کوئی بھی چیز مخمس مال کے بدلے خمس سے الگ نہیں کرسکتے۔

س۱۰۰۲۔ اگر وہ مال جس پر خمس نہیں ہے جیسے انعام وغیرہ اصل مال سے مخلوط ہوجائے تو کیا خمس کی تاریخ میں اسے الگ کرکے باقی مال کا خمس نکال سکتے ہیں ؟

ج۔ اس کے جدا کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے ۔

س۱۰۰۳۔ تین سال قبل میں نے اس پیسہ سے دوکان کہولی جس کا خمس دیا جاچکا ہے اور میرے خمس کی تاریخ شمسی سال کی آخری تاریخ ہے ، یعنی عید نوروز کی شب، اور آج تک جب بھی میرے خمس کی تاریخ آتی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ میرا تمام سرمایہ قرض کی صورت میں لوگوں کے ذمہ ہے اور میں خود بہاری رقم کا مقروض ہوں ۔ امید ہے کہ ہم اری تکلیف بیان فرمائیں گے؟

ج۔ اگر خمس کی تاریخ کے وقت نہ آپ کے راس المال میں سے کچھ ہو اور نہ منافع سے ، یا یہ کہ کل نقد رقم اور دوکان میں موجود مال اس مال کے برابر ہو جس کا آپ خمس دے چکے ہیں تو آپ پر خمس واجب نہیں ہے لیکن جو اجناس آپ نے ادہار پر فروخت کی ہیں ، ان کا اس سال کے منافع میں حساب ہوگا جس سال ان کی قیمت آپ وصول کریں۔

س۱۰۰۴۔ جب خمس کی تاریخ آتی ہے تو ہم ارے لئے دوکان میں موجود مال کی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے ۔ پس کس طریقے سے اس کا حساب لگانا واجب ہے ؟

ج۔ جس طرح بھی ہوسکے خواہ تخمینہ کے ذریعہ ھی بھر حال دوکان میں موجود مال کی قیمت کا تعیین واجب ہے تاکہ سال بھر کے اس منافع کا حساب ہوجائے جس کا خمس نکالنا آپ پر واجب ہے ۔

س۱۰۰۵۔ اگر میں چند سال تک خمس کا حساب نہ کروں یہاں تک کہ میرا مال نقد بن جائے اور اصلی پونجی میں اضافہ ہوجائے تو اگر میں سابقہ اصل سرمایہ کی علاوہ جو مال ہے اس کا خمس نکالوں تو کیا اس میں کوئی اشکال ہے ؟

ج۔ اگر خمس کی تاریخ آنے تک آپ کے اموال میں کچھ خمس تھا، اگرچہ کم ھی سھی تو جب تک آپ اپنے اموال کا حساب نہیں کریں گے اور جب تک وہ خمس ادا نہیں کریں گے اس وقت تک آپ کو اپنے اموال میں تصرف کا حق نہیں ہوگا اور اگر آپ نے اس کا خمس دینے سے قبل خرید و فروخت کے ذریعہ اس میں تصرف کیا تو اس میں موجود خمس کی مقدار کے برابر معاملہ فضولی ہوگا۔ اور ولی خمس کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اور اجازت کے بعد پھلے آپ پر کل خمس دینا واجب ہے اور بعد میں دوسرے سال کے اخراجات سے بچ جانے والے پیسہ کا خمس دینا واجب ہے ۔

س۱۰۰۶۔ امید ہے کہ ایسا طریقہ بیان فرمائیں کہ جس سے دوکاندار کے لئے خمس نکالنا ممکن ہوجائے؟

ج۔ پھلے خمس کے سال کے آغاز میں موجود مال و نقد کا حساب کریں اور اس کا اصلی مال سے موازنہ کریں اگر اصلی پونجی سے زیادہ نکلے تو اسے منافع سمجہا جائے گا اور اس پر خمس ہے ۔

س۱۰۰۷۔ گذشتہ سال میں نے سال کے تیسرے مھینے کی پھلی تاریخ کو اپنے خمس کی تاریخ مقرر کیا تھا اور یہ وہ تاریخ ہے جس میں ، میں نے اس فائدے کے خمس کا حساب کیتھا جو مجھے بینک کے حساب سے ملا تھا باوجودیکہ میں اس سے قبل اس فائدہ کا مستحق تھا مگر میں اس مال سے کام چلا رہا تھا جس پر خمس نہیں ہے پس سال بھر کے حساب کا یہ طریقہ صحیح ہے ؟

ج۔ آپ کے خمس کے سال کی ابتداء وہ دن ہے جس دن پھلی مرتبہ آپ کو وہ فائدہ ملا جو لینے کے قابل تھا اور خمس کے سال میں تاخیر اس دن سے آپ کے لئے صحیح نہیں ہے ۔

س۱۰۰۸۔ چند سال قبل ایک شخص نے کم قیمت پر زمین خریدی اس وقت وہ اپنے امور کے خمس کا حساب کرنا چاھتا ہے تاکہ پاک ہوجائے۔ کیا اس پر سابقہ قیمت کے مطابق خمس نکالنا واجب ہے یا موجودہ قیمت کے مطابق جو بہت زیادہ ہے ؟

ج۔ اگر اس نے معاملہ اپنے ذمے غیر مشخص قیمت کے عنوان سے کیا ہو تو اسی قیمت پر خمس ہے ۔ لیکن اگر اس نے خاص مشخص و غیر مخمس مال سے زمین خریدی ہو تو اگر اثناء سال میں سال کے منافع سے خریدی ہے تو خود زمین کا یا اس کی قیمت پر خمس دینا واجب ہے اور اگر خمس کی تاریخ کے بعد سال کے نفع سے خریدی ہے تو خمس کی مقدار کے برابر معاملہ فضولی ہے اور حاکم شرعی کی اجازت پر موقوف ہے ، پس اگر ولی امر یا اس کا وکیل اس کی اجازت دیدے تو مکلف پر اس زمین کا یا اس کی موجودہ قیمت کا خمس دینا واجب ہے ۔

س۱۰۰۹۔ اگر کوئی شخص اپنے مال کے حساب کی تاریخ آنے سے قبل اپنی آمدنی کا کچھ حصہ قرض پر دیدے اور خمس کی تاریخ کے چند ماہ بعد اس سے واپس لے لے تو اس رقم کا کیا حکم ہے ؟

ج۔ مفروضہ سوال میں مقروض سے قرض لیتے وقت اس میں سے خمس دینا واجب ہے ۔

س۱۰۱۰۔ ان چیزوں کا کیا حکم ہے کہ جن کو انسان اپنے خمس کے سال کے درمیان خریدتا ہے پھر خمس کی تاریخ آنے کے بعد فروخت کردیتا ہے ؟

ج۔ اگر نہیں فروخت کرنے کی غرض سے خریدا تھا اور خمس کی تاریخ آنے سے پھلے ان کا فروخت کرنا ممکن تھا تو اس پر ان کے منافع کا خمس واجب ہے اور اگر فروخت کرنا ممکن نہیں تھا تو ان کاخمس واجب نہیں ہے اور جب نہیں فروخت کرے گا تو ان کے بیچنے سے جو فائدہ حاصل ہوگا اس کا فروخت والے سال کے منافع میں شمار ہوگا۔

