Al-Islam.org تلاش کریں اعلانات آراء و تجاویز مالی تعاون کیجیئے
احکامِ نماز

احکام نماز

 

نماز دینی اعمال میں سے بہترین عمل ہے۔ اگر یہ درگارہ الہی میں قبول ہوگئی تو دوسری عبادات بھی قبول ہو جائیں گی اور اگر یہ قبول نہ ہوئی تو دوسرے اعمال بھی قبول نہ ہوں گے۔ جس طرح انسان اگر دن رات میں پانچ دفعہ نہر میں نہائے دھوئے تو اس کے بدن پر میل کچیل نہیں رہتی اسی طرح پنج وقتہ نماز بھی انسان کو گناہوں سے پاک کر دیتی ہے اور بہتر ہے کہ انسان نماز اول وقت میں پڑھے۔ جو شخص نماز کو معمولی اور غیر اہم سمجھے وہ اس شخص کو مانند ہے جو نماز نہ پڑھتا ہو۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ "جو شخص نماز کو اہمیت نہ دے اور اسے معمولی چیز سمجھے وہ عذاب آخرت کا مستحق ہے" ایک دن رسول اکرم ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے میں مشغول ہو گیا لیکن رکوع اور سجود مکمل طور پر بجانہ لایا۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ شخص اس حالت میں مرجائے جبکہ اس کے نماز پڑھنے کا یہ طریقہ ہے تو یہ ہمارے دین پرنہیں مرے گا۔ پس انسان کو خیال رکھنا چاہئے کہ نماز جلدی جلدی نہ پڑھے اور نماز کی حالت میں خدا کی یاد میں رہے اور خشوع و خضوع اور سنجیدگی سے نماز پڑھے اور یہ خیال رکھے کہ کس ہستی سے کلام کر رہا ہے اور اپنے آپ کو خداوند عالم کی عظمت اور بزرگی کے مقابلے میں حقیر اور ناچیز سمجھے۔ اگر انسان نماز کے دوران پوری طرح ان باتوں کی طرف متوجہ رہے تو وہ اپنے آپ سے بے خبر ہوجاتا ہے جیسا کہ نماز کی حالت میں امیرالمومنین امام علی ؑ کے پاوں سے تیر کھینچ لیا گیا اور آپ ؑ کو خبر تک نہ ہوئی۔ علاوہ ازیں نماز پڑھے والے کو چاہئے کہ توبہ و استغفار کرے اور نہ صرف ان گناہوں کو جو نماز قبول ہونے میں مانع ہوتے ہیں۔ مثلاً حسد، تکبر، غیبت، حرام کھانا، شراب پینا، اور خمس و زکوۃ کا ادا نہ کرنا۔ ترک کرے بلکہ تمام گناہ ترک کردے اور اسی طرح بہتر ہے کہ جو کام نماز کا ثواب گھٹاتے ہیں وہ نہ کرے مثلاً اونگھنے کی حالت میں یا پیشاب روک کر نماز کے لئے نہ کھڑا ہو اور نماز کے موقع پر آسمان کی جانب نہ دیکھے اور وہ کام کرے جو نماز کا ثواب بڑھاتے ہیں مثلاً عقیق کی انگوٹھی اور پاکیزہ لباس پہنے، کنگھی اور مسواک کرے نیز خوشبو لگائے۔


واجب نمازیں

چھ نمازیں واجب ہیں :

۱۔   روزانہ کی نمازیں

۲۔   نماز آیات

۳۔  نماز میت

۴۔  خانہ کعبہ کے واجب طواف کی نماز

۵۔  باپ کی قضا نمازیں جو بڑے بیٹے پر واجب ہیں۔

۶۔ جو نمازیں اجارہ، منت، قسم اور عہد سے واجب ہو جاتی ہیں۔ اور نماز جمعہ روزانہ نمازوں میں سے ہے۔


روزانہ کی واجب نمازیں

روانہ کی واجب نمازیں پانچ ہیں۔

ظہر اور عصر (ہر ایک چار رکعت) مغرب (تین رکعت) عشا (چار رکعت) اور فجر (دو رکعت)

۷۳۶۔ انسان سفر میں ہو تو ضروری ہے کہ چار رکعتی نمازیں ان شرائط کے ساتھ جو بعد میں بیان ہوں گی دو رکعت پڑھے۔


ظہر اور عصر کی نماز کا وقت

۷۳۷۔ اگر لکڑی یا کسی اور ایسی ہی سیدھی چیز کو ۔۔۔جسے شاخص کہتے ہیں ۔۔۔ہموار زمین میں گاڑا جائے تو صبح کے وقت جب سورج طلوع ہوتا ہے اس کا سایہ مغرب کی طرف پڑتا ہے اور جوں جوں سورج اونچا ہوتا جاتا ہے اس کا سایہ گھٹتا جاتا ہے اور ہمارے شہروں میں اول ظہر شرعی کے وقت کمی کے آخری درجے پر پہنچ جاتا ہے اور ظہر گزرنے کے بعد اس کا سایہ مشرق کی طرف ہو جاتا ہے اور جوں جوں سورج مغرب کی طرف ڈھلتا ہے سایہ بڑھتا جاتا ہے۔ اس بنا پر جب سایہ کمی کے آخری درجے تک پہنچے اور دوبارہ بڑھنے لگے تو پتہ چلتا ہے کہ ظہر شرعی کا وقت ہوگیا ہے لیکن بعض شہروں مثلاً مکہ مکرمہ میں جہاں بعض اوقات ظہر کے وقت سایہ بالکل ختم ہوجاتا ہے جب سایہ دوبارہ ظاہر ہوتا ہے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ظہر کا وقت ہو گیا ہے۔

۷۳۸۔ ظہر اور عصر کی نماز کا وقت زوال آفتاب کے بعد سے غروب آفتاب تک ہے لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر عصر کی نماز کی ظہر کی نماز سے پہلے پڑھے تو اس کی عصر کی نماز باطل ہے سوائے اس کے کہ آخری وقت تک ایک نماز سے زیادہ پڑھنے کا وقت باقی نہ ہو کیوں کہ ایسی صورت میں اگر اس نے ظہر کی نماز نہیں پڑھی تو اس کی ظہر کی نماز قضا ہوگی اور اسے چاہئے کہ عصر کی نماز پڑھے اور اگر کوئی شخص اس وقت سے پہلے غلط فہمی کی بنا پر عصر کی پوری نماز ظہر کی نماز سے پہلے پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس نماز کو نماز ظہر قرار دے اور مافی الذمہ کی نیت سے چار رکعت اور پڑھے۔

۷۳۹۔ اگر کوئی شخص طہر کی نماز پرھنے سے پہلے غلطی سے عصر کی نماز پڑھنے لگ جائے اور نماز کے دوران اسے پتہ چلے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے تو اسے چاہئے کہ نیت نماز ظہر کی جانب پھیر دے یعنی نیت کرے کہ جو کچھ میں پڑھ چکا ہوں اور پڑھ رہا ہوں اور پڑھوں گا وہ تمام کی تمام نماز ظہر ہے اور جب نماز ختم کرے تو اس کے بعد عصر کی نماز پڑھے۔


نماز جمعہ کے احکام

۷۴۰۔ جمعہ کی نماز صبح کی نماز کی طرح دو رکعت کی ہے۔ اس میں اور صبح کی نماز میں فرق یہ ہے کہ اس نماز سے پہلے دو خطبے بھی ہیں۔ جمعہ کی نماز واجب تخییری ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جمعہ کے دن مکلف کو اختیار ہے کہ اگر نماز جمعہ کی شرائط موجود ہوں تو جمعہ کی نماز پڑھے یا ظہر کی نماز پڑھے۔ لہذا اگر انسان جمعہ کی نماز پڑھے تو وہ ظہر کی نماز کی کفایت کرتی ہے (یعنی پھر ظہر کی نماز پڑھنا ضروری نہیں)۔


جمعہ کی نماز واجب ہونے کی چند شرطیں ہیں :

(اول) وقت کا داخل ہونا جو کہ زوال آفتاب ہے۔اور اس کا وقت اول زوال عرفی ہے پس جب بھی اس سے تاخیر ہوجائے، اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور پھر ظہر کی نماز ادا کرنی چاہئے۔

(دوم) نماز پڑھنے والوں کی تعداد جو کہ بمع امام پانچ افراد ہے اور جب تک پانچ مسلمان اکٹھے نہ ہوں جمعہ کی نماز واجب نہیں ہوتی۔

(سوم) امام کا جامع شرائط امامت ہونا مثلاً عدالت وغیرہ جو کہ امام جماعت میں معتبر ہیں اور نماز جماعت کی بحث میں بتایا جائے گا۔ اگر یہ شرط پوری نہ ہو تو جمعہ کی نماز واجب نہیں ہوتی۔


جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی چند شرطیں ہیں :

(اول) باجماعت پڑھا جانا۔ پس یہ نماز فرادی ادا کرنا صحیح نہیں اور جب مقتدی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے امام کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس کی نماز صحیح ہے اور وہ اس نماز پر ایک رکعت کے رکوع سے پہلے امام کے ساتھ شامل ہو جائے تو اس کی نماز صحیح ہے اور وہ اس نماز پر ایک رکعت کا اضافہ کرے گا اور اگر وہ رکوع میں امام کو پالے (یعنی نماز میں شامل ہو جائے) تو اس کی نماز کا صحیح ہونا مشکل ہے اور احتیاط ترک نہیں ہوتی (یعنی اسے ظہر کی نماز پڑھنی چاہئے)

(دوم) نماز سے پہلے دو خطبے پڑھنا۔ پہلے خطبے میں خظیب اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے نیز نمازیوں کو تقوی اور پرہیز گاری کی تلقین کرے۔ پھر قرآن مجید کا ایک چھوٹا سورہ پڑھ کر (منبر پر لمحہ دو لمحہ) بیٹھ جائے اور پھر کھڑا ہو اور دوبارہ اللہ تعالی کی حمد و ثنا بجا لائے۔ پھر حضرت رسول اکرم ﷺ اور ائمہ طاہرین علیہم السلام پر درود بھیجے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مومنین اور مومنات کے لئے استغفار (بخشش کی دعاء) کرے۔ ضروری ہے کہ خطبے نماز سے پہلے پڑھے جائیں۔ پس اگر نماز دو خطبوں سے پہلے شروع کر لی جائے تو صحیح نہیں ہوگی اور زوال آفتاب سے پہلے خطبے پڑھنے میں اشکال ہے اور ضروری ہے کہ جو شخص خطبے پڑھے وہ خطبے پڑھنے کے وقت کھڑا ہو۔ لہذا اگر وہ بیٹھ کر خطبے پڑھے گا تو صحیح نہیں ہوگا اور دو خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فاصلہ دینا لازم اور واجب ہے۔ اور ضروری ہے کہ مختصر لمحوں کے لئے بیٹھے۔ اور یہ بھی ضروری ہے کہ امام جماعت اور خطیب ۔۔۔ یعنی جو شخص خطبے پڑھے۔۔۔ ایک ہی شخص ہو اور اقوی یہ ہے کہ خطبے میں طہارت شرط نہیں ہے اگرچہ اشتراط (یعنی شرط ہونا) احوط ہے۔ اور احتیاط کی بنا پر اللہ تعالی کی حمد و ثنا اسی طرح پیغمبر اکرام ﷺ اور ائمہ المسلمین ؑ پر عربی زبان میں درود بھیجنا معتبر ہے اور اس سے زیادہ میں عربی معتبر نہیں ہے۔ بلکہ اگر حاضرین کی اکثریت عربی نہ جانتی ہو تو احتیاط لازم یہ ہے کہ تقوی کے بارے میں وعظ و نصیحت کرنے وقت جو زبان حاضرین جانتے ہیں اسی میں تقوی کی نصیحت کرے۔

(سوم) یہ کہ جمعہ کی دو نمازوں کے درمیان ایک فرسخ سے کم فاصلہ نہ ہو۔ پس جب جمعہ کی دوسری نماز ایک فرسخ سے کم فاصلہ پر قائم ہو اور دو نمازیں بیک وقت پڑھی جائیں تو دونوں باطل ہوں گی اور اگر ایک نماز کو دوسری پر سبقت حاصل ہو خواہ وہ تکبیرۃ الاحرام کی حد تک ہی کیوں نہ ہو تو وہ (نماز جسے سبقت حاصل ہو) صحیح ہوگی اور دوسری باطل ہوگی لیکن اگر نماز کے بعد پتہ چلے کہ ایک فرسخ سے کم فاصلہ پر جمعہ کی ایک اور نماز اس نماز سے پہلے یا اس کے ساتھ ساتھ قائم ہوئی تھی تو ظہر کی نماز واجب نہیں ہوگی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس بات کا علم وقت میں ہو یا وقت کے بعد ہو۔ اور جمعہ کی نماز کا قائم کرنا مذکورہ فاصلے کے اندر جمعہ کی دوسری نماز قائم کرنے میں اس وقت مانع ہوتا ہے جب وہ نماز خود صحیح اور جامع الشرائط ہو ورنہ اس کے مانع ہونے میں اشکال ہے اور زیادہ احتمال اس کے مانع نہ ہونے کا ہے۔

۷۴۱۔ جب جمعہ کی ایک ایسی نماز قائم ہو جو شرائط کو پورا کرتی ہو اور نماز قائم کرنے والا امام وقت یا اس کا نائب ہو تو اس صورت میں نماز جمعہ کے لئے حاضر ہونا واجب ہے۔ اور اس صورت کے علاوہ حاضر ہونا واجب نہیں ہے۔ پہلی صورت میں حاضری کے وجوب کے لئے چند چیزیں معتبر ہیں :

(اول) مکلف مرد ہو۔ اور جمعہ کی نماز میں حاضر ہونا عورتوں کے لئے واجب نہیں ہے۔

(دوم) آزاد ہونا۔ لہذا غلاموں کے لئے جمعہ کی نماز میں حاضر ہونا واجب نہیں ہے۔

(سوم) مقیم ہونا۔ لہذا مسافر کے لئے جمعہ کی نماز میں شامل ہونا واجب نہیں ہے۔ اس مسافر می۹ں جس کا فریضہ قصر ہو اور جس مسافر نے اقامت کا قصد کیا ہو اور اسکا فریضہ پوری نماز پڑھنا ہو، کوئی فرق نہیں ہے۔

(چہارم) بیمار اور اندھانہ ہونا۔ لہذا بیمار اور اندھے شخص پر جمعہ کی نماز واجب نہیں ہے۔

(پنجم) بوڑھا نہ ہونا۔ لہذا بوڑھوں پر یہ نماز واجب نہیں۔

(ششم) یہ کہ خود انسان کے اور اس جگہ کے درمیان جہاں جمعہ کی نماز قائم ہو دو فرسخ سے زیادہ فاصلہ نہ ہو اور جو شخص دو فرسخ کے سرے پر ہو اس کے لئے حاضر ہونا واجب ہے اور اسی طرح وہ شخص جس کے لئے جمعہ کی نماز میں بارش یا سخت سردی وغیرہ کی وجہ سے حاضر ہونا مشکل یا دشوار ہو تو حاضر ہونا واجب نہیں ہے۔


۷۴۲۔ چند احکام جن کا تعلق جمعہ کی نماز سے ہے یہ ہیں :

(اول) جس شخص پر جمعہ کی نماز ساقط ہوگئی ہو اور اس کا اس نماز میں حاضر ہونا واجب نہ ہو اس کے لئے جائز ہے کہ ظہر کی نماز اول وقت میں ادا کرنے کے لئے جلدی کرے۔

(دوم) امام کے خطبے کے دوران باتیں کرنا مکروہ ہے لیکن باتوں کی وجہ سے خطبہ سننے میں رکاوٹ ہو تو احتیاط کی بنا پر باتیں کرنا جائز نہیں ہے۔ اور جو تعداد نماز جمعہ کے واجب ہونے کے لئے معتبر ہے اس میں اور اس سے زیادہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

(سوم) احتیاط کی بنا پر دونوں خطبوں کا توجہ سے سننا واجب ہے لیکن جو لوگ خطبوں کے معنی نہ سمجھتے ہوں ان کے لئے توجہ سے سننا واجب نہیں ہے۔

(چہارم) جمعہ کے دن کی دوسری اذان بدعت ہے اور یہ وہی اذان ہے جسے عام طور پر تیسری اذان کہا جاتا ہے۔

(پنجم) ظاہر یہ ہے کہ جب امام جمعہ خطبہ پڑھ رہا ہو تو حاضر ہونا واجب نہیں ہے۔

(ششم) جب جمعہ کی نماز کے لئے اذان دی جارہی ہو تو خرید فروخت اس صورت میں جب کہ وہ نماز میں مانع ہو حرام ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر حرام نہیں ہے اور اظہر یہ ہے کہ خرید و فروخت حرام ہونے کی صورت میں بھی معاملہ باطل نہیں ہوتا۔

(ہفتم) اگر کسی شخص پر جمعہ کی نماز میں حاضر ہونا واجب ہو اور وہ اس نماز کو ترک کرے اور ظہر کی نماز بجا لائے تو اظہر یہ ہے کہ اس کی نماز صحیح ہوگی۔


مغرب اور عشا کی نماز کا وقت

۷۴۳۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ جب تک مشرق کی جانب کی وہ سرخی جو سورج غروب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے انسان کے سر پر سے نہ گزر جائے وہ مغرب کی نماز نہ پڑھے۔

۷۴۴۔ مغرب اور عشا کی نماز کا وقت مختار شخص کے لئے آدھی رات تک رہتا ہے لیکن جن لوگوں کو کوئی عذر ہو مثلاً بھول جانے کی وجہ سے یا نیند یا حیض یا ان جسیے دوسرے امور کی وجہ سے آدھی رات سے پہلے نماز پڑھ سکتے ہوں تو ان کے لئے مغرب اور عشا کی نماز کا وقت فجر طلوع ہونے تک باقی رہتا ہے۔ لیکن ان دونوں نمازوں کے درمیان متوجہ ہونے کی صورت میں ترتیب معتبر ہے یعنی عشا کی نماز کو جان بوجھ کر مغرب کی نماز سے پہلے پڑھے تو باطل ہے۔ لیکن اگر عشا کی نماز ادا کرنے کی مقدار سے زیادہ وقت باقی نہ رہا ہو تو اس صورت لازم ہے کہ عشا کی نماز کو مغرب کی نماز سے پہلے پڑھے۔

۷۴۵۔  اگر کوئی شخص غلط فہمی کی بنا پر عشا کی نماز مغرب کی نماز سے پہلے پڑھ لے اور نماز کے بعد اس امر کی جانب متوجہ ہو تو اس کی نماز صحیح ہے اور ضروری ہے کہ مغرب کی نماز اس کے بعد پڑھے۔

۷۴۶۔ اگر کوئی شخص مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے بھول کر عشا کی نماز پڑھنے میں مشغول ہو جائے اور نماز کے دوران اسے پتہ چلے کہ اس نے غلطی کی ہے اور ابھی وہ چوتھی رکعت کے رکوع تک نہ پہنچا ہو تو ضروری ہے کہ مغرب کی نماز کی طرف نیت پھیرلے اور نماز کو تمام کرے اور بعد میں عشا کی نماز پڑھے اور اگر چوتھی رکعت کے رکوع میں جاچکا ہو تو اسے عشا کی نماز قرار دے اور ختم کرے اور بعد میں مغرب کی نماز بجالائے۔

۷۴۷۔ عشا کی نماز کا مختار شخص کے لئے آدھی رات ہے اور رات کا حساب سورج غروب ہونے کی ابتدا سے طلوع فجر تک ہے۔

۷۴۸۔ اگر کوئی شخص اختیاری حالت میں مغرب اور عشا کی نماز آدھی رات تک نہ پڑھے تو احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ اذان صبح سے پہلے قضا اور ادا کی نیت کئے بغیر ان نمازوں کو پڑھے۔

صبح کی نماز کا وقت

۷۴۹۔ صبح کی اذان کے قریب مشرق کی طرف سے ایک سفیدی اوپر اٹھتی ہے، جسے فجر اول کہا جاتا ہے جب یہ سفید پھیل جائے تو فجر دوم اور صبح کی نماز کا اول وقت ہے اور صبح کی نماز کا آخری وقت سورج نکلتے تک ہے۔


اوقات نماز کے احکام

۷۵۰۔ انسان نماز میں اس وقت مشغول ہو سکتا ہے جب اسے یقین ہو جائے کہ وقت داخل ہوگیا ہے یا دو عادل مرد وقت داخل ہوگیا ہے یا دو عادل مرد وقت داخل ہونے کی خبر دیں بلکہ کسی وقت شناس شخص کی جو قابل اطمینان ہو اذان پر یا وقت داخل ہونے کے بارے میں گواہی پر بھی اکتفا کیا جاسکتا ہے۔

۷۵۱۔ اگر کوئی شخص کسی ذاتی عذر مثلاً بینائی نہ ہونے یا قید خانے میں ہونے کی وجہ نماز کا اول وقت داخل ہونے کا یقین نہ کرسکے تو ضروری ہے کہ نماز پڑھنے میں تاخیر کرے حتی کہ اسے یقین یا اطمینان ہو جائے کہ وقت داخل ہوگیا ہے۔ اسی طرح اگر وقت داخل ہونے کا یقین ہونے میں ایسی چیز مانع ہو جو مثلاً بادل، غبار یا ان جیسی دوسری چیزوں (مثلاً دھند) کی طرح عموماً پیش آتی ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۷۵۲۔ اگر مذکورہ بالا طریقے سے کسی شخص کو اطمینان ہو جائے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے اور وہ نماز میں مشغول ہو جائے لیکن نماز کے دوران اسے پتہ چلے کہ ابھی وقت داخل نہیں ہوا تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر نماز کے بعد پتہ چلے کہ اس نے ساری نماز وقت سے پہلے پڑھی ہے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے لیکن اگر نماز کے دوران اسے پتہ چلے کہ وقت داخل ہوگیا ہے یا نماز کے بعد پتہ چلے کہ نماز پڑھتے ہوئے وقت داخل ہوگیا تھا تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۷۵۳۔ اگر کوئی شخص اس امر کی جانب متوجہ نہ ہو کہ وقت کے داخل ہونے کا یقین کرکے نماز میں مشغول ہونا چاہئے لیکن نماز کے بعد اسے معلوم ہو کہ اس نے ساری نماز وقت میں پڑھی ہے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اگر اسے یہ پتہ چل جائے کہ اس نے وقت سے پہلے نماز پڑھی ہے یا اسے یہ پتہ نہ چلے کہ وقت میں پڑھی ہے یا وقت سے پہلے پڑھی ہے تو اس کی نماز باطل ہے بلکہ اگر نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ نماز کے دوران وقت داخل ہوگیا تھا تب بھی اسے چاہئے کہ اس نماز کو دوبارہ پڑھے۔

۷۵۴۔ اگر کسی شخص کو یقین ہو کہ وقت داخل ہوگیا ہے اور نماز پڑھنے لگے لیکن نماز کے دوران شک کرے کہ وقت داخل ہوا ہے یا نہیں تو اس کی نماز باطل ہے لیکن اگر نماز کے دوران اسے یقین ہو کہ وقت داخل ہوگیا ہے اور شک کرے کہ جتنی نماز پڑھی ہے وہ وقت میں پڑھی ہے یا نہیں تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۷۵۵۔ اگرنماز کا وقت اتنا تنگ ہو کہ نماز کے بعد مستحب افعال ادا کرنے سے نماز کی کچھ مقدار وقت کے بعد پڑھنی پڑتی ہو تو ضروری ہے کہ وہ مستحب امور کو چھوڑ دے مثلاً اگر قنوت پڑھنے کی وجہ سے نماز کا کچھ حصہ وقت کے بعد پڑھنا پڑتا ہو تو اسے چاہئے کہ قنوت نہ پڑھے۔

۷۵۶۔ جس شخص کے پاس نماز کی فقط ایک رکعت ادا کرنے کا وقت ہو اسے چاہئے کہ نماز ادا کی نیت سے پڑھے البتہ اسے جان بوجھ کر نماز میں اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

۷۵۷۔ جو شخص سفر میں نہ ہو اگر اس کے پاس غروب آفتاب تک پانچ رکعت نماز پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہو تو اسے چاہئے کہ ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں پڑھے لیکن اگر اس کے پاس اس سے کم وقت ہو تو اسے چاہئے کہ ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں پڑھے لیکن اگر اس کے پاس اس سے کم وقت ہو تو اسے چاہئے کہ صرف عصر کی نماز پڑھے اور بعد میں ظہر کی نماز قضا کرے اور اسی طرح اگر آدھی رات تک اس کے پاس پانچ رکعت پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہو تو اسے چاہئے کہ مغرب اور عشا کی نماز پڑھے اور اگر وقت اس کم ہو تو اسے چاہئے کہ صرف عشا کی نماز پڑھے اور بعد میں ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر نماز مغرب پڑھے۔

۷۵۸۔ جو شخص سفر میں ہو اگر غروب آفتاب تک اس کے پاس تین رکعت نماز پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہو تو اسے چاہئے کہ ظہر اور عصر کی نماز پڑھے اور اگر اس سے کم وقت ہو تو چاہئے کہ صرف عصر پڑھے اور بعد میں نماز ظہر کی قضا کرے اور اگر آدھی رات تک اس کے پاس چار رکعت نماز پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہو تو اسے چاہئے کہ مغرب اور عشا کی نماز پڑھے اور اگر نماز کے تین رکعت کے برابر وقت باقی ہو تو اسے چاہئے کہ پہلے عشا کی نماز پڑھے اور بعد میں مغرب کی نماز بجا لائے تاکہ نماز مغرب کی ایک رکعت وقت میں انجام دی جائے، اور اگر نماز کی تین رکعت سے کم وقت باقی ہو تو ضروری ہے کہ پہلے عشا کی نماز پڑھے اور بعد میں مغرب کی نماز ادا اور قضا کی نیت کئے بغیر پڑھے اور اگر عشا کی نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہو جائے کہ آدھی رات ہونے میں ایک رکعت یا اس سے زیادہ رکعتیں پڑھنے کے لئے وقت باقی ہے تو اسے چاہئے کہ مغرب کی نماز فوراً ادا کی نیت سے بجالائے۔