س۱۰۱۱۔ اگر ملازم خمس والے سال کی تنخواہ خمس کی تاریخ آنے کے بعد وصول کرے تو کیا اس پر اس کا خمس دینا واجب ہے ؟

ج۔ اگر آغاز سال میں تنخواہ کو لے سکتا تھا تو اس کا خمس دینا واجب ہے اگرچہ اس نے لی نہ ہو ورنہ وصولنے کے سال کے منافع میں شمار ہوگی۔

س۱۰۱۲۔ اگر کوئی شخص خمس کی تاریخ آنے پر اتنی ھی مقدار کا مقروض ہو جتنا اس کا نفع ہوا ہے تو کیا اس منافع پر خمس ہے ؟

ج۔ اگر وہ قرض اسی سال کے اخراجات سے متعلق ہے تو وہ اس سال کے منافع سے علیحدہ کیا جائے گا ورنہ مستثنیٰ نہیں ہوگا۔

س۱۰۱۳۔ سونے کے سکہ کا کیسے خمس دیا جائے جس کی مستقل طور پر قیمت گھٹتی بڑھتی رھتی ہے ؟

ج۔ اگر خمس کے لئے قیمت نکالنا چاھتا ہے تو معیار ادائیگی کے دن کی قیمت ہے ۔

س۱۰۱۴۔ اگر کوئی شخص اپنے مال کا سالانہ حساب سونے کی قیمت سے کرے مثلاً جب اس کی کل پونجی سونے کے سو سکہ( بہار آزادی) کے برابر ہو اور وہ اس سے بیس سکے نکال دے تو اس کے پاس اسی سکے مخمس بچیں گے اور سال آئندہ سونے کے سکوں کی قیمت بڑھ جائے۔ لیکن اس شخص کا راس المال اسی سکوں کی قیمت کے برابر باقی بچے تو اس پر خمس ہے یا نہیں ؟ اور کیا اس بڑھی ہوئی قیمت پر خمس دینا واجب ہے ؟

ج۔ مخمس راس المال کے استثناء کا معیار خود راس المال ہے پس اگر راس المال کہ جس سے کاروبار ہوتا ہے ، بہار آزادی نام کے سونے کے سکے ہیں تو یہ مخمس سونے کے سکے سالانہ مالی حساب کے وقت مستثنیٰ ہوں گے اگرچہ ریال کے اعتبار سے ان کی قیمت میں گذشتہ سال کی نسبت اضافہ ھی ہوا ہو لیکن اگر اس کا راس المال نقد کاغذی نوٹ ہوں اور خمس کی تاریخ میں نہیں سونے کے سکوں کے مساوی حساب کرے اور اس کا خمس دیدے گا تو آئندہ خمس کی تاریخ میں سونے کے سکوں کے برابر والی وہ قیمت مستثنیٰ ہوگی جس کا گذشتہ سال حساب کیا تھا خود سونے کے سکے مستثنیٰ نہیں ہوں گے چنانچہ سال آئندہ اگر سونے کے سکوں کی قیمت بڑھ جائے تو بڑھی ہوئی قیمت مستثنیٰ نہیں ہوگی بلکہ اسے منافع میں شمار کیا جائے گا اور اس پر خمس واجب ہے ۔

مالی سال کی تعیین

س۱۰۱۵۔ جو شخص اس بات سے مطمئن ہو کہ سال کے آخر تک اس کی سال بھر کی آمدنی میں سے ایک پیسہ بھی نہیں بچے گا بلکہ جو کچھ اس کمائی اور منافع ہے وہ درمیان سال ھی میں روٹی اور کپڑے پر خرچ ہوجائے گا تو کیا اس کے باوجود اس پر خمس کی تاریخ معین کرنا واجب ہے ؟اور کیا آغاز سال کا تعین واجب ہے ؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو اپنے اس اطمینان کی بنا پر کہ اس کے پاس زیادہ پیسہ نہیں ہے ، خمس کے سال کا تعین نہیں کرتا ہے ؟

ج۔ خمس کے سال کی ابتداء مکلف کی تعین و حد بندی سے نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ ایک امر واقعی ہے جس کا آغاز ھر شخص کی کمائی کے آغاز کے ساتھ ھی ہوجاتا ہے ۔ مثلاً جو شخص زراعت کرتا ہے اس کے لئے سال کا آغاز کھیتی کاٹنے کے وقت سے ہوگا اور ملازمت پیشہ لوگوں کے سال کا آغاز کھیتی کاٹنے کے وقت سے ہوگا اور ملازمت پیشہ لوگوں کے سال کا آغاز وصول کرنے کا وقت ہے ، آغاز سال اور سالانہ آمدنی کا حساب خود مستقل واجب نہیں ہے یہ صرف اس لئے کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس پر کتنا خمس واجب ہے ، پس اگر اس کی کمائی میں اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ بچے بلکہ جتنا وہ کماتا ہے اس کو اپنی زندگی پر خرچ کردیتا ہے تو اس پر ان امور میں سے کچھ بھی واجب نہیں ہے ۔

س۱۰۱۶۔ کیا مالی سال کا آغاز کام کے پھلے مہینہ سے ہوتا ہے ؟ یا پھلا مہینہ مہانہ تنخواہ وصول کرنے سے متعلق ہے ؟

ج۔ ملازمت کرنے والوں کا خمس کا سال اس دن سے شروع ہوجاتا ہے جس دن تنخواہ پاتے ہیں یا اس کو وصول کرنے پر قادر ہوتے ہیں ۔

س۱۰۱۷۔ خمس ادا کرنے کے لئے سال کی ابتداء کا کیسے تعین ہوتا ہے ؟

ج۔ کاروندوں اور ملازمت پیشہ افراد کے خمس کے سال کی ابتداء اس تاریخ سے ہوتی ہے جس دن وہ اپنے کام و ملازمت کا پھلا ثمرہ حاصل کرتے ہیں لیکن تاجروں کے سال کی ابتداء ان کی خرید و فروخت شروع کرنے کی تاریخ سے ہوتی ہے ۔

س۱۰۱۸۔ غیر شادی شدہ جوانوں پر جو اپنے والدین کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں ، خمس کی تاریخ کا تعین کرنا واجب ہے ؟ اور ان کے سال کی ابتداء کب سے ہوگی؟ اور اس کا وہ حساب کریں گے؟

ج۔ اگر غیر شادی شدہ جوان کی ذاتی کمائی ہو ، خواہ قلیل ھی کیوں نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ خمس کی تاریخ معین کرے تاکہ اس سے سال بھر کی آمدنی کا حساب ہو کہ اگر سال کے آخر میں اس کے پاس کوئی چیز باقی بچے تو اس کا خمس دے اور خمس کے سال کا آغاز پھلے فائدے کے حصول کے دن سے ہوتا ہے ۔

س۱۰۱۹۔ جو میاں بیوی اپنی اپنی آمدنی سے مشترک طور پر گھر کے اخراجات پورا کرتے ہیں تو ان کے لئے ممکن ہے کہ مشترکہ طور پر اپنے خمس کی تاریخ بھی معین کریں؟

ج۔ ان میں سے مستقل طور پر ھر ایک کے لئے خمس کی تاریخ ہوگی بس سال کے آخر میں ان سے ھر ایک پر تنخواہ اور سال بھر کی آمدنی میں سے خرچ کرنے کے بعد جو کچھ بچے گا اس پر خمس دینا واجب ہے ۔