۷۵۹۔ انسان کے لئے مستحب ہے کہ نماز اول وقت میں پڑھے اور اس کے متعلق بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور جتنا اول وقت کے قریب ہو بہتر ہے ماسوا اس کے کہ اس میں تاخیر کسی وجہ سے بہتر ہو مثلاً اس لئے انتظار کرے کہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھے۔

۷۶۰۔ جب انسان کے پاس کوئی ایسا عذر ہو کہ اگر اول وقت میں نماز پڑھنا چاہے تو تیمم کر کے نماز پڑھنے پر مجبور ہو اور اسے علم ہو کہ اس کا عذر آخر وقت تک باقی رہے گا یا آخر وقت تک عذر کے دور ہونے سے مایوس ہو تو وہ اول وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے لیکن اگر مایوس نہ ہو تو ضروری ہے کہ عذر دور ہونے تک انتظار کرے اور اگر اس کا عذر دور نہ ہو تو آخر وقت میں ماز پڑھے اور یہ ضروری نہیں کہ اس قدر انتظار کرے کہ نماز کے صرف واجب افعال انجام دے سکے بلکہ اگر اس کے پاس مستحبات نماز مثلاً اذان، اقامت اور قنوت کے لئے بھی وقت ہو تو وہ تیمم کرکے ان مستحبات کے ساتھ نماز ادا کر سکتا ہے اور تیمم کے علاوہ دوسری مجبوریوں کی صورت میں اگرچہ عذر دور ہونے سے مایوس نہ ہوا ہو اس کے لئے جائز ہے کہ اول وقت میں نماز پڑھے۔ لیکن اگر وقت کے دوران اس کا عذر دور ہو جائے تو ضروری ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے۔

۷۶۱۔ اگر ایک شخص نماز کے مسائل اور شکیات اور سہویات کا علم نہ رکھتا ہو اور اسے اس بات کا احتمال ہو کہ اسے نماز کے دوران ان مسائل میں سے کوئی نہ کوئی مسئلہ پیش آئے گا اور اس کے یاد نہ کرنے کی وجہ سے کسی لازمی حکم کی مخالفت ہوتی ہو تو ضروری ہے کہ انہیں سیکھنے کے لئے نماز کو اول وقت سے موخر کر دے لیکن اگر اسے امید ہو کہ صحیح طریقے سے نماز انجام دے سکتا ہے۔ اور اول وقت میں نماز پڑھنے میں مشغول ہو جائے پس اگر نماز میں کوئی ایسا مسئلہ پیش نہ آئے جس کا حکم نہ جانتا ہو تو اس کی نماز صحیح ہے۔ اور اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آجائے جس کا حکم نہ جانتا ہو تو اس کے لئے جائز ہے کہ جن دو باتوں کا احتمال ہو ان میں سے ایک عمل کرے اور نماز ختم کرے تاہم ضروری ہے کہ نماز کے بعد مسئلہ پوچھے اور اگر اس کی نماز باطل ثابت ہو تو دوبارہ پڑھے اور اگر صحیح ہو تو دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہے۔

۷۶۲۔ اگر نماز کو وقت وسیع ہو اور قرض خواہ بھی اپنے قرض کا مطالبہ کرے تو اگر ممکن ہو تو ضروری ہے کہ پہلے قرضہ ادا کرے اور بعد میں نماز پڑھے اور اگر کوئی ایسا دوسرا واجب کام پیش آجائے جسے فوراً بجا لانا ضروری ہو تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے مثلاً اگر دیکھے کہ مسجد نجس ہوگئی ہے تو ضروری ہے کہ پہلے مسجد کو پاک کرے اور بعد میں نماز پڑھے اور اگر مذکوروہ بالا دونوں صورتوں میں پہلے نماز پڑھے تو گناہ کا مرتکب ہوگا لیکن اس کی نماز صحیح ہوگی۔


وہ نمازیں جو ترتیب سے پڑھنی ضروری ہیں

۷۶۳۔ ضروری ہے کہ انسان نماز عصر، نماز ظہر کے بعد اور نماز عشا، نماز مغرب کے بعد پڑھے اور اگر جان بوجھ کر نماز عصر نماز ظہر سے پہلے اور نماز عشا نماز مغرب سے پہلے پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۷۶۴۔ اگر کوئی شخص نماز ظہر کی نیت سے نماز پڑھنی شروع کرے اور نماز کے دوران اسے یاد آئے کہ نماز ظہر پڑھ چکا ہے تو وہ نیت کو نماز عصر کی جانب نہیں موڑ سکتا بلکہ ضروری ہے کہ نماز توڑ کر نماز عصر پڑھے اور مغرب اور عشا کی نماز میں بھی یہی صورت ہے۔

۷۶۵۔ اگر نماز عصر کے دوران کسی شخص کو یقین ہو کہ اس نے نماز ظہر نہیں پڑھی ہے اور وہ نیت کو نماز ظہر کی طرف موڑ دے تو جونہی اسے یاد آئے کہ وہ نماز ظہر پڑھ چکا ہے تو نیت کو نماز عصر کی طرف موڑ دے اور نماز مکمل کرے۔ لیکن اگر اس نے نماز کے بعض اجزاء کو ظہر کی نیت سے انجام نہ دیا ہو یا ظہر کی نیت سے انجام دیا ہو تو اس صورت میں ان اجزا کو عصر کی نیت سے دوبارہ انجام دے لیکن اگر وہ جز ایک رکعت ہو تو پھر ہر صورت میں نماز باطل ہے۔ اسی طرح اگر وہ جز ایک رکعت کا رکوع ہو یا دور سجدے ہوں تو احتیاط لازم کی بنا پر نماز باطل ہے۔

۷۶۶۔ اگر کسی شخص کو نماز عصر کے دوران شک ہو کہ اس نے نماز ظہر پڑھی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ عصر کی نیت سے نماز تمام کرے اور بعد میں ظہر کی نماز پڑھے لیکن اگر وقت اتنا کم ہو کہ نماز پرھنے کے بعد سورج ڈوب جاتا ہو اور ایک رکعت نماز کے لئے بھی وقت باقی نہ بچتا ہو تو لازم نہیں ہے کہ نماز ظہر کی قضا پڑھے۔

۷۶۷۔ اگر کسی شخص کو نماز عشا کےدوران شک ہو جائے کہ اس نے مغرب کی نماز پڑھی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ عشا کی نیت سے نماز ختم کرے اور بعد میں مغرب کی نماز پڑھے۔ لیکن اگر وقت اتنا کم ہو کہ نماز ختم ہونے کے بعد آدھی رات ہو جاتی ہو اور ایک رکعت نماز کا وقت بھی نہ بچتا ہو تو نماز مغرب کی قضا اس پر لازم نہیں ہے۔

۷۶۸۔ اگر کوئی شخص نماز عشا کی چوتھی رکعت کے رکوع میں پہنچنے کے بعد شک کرے کہ اس نے نماز مغرب پڑھی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ نماز مکمل کرے۔ اور اگر بعد  میں مغرب کی نماز کے لئے وقت باقی ہو تو مغرب کی نماز بھی پڑھے۔

۷۶۹۔ اگر کوئی شخص ایسی نماز جو اس نے پڑھ لی ہو احتیاط دوبارہ پڑھے اور نماز کے دوران اسے یاد آئے کہ اس نماز سے پہلے والی نماز نہیں پڑھی تو وہ نیت کو اس نماز کی طرف نہیں موڑ سکتا۔ مثلاً جب وہ نماز عصر احتیاطاً پڑھ رہا ہو اگر اسے یاد آئے کہ اس نے نماز ظہر نہیں پڑھی تو وہ نیت کو نماز ظہر کی طرف نہیں موڑ سکتا۔

۷۷۰۔ نماز قضا کی نیت نماز ادا کی طرف اور نماز مستحب کی نیت نماز واجب کی طرف موڑنا جائز نہیں ہے۔

۷۷۱۔ اگر ادا نماز کا وقت وسیع ہو تو انسان نماز کے دوران یہ یاد آنے پر کہ اس کے ذمے کوئی قضا نماز ہے، نیت کو نماز قضا کی طرف موڑ سکتا ہے بشرطیکہ نماز قضا کی طرف نیت موڑنا ممکن ہو۔ مثلاً اگر وہ نماز ظہر میں مشغول ہو تو نیت کو قضائے صبح کی طرف اسی صورت میں موڑ سکتا ہے کہ تیسری رکعت کے رکوع میں داخل نہ ہوا ہو۔


مستحب نمازیں

۷۷۲۔ مستحب نمازیں بہت سی ہیں جنہیں نفل کہتے ہیں، اور مستحب نمازوں میں سے روانہ کے نفلوں کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ یہ نمازیں روز جمعہ کے علاوہ چونتیس رکعت ہیں جن میں سے آٹھ رکعت ظہر کی، آٹھ رکعت عصر کی، چار رکعت مغرب کی، دو رکعت عشا کی، گیارہ رکعت نماز شب (یعنی تہجد) کی اور دو رکعت صبح کی ہوتی ہیں اور چونکہ احتیاط واجب کی بنا پر عشا کی دو رکعت نفل بیٹھ کر پڑھنی ضروری ہیں اس لئے وہ ایک رکعت شمار ہوتی ہے۔ لیکن جمعہ کے دن ظہر اور عصر کی سولہ رکعت نفل پر چار رکعت کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور بہتر ہے کہ یہ پوری کی پوری بیس رکعتیں زوال سے پہلے پڑھی جائیں۔

۷۷۳۔ نماز شب کی گیارہ  رکعتوں میں سے آتھ رکعتیں نافلہ شب کی نیت سے اور دو رکعت نماز شفع کی نیت سے اور ایک رکعت نماز وتر کی نیت سے پڑھنی ضروری ہیں اور نافلہ شب کا مکمل طریقہ دعا کی کتابوں میں مذکور ہے۔

۷۷۴۔ نفل نمازیں بیٹھ کر بھی پڑھی جاسکتی ہیں لیکن بعض فقہا کہتے ہیں کہ اس صورت میں بہتر ہے کہ بیٹھ کر پڑھی جانے والی نفل نماز کی دو رکعتوں کو ایک رکعت شمار کیا جائے مثلاً جو شخص ظہر کی نفلیں جس کی آٹھ رکعتیں ہیں بیٹھ کر پڑھنا چاہے تو اس کے لئے بہتر ہے کہ سولہ رکعتیں پڑھے اور اگر چاہے کہ نماز وتر بیٹھ کر پڑھے تو ایک ایک رکعت کی دو نمازیں پڑھے۔ تاہم اس کام کا بہتر ہونا معلوم نہیں ہے۔ لیکن رجا کی نیت سے انجام دے تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۷۷۵۔ ظہر اور عصر کی نفلی نمازیں سفر میں نہیں پڑھنی چاہئیں اور اگر عشا کی نفلیں رجا کی نیت سے پڑھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔


روزانہ کی نفلوں کا وقت

۷۷۶۔ظہر کی نفلیں نماز ظہر سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔ اور جہاں تک ممکن ہو اسے ظہر کی کی نماز سے پہلے پڑھا جائے اور اس کا وقت اول ظہر سے لے کر ظہر کی نماز ادا کرنے تک باقی رہتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ظہر کی نفلیں اس وقت تک موخر کر دے کہ شاخص کے سایہ کی وہ مقدار جو ظہر کے بعد پیدا ہو ساتھ میں سے دو حصوں کے برابر ہو جائے مثلاً شاخص کی لمبائی ساتھ بالشت اور سایہ کی مقدار دو بالشت ہو تو اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ انسان ظہر کی نماز پڑھے۔

۷۷۷۔عصر کی نفلیں عصر کی نماز سے پہلے پڑھی جاتی ہیں۔ اور جب تک ممکن ہو اسے عصر کی نماز سے پہلے پڑھا جائے۔ اور اس کا وقت عصر کی نماز ادا کرنے تک باقی رہتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص عصر کی نفلیں اس وقت تک موخر کر دے کہ شاخص کے سایہ کی وہ مقدار جو ظہر کی بعد پیدا ہو سات میں سے چار حصوں تک پہنچ جائے تو اس صورت میں بہتر ہے کہ انسان عصر کی نماز پڑھے۔ اور اگر کوئی شخص ظہر یا عصر کی نفلیں اس کے مقررہ وقت کے بعد پڑھنا چاہے تو ظہر کی نفلیں نماز ظہر کے بعد اور عصر کی نفلیں نماز عصر کے بعد پڑھ سکتا ہے لیکن احتیاط کی بنا پر ادا اور قضا کی نیت نہ کرے۔

۷۷۸۔مغرب کی نفلوں کا وقت نماز مغرب ختم ہونے کے بعد ہوتا ہے اور جہاں تک ممکن ہو اسے مغرب کی نماز کے فوراً بعد بجالائے لیکن اگر کوئی شخص اس سرخی کے ختم ہونے تک جو سورج کے غروب ہونے کے بعد آسمان میں دکھائی دیتی ہے مغرب کی نفلوں میں تاخیر کرے تو اس وقت بہتر یہ ہے کہ عشا کی نماز پڑھے۔

۷۷۹۔ عشا کی نفلوں کا وقت نماز عشا ختم ہونے کے بعد سے آدھی رات تک ہے اور بہتر ہے کہ نماز عشا ختم ہونے کے فوراً بعد پڑھی جائے۔

۷۸۰۔ صبح کی نفلیں صبح کی نماز سے پہلے پڑھی جاتی ہے اور اس کا وقت نماز شب کا وقت ختم ہونے کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور صبح کی نماز کے ادا ہونے تک باقی رہتا ہے اور جہاں تک ممکن ہو صبح کی نفلیں صبح کی نماز سے پہلے پرھنی چاہئیں لیکن اگر کوئی شخص صبح کی نفلیں مشرق کی سرخی ظاہر ہونے تک نہ پڑھے تو اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ صبح کی نماز پڑھے۔

۷۸۱۔ نماز شب کا اول وقت مشہور قول کی بنا پر آدھی رات ہے اور صبح کی اذان تک اس کا وقت باقی رہتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ صبح کی اذان کے قریب پڑھی جائے۔

۷۸۲۔ مسافر اور وہ شخص جس کے لئے نماز شب کا آدھی رات کے بعد ادا کرنا مشکل ہو اسے اول شب میں بھی ادا کر سکتا ہے۔


نماز غُفیلہ

۷۸۳۔ مشہور مستحب نمازوں میں سے ایک نماز غفیلہ ہے جو مغرب اور عشا کی نماز کے درمیان پڑھی جاتی ہے ۔ اس کی پہلی رکعت میں الحمد کے بعد کسی دوسری سورۃ کے بجائے یہ آیت پڑھنی ضروری ہے: وَذَا النُّونِ اِذ ذَّھَبَ مُغَاضِباً اَن لَّن نَّقدِ عَلَیہِ فَنَادٰی فِی الظُّلُمٰتِ اَن لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اَنتَ سُبحٰنَکَ اِنِّی کُنتُ مِنَ الظّٰلِمِینَ فَاستَجَبناَ لَہُ وَنَجَّینٰہُ مِنَ الغَمِّ وَ کَذٰلِکَ نُنجِی المُئومِنِینَ۔ اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد بجائے کسی اور سورۃ کے یہ آیت پڑھے: وَ عِندَہُ مَفَاتِحُ الغَیبِ لاَ یَعلَمُہَآ اِلاَّ ھُوَ وَیَعلَمُ مَا فِی البَرِّ وَالبَحرِ وَمَا تَسقُطُ مِن وَّرَقَۃٍ اِلاَّ یَعلَمُھَا وَلاَ حَبَّۃٍ فِی ظُلُمٰتِ الاَرضِ وَلاَ رَظبٍ  وَّلاَ یَابِسٍ اِلاَّ فِی کِتٰبٍ مُّبِینٍ ۔ اور اس کے قنوت میں یہ پڑھے : اللّٰھُمّ اِنِّیٓ اَسئَلُکَ بِمَفَاتِحِ الغَیبِ الَّتِی لاَ یَعلَمُھَآ اِلاَّ اَنتَ تُصَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اَن تَفعَلَ بِی کَذَا وَ کَذَا۔ اور کَذَا وَ کَذَا کی بجائے اپنی حاجتیں بیان کرے اور اسکے بعد کہے : اللّٰھُمَّ اَنتَ وَلِیُّ نِعمَتِی وَالقَادِرُ عَلٰی طَلِبَتِی تَعلَمُ حَاجَتِی فَاَسئَلُکَ بِحَقِّ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ عَلِیہِ وَعِلَیھِمُ السَّلاَمُ لَمَّا قَضَیتَہَالِی۔


قبلے کے احکام

۷۸۴۔ خانہ کعبہ جو مکہ مکرمہ میں ہے وہ ہمارا قبلہ ہے لہذا (ہرمسلمان کے لئے) ضروری ہے کہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھے لیکن جو شخص اس سے دور ہو اگر وہ اس طرح کھڑا ہو کہ لوگ کہیں کہ قبلے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہا ہے تو کافی ہے اور دوسرے کام جو قبلے کی طرف منہ کر کے انجام دینے ضروری ہیں۔ مثلاً حیوانات کو ذبح کرنا۔ ان کا بھی یہی حکم ہے۔

۷۸۵۔ جو شخص کھڑا ہو کر واجب نماز پرھ رہا ہو ضروری ہے کہ اس کا سینہ اور پیٹ قبلے کی طرف ہو۔۔۔۔ بلکہ اس کا چہرہ قبلے سے بہت زیادہ پھرا ہوا نہیں ہونا چاہئے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کے پاوں کی انگلیاں بھی قبلہ کی طرف ہوں۔

۷۸۶۔ جس شخص کو بیٹھ کر نماز پڑھنی ہو ضروری ہے کہ اس کا سینہ اور پیٹ نماز کے وقت قبلے کی طرف ہو۔ بلکہ اس کا چہرہ بھی قبلے سے بہت زیادہ پھرا ہوا نہ ہو۔

۷۸۷۔ جو شخص بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکے ضروری ہے کہ دائیں پہلو کے بل یوں لیٹے کہ اس کے بدن کا اگلا حصہ قبلے کی طرف ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ضروری ہے بائیں پہلو کے بل یوں لیئے کہ اس کے بدن کا اگلا حصہ قبلے کی طرف ہو۔ اور جب تک دائیں پہلو کی بل لیٹ کر نماز پڑھنا ممکن ہوا احتیاط لازم کی بنا پر بائیں پہلو کے بل لیٹ کر نماز نہ پڑھے۔ اور اگر یہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو ضروری ہے کہ پشت کے بل یوں لیٹے کہ اسکے پاوں کے تلوے قبلے کی طرف ہوں۔

۷۸۸۔ نماز احتیاط، بھولا ہوا سجدہ اور بھولا ہوا تشہد قبلے کی طرف منہ کر کے ادا کرنا ضروری ہے اور احتیاط مستحب کی بنا پر سجدہ سہو بھی قبلے کی طرف منہ کر کے ادا کرے۔

۷۸۹۔ مستحب نماز راستہ چلتے ہوئے اور سواری کی حالت میں پڑھی جاسکتی ہے اور اگر انسان ان دونوں حالتوں میں مستحب نماز پڑھے تو ضروری نہیں کہ اس کا منہ قبلے کی طرف ہو۔

۷۹۰۔ جو شخص نماز پڑھنا چاہے ضروری ہے کہ قبلے کی سمت کا تعین کرنے کے لئے کوشش کرے تاکہ قبلے کی سمت کے بارے میں یقین یا ایسی کیفیت جو یقین کے حکم میں ہو۔ مثلاً دو عادل آدمیوں کی گواہی۔۔۔ حاصل کرلے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو ضروری ہے کہ مسلمانوں کی مسجد کے محراب سے یا ان کی قبروں سے یا دوسرے طریقوں سے جو گمان پیدا ہو اس کے مطابق عمل کرے حتی کہ اگر کسی ایسے فاسق یا کافر کے کہنے پر جو سائنسی قواعد کے ذریعے قبلے کا رخ پہچانتا ہو قبلے کے بارے میں گمان پیدا کرے تو وہ بھی کافی ہے۔

۷۹۱۔ جو شخص قبلے کی سمت کے بارے میں گمان کرے، اگر وہ اس سے قوی ترگمان پیدا کر سکتا ہو تو وہ اپنے گمان پر عمل نہیں کرسکتا مثلاً اگر مہمان، صاحب خانہ کے کہنے پر قبلے کی سمت کے بارے میں گمان پیدا کرلے لیکن کسی دوسرے طریقے پر زیادہ قوی گمان پیدا کر سکتا ہو تو اسے صاحب خانہ کے کہنے پر عمل نہیں کرنا چاہئے۔

۷۹۲۔ اگر کسی کے پاس قبلے کا رخ متعین کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو (مثلاً قطب نما) یا کوشش کے باوجود اس کا گمان کسی ایک طرف نہ جاتا ہو تو اس کا کسی بھی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا کافی ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر نماز کا وقت وسیع ہو تو چار نمازیں چاروں طرف منہ کر کے پڑھے (یعنی وہی ایک نماز چار مرتبہ ایک ایک سمت کی جانب منہ کرکے پڑھے)۔

۷۹۳۔ اگر کسی شخص کو یقین یا گمان ہو کہ قبلہ دو میں میں ہے ایک طرف ہے تو ضروری ہے کہ دونوں طرف منہ کر کے نماز پڑھے۔

۷۹۴۔ جو شخص کئی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا چاہتا ہو اگر وہ ایسی دو نمازیں پڑھنا چاہے جو ظہر اور عصر کی طرح یکے بعد دیگرے پڑھنی ضروری ہیں تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ پہلی نماز مختلف سمتوں کی طرف منہ کرکے پڑھے اور بعد میں دوسری نماز شروع کرے۔

۷۹۵۔ جس شخص کو قبلے کی سمت کا یقین نہ ہو اگر وہ نماز کے علاوہ کوئی ایسا کام کرنا چاہے جو قبلے کی طرف منہ کر کے کرنا ضروری ہے مثلاً اگر وہ کوئی حیوان ذبح کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہئے کہ گمان پر عمل کرے اور اگر گمان پیدا کرنا ممکن نہ ہو تو جس طرف منہ کرکے وہ کام انجام دے درست ہے۔


نماز میں بدن کا ڈھانپنا

۷۹۲۔ ضروری ہے کہ مرد خواہ اسے کوئی بھی نہ دیکھ رہا ہو نماز کی حالت میں اپنی شرمگاہوں کو ڈھانپے اور بہتر یہ ہے کہ ناف سے گھٹنوں تک بدن بھی ڈھانپے۔

 ۷۹۷۔ضروری ہے کہ عورت نماز کے وقت اپنا تمام بدن حتٰی کہ سر اور بال بھی ڈھانپے اور احتیاط مُستحب یہ ہے کہ پاوں کے تلوے بھی ڈھانپے البتہ چہرے کا جتنا حصہ وضو میں دھویا جاتا ہے اور کلائیوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاوں کا ظاہری حصہ ڈھانپا ضروری نہیں ہے لیکن یہ یقین کرنے کے لئے کہ اس نے بدن کی واجب مقدار ڈھانپ لی ہے ضروری ہے کہ چہرے کی اطراف کا کچھ حصہ اور کلائیوں سے نیچے کا کچھ حصہ بھی ڈھانپے۔

۷۹۸۔ جب انسان بھولے ہوئے سجدے یا بھولے ہوئے تشہد کی قضا بجا لا رہا ہو تو ضروری ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح ڈھانپے جس طرح نماز کے وقت ڈھانپا جاتا ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ سجدہ سہو ادا کرنے کے وقت بھی اپنے آپ کو ڈھانپے۔

۷۹۹۔ اگر انسان جان بوجھ کر یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے غلطی کرتے ہوئے نماز میں اپنی شرم گاہ نہ ڈھانپے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۸۰۰۔اگر کسی شخص کو نماز کے دوران پتہ چلے کہ اس کی شرم گاہ ننگی ہے تو ضروری ہے کہ اپنی چھپائے اور اس پر لازم نہیں ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے لیکن احتیاط یہ ہے کہ جب اسے پتہ چلے کہ اس کی شرم گاہ ننگی ہے تو اس کے بعد نماز کا کوئی جز انجام نہ دے۔لیکن اگر اسے نماز کے بعد پتہ چلے کہ نماز کے دوران اس کی شرم گاہ ننگی تھی تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۸۰۱۔ اگر کسی شخص کالباس کھڑے ہونے کی حالت میں اس کی شرمگاہ کو ڈھانپ لے لیکن ممکن ہو کہ دوسری حالت میں مثلاً رکوع اور سجود کی حالت میں نہ ڈھانپے تو اگر شرمگاہ کے ننگا ہونے کے وقت اسے کسی ذریعے سے ڈھانپ لے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس لباس کے ساتھ نماز نہ پڑھے۔

۸۰۲۔ انسان نماز میں اپنے آپ کو گھاس پھونس اور درختوں کے (بڑے) پتوں سے ڈھانپ سکتا ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان چیزوں سے اس وقت ڈھانپے جب اس کے پاس کوئی اور چیز نہ ہو۔