س۱۰۲۰۔ میرے اوپر گھر کی ذمہ داری ہے ، میں امام خمینی(رہ)کی مقلد ہوں ۔ میرے شوھر نے خمس کی تاریخ معین کررکھی ہے جس میں وہ اپنے اموال کا خمس نکالتے ہیں مجھے بھی کچھ آمدنی ہوتی ہے پس کیا خمس ادا کرنے کے لئے میں بھی اپنی تاریخ معین کرسکتی ہوں اور کیا اپنے خمس کے سال کی ابتداء اس حاصل ہونے والے اولین فائدے سے کرسکتی ہوں جس کا میں نے خمس نہیں دیا ہے اور سال کے آخر میں گھر کے اخراجات سے جو کچھ بچ جائے اس کا خمس ادا کروں اور کیا درمیان سال جو پیسہ میں زیارت پر یا ھدایا خریدنے میں خرچ کرتی ہوں اس پر بھی خمس ہے ؟

ج۔ آپ پر واجب ہے کہ خمس کے سال کی ابتداء اس دن سے کریں جس دن آپ کو سال کی پھلی آمدنی حاصل ہوئی اور سال کے دوران اپنی آمدنی یا کمائی سے جو کچھ ان امور پر خرچ کرتی ہیں جنہیں آپ نے بیان کیا ہے اس میں خمس نہیں ہے لیکن سال کے اخراجات کے بعد کمائی میں سے جو کچھ بچ جائے اس کا خمس دینا واجب ہے ۔

س۱۰۱۲۔ کیا خمس کی تاریخ شمسی یا قمری سال کے اعتبار سے معین کرنا واجب ہے ؟

ج۔ اس سلسلہ میں مکلف کو اختیار ہے ۔

س۱۰۲۲۔ ایک شخص کا کھنا ہے کہ اس کے خمس کے سال کا آغاز سال کے گیارہویں مہینہ سے ہوتا ہے لیکن وہ اسے بہول گیا اور خمس نکالنے سے قبل بارہویں مھینے میں اس نے اس مال سے اپنے گھر کے لئے جانماز، گھڑی اور قالین خرید لیا اور اب وہ اپنے خمس کے سال کا آغاز رمضان سے کرنا چاھتا ہے اس بات کی طرف اشارہ کردینا ضروری ہے کہ اس شخص پر گذشتہ سال کے سہم امام و سہم سادات کے ۸۳ تومان قرض ہیں اور نہیں وہ قسط وار ادا کررھہے پس مذکورہ سامان (جا نماز ، گھڑی اور قالین)کے سہم امام و سہم سادات کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

ج۔ خمس کے سال میں تقدیم و تاخیر صحیح نہیں ہے مگر گذشتہ سال کے منافع کے حساب کے بعد اور اس شرط کے ساتھ کہ اس سے ارباب خمس کو ضرر نہ پھنچے لیکن غیر مخمس مال سے اس نے جو ولی امر خمس یا اس کے وکیل کی اجازت پر موقوف ہے اور اجازت مل جانے کے بعد اس کی موجودہ قیمت کا خمس دینا واجب ہے ۔

س۱۰۲۳۔ کیا انسان اپنے مال کے خمس کا حساب خود کرسکتا ہے پھر جس مقدار میں خمس واجب ہوا ہے آپ کے وکلاء کی خدمت میں پیش کردے؟

ج۔ جس شخص کے خمس کی تاریخ معین ہے وہ اپنے مال کا خود حساب کرسکتا ہے ۔

ولی امر خمس اور موارد مصرف

س۱۰۲۴۔ میں نے خمس کے بارے میں آپ کے کسی جواب میں پڑہا ہے کہ خمس کو ولی امر خمس اور ان کے امور حساب کے وکیل کو دیا جاسکتا ہے ، تو یہاں سوال یہ ہے کہ ولی خمس سے مراد کون ہے ، کیا مجتھد مطلق یا ولی امر مسلمین؟

ج۔ ولی خمس وہ ولی امر ہے جسے مسلمانوں کے امور میں ولایت حاصل ہو۔

س۱۰۲۵۔ کیا امور خیریہ مثلاً سادات کی شادی وغیرہ میں سہم سادات کا صرف کرنا جائز ہے ؟

ج۔ سہم سادات ، سہم امام کی طرح ہے جو ولی خمس سے متعلق ہے اور مذکورہ چیز میں سہم سادات خرچ کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے بشرطیکہ ولی خمس سے خاص طور پر اجازت لی گئی ہو۔

س۱۰۲۶۔ عمل خیر ، مثلاً یتیم خانہ یا دینی مدارس کے لئے سہم امام کے صرف کرنے میں کیا مجتھد مقلد کا اجازہ لینا ضروری ہے یا کسی بھی مجتھد کا اجازہ کافی ہے اور بنیادی طور کیا مجتھد کا اجازہ لینا ضروری ہے ؟

ج۔ سہم امام اور سہم سادات دونوں ولی امر مسلمین سے متعلق ہیں لھذا جس کے ذمے یا جس کے مال میں حق امام یا سہم سادات ہو اس پر ان دونوں کو ولی امر خمس یااس کے وکیل کے حوالے کرنا واجب ہواور اگر ان کو ان کے معین موارد میں صرف کرنا ہو تو اس سے پھلے اس کے لئے اجازت لینا واجب ہے ۔ اور مکلف کے لئے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں وہ جس مجتھد کی تقلید کررہا ہے اس کے فتوے کی بھی رعایت کرے۔

س۱۰۲۷۔ اگر حاکم ( شرع) ایک شخص اور مرجع تقلید دوسرا شخص ہو تو کس کو خمس دینا واجب ہے ؟

ج۔ ولی امر خمس کو خمس کا دینا واجب ہے اور وھی امور مسلمین کا ولی ہوتا ہے ، مگر یہ کہ جس مجتھد کی تقلید کرتا ہے اس کا فتویٰ اس سے مختلف ہو۔

س۱۰۲۸۔ کیا آپ کے وکلاء یا ان افراد پر جو حقوق شرعیہ کے وصول کرنے میں آپ کے وکیل نہیں ہیں لازم ہے کہ سہم امام اور سہم سادات وصول کرتے وقت ان کی رسید دیں یا ان پر واجب نہیں ہے ؟

ج۔ جو لوگ ہم ارے محترم وکلاء کو یا دوسرے افراد کو ہم ارے دفتر تک پہونچانے کے لئے حقوق شرعیہ دیں وہ ان سے ہم اری مھر لگی رسید کا مطالبہ کریں۔

س۱۰۲۹۔ اگر آپ کے وکلاء یا دوسرے افراد جو لوگوں سے سہم امام و سہم سادات لیتے ہیں ان کی رسید نہ دیں توکیا خمس دینے والا اس سے بری الذمہ ہوجائے گا؟

ج۔ مسائل مختلف ہیں ، ہم ارے بعض معروف و مشہور وکلاء کو چہوڑ کر دوسرے افراد ( ان رقومات کی) رسید نہ دیں تو پھر اس کے بعد نہیں میرے نام سے حقوق شرعیہ نہ دیں۔