۸۰۳۔ انسان کے پاس مجبوری کی حالت میں شرم گاہ چھپانے کے لئے کوئی چیز نہ ہو تو اپنی شرم گاہ کی کھال نمایاں نہ ہونے کے لئے گارا یا اس جیسی کسی دوسری چیز کولیت پوت کر اسے چھپائے۔

۸۰۴۔  اگر کسی شخص کے پاس کوئی چیز ایسی نہ ہو جس سے وہ نماز میں اپنے آپ کو ڈھانپے اور ابھی وہ ایسی چیز ملنے سے مایوس بھی نہ ہوا ہو تو بہتر یہ ہے کہ نماز پڑھنے میں تاخیر کرے اور اگر کوئی چیز نہ ملے تو آخر وقت میں اپنے وظیفے کے مطابق نماز پڑھے لیکن اگر وہ اول وقت میں نماز پڑھے اور اس کا عذر آخر وقت تک باقی نہ رہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔

۸۰۵۔ اگر کسی شخص کے پاس جو نماز پڑھنا چاہتا ہو اپنے آپ کو ڈھانپنے کے لئے درخت کے پتے، گھاس، گارا یا دلدل نہ ہو اور آخرت وقت تک کسی ایسی چیز کے ملنے سے مایوس ہو جس سے وہ اپنے آپ کو چھپا سکے اگر اسے اس بات کا اطمینان ہو کہ کوئی شخص اسے نہیں دیکھے گا تو وہ کھڑا ہو کر اسی طرح نماز پڑھے جس طرح اختیاری حالت میں رکوع اور سجود کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن اگر اسے اس بات کا احتمال ہو کہ کوئی شخصاسے دیکھ لے گا تو ضروری ہے کہ اس طرح نماز پڑھے کہ اس کی شرم گاہ نظر نہ آئے مثلاً بیٹھ کر نماز پڑھے یا رکوع اور سجود جو اختیاری حالت میں انجام دیتے ہیں ترک کرے اور رکوع اور سجود کو اشارے سے بجالائے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ ننگا شخص نماز کی حالت میں اپنی شرمگاہ کو اپنے بعض اعضا کے ذریعے مثلاً بیٹھا ہو تو دونوں رانوں سے اور کھڑا ہو تو دونوں ہاتھوں سے چھپالے۔


نمازی کے لباس کی شرطیں

۸۰۶۔ نماز پڑھنے والے کے لباس کی چھ شرطیں ہیں :

(اول)  پاک ہو۔

(دوم)  مُباح ہو۔

(سوم)  مُردار کے اجزا سے نہ بنا ہو۔

(چہارم) حرام گوشت حیوان کے اجزا سے نہ بنا ہو۔

(پنجم اور ششم) اگر نماز پڑھنے والا مرد ہو تو اس کا لباس خالص ریشم اور زر دوزی کا بنا ہو نہ ہو۔ ان شرطوں کی تفصیل آئندہ مسائل میں بتائی جائے گی۔

پہلی شرط

۸۰۷۔ نماز پڑھنے والے کا لباس پاک ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص حالت اختیار میں نجس بدن یا نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۸۰۸۔ اگر کوئی شخص اپنی کوتاہی کی وجہ سے یہ نہ جانتا ہو کہ نجس بدن اور لباس کے ساتھ نماز باطل ہے اور نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

۸۰۹۔ اگر کوئی شخص مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے کوتاہی کی بنا پر کسی نجس چیز کے بارے میں یہ جانتا ہو کہ نجس ہے مثلاً یہ نہ جانتا ہو کہ کافر کا پسینہ نجس ہے اور اس (پسینے) کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کی نماز احتیاط لازم کی بنا پر باطل ہے۔

۸۱۰۔اگر کسی شخص کو یہ یقین ہو کہ اس کا بدن یا لباس نجس نہیں ہے اور اسکے نجس ہونے کے بارے میں اسے نماز کے بعد پتہ چلے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۸۱۱۔ اگر کوئی شخص یہ بھول جائے کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اور اسے نماز کے دوران یا اس کے بعد یاد آئے چنانچہ اگر اس نے لاپروائی اور اہمیت نہ دینے کی وجہ سے بھلا دیا ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ وہ نماز کو دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہو تو اس کی قضا کرے۔ اور اس صورت کے علاوہ ضروری نہیں ہے کہ وہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔ لیکن اگر نماز کے دوران اسے یاد آئے تو ضروری ہے کہ اس حکم پر عمل کرے جو بعد والے مسئلے میں بیان کیا جائے گا۔

۸۱۲۔ جو شخص وسیع وقت میں نماز  میں مشغول ہو اگر نماز کے دوران اسے پتہ چلے کہ اس کا بدن یا لباس نجس ہے اور اسے یہ احتمال ہو کہ نماز شروع کرنے کے بعد نجس ہوا ہے تو اس صورت میں اگر بدن یا لباس پاک کرنے یا لباس تبدیل کرنے یا لباس اتار دینے سے نماز نہ ٹوٹے تو نماز کے دوران بدن یا لباس پاک کرے یا لباس تبدیل کرے یا اگر کسی اور چیز نے اس کی شرم گاہ کو ڈھانپ رکھا ہو تو لباس اتار دے لیکن جب صورت یہ ہو کہ اگر بدن یا لباس پاک کرے یا اگر لباس بدلے یا اتارے تو نماز ٹوٹتی ہو یا اگر لباس اتارے تو ننگا ہو جاتا ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ دوبارہ پاک لباس کے ساتھ نماز پڑھے۔

۸۱۳۔جو شخص تنگ وقت میں نماز میں مشغول ہو اگر نماز کے دوران اسے پتہ چلے کہ اس کا لباس نجس ہے اور اسے یہ احتمال ہو کہ نماز شروع کرنے کے بعد نجس ہوا ہے تو اگر صورت یہ ہو کہ لباس پاک کرنے یا بدلنے یا اتارنے سے نماز نہ ٹوٹتی ہو اور وہ لباس اتار سکتا ہو تو ضروری ہے کہ لباس کو پاک کرے یا بدلے یا اگر کسی اور چیز نے اس کی شرم گاہ کو ڈھانپ رکھا ہو تو لباس اتار دے اور نماز ختم کرے لیکن اگر کسی اور چیز نے اس کی شرمگاہ کو نہ ڈھانپ رکھا ہو اور وہ لباس پاک نہ کر سکتا ہو اور اسے بدل  بھی نہ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اسی نجس لباس کے ساتھ نماز کو ختم کرے۔

۸۱۴۔کوئی شخص جو تنگ وقت میں نماز میں مشغول ہو اور نماز کے دوران پتہ چلے کہ اس کا بدن نجس ہے اور اسے یہ احتمال ہو کہ نماز شروع کرنے کے بعد نجس ہوا ہے تو اگر صورت یہ ہو کہ بدن پاک کرنے سے نماز نہ ٹوٹتی ہو تو بدن کو پاک کرے اور اگر نماز ٹوٹتی ہو تو ضروری ہے کہ اسی حالت میں نماز ختم کرے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

۸۱۵۔  ایسا شخص جو اپنے بدن یا لباس کے پاک ہونے کے بارے میں شک کرے اور جستجو کے بعد کوئی چیز نہ پا کر اور نماز پڑھے اور نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ اس کا بدن یا لباس نجس تھا تو اس کی نماز صحیح ہے اور اگر اس نے جستجو نہ کی ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہو تو اس کی قضا کرے۔

۸۱۶۔ اگر کوئی شخص اپنا لباس دھوئے اور اسے یقین ہو جائے کہ لباس پاک ہو گیا ہے ، اس کے ساتھ نماز پڑھے اور نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ پاک نہیں ہوا تھا تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۸۱۷۔ اگر کوئی شخص اپنے بدن یا لباس میں خون دیکھے اور اسے یقین ہو کہ یہ نجس خون میں سے نہیں ہے مثلاً اسے یقین ہو کہ مچھر کا خون ہے لیکن نماز پڑھنے کے بعد اسے پتہ چلے کہ یہ اس خون میں سے ہے جس کے ساتھ نماز نہیں پڑھی جاسکتی تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۸۱۸۔ اگر کسی شخص کو یقین ہو کہ اس کے بدن یا لباس میں جو خون ہے وہ ایسا نجس خون ہے جس کے ساتھ نماز صحیح ہے مثلاً اسے یقین ہو کہ زخم اور پھوڑے کا خون ہے لیکن نماز کے بعد اسے پتہ چلے کہ یہ ایسا خون ہے جس کے ساتھ نماز باطل ہے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۸۱۹۔ اگر کوئی شخص یہ بھول جائے کہ ایک چیز نجس ہے اور گیلا بدن یا گیلا لباس اس چیز سے چھو جائے اور اسی بھول کے عالم میں وہ نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد اسے یاد آئے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر اس کا گیلا بدن اس چیز کو چھو جائے جس کا نجس ہونا وہ بھول گیا ہے اور اپنے آپ کو پاک کئے بغیر وہ غسل کرے اور نماز پڑھے تو اس کا غسل اور نماز باطل ہیں ما سوا اس صورت کے کہ غسل کرنے سے بدن بھی پاک ہو جائے۔ اور اگر وضو کے گیلے اعضا کا کوئی حصہ اس چیز سے چھو جائے جس کے نجس ہونے کے بارے میں وہ بھول گیا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ اس حصے کو پاک کرے وہ وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کا وضو اور نماز دونوں باطل ہیں ماسوا اس صورت کے کہ وضو کرنے اسے وضو کے اعضا بھی پاک ہو جائیں۔

۸۲۰۔ جس شخص کے پاس صرف ایک لباس ہو اگر اس کا بدن اور لباس نجس ہو جائیں اور اس کے پاس ان میں سے ایک کو پاک کرنے کے لئے پانی ہو تو احتیاط لازم یہ ہے کہ بدن کو پاک کرے اور نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھے۔ اور لباس کو پاک کرکے نجس بدن کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر لباس کی نجاست بدن کی نجاست سے بہت زیادہ ہو یا لباس کی نجاست بدن کی نجاست کے لحاظ سے زیادہ شدید ہو تو اسے اختیار ہے کہ لباس اور بدن میں سے جسے چاہے پاک کرے۔

۸۲۱۔جس شخص کے پاس نجس لباس کے علاوہ کوئی لباس نہ ہو ضروری ہے کہ نجس لباس کے ساتھ نماز پرھے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

۸۲۲۔ جس شخص کے پاس دو لباس ہوں اگر وہ یہ جانتا ہو کہ ان میں سے ایک نجس ہے لیکن یہ نہ جانتا ہو کہ کون سانجس ہے اور اس کے پاس وقت ہو تو ضروری ہے کہ دونوں لباس کے ساتھ نماز پڑھے (یعنی ایک دفعہ ایک لباس پہن کر اور ایک دفعہ دوسرا لباس پہن کر دو دفعہ وہی نماز پڑھے) مثلاً اگر وہ ظہر اور عصر کی نماز پڑھنا چاہے تو ضروری ہے کہ ہر ایک لباس سے ایک نماز ظہر کی اور ایک نماز عصر کی پڑھے لیکن اگر وقت تنگ ہو تو جس لباس کے ساتھ نماز پڑھ لے کافی ہے۔

دوسری شرط

۸۲۳۔ نماز پڑھنے والے کا لباس مباح ہونا ضروری ہے۔ پس اگر ایک ایسا شخص جو جانتا ہو کہ غصبی لباس پہننا حرام ہے یا کوتاہی کی وجہ سے مسئلہ کا حکم نہ جانتا ہو اور جان بوجھ کر اس لباس کے ساتھ نماز پڑھے تو احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔ لیکن اگر لباس میں وہ چیزیں شامل ہوں جو تنہا شرمگاہ کو نہیں ڈھانپ سکتیں اور اسی طرح وہ چیزیں جن سے اگرچہ شرمگاہ کو ڈھانپا جاسکتا ہو لیکن نماز پڑھنے والے نے انہیں حالت نماز میں نہ پہن رکھا ہو مثلاً بڑا رومال یا لنگوٹی جو حبیب میں رکھی ہو اور اسی طرح وہ چیزیں جنہیں نمازی نے پہن رکھا ہو اگرچہ اس کے پاس ایک مباح سترپوش بھی ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں ان (اضافی)چیزوں کے غصبی ہونے سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا اگرچہ احتیاط ان کے ترک کر دینے میں ہے۔

۸۲۴۔جو شخص یہ جانتا ہو کہ غصبی لباس پہننا حرام ہے لیکن اس لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم نہ جانتا ہو اگر وہ جان بوجھ کر غصبی لباس کے ساتھ نماز پڑھے تو جیسا کہ سابقہ مسئلے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

۸۲۵۔  اگر کوئی شخص نہ جانتا ہو یا بھول جائے کہ اس کا لباس غصبی ہے اور اس لباس کے ساتھ نماز پرھے تو اس کی نماز صحیح ہے۔ لیکن اگر وہ شخص خود اس لباس کو غصب کرے اور پھر بھول جائے کہ اس غصب کیا ہے اور اسی لباس میں نماز پڑھے تو احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