س۱۰۳۰۔ امام خمینی(رہ) کے مقلدین خمس کا مال کس کو دیں؟

ج۔ ان کے لئے ممکن ہے کہ وہ اسے ہم ارے تھران کے دفتر میں بھیجدیں اپنے شھروں میں موجود ہم ارے وکلاء کو دیں۔

س۱۰۳۱۔ ہم ارے علاقے میں موجود آپ کے وکلاء کو جب خمس دیا جاتا ہے تو بعض اوقات وہ سہم امام واپس کردیتے ہیں اور کھتے ہیں کہ اس کی آپ کے طرف سے ان کو اجازت ہے تو کیا اس لوٹائی ہوئی رقم کو ہم اپنے گھر والوں پر صر ف کرسکتے ہیں ؟

ج۔ جو شخص اجازہ کا دعویٰ کرتا ہے اگر آپ کو اس کے پاس اجازہ ہونے میں شبھہ ہو تو اس سے احترام کے ساتھ تحریری اجازہ دکہانے کے لئے کہیں یا اس سے خمس وصول پانے کی ہم اری مھر لگی ہوئی رسید مانگئے پس اگر وہ اجازہ کے مطابق عمل کریں تو وہ ( لوٹائی ہوئی رقم) آپ کے مصرف کے لئے ہے ۔

س۱۰۳۲۔ غیر مخمس مال سے ایک شخص نے ایک قیمتی جائیداد خریدی اور اس کی تعمیر و مرمت میں خطیر رقم لگائی اور اس کے بعد اسے اپنے نابالغ بیٹے کو ھبہ کردیا اور قانونی طور پر اس جائیداد کو اس بیٹے کے نام کرادیا ۔ اب یہ جانتے ہوئے کہ خریدنے والا ابھی تک زندہ ہے اس کے خمس کا کیا مسئلہ ہے ؟

ج۔ ملکیت کے خریدنے اور اس کی مرمت و تعمیر میں جو صرف کیا ہے اگر دو سال کے منافع میں سے ہے اور اس نے اپنی جائیداد کو اسی سال اپنے بیٹے کو ھبہ کردیا ہے اور عرف عام میں اس کی حیثیت کے مطابق ہے تو اس پر خمس نہیں ہے ، ورنہ اس جائیداد پر خمس واجب ہوگا۔ اور خمس کی مقدار کا ھبہ فضولی ہوگا جس کی صحت اجازہ پر موقوف ہے۔

سہم سادات

س۱۰۳۳۔ میری والدہ سیدانی ہیں ، لھذا مندرجہ ذیل سوالات کے جواب مرحمت فرمائیں:

۱۔ کیا میں سید ہوں۔

۲۔ کیا میری اولاد میرے پوتے پر پوتے وغیرہ سید ہیں ؟

۳۔ وہ شخص جو باپ کی طرف سے سید ہو اور جو ماں کی طرف سے سید ہو ، ان دونوں میں کیا فرق ہے ؟

ج۔ سید پر آثار و احکام شرعیہ کے مرتب ہونے کی معیار یہ ہیں کہ سید کی نسبت باپ کی طرف سے ہو لیکن رسول اکرم (ص) سے ماں کی طرف سے منسوب ہونے والے بھی اولاد رسول اکرم (ص)ہیں ۔

س۱۰۳۴۔ کیا جناب عباس ابن علی ابن ابی طالب کی اولا دکا حکم بھی وھی ہے جو دوسرے سیدوں کا ہے ، مثلاً جو طالب علم اس سلسلے سے منسوب ہیں کیا وہ سادات کا لباس پھن سکتے ہیں ؟ اور کیا اولاد عقیل ابن ابی طالب کا بھی یھی حکم ہے ؟

ج۔ جو شخص باپ کی طرف سے جناب عباس ابن علی ابی طالب(ع) سے نسبت رکھتا ہے وہ علوی سید ہوتا ہے اور سارے علوی اور عقیلی سید ہاشمی ہیں ۔ لھذا ہاشمی سید کے لئے جو مراعات ہیں وہ ان سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔

س۱۰۳۵۔ پچھلے دنوں میں نے اپنے والد کے چچیرے بھائی کے ذاتی وثیقہ کو دیکہا جس میں انہوں نے اپنے کو سید لکھا ہے ، لھذا مذکورہ بات کے پیش نظر رکھتے ہوئے اور یہ بھی جانتے ہوئے کہ اپنے رشتہ داروں میں ہم سید مشہور ہیں ، جبکہ جو وثیقہ مجھے ملا ہے وہ بھی اس بات کا قرینہ ہے میری سیادت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟

ج۔ کسی رشتہ دار کا اس قسم کا وثیقہ آپ کی سیادت کے لئے شرعی دلیل نہیں بن سکتا اور جب تک آپ کو سید ہونے کا ا طمینان یا اس کے بارے میں شرعی دلیل نہ ہو، تب تک آپ کے لئے جائز نہیں کہ اپنے کو سیادت کے شرعی آثار اور احکام کا حقدار سمجہیں ۔

س۱۰۳۶۔میں نے ایک بچے کو بیٹا بنایا اور اس کا نام علی رکہا ہے ۔ا س کا شناختی کارڈ لینے کے لئے جب رجسٹریشن آفس گیا تو ان لوگوں نے میرے اس گود لئے بیٹے کو ” سید “ لکہ دیا ، لیکن میں نے اسے قبول نہیں کیا۔ کیونکہ میں اپنے جد رسول اللہ سے ڈرتا ہوں۔ اب میں ان دو چیزوں کے بارے میں متردد ہوں یا تو اسے بیٹا نہ بناوٴں اور یا اس گناہ کا مرتکب ہوجاوٴں ( یعنی ) جو سید نہیں ہے اس کا سید ہونا قبول کروں۔ پس میں کس طرف جاوٴں برائے مھربانی میری راھنمائی فرمائیے؟

ج۔ گود لئے بیٹے کے شرعی آثار مرتب نہیں ہوتے اور جو حقیقی باپ کی طرف سے سید نہ ہو اس پر سید کے احکام و آثار نافذ نہیں ہوتے لیکن جس بچے کا کوئی کفیل اور سرپرست نہ ہو اس کی کفالت کرنا مستحسن عمل اور شرعاً اچہا فعل ہے ۔

خمس کے مصارف ، اجازہ ، ھدیہ ، حوزہ علمیہ کا مہانہ وظیفھ

س۱۰۳۷۔بعض اشخاص خود سادات کے بجلی ، پانی کابل ادا کرتے ہیں کیا وہ اس بل کو خمس میں حساب کرسکتے ہیں ؟

ج۔ ابھی تک جو انہوں نے سہم سادات کے عنوان سے ادا کیا ہے وہ قبول ہے لیکن مستقبل میں ادا کرنے سے پھلے اجازت لینا واجب ہے ۔

س۱۰۳۸۔ جناب عالی ! میرے ذمہ جو سہم امام ہے اس میں سے ایک ثلث کو دینی کتابیں خریدنے اور تقسیم کرنے کی اجازت عنایت فرمائیں گے؟

ج۔ اگر ہم ارے وہ وکیل جن کو سہم امام خرچ کرنے کی اجازت ہے مفید دینی کتابوں کی تقسیم و فرہم ی کو ضروری سمجہیں تو اس سلسلہ میں وہ اس مال سے ایک تھائی صرف کرسکتے ہیں جس کوو ہ مخصوص شرعی موارد میں صرف کرنے کے مجاز ہیں ۔