۷۲۶۔ اگر کسی شخص کو علم نہ ہو یا بھول جائے کہ اس کا لباس غصبی ہے لیکن نماز کے دوران اسے پتہ چل جائے اور اس کی شرمگاہ کسی دوسری چیز سے ڈھکی ہوئی ہو اور وہ فوراً یا نماز کا تسلسل توڑے بغیر غصبی لباس اتار سکتا ہو تو ضروری ہے کہ فوراً اس لباس کو اتار دے اور اگر اس کی شرمگاہ کسی دوسری چیز سے ڈھکی ہوئی نہ ہو یا وہ غصبی لباس کو فوراً نہ اتار سکتا ہو یا اگر لباس کا اتارنا نماز کے تسلسل کو توڑ دیتا اور صورت یہ ہو کہ اس کے پاس ایک رکعت پڑھنے جتنا وقت بھی ہو تو ضروری ہے کہ نماز کو توڑ دے اور اس لباس کے ساتھ نماز پڑھے جو غصبی نہ ہو اور اگر اتنا وقت نہ ہو تو ضروری ہے کہ نماز کی حالت میں لباس اتار دے اور "برہنہ لوگوں کی نماز کے مطابق" نماز ختم کرے۔

۸۲۷۔ اگر کوئی شخص اپنی جان کی حفاظت کے لئے غصبی لباس کے ساتھ نماز پڑھنے یا مثال کے طور پر غصبی لباس کے ساتھ اس لئے نماز پڑھے تاکہ چوری نہ ہوجائے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۸۲۸۔ اگر کوئی شخص اس رقم لباس خریدے جس کا خمس اس نے ادا نہ کیا ہو تو اس لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے وہی حکم ہے جو غصبی لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کا ہے۔

تیسری شرط

۸۲۹۔  ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کا لباس اور ہر وہ چیز جو شرم گاہ چھپانے کے لئے ناکافی ہے احتیاط لازم کی بنا پر جہندہ خون والے مردہ حیوان کے اجزاء سے نہ بنی ہو بلکہ اگر لباس اس مردہ حیوان مثلاً مچھلی اور سانپ سے تیار کیا جائے جس کا خون جہندہ نہیں ہوتا تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے۔

۸۳۰۔ اگر نجس مردار کی ایسی چیز مثلاً گوشت اور کھال جس میں روح ہوتی ہے نماز پڑھنے والے کے ہمراہ ہو تو کچھ بعید نہیں ہے کہ اس کی نماز صحیح ہو۔

۸۳۱۔ اگر حلال گوشت مردار کی کوئی ایسی چیز جس میں روح نہیں ہوتی مثلاً بال اور ان نماز پڑھنے والے کے ہمراہ ہو یا اس لباس کے ساتھ نماز پڑھے جو ان چیزوں سے تیار کیا گیا ہو تو اس کی نماز صحیح ہے۔

چوتھی شرط

۸۳۲۔ ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کا لباس ۔۔۔ ان چیزوں کے علاوہ جو صرف شرم گاہ چھپانے کے لئے ناکافی ہے مثلاً جراب ۔۔۔ جانوروں کے اجزا سے تیار کیا ہوا نہ ہو بلکہ احتیاط لازم کی بنا پر ہر اس جانور کے اجزا سے بنا ہوا نہ ہو جس کا گوشت کھانا حرام ہے اسی طرح ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کا لباس اور بدن حرام گوشت جانور کے پیشاب، پاخانے، پسینے، دودھ اور بال سے آلودہ نہ ہو لیکن اگر حرام گوشت جانور کا ایک بال اس کے لباس پر لگا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح نماز گزار کے ہمراہ ان میں سے کوئی چیز اگر ڈبیہ (یا بوتل وغیرہ) میں بند رکھی ہو تب بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

۸۳۳۔ حرام گوشت جانور مثلاً بلی کے منہ یا ناک کا پانی یا کوئی دوسری رطوبت نماز پڑھنے والے کے بدن یا لباس پر لگی ہو اور اگر وہ تر ہو تو نماز باطل ہے لیکن اگر خشک ہو اور اس کا عین جزو زائل ہو گیا ہو تو نماز صحیح ہے۔

۸۳۴۔ اگر کسی کا بال یا پسینہ یا منہ کا لعاب نماز پڑھنے والے کے بدن یا لباس پرلگا ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح مردارید، موم اور شہد اس کے ہمراہ ہو تب بھی نماز پڑھنا جائز ہے۔

۸۳۵۔ اگر کسی کو شک ہو کہ لباس حلال گوشت جانور سے تیار کیا گیا ہے یا حرام گوشت جانور سے تو خواہ وہ مقامی طور پر تیار کیا گیا ہو یا زر آمد کیا گیا ہو اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔

۸۳۶۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ سیپی حرام گوشت حیوان کے اجزا میں سے ہے لہذا سیپ (کے بٹن وغیرہ) کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے۔

۸۳۷۔ سمور کا لباس (                    ) اور اسی طرح گلہری کی پوستین پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ گلہری کی پوستین کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے۔

۸۳۸۔ اگر کوئی شخص ایسے لباس کے ساتھ نماز پڑھے جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو یا بھول گیا ہو کہ حرام گوشت جانور سے تیار ہوا ہے تو احتیاط مستحب کی بنا پر اس نماز کو دوبارہ پڑھے۔

پانچویں شرط

۸۳۹۔ زر دوزی کا لباس پہننا مردوں کے لئے حرام ہے اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا باطل ہے لیکن عورتوں کے لئے نماز میں یا نماز کے علاوہ اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۸۴۰۔ سونا پہننا مثلاً سونے کی زنجیر گلے میں پہننا، سونے کی انگوٹھی ہاتھ میں پہننا، سونے کی گھڑی کلائی پر باندھنا اور سونے کی عینک لگانا مردوں کے لئے حرام ہے اور ان چیزوں کے ساتھ نماز پڑھنا باطل ہے۔لیکن عورتوں کے لئے نماز میں اور نماز کے علاوہ ان چیزوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

۸۴۱۔ اگر کوئی شخص نہ جانتا ہو یا بھول گیا ہو تو اس کی انگوٹھی یا لباس سونے کا ہے یاشک رکھتا ہو اور اس کے ساتھ ناز پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

چھٹی شرط

۸۴۲۔نماز پڑھنے والے مرد کا لباس حتی کہ احتیاط مستحب کی بنا پر ٹوپی اور ازار بند بھی خالص ریشم کا نہیں ہونا چاہئے اور نماز کے علاوہ بھی خالص ریشم پہننا مردوں کے لئے حرام ہے۔

۸۴۳۔ اگر لباس کا تمام استریا اس کا کچھ خالص ریشم کا ہو تو مرد کے لئے اس کا پہننا حرام اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا باطل ہے۔

۸۴۴۔ جب کسی لباس کے بارے میں یہ علم نہ ہو کہ خالص ریشم کا ہے یا کسی اور چیز کا بنا ہوا ہے تو اس کا پہننا جائز ہے اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

۸۴۵۔ ریشمی رومال یا اسی جیسی کوئی چیز مرد کی جیب میں ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور وہ نماز کو باطل نہیں کرتی۔

۸۴۶۔ عورت کے لئے نماز میں یا اس کے علاوہ ریشمی لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۸۴۷۔ مجبوری کی حالت میں غصبی اور خالص ریشمی اور زردوزی کا لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ علاوہ ازیں جو شخص یہ لباس پہننے پر مجبور ہو اور اس کے پاس کوئی اور لباس نہ ہو تو وہ ان لباسوں کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے۔

۸۴۸۔ اگر کسی شخص کے پاس غصبی لباس کے علاوہ کوئی لباس نہ ہو اور وہ یہ لباس پہننے پر مجبور نہ ہو تو اسے چاہئے کہ ان احکام کے مطابق نماز پڑھے جو برہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے ہیں۔

۸۴۹۔ اگر کسی کے پاس درندے کے اجزا سے بنے ہوئے لباس کے علاوہ اور کوئی لباس نہ ہو اور وہ یہ لباس پہننے پر مجبور ہو تو اس لباس کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر لباس پہننے پر مجبور نہ ہو تو اسے چاہئے کہ ان احکام کے مطابق نماز پڑھنے جو برہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے ہیں۔ اور اگر اس کے پاس غیر شکاری حرام جانوروں کے اجزا سے تیار شدہ لباس کے سوا دوسرا لباس نہ ہو اور وہ اس لباس کو پہننے پر مجبور نہ ہو تو احتیاط لازم یہ ہے کہ دو دفعہ نماز پڑھے۔ ایک بار اسی لباس کے ساتھ اور ایک بار اس طریقے کے مطابق جس کا ذکر برہنہ لوگوں کی نماز میں بیان ہو چکا ہے۔

۸۵۰۔ اگر کسی مرد کے پاس خالص ریشمی یا زربفتی لباس کے سوا کوئی لباس نہ ہو اور وہ لباس پہننے پر مجبور نہ ہو تو ضروری ہے کہ ان احکام کے مطابق نماز پڑھے جو برہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے ہیں۔

۸۵۱۔ اگر کسی کے پاس ایسی کوئی چیز نہ ہو جس سے وہ اپنی شرم گاہوں کو نماز میں ڈھانپ سکے تو واجب ہے کہ ایسی چیز کرائے پر لے یا خریدے لیکن اگر اس پر اس کی حیثیت سے زیادہ خرچ اٹھتا ہو یا صورت یہ ہو کہ اس کام کے لئے خرچ برداشت کرے تو اس کی حالت تباہ ہو جائے تو ان احکام کے مطابق نماز پڑھے جو برہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے ہیں۔

۸۵۲۔ جس شخص کے پاس لباس نہ ہو اگر کوئی دوسرا شخص اسے لباس بخش دے یا ادھار دے دے تو اگر اس لباس کا قبول کرنا اس پر گراں نہ گزرتا ہو تو ضروری ہے کہ اسے قبول کرلے بلکہ اگر ادھار لینا یا بخشش کے طور پر طلب کرنا اس کے لئے تکلیف کا باعث نہ ہو تو ضروری ہے کہ جس کے پاس لباس ہو اس سے ادھار مانگ لے یا بخشش کے طور پر طلب کرے۔

۸۵۳۔  اگر کوئی شخص ایسا لباس پہننا چاہے جس کا کپڑا، رنگ یا سلائی رواج کے مطابق نہ ہو تو اگر اس کا پہننا اس کی شان کے خلاف اور توہین کا باعث ہو تو اس کا پہننا حرام ہے۔ لیکن اگر وہ اس لباس کے ساتھ نماز پڑھے اور اس کے پاس شرمگاہ چھپانے کے لئے فقط وہی لباس ہو تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۸۵۴۔ اگر مرد زنانہ لباس پہنے اور عورت مردانہ لباس پہنے اور اسے اپنی زینت قرار دے تو احتیاط کی بنا پر اس کی پہننا حرام ہے لیکن اس لباس کے ساتھ نماز پڑھنا ہر صورت میں صحیح ہے۔

۸۵۵۔ جس شخص کو لیٹ کر نماز پرھنی چاہے اگر اس کا لحاف درندے کے اجزا سے بلکہ احتیاط کی بنا پر ہر حرام گوشت جانور کے اجزاء سے بنا ہو یا نس یا ریشمی ہو اور اسے پہناوا کہا جاسکے تو اس میں بھی نماز جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر اسے محض اپنے اوپر ڈال لیا جائے تو کوئی حرج نہیں اور اس سے نماز باطل نہیں ہوگی البتہ گدیلے کے استمعال میں کسی حالت میں بھی کوئی قباحت نہیں ماسوا اس کے کہ اس کا کچھ حصہ انسان اپنے اوپر لپیٹ لے اور اسے عرف عام میں پہناوا کہا جائے تو اس صورت میں اس کا بھی وہی حکم ہے جو لحاف کا ہے۔


جن صورتوں میں نمازی کا بدن اور لباس پاک ہونا ضروری نہیں

۸۵۶۔تین صورتوں میں جن کی تفصیل نیچے بیان کی جارہی ہے اگر نماز پڑھنے والے کا بدن یا لباس نجس بھی ہو تو اس کی نماز صحیح ہے۔

(اول) اس کے بدن کے زخم، جراحت یا پھوڑے کی وجہ سے اس کے لباس یا بدن پر خون لگ جائے۔

(دوم) اس کے بدن یا لباس پر درہم۔ جس کی مقدار تقریباً انگوٹھے کے اوپر والی گرہ کے برابر ہے۔ کی مقدار سے کم خون لگ جائے۔

(سوم) وہ نجس بدن یا لباس کے ساتھ نماز پڑھنے پر مجبور ہو۔

علاوہ ازیں ایک اور صورت میں اگر نماز پڑھنے والے کا لباس نجس بھی ہو تو اس کی نماز صحیح ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ اس کا چھوٹا لباس مثلاً موزہ اور ٹوپی نجس ہو۔