س۱۰۳۹۔ کیا ایسی علوی عورت کو سہم سادات دیا جاسکتا ہے جو نادار اور اولاد والی ہے لیکن اس کا شوھر علوی نہیں اور نادار اور فقیر ہے ؟ اور کیا وہ عورت اس سہم سادات کو اپنی اولاد اور شوھر پر خرچ کرسکتی ہے ؟

ج۔ اگر شوھر نادار ہونے کی بنا پر اپنی زوجہ کا نفقہ پورا نہیں کرسکتا اور زوجہ بھی شرعی اعتبار سے فقیر ہو تو اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے وہ حق سادات لے سکتی ہے اور جو حق سادات اس نے لیا ہے اسے وہ اپنے اوپر اپنی اولاد پر یہاں تک کہ اپنے شوھر پر خرچ کرسکتی ہے ۔

س۱۰۴۰۔ حق امام اورحق سادات لینے والے ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو ( حوزہ علمیہ کے وظیفہ کے علاوھ) تنخواہ لیتا ہے جو اس کی زندگی کے ضروریات کے لئے کافی ہے ؟

ج۔ جو شخص شرعی نقطہ نظر سے مستحق نہیں ہے اور نہ حوزہ علمیہ کے شھریہ کے قواعد و ضوابط اس سے متعلق ہیں وہ حق امام و حق سادات سے نہیں لے سکتا۔

س۱۰۴۱۔ ایک علوی عورت مدعی ہے کہ اس کا باپ اپنے اھل و عیال کے اخراجات پورے نہیں کرتا ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ مساجد کے سامنے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور اس سے وہ اپنی زندگی کا خرچ نکالتے ہیں ۔لیکن اس علاقے کے رہنے والے جانتے ہیں کہ یہ سید پیسے والا ہے لیکن بخل کی وجہ سے اپنے اھل و عیال پر خرچ نہیں کرتا تو کیا ان کے اخراجات سہم سادات سے پورے کرنا جائز ہے اور فرض کریں کہ بچوں کا والد یہ کہے کہ مجہ پر فقط طعام اور لباس واجب ہے اور دوسری چیزیں مثلاً عورتوں کی بعض خصوصی ضروریات ، اسی طرح چہوٹے بچوں کا روزانہ کاخرچ جو عام طور پر دیا جاتا ہے واجب نہیں ، تو کیا ان کو ان ضروریات کے لئے سہم سادات دے سکتے ہیں ؟

ج۔ پھلی صورت میں اگر وہ اپنے باپ سے نفقہ لینے پر قدرت نہ رکھتے ہوں تو نہیں نفقہ کے لئے ضرورت کے مطابق سہم سادات سے دے سکتے ہیں ، اسی طرح دوسری صورت میں اگر نہیں ، خوراک ، لباس اور رہائش کے علاوہ ، کسی ایسی چیز کی ضرورت ہو جو ان کی حیثیت کے مطابق ہو تو نہیں سہم سادات میں سے اتنا دیا جاسکتا ہے جس سے ان کی ضرورت پوری ہوجائے۔

س۱۰۴۲۔ کیا آپ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ لوگ سہم سادات خود محتاج سیدوں کو دیدیں؟

ج۔ جس شخص کے ذمہ سہم سادات ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اجازت حاصل کرے۔

س۱۰۴۳۔ کیا آپ کے مقلدین سہم سادات نادار سید کو دے سکتے ہیں یا کل خمس یعنی سہم امام و سہم سادات آپ کے وکلاء کو دینا واجب ہے تاکہ وہ اسے شرعی امور میں صرف کریں۔

ج۔ اس سلسلہ میں سہم سادات اور سہم امام(ع) میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

س۱۰۴۴۔ کیا شرعی حقوق ( خمس ، رد مظالم اور زکوٰۃ) حکومت کے امور سے ہے یا نہیں ؟ اور کیا وہ شخص جس پر حقوق شرعیہ واجب ہوں وہ خود مستحقین کو سہم سادات و زکوٰۃ وغیرہ دے سکتا ہے ؟

ج۔ زکوٰۃ اور رد مظالم کی رقم دین دار پارسا مفلسوں کو دینا جائز ہے لیکن خمس کو ہم ارے دفتر میں یا ہم ارے ان وکیلوں میں سے کسی ایک کے پاس پہونچانا واجب ہے جنہیں شرعی موارد میں خمس صرف کرنے کی اجازت ہے ۔

س۱۰۴۵۔ وہ سادات جن کے پاس کام اور کاروبار کا ذریعہ ہے ، خمس کے مستحق ہیں یا نہیں ؟ امید ہے کہ اس کی وضاحت فرمائیں گے؟

ج۔ اگر ان کی آمدنی عرف عام کے لحاظ سے انکی معمولی زندگی کے لئے کافی ہے تو وہ خمس کے مستحق نہیں ہیں ۔

س۱۰۴۶۔ میں ایک پچیس سالہ جوان ہوں۔ ملازمت کرتا ہوں اور ابھی تک کنوارہ ہوں والد اور والدہ کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہوں والدین ضعیف العمر ہیں اور چار سال سے میں ھی اخراجات پورے کررہا ہوں میرے والد کام کرنے کے لائق نہیں ہیں نہ ان کی کوئی آمدنی ہے ۔ واضح رہے کہ میں ایک طرف سال بھر کے منافع کا خمس ادا کروں اور دوسری طرف زندگی کے تمام اخراجات پورے کروں یہ میرے بس میں نہیں ہے ، میں گذشتہ برسوں کے منافع کے خمس مبلغ ۱۹ ھزار تومان کا مقروض ہوں۔ میں نے اس کو لکہ دیا ہے تاکہ بعد میں ادا کروں۔ عرض یہ ہے کہ کیا میں سال بھر کے منافع کا خمس اپنے اقرباء جیسے ماں باپ کو دے سکتا ہوں یا نہیں ؟

ج۔ اگر ماں باپ کے پاس اتنی مالی استطاعت نہیں جس سے وہ اپنی روز مرہ کی زندگی چلاسکیں اور آپ ان کا خرچ برداشت کرسکتے ہیں تو ان کا نفقہ آپ پر واجب ہے اور جو کچھ آپ ان کے نفقہ پر خرچ کرتے ہیں ، وہ شرعی اعتبار سے آپ پر واجب ہے ،اس کو آپ اس خمس میںحساب نہیں کرسکتے جس کا ادا کرنا آپ پر واجب ہے ۔

س۱۰۴۷۔ میرے ذمہ سہم امام علیہ السلام کے ایک لاکہ تومان ہیں اور ان کا آپ کی خدمت میں ارسال کرنا واجب ہے دوسری طرف یہاں ایک مسجد ہے جہاں پیسہ کی ضرورت ہے ، کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ یہ رقم اس مسجد کے امام جماعت کو دیدی جائے تاکہ وہ اس مسجد کی تکمیل میں اسے خرچ کریں؟

ج۔ دور حاضر میں ، میں سہم امام و سہم سادات کو حوزات علمیہ( دینی مدارس) پر خرچ کرنا مناسب سمجھتا ہوں ، مسجد کی تکمیل کے لئے مومنین کے تعاون اور بخشش سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔

س۱۰۴۸۔ اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ممکن ہے ہم ارے والد نے اپنی زندگی میں مکمل طور پر اپنے مال کا خمس ادا نہ کیا ہو اور ہم نے ھسپتال بنانے کے لئے ان کی زمین سے ایک ٹکڑا ھبہ کیا ہے کیا اس زمین کو مرحوم کے خمس میں حساب کیا جاسکتا ہے ؟

ج۔ خمس میں اس زمین کا حساب نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

س۱۰۴۹۔ کن حالات میں خمس دینے والے کو خود اس کا خمس ھبہ کیا جاسکتا ہے ؟

ج۔ سہم ین مبارکین (سہم سادات وسہم امام)کو ھبہ نہیں کیاجاسکتا۔

س۱۰۵۰۔ اگر ایک شخص کے پاس سال کی اس تاریخ میں جس میں خمس ادا کرتا ہے ، اس کے اخراجات سے ایک لاکہ روپیہ زیادہ ہو۔ اور اس رقم کا وہ خمس ادا کرچکا ہو ، اور آنےوالے سال میں نفع کی رقم ایک لاکہ پچاس ھزار ہوگئی ہو تو کیا نئے سال میں وہ صرف پچاس ھزار روپیہ کا خمس اد ا کرے گا یا دوبارہ مجموعاً ایک لاکہ پچاس ھزار کا خمس دے گا؟

ج۔ جس مال کا خمس دیا جاچکا ہے اگر نئے سال میں وہ خرچ نہیں ہوا ہے اور کل مال موجود ہے تو دوبارہ اس کا خمس نہیں دینا ہے اور اگر سال کے اخراجات کو خود راس المال سے اور اس کے منافع سے پورا کیا گیا ہے تو سال کے آخر میں منافع پر خمس مخمس اور غیر مخمس مال کی نسبت سے واجب ہے ۔

س۱۰۵۱۔ جن دینی طلبہ نے اب تک شادی نہیں کی ہے ۔ اور ان کے پاس اپنا گھر بھی نہیں ، کیا ان کی اس آمدنی میں خمس ہے جو نہیں تبلیغ ، ملازمت امام علیہ السلام سے دستیاب ہوئی ہے ، یا وہ خمس دئیے بغیر اس آمدنی کو شادی کے لئے جمع کرسکتے ہیں اور وہ آمدنی خمس سے مستثنیٰ ہو؟

ج۔ وہ حقوق شرعیہ جو طلاب محترم حوزہ علمیہ کو مراجع عظام کی طرف سے دئیے جاتے ہیں ان پر خمس نہیں ہے لیکن تبلیغ و ملازمت کے ذریعہ ہونے والی آمدنی اگر سال کی اس تاریخ تک محفوظ ہے جس میں خمس دینا ہے تو اس کا خمس دینا واجب ہے ۔

س۱۰۵۲۔ اگر کسی شخص کا مال اس مال سے مخلوط ہوجائے جس کا خمس دیا جاچکا ہے اور کبھی کبھی وہ اس مخلوط مال سے خرچ بھی کرتا ہو اور کبھی اس میں اضافہ بھی کرتا ہو ، اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مخمس مال کی مقدار معلوم ہے تو کیا اس پر پورے مال کا خمس دینا واجب ہے یا صرف اس مال کا خمس دینا واجب ہے جس کا خمس نہیں دیا تھا؟

ج۔ اس پر باقی ماندہ رقم سے صرف اس مال کا خمس دینا واجب ہے جس کا خمس نہیں دیا گیا ہے ۔

س۱۰۵۳۔ وہ کفن جو خریدنے کے بعد چند برسوں تک اسی طرح پڑا رہا کیا اس کا خمس دینا واجب ہے یا اس کی اس قیمت کا خمس دینا واجب ہے کہ جس سے خریدا گیا تھا؟

ج۔ اگر کفن اس مال سے خریدا گیا ہے کہ جس کا خمس دیا جاچکا تھا تو اس پر خمس نہیں ہے ورنہ اس کا موجودہ قیمت کے مطابق خمس دینا پڑے گا۔

س۱۰۵۴۔ میں ایک دینی طالب علم ہوں اور میرے پاس کچھ مال تھا ، بعض اشخاص کی مدد سے اور سہم سادات اور قرض لے کر میں نے ایک چہوٹاسا گھر خریدا تھا۔اب وہ گھر میں نے فروخت کردیا ہے ، پس اگر ا س کی قیمت اس سال تک ایسے ھی رکھی رہے اور دوسرا گھر نہ خریدوں تو کیا اس مال پر جو گھر خریدنے کے لئے ہے خمس دینا واجب ہے ؟

ج۔ اگر آپ نے حوزہ علمیہ کے وظیفہ دوسروں کے مدد اور شرعی حقوق سے گھر خریدا تھا تو اس گھر کی قیمت پر خمس نہیں ہے ۔

خمس کے متفرق مسائل

س۱۰۵۵۔ میں نے ۱۳۴۱ ء ھ۔ش ۱۹۶۲ ء ء میں امام خمینی (رہ)کی تقلید کی تھی اور ان کے فتوے کے مطابق رقوم شرعیہ انھی کی خدمت میں پیش کرتتھا ۱۳۴۶ ء ھ۔ش میں امام خمینی (رہ) نے رقوم شرعیہ اور مالیات کے سلسلہ میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا :” خمس و زکوٰۃ حقوق شرعیہ ہیں اور مالیات حقوق شرعیہ میں شامل نہیں ہیں ۔“ اور آج جبکہ ہم اسلامی جمہوریہ کی حکومت میں زندگی بسر کررہے ہیں ، امید ہے کہ ( اس زمانہ میں)رقوم شرعیہ اور مالیات ادا کرنے سے متعلق میرا فریضہ بیان فرمائیں گے؟

ج۔ اسلامی جمہوریہ کی حکومت کی طرف سے قوانین و دستورات کے مطابق جو مالیات عائد کئے جاتے ہیں اگرچہ ان کا ادا کرنا ان لوگوں پر واجب ہے جو قانون کے زمرہ میں آتے ہیں لیکن اس مالیات کو سہم ین مبارکین میں شامل نہیں کرنا چاھئیے اور نہیں اپنے اموال کا مستقل طور پر خمس ادا کرنا چاھئیے۔

س۱۰۵۶۔ کیا رقوم شرعیہ کو ڈالر کی شکل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ معلوم ہے کہ کرنسی کی قیمت گھٹتی بڑھتی رھتی ہے ، یہ کام شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں ؟

ج۔ جس کے اوپر حقوق شرعیہ ہیں وہ ڈالر کی شکل میں ادا کرسکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس دن کی قیمت کا حساب کرے جس دن حقوق شرعیہ ادا کرتا ہے لیکن ولی امر مسلمین کی طرف سے حقوق شرعیہ وصول کرنے والے وہ وکیل جو امانت کے طور پر رقوم لیتے ہیں ان کے لئے جائز نہیں کہ ایک کرنسی کو دوسری کرنسی سے تبدیل کریں۔ مگر یہ کہ اس سلسلہ میں اجازت حاصل کی ہو، قیمت کا بدلنا اس کے تبدیل کرنے میں مانع نہیں ہے ۔