ان چاروں صورتوں کے مفصل احکام آئندہ مسئلوں میں بیان کئے جائیں گے۔

۸۵۷۔   اگر نماز پڑھنے والے کے بدن یا لباس پر زخم یا جراحت یا پھوڑے کا خون ہو تو وہ اس خون کے ساتھ یا اس وقت تک نماز پڑھ سکتا ہے جب تک زخم یا جراحت یا پھوڑا ٹھیک نہ ہو جائے اور اگر اس کے بدن یا لباس پر ایسی پیپ ہو جو خون کے ساتھ نکلی ہو یا ایسی دوائی ہو جو زخم پر لگائی گئی ہو اور نجس ہو گئی ہو تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

۸۵۸۔ اگر نماز پڑھنے والے کے بدن یا لباس پر ایسی خراش یا زخم کا خون لگا ہو جو جلدی ٹھیک ہو جاتا ہو اور جس کا دھونا آسان ہو تو اس کی نماز باطل ہے۔

۸۵۹۔ اگر بدن یا لباس کی ایسی جگہ جو زخم سے فاصلے پر ہو زخم کی رطوبت سے نجس ہو جائے تو اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن اگر لباس یا بدن کی وہ جگہ جو عموماً زخم کی رطوبت سے آلودہ ہوجاتی ہے اس زخم کی رطوبت سے نجس ہو جائے تو اس کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔

۸۶۰۔ اگر کسی شخص کے بدن یا لباس کو اس بواسیر سے جس کے مسے باہرنہ ہوں یا اس زخم سے جو منہ اور ناک وغیرہ کے اندر ہو خون لگ جائے تو ظاہر یہ ہے کہ وہ اس کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے البتہ اس بواسیر کے خون کے ساتھ نماز پڑھنا بلا اشکال جائز ہے جس کے مسے مقعد کے باہر ہوں۔

۸۶۱۔ اگر کوئی ایسا شخص جس کے بدن پر زخم ہو اپنے بدن یا لباس پر ایسا خون دیکھے جو درہم سے زیادہ ہو اور یہ نہ جانتا ہو کہ یہ خون زخم کا ہے یا کوئی اور خون ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس خون کے ساتھ نماز پڑھے۔

۸۶۲۔ اگر کسی شخص کے بدن پر چند زخم ہوں اور وہ ایک دوسرے کے اس قدر نزدیک ہوں کہ ایک زخم شمار ہوتے ہوں تو جب تک وہ زخم ٹھیک نہ ہوجائیں ان کے خون کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ ایک دوسرے سے اتنے دور ہوں کہ ان میں سے ہر زخم ایک علیحدہ زخم شمار ہو تو جو زخم ٹھیک ہو جائے ضروری ہے کہ نماز کے لئے بدن اور لباس کو دھو کر اس زخم کے خون سے پاک کرے۔

۸۶۳۔ اگر نماز پرھنے والے کے بدن یا لباس پر سوئی کی نوک کے برابر بھی حیض کا خون لگا ہو تو اس کی نماز باطل ہے۔ اور احتیاط کی بنا پر نجس حیوانات مثلاً سّور، مُردار اور حرام گوشت جانور نیز نفاس اور استحاضہ کی بھی یہی صورت ہے لیکن کوئی دوسرا خون مثلاً انسان یا حلال گوشت حیوان کے خون کی چھینٹ بدن کے کئی حصوں پر لگی ہو لیکن اس کی مجموعی مقدار ایک درہم سے کم ہو تو اس کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۸۶۴۔ جو خون بغیر استر کے کپڑے پر گرے اور دوسری طرف پہنچ جائے وہ ایک خون شمار ہوتا ہے لیکن اگر کپڑے کی دوسری طرف الگ سے خون آلودہ ہو جائے تو ضروری ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو علیحدہ خون شمار کیا جائے۔ پس اگر وہ خون جو کپڑے کے سامنے کے رخ اور پچھلی طرف ہے مجموعی طور پر ایک درہم سے کم ہو تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے اور اگر اس سے زیادہ ہو تو اس کے ساتھ نماز باطل ہے۔

۸۶۵۔ اگر استر والے کپڑے پر خون گرے اور اس کے استر تک پہنچ جائے یا استر پر گرے اور کپڑے تک پہنچ جائے تو ضروری ہے کہ ہر خون کو الگ شمار کیا جائے۔ لیکن اگر کپڑے کا خون اور استر کا خون اس طرح مل جائے کہ لوگوں کے نزدیک ایک خون شمار ہو تو اگر کپڑے کا خون اور استر کا خون ملا کر ایک درہم سے کم ہو تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے اور اگر زیادہ ہو تو اس کے ساتھ نماز باطل ہے۔

۸۶۶۔ اگر بدن یا لباس پر ایک درہم سے کم خون ہو اور کوئی رطوبت اس خون سے مل جائے اور اس کے اطراف کو آلودہ کر دے تو اس کے ساتھ نماز باطل ہے خواہ خون اور جو رطوبت اس سے ملی ہے ایک درہم کے برابر نہ ہوں لیکن اگر رطوبت صرف خون سے ملے اور اس کے اطراف کو آلودہ نہ کرے تو ظاہر یہ ہے کہ اس کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۸۶۷۔ اگر بدن یا لباس پر خون نہ ہو لیکن رطوبت لگنے کی وجہ سے خون سے نجس ہو جائیں تو اگرچہ جو مقدار نجس ہوئی ہے وہ ایک درہم سے کم ہو تو اس کے ساتھ بھی نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔

۸۶۸۔ بدن یا لباس پر جو خون ہو اگر وہ ایک درہم سے کم ہو اور کوئی دوسری نجاست اس سے آلگے مثلاً پیشاب کا ایک قطرہ اس پر گر جائے اور وہ بدن یا لباس سے لگ جائے تو اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہیں بلکہ اگر بدن اور لباس تک نہ بھی پہنچے تب بھی احتیاط لازم کی بنا پر اس میں نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

۷۶۹۔ اگر نماز پڑھنے والے کو چھوٹا لباس مثلاً ٹوپی اور موزہ جس سے شرمگاہ کو نہ ڈھانپا جاسکتا ہو نجس ہو جائے اور وہ احتیاط لازم کی بنا پر وہ نجس مردار یا نجس العین حیوان مثلاً کتے (کے اجزا) سے نہ بنا ہو تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے اور اسی طرح اگر نجس انگوٹھی کے ساتھ نماز پڑھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔

۸۷۰۔ نجس چیز مثلاً نجس رومال، چابی اور چاقو کا نماز پڑھنے والے کے پاس ہونا جائز ہے اور بعید نہیں ہے کہ مطلق نجس لباس (جو پہنا ہوا نہ ہو) اس کے پاس ہو تب بھی نماز کو کوئی ضرر نہ پہنچائے (یعنی اس کے پاس ہوتے ہوئے نماز صحیح ہو)۔

۸۷۱۔ اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ جو خون اس کے لباس یا بدن پر ہے وہ ایک درہم سے کم ہے لیکن اس امر کا احتمال ہو کہ یہ اس خون میں سے ہے جو معاف نہیں ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ اس خون کے ساتھ نماز پڑھے اور اس کا دھونا ضروری نہیں ہے۔

۸۷۲۔ اگر وہ خون جو ایک شخص کے لباس یا بدن پر ہو ایک درہم سے کم ہو اور اسے یہ علم نہ ہو کہ یہ اس خون میں سے ہے جو معاف نہیں ہے، نماز پڑھ لے اور پھر اسے پتہ چلے کہ یہ اس خون میں سے تھا جو معاف نہیں ہے، تو اس کے لئے دوبارہ نماز پڑھنا ضروری نہیں اور اس وقت بھی یہی حکم ہے جب وہ یہ سمجھتا ہو کہ خون ایک درہم سے کم ہے اور نماز پڑھ لے اور بعد میں پتہ چلے کہ اس کی مقدار ایک درہم یا اس سے زیادہ تھی، اس صورت میں بھی دوبارہ نماز پڑھنے کی ضروری نہیں ہے۔


وہ چیزیں جو نمازی کے لباس میں مستحب ہیں۔

۸۷۳۔ جو شخص چند نمازی کے لباس میں مستحب ہیں کہ جن میں سے تحت الحنک کے ساتھ عمامہ، عبا، سفید لباس، صاف ستھرا لباس، خوشبو لگانا اور عتیق کی انگوٹھی پہننا ہیں۔

وہ چیزیں جو نمازی کے لباس میں مکروہ ہیں

۸۷۴۔ چند چیزیں نمازی کے لباس میں مکروہ ہیں جن میں سے سیاہ، میلا اور تنگ لباس اور شرابی کا لباس پہننا یا اس شخص کا لباس پہننا جو نجاست سے پرہیز نہ کرتا ہو اور ایسا لباس پہننا جس پر چہرے کی تصویر بنی ہو اس کے علاوہ لباس کے بٹن کھلے ہونا اور ایسی انگوٹھی پہننا جس پر چہرے

کی تصویر بنی ہو مکروہ ہے۔


نماز کے پڑھنے کی جگہ

نماز پڑھنے والے کی جگہ کی سات شرطیں ہیں :

پہلی شرط یہ ہے کہ وہ مباح ہو۔

۸۷۵۔ جو شخص غصبی جگہ پر اگرچہ وہ قالین، تخت اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ہوں، نماز پڑھ رہا ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے لیکن غصبی چھت کے نیچے اور غصبی خیمے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۸۷۶۔ ایسی جگہ نماز پڑھنا جس کی منفعت کسی اور کی ملکیت ہو تو منفعت کے مالک کی اجازت کے بغیر وہاں نماز پڑھنا غصبی جگہ پر نماز پڑھنے کے حکم میں ہے مثلاً کرائے کے مکان میں مالک مکان یا اس شخص کی اجازت کے بغیر کہ جس نے وہ مکان کرائے پر لیا ہے نماز پڑھے تو احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔ اور اگر مرنے والے نے وصیت کی ہو کہ اس کے مال کا تیسرا حصہ فلاں کام پر خرچ کیا جائے تو جب تک کہ تیسرے حصے کو جدا نہ کریں اس کی جائداد میں نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔

۸۷۷۔ اگر کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہو اور دوسرا شخص اسے باہر نکال کر اس کی جگہ پر قبضہ کرے اور اس جگہ نماز پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہے اگرچہ اس نے گناہ کیا ہے۔

۸۷۸۔اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ نماز پڑھے جس کے غصبی ہونے کا اسے علم نہ ہو اور نماز کے بعد اسے پتہ چلے یا ایسی جگہ نماز پڑھے جس کے غصبی ہونے کو وہ بھول گیا ہو اور نماز کے بعد اسے یاد آئے تو اس کی نماز صحیح ہے۔ لیکن کوئی اسیا شخص جس نے خود وہ جگہ غصب کی ہو اور وہ بھول جائے اور وہاں نماز پڑھے تو اس کی نماز احتیاط کی بنا پر باطل ہے۔

۸۷۹۔ اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ یہ جگہ غصبی ہے اور اس میں تصرف حرام ہے لیکن اسے یہ علم نہ ہو کہ غصبی جگہ پر نماز پڑھنے میں اشکال ہے اور وہ وہاں نماز پڑھے تو احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

۸۸۰۔ اگر کوئی شخص واجب نماز سواری کی حالت میں پڑھنے پر مجبور ہو اور سواری کا جانور یا اس کی زین یا نعل غصبی ہو تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر وہ شخص اس جانور پر سواری کی حالت میں مستحب نماز پڑھنا چاہے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔

۸۸۱۔ اگر کوئی شخص کسی جائداد میں دوسرے کے ساتھ شریک ہو اور اس کا حصہ جدا نہ ہو تو اپنے شراکت دار کی اجازت کے بغیر وہ اس جائداد پر تصرف نہیں کر سکتا اور اس پر نماز نہیں پڑھ سکتا۔

۸۸۲۔اگر کسی شخص ایک ایسی رقم سے کوئی جائداد خریدے جس کا خمس اس نے ادا نہ کیا ہو تو اس جائداد پر اس کاتصرف حرام ہے۔ اور اس میں اس کی نماز جائز نہیں۔

۸۸۳۔اگر کسی جگہ کا مالک زبان سے نماز پڑھنے کی اجازت دے دے اور انسان کو علم ہو کہ وہ دل سے راضی نہیں ہے تو اس کی جگہ پر نماز پڑھنا جائز نہیں اور اگر اجازت نہ دے لیکن انسان کو یقین ہو کہ وہ دل سے راضی ہے تو نماز پرھنا جائز ہے۔

۸۸۴۔ جس متوفی نے زکوۃ اور اس جیسے دوسرے مالی واجبات ادا نہ کئے ہوں اس کی جائداد میں تصرف کرنا اگر واجبات کی ادائیگی میں مانع نہ ہو مثلاً اس کے گھر میں ورثاء کی اجازت سے نماز پڑھی جائے تو اشکال نہیں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص وہ رقم جو متوفی کے ذمے ہو ادا کر دے یا یہ ضمانت دے کہ ادا کر دے گا تو اس کی جائداد میں تصرف کرنے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے۔