س۱۰۵۷۔ ایک ثقافتی مرکز میں شعبہ تجارت کھولا گیا ہے جس کا زر اصل حقوق شرعیہ میں سے ہے مذکورہ شعبہ تجارت کی غرض و غایت ثقافتی مرکز کے آئندہ اخراجات کی تکمیل ہے کیا اس تجارت کے فائدے کا خمس نکالنا واجب ہے اور کیا اس خمس کو ثقافتی مرکز کے امور پر صرف کیا جاسکتا ہے ؟

ج۔ وہ حقوق شرعیہ جن کو شارع مقدس نے خاص امور کے لئے مقرر کیا ہو ان سے تجارت کرنا اور اسے مقررہ امور میں خرچ سے روکنا جائز نہیں ہے ، چہے یہ تجارت ثقافتی ادارے کو فائدہ پھنچانے کے لئے ھی کیوںنہ ہو۔ بالفرض اگر اس سے تجارت شروع کردی گئی تو حاصل شدہ فائدہ کا مصرف وھی ہے جو اصل مال کا ہے اور اس پر خمس نہیں ہے لیکن وہ ھدایا اور عوامی امداد جو اس ادارہ کو حاصل ہوئی ہے اس سے تجارت میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اس سے حاصل شدہ نفع میں خمس نہیں ہے اس لئے کہ اصل مال کسی شخص یا اشخاص کی ملکیت نہیں بلکہ ادارہ یا کسی خاص جھت کی ملکیت ہے ۔

س۱۰۵۸۔ اگر ہم یں کسی چیز کے بارے میں یہ شک ہو کہ ہم نے اس کا خمس ادا کیا ہے یا نہیں ؟ اگرچہ ظن غالب یہ ہو کہ ادا کیا ہے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟

ج۔ اگر شک خمس کے یقینی تعلق کے بعد ہو تو اس کے خمس کی ادائیگی کے بارے میں یقین حاصل کرنا ضروری ہے ۔

س۱۰۵۹۔ ایک چکی عام لوگوں کے لئے آٹا پیستی ہے اس پر خمس و زکوٰۃ ہے یا نہیں ؟

ج۔ اگر چکی عام لوگوں کے لئے وقف ہے تو اس پر خمس نہیں ہے ۔

س۱۰۶۰۔ تقریباً سات سال قبل میرے ذمہ کچھ خمس تھا۔ ایک مجتھد کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد کچھ حصہ ادا کردیا مگر اس کا کچھ حصہ میرے ذمہ باقی رہ گیا ہے اور ابھی تک میں اس مسئلہ کو حل نہیں کرسکا ہوں ،میرا کیا فریضہ ہے ؟

ج۔ صرف فی الحال ادا کرنے سے عاجز ہونا بری الذمہ ہونے کا سبب نہیں ہے بلکہ اس قرض کا ادا کرنا واجب ہے ۔ اگرچہ آھستہ آھستہ ادا کرنا پڑے غرض جب بھی امکان ہو ادا کیا جائے۔

س۱۰۶۱۔ کیا میں اس رقم کو ، جو کہ میرے والد نے خمس کے عنوان سے نکالی تھی جبکہ اس پر خمس نہیں تھا ، موجودہ مال کے خمس کا جزء قرار دے سکتا ہوں؟

ج۔ وہ مال جو زمانہ گزشتہ میں خرچ ہوچکا ہے ، اس کو آج کے خمس کے حساب میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔

س۱۰۶۲۔ کیا ان لڑکوں اور لڑکیوں پر بھی خمس و زکوٰۃ واجب ہے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے ہیں ؟

ج۔ زکوٰۃ نابالغ پر واجب نہیں ہے لیکن اگر اس کے مال پر خمس واجب ہوجائے تو اس کے ولی پر اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے لیکن نابالغ کے مال سے حاصل شدہ منافع کا خمس ادا کرنا ولی پر واجب نہیں ہے بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد وہ خود اس کا خمس ادا کرے۔

س۱۰۶۳۔ اگر کوئی شخص رقوم شرعیہ سہم امام علیہ السلام اور ان اموال سے جن کا مصرف کسی مرجع تقلید کی اجازت سے معین ہوچکا ہے ، دینی مدرسہ یا امام بارگاہ بنوائے تو کیا اس شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ اس مال کو جو اس نے اپنے ذمہ واجب حقوق شرعیہ کی ادائیگی کے طور پر خرچ کیا ہے اس کو واپس لے یا اس موسسہ کی زمین کو واپس لے لے جو اس نے دیدی تھی ، یا اس عمارت کو فروخت کرے؟

ج۔ اگر اس نے مدرسہ وغیرہ کی تاسیس میں اپنے ان اموال کو جن کی ادائیگی رقوم شرعیہ کی صورت میں اس پر واجب تھی ایسے مرجع تقلید کی اجازت اور اپنے ذمہ واجب حقوق کی ادائیگی کی نیت سے خرچ کیا ہے جس کو یہ رقوم شرعیہ دینا واجب تھا تو اس کی واپس لینے کا حق نہیں ہے اور نہ اس میں مالک کی طرح تصرف کرنے کا حق ہے ۔

انفال

س
۱۰۶۴
۔ شھروں کے قانون اراضی کے مطابق
۱
۔ غیر آباد زمینوں کو انفال کو جزء سمجہا جاتا ہے اور یہ اسلامی حکومت کے تحت تصرف ہوتی ہیں ۔
۲
۔ شھر کی آباد وغیرآباد زمینوں کے مالکوں کے لئے ضروری ہے کہ اپنی ان زمینوں کو جن کی حکومت یا بلدیہ کو ضرورت ہو ، علاقہ کی رائج قیمت پر فروخت کریں۔
اب سوال یہ ہے
:
۱
۔ اگر کوئی شخص ایسی غیر آباد زمین کو
 
(
 
جس کا وثیقہ اس کے نام تھا لیکن اس قانون کے مطابق اس وثیقہ کا کوئی اعتبار نہیں رہا سہم امام و سہم سادات کے عنوان سے دیدے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
۲
۔ اگر ایک شخص کے پاس کچھ زمین ہے اور حکومت یا بلدیہ کے قانون کے مطابق وہ اسے فروخت کرنے پر مجبور ہے چہے زمین آباد ہویا نہ ہو لیکن وہ شخص اسے سہم امام و سہم سادات کے عنوان سے دے دیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
ج۔ غیر آباد زمین اگر اس شخص کی ملکیت نہیں ہے جس کے نام کا وثیقہ ہے تو اسے خمس کے عنوان سے چہوڑنا صحیح نہیں ہے اور نہ ھی اسے اس خمس میں حساب کرسکتا ہے جو اس کے ذمہ ہے ۔ اسی طرح اس مملوکہ زمین کو بھی خمس کے عنوان سے چہوڑنا یا اس کا اپنے ذمہ واجب خمس میں حساب کرنا صحیح نہیں ہے ، جس کو بلدیہ یا حکومت اس کے مالک سے قانون کے مطابق معاوضہ دے کر یا بغیر معاوضہ کے لے سکتی ہے ۔
س
۱۰۶۵
۔ اگر کوئی شخص اینٹ کے کارخانے کے نزدیک اپنے لئے زمین خریدے اور اسکا مقصد یہ ہو کہ اس زمین کی مٹی بیچ کر فائدہ کمائے، تو کیا ایسی زمین انفال میں شمار ہوگی یا نہیں ؟ اور اس فرض پر کہ انفال میں شمار نہ ہو تو کیا حکومت کو حق ہے کہ اس مٹی پر ٹیکس وصول کرے؟ یہ بھی معلوم ہے کہ قانون کے مطابق آمدنی کا دس فیصد شھر کی بلدیہ کو دیا جاتا ہے ؟
ج۔ اگر اس قسم کے ٹیکس کی وصول یابی ایران میں مجلس شورائے اسلامی کے پاس کردہ قانون کے مطابق ہے جس کی شورائے نگھبان نے تصدیق کی ہو تو اس میں اشکال نہیں ہے ۔
س
۱۰۶۶
۔ کیا میونسپل بورڈ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شھر کی تعمیر وغیرہ کے سلسلے میں ندی، نھر کے ریت سے فائدہ اٹہائے اور بصورت جواز اگر
 