۸۸۵۔ اگر متوفی لوگوں کا مقروض ہو تو اس کی جائداد میں تصرف کرنا اس مردے کی جائداد میں تصرف کرنے کے حکم میں ہے جس نے زکوٰۃ اور اس کی مانند دوسرے مالی واجبات ادا نہ کئے ہوں۔

۸۸۶۔اگر متوفی کے ذمے قرض نہ ہو لیکن اس کے بعض ورثاء کم سن یا مجنون یا غیر حاضر ہوں تو ان کے ولی کی اجازت کے بغیر اس کی جائداد میں تصرف حرام ہے اور اس میں نماز جائز نہیں۔

۸۸۷۔کسی کی جائداد میں نماز پڑھنا اس صورت میں جائز ہے جبکہ اس کا مالک صریحاً اجازت دے یا کوئی ایسی بات کہے جس سے معلوم ہو کہ اس نے نماز پڑھنے کی اجازت دے دی ہے مثلاً اگر کسی شخص کو اجازت دے کہ اس کی جائداد میں بیھٹے یا سوئے تو اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس نے نماز پڑھنے کی اجازت بھی دے دی ہے یا مالک کے راضی ہونے پر دوسری وجوہات کی بناء پر اطمینان رکھتا ہو۔

۸۸۸۔ وسیع و عریض زمین میں نماز پڑھنا جائز ہے اگرچہ اس کا مالک کم سن یا مجنون ہو یا وہاں نماز پڑھنے پر راضی نہ ہو۔ اسی طرح وہ زمینیں کہ جن کے دروازے اور دیوار نہ ہوں ان میں ان کے مالک کی اجازت کے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر مالک کمسن یا مجنون ہو یا اس کے راضی نہ ہونے کا گمان ہو تو احتیاط لازم یہ ہے کہ وہاں نماز یہ پڑھی جائے۔

۸۸۹۔ (دوسری شرط) ضروری ہے کہ نمازی کی جگہ واجب نمازوں میں ایسی نہ ہو کہ تیز  حرکت نمازی کے کھڑے ہونے یارکوع اور سجود کرنے میں مانع ہو بلکہ احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ اس کے بدن کو ساکن رکھنے میں بھی مانع نہ ہو اور اگر وقت کی تنگی یا کسی اور وجہ سے ایسی جگہ مثلاً بس، ٹرک، کشتی یاریل گاڑی میں نماز پڑھے تو جس قدر ممکن ہو بدن کے ٹھہراو اور قبلے کی سمت کا خیال رکھے اور اگر ٹرانسپورٹ قبلے سے کسی دوسری طرف مڑ جائے تو اپنا منہ قبلے کی جانب موڑ دے۔

۸۹۰۔جب گاڑی، کشتی یاریل گاڑی وغیرہ کھڑی ہوئی ہوں تو ان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور اسی طرح جب چل رہی ہوں تو اس حد تک نہ ہل جل رہی ہوں کہ نمازی بدن کے بدن کے ٹھہراو میں حائل ہوں۔

۸۹۱۔ گندم، جو اور ان جیسی دوسری اجناس کے ڈھیر پر جو ہلے جلے بغیر نہیں رہ سکتے نماز باطل ہے۔ (بوریوں کے ڈھیر مراد نہیں ہیں)۔

(تیسری شرط) ضروری ہے کہ انسان ایسی جگہ نماز پڑھنے جہاں نماز پوری پڑھ لینے کا احتمال ہو۔ ایسی جگہ نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے جس کے متعلق اسے یقین ہو کہ مثلاً ہوا اور بارش یا بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے وہاں پوری نماز نہ پڑھ سکے گا گو اتفاق سے پوری پڑھ لے۔

۸۹۲۔ اگر کوئی شخص ایسی جگہ نماز پڑھے جہاں ٹھہرنا حرام ہو مثلاً کسی ایسی مخدوش چھت کے نیچے جو عنقریب گرنے والی ہو تو گو وہ گناہ کا مرتکب ہوگا لیکن اس کی نماز صحیح ہے۔

۸۹۳۔ کسی ایسی چیز پر نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے جس پر کھڑا ہونا یا بیٹھنا حرام ہو مثلا قالین کے ایسے حصے جہاں اللہ تعالی کا نام لکھا ہو۔ چونکہ (یہ اسم خدا) قصد قربت کرنے میں مانع ہے اس لئے (نماز پڑھنا) صحیح نہیں ہے۔

(چوتھی شرط) جس جگہ انسان نماز پڑھے اس کی چھت اتنی نیچی نہ ہو کہ سیدھا کھڑا نہ ہوسکے اور نہ ہی وہ جگہ اتنی مختصر ہو کہ رکوع اور سجدے کی گنجائش نہ ہو۔

۸۹۴۔ اگر کوئی شخص ایسی جگہ نماز پڑھنے پر مجبور ہو جہاں بالکل سیدھا کھڑا ہونا ممکن نہ ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ بیٹ کر نماز پڑھے اور اگر رکوع اور سجود ادا کرنے کا امکان نہ ہو تو ان کے لئے سر سے اشارہ کرے۔

۸۹۵۔ ضروری ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ اور ائمۃ اہل بیت علیہم السلام کی قبر کے آگے اگر ان کی بے حرمتی ہوتی ہو تو نماز نہ پڑھے۔ اس کے علاوہ کسی اور صورت میں اشکال نہیں۔

(پانچویں شرط) اگر نماز پڑھنے کی جگہ نجس ہو تو اتنی مرطوب نہ ہو کہ اس کی رطوبت نماز پڑھنے والے کے بدن یا لباس تک پہنچے لیکن اگر سجدہ میں پیشانی رکھنے کی جگہ نجس ہو تو خواہ وہ خشک بھی ہو نماز باطل ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز پڑھنے کی جگہ ہرگز نجس نہ ہو۔

(چھٹی شرط) احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ عورت مرد سے پیچھے کھڑی ہو اور کم از کم اس کے سجدہ کرنے کی جگہ سجدے کی حالت میں مرد کے دو زانوں کے برابر فاصلے پر ہو۔

۸۹۶۔  اگر کوئی عورت مرد کے برابر یا آگے کھڑی ہو اور دونوں بیک وقت نماز پڑھنے لگیں تو ضروری ہے کہ نماز کو دوبارہ پڑھیں۔ اور یہی حکم ہے اگر ایک، دوسرے سے پہلے نماز کے لئے کھڑا ہو۔

۸۹۷۔ اگر مرد اور عورت ایک دوسرے کے برابر کھڑے ہوں یا عورت آگے کھڑی ہو اور دونوں نماز پڑھ رہے ہوں لیکن دونوں کے درمیان دیوار یا پردہ یا کوئی اور ایسی چیز حائل ہو کہ ایک دوسرے کونہ دیکھ سکیں یا ان کے درمیان دس ہاتھ سے زیادہ فاصلہ ہو تو دونوں کی نماز صحیح ہے۔

(ساتویں شرط) نماز پڑھنے والے کی پیشانی رکھنے کی جگہ، دو زانو اور پاوں کی انگلیاں رکھنے جگہ سے چار ملی ہوئی ہوئی انگلیوں کی مقدار سے زیادہ اونچی یا نیچی نہ ہو۔ اس مسئلے کی تفصیل سجدے کے احکام میں آئے گی۔

۸۹۸۔نا محرم مرد اور عورت کا ایک ایسی جگہ ہونا جہاں گناہ میں مبتلا ہونے کا احتمال ہو حرام ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ایسی جگہ نماز بھی نہ پرھیں۔

۸۹۹۔ جس جگہ ستار بجایا جاتا ہو اور اس جیسی چیزیں استعمال کی جاتی ہوں وہاں نماز پڑھنا باطل نہیں ہے گو ان کا سننا اور استعمال کرنا گناہ ہے۔

۹۰۰۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ اختیار کی حالت میں خانہ کعبہ کے اندر اور اس کی چھت کے اوپر واجب نماز نہ پڑھی جائے۔ لیکن مجبوری کی حالت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

۹۰۱۔ خانہ کعبہ کے اندر اور اس کی چھت کے اوپر نفلی نمازیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کہ خانہ کعبہ کے اندر ہر رکن کے مقابل دو رکعت نماز پڑھی جائے۔


وہ مقامات جہاں نماز پڑھنا مستحب ہے

۹۰۲۔ اسلام کی مقدس شریعت میں بہت تاکید کی گئی ہے کہ نماز مسجد میں پڑھی جائے۔ دنیا بھر کی ساری مسجدوں میں سب سے بہتر مسجد الحرام اور اس کے بعد مسجد نبوی ہے اور اس کے بعد مسجد کوفہ اور اس کے بعد بیت المقدس کا درجہ ہے۔ اس کے بعد شہر کی جامع اور اس کے بعد محلے کی مسجد اور اس کے بعد بازار کی مسجد کا نمبر آتا ہے۔

۹۰۳۔ عورتوں کے لئے بہتر ہے کہ نماز ایسی جگہ پڑھیں جو نا محرم سے محفوظ ہونے کے لحاظ سے دوسری جگہوں سے بہتر ہو خواہ وہ جگہ مکان یا مسجد یا کوئی اور جگہ ہو۔

۹۰۴۔ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے حرموں میں نماز پڑھنا مستحب ہے بلکہ مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور روایت ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے حرم پاک میں نماز پڑھنا دو لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔

۹۰۵۔ مسجد میں زیادہ جانا اور اس مسجد میں جانا آباد نہ ہو (یعنی جہاں لوگ بہت کم نماز پڑھنے آتے ہوں) مستحب ہے اور اگر کوئی شخص مسجد کے پڑوس میں رہتا ہو اور کوئی عذر بھی نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

۹۰۶۔ جو شخص مسجد میں نہ آتا ہو، مستحب ہے کہ انسان اس کے ساتھ مل کر کھانا کھائے، اپنے کاموں میں اس سے مشورہ نہ کرے، اس کے پڑوس میں نہ رہے اور نہ اس سے عورت کا رشتہ لے اور نہ اسے رشتہ دے۔ (یعنی اس کا سوشل بائیکاٹ کرے)۔


وہ مقامات جہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے

۹۰۷۔ چند مقامات پر نماز پڑھنا مکروہ ہے جن میں سے کچھ یہ ہیں :

۱۔  حمام

۲۔  شور زمین

۳۔ کسی انسان کے مقابل

۴۔ اس دروازے کے مقابل جو کھلا ہو

۵۔ سڑک، اور کوچے میں بشرطیکہ گزرنے والوں کے لئے باعث زحمت نہ ہو اور اگر انہیں زحمت ہو تو ان کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا حرام ہے۔

۶۔ آگ اور چراغ کے مقابل

۷۔ باورچی خانے میں اور ہر اس جگہ جہاں آگ کی بھٹی ہو۔

۸۔ کنویں کے اور ایسے گڑھے کے مقابل جس میں پیشاب کیا جاتا ہو۔

۹۔ جان دار کے فوٹو یا مجسمے کے سامنے مگر یہ کہ اسے ڈھانپ دیا جائے ۔

۱۰۔ ایسے کمرے میں جس میں جنب شخص موجود ہو۔

۱۱۔ جس جگہ فوٹو ہو خواہ ہو نماز پڑھنے والے کے سامنے نہ ہو۔

۱۲۔ قبر کے مقابل

۱۳۔ قبر کے اوپر

۱۴۔ دو قبروں کے درمیان

۱۵۔ قبرستان میں۔

۹۰۸۔ اگر کوئی شخص لوگوں کی رہگزر پر نماز پڑھ رہا ہو یا کوئی اور شخص اس کے سامنے کھڑا ہو تو نمازی کے لئے مستحب ہے کہ اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے اور اگر وہ چیز لکڑی یا رسی ہو تو بھی کافی ہے۔


مسجد کے احکام

۹۰۹۔ مسجد کی زمین، اندرونی اور بیرونی چھت اور اندرونی دیوار کو نجس کرنا حرام ہے اور جس شخص کو پتہ چلے کہ ان میں سے کوئی مقام نجس ہو گیا ہے تو ضروری ہے کہ اس کی نجاست کو فوراً دور کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسجد کے دیوار کا بیرونی حصے کو بھی نجس نہ کیا جائے اور اگر وہ نجس ہو جائے تو نجاست کا ہٹانا لازم نہیں لیکن اگر دیوار کا بیرونی حصہ نجس کرنا مسجد کی بے حرمتی کا سبب ہو تو قطعاً حرام ہے اور اس قدر نجاست کا زائل کرنا کہ جس سے بے حرمتی ختم ہو جائے ضروری ہے۔

۹۱۰۔ اگر کوئی شخص مسجد کو پاک کرنے پر قادر نہ ہو یا اسے مدد کی ضرورت ہو جو دستیاب نہ ہو تو مسجد کا پاک کرنا اس پر