(
 
میونسپل بورڈ کے علاوہ
 
)
 
کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ یہ میری ملکیت ہے تو ا س دعوے کی سماعت ہوگی یا نہیں ؟
ج۔ میونسپلٹی بورڈ کے لئے اس سے فائدہ اٹہانا جائز ہے اور بڑی نھروںکے احاطہ کی ملکیت کے سلسلہ میں کسی شخص کے دعویٰ کی سماعت نہیں کی جائے گی۔
س
۱۰۶۷
۔ خانہ بدوش قبائلی لوگوں کو چراگہوں کے تصرف میں جو حق اولویت ھر
قبیلے کی اپنی چراگاہ کی نسبت ہوتا ہے ، کیا وہ اس قصد کے ساتھ کوچ کرنے کے باوجود کہ دوبارہ اسی جگہ مراجعت کریں گے ، ختم ہوجاتا ہے ؟ واضح رہے کہ یہ کوچ اور مراجعت دسیوں سال سے اسی طرح رھی ہے اور رہے گی؟
ج۔ حیوانات کی چراگاہ کے سلسلہ میں ان کے کوچ کرجانے کے بعد ان کے لئے شرعی حق اولویت کا ثابت ہونا محل اشکال ہے اور اس سلسلہ میں احتیاط بہت ر ہے ۔
س
۱۰۶۸
۔ ایک گاوٴں میں چراگاہ اور زرعی زمینوں کی سخت قلت کی وجہ سے اس گاوٴں کے عمومی اخراجات چراگہوں کی سبز گہاس فروخت کرکے پورے کئے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے آج تک جاری ہے ۔ لیکن مسئولین اب اس کام سے منع کرتے ہیں ۔ گاوٴں والوں کے فقر اور ناداری اور اسی کے ساتھ چراگہوں کے غیر آباد ہونے کے پیش نظر کیا ، اس گاوٴں کی مجلس شوریٰ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ گاوٴں والوں کو چراگاہ کی گہاس بیچنے سے منع کردے اور اس کو گاوٴں کے عمومی اخراجات پورے کرنے کے لئے مختص کردے؟
ج۔ ان عمومی چراگہوں کی گہاس کو فروخت کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے جو کسی کی شرعی ملکیت نہیں ہیں ۔ لیکن جو شخص حکومت کی طرف سے جو گاوٴں کے امور کا مسئول ہے وہ گاوٴں کی فلاح و بھبود کے لئے اس شخص سے کچھ وصول کرسکتا ہے جسے چراگاہ میں مویشی چرانے کی اجازت دے۔
س
۱۰۶۹
۔ کیا خانہ بدوش قبائلی سردی اور گرمی کی ان چراگہوں کو ، کہ جہاں وہ دسیوں سال سے گہوم پھر کرآتے ہیں ، اپنی ملکیت بناسکتے ہیں ؟
ج۔ وہ طبیعی چراگہیں جو ماضی میں کسی کی ملکیت نہیں تہیں وہ انفال اور عمومی اموال میں شامل ہیں اور ولی امر مسلمین کو ان پر اختیار ہے اور وہ خانہ بدوشوں کے وہاں گہوم پھر کر آنے سے ان کی ملکیت نہیں بن سکتی۔
س
۱۰۷۰
۔ خانہ بدوشوں کی چراگہوں کی خرید و فروخت کب صحیح ہے اور کب صحیح نہیں ہے ؟
ج۔ ان غیر مملوکہ چراگہوں کی خرید و فروخت صحیح نہیں ہے جو انفال اموال عامہ کا جزو ہیں ۔
س
۱۰۷۱
۔ ہم چروہے ایک جنگل میں مویشی چراتے ہیں ۔ پچاس سال سے بھی زیادہ ہم ارا یھی پیشہ ہے ۔ یہ اس جنگل کی شرعی ملکیت ہونے کی موروثی سند ہم ارے پاس موجود ہے اس کے علاوہ یہ جنگل امیرالمومنین
 
(
ع
)
، سید الشھداء اور حضرت ابو الفضل العباس
(
ع
)
 
کے نام وقف ہے ، مویشیوں کے مالک اس جنگل میں زندگی بسر کررہے ہیں اور اس میں ان کے گھر زرعی زمینیں اور باغات ہیں لیکن کچھ عرصہ پھلے جنگل کے نگھبان ہم یں وہاں سے نکال کر اس پر قابض ہونا چاھتے ہیں کیا وہ ہم یں اس جنگل سے باھر نکالنے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں ؟
ج۔ وقف کا صحیح ہونا اس پر موقوف ہے کہ اس کی شرعی ملکیت پھلے ثابت ہو جیسا کہ میراث کے ذریعہ منتقل ہونا بھی اس بات پر موقوف ہے کہ اس سے پھلے وہ مورث کی شرعی ملکیت ہو پس جنگل اور قدرتی چراگہیں جو کسی کی ملکیت نہیں ہیں اور اس سے پھلے نہیں کسی نے زندہ و آباد نہیں کیا ہے اور نہ وہ کسی کی ملکیت رھی ہیں کہ ان کا وقف صحیح ہو یا وہ میراث قرار پائیں۔ بھر حال جنگل کا وہ حصہ جو کھیت یا مسکن کی صورت میں یا ان سے مشابہ کسی صورت میں آباد ہے اور وہ شرعی لحاظ سے ملکیت بن گیا ہے ۔ اگر وہ وقف ہے تو شرعی لحاظ سے متولی کو اس میں تصرف کا حق ہے لیکن جنگل و چراگاہ کا وہ حصہ جو قدرتی جنگل یا چراگاہ ہے تو وہ اموال عامہ میں سے ہے اور انفال ہے اور قانون کے مطابق وہ اسلامی حکومت کے اختیار میں ہے ۔
س
۱۰۷۲
۔ کیا مویشیوں کے ان مالکوں کا جن کے پاس جانوروں کو چرانے کی اجازت ہے ، ایسے آباد کھیتوں میں ، جو چراگہوں سے ملحق ہیں ، خود کو اور مویشیوں کو کھیت کے پانی سے سیراب کرنے کے لئے مالک کی اجازت کے بغیر کھیت میں اترنا جائز ہے ؟
ج۔ صرف چراگہوں میں چرانے کی اجازت ہونا دوسروں کی ملکیت میں وارد ہو کر ان کے پانی سے سیراب ہونے کے جواز کے لئے کافی نہیں ہے پس مالک کی اجازت کے بغیر ان کو ایسا کرنا جائز نہیں ۔

Share this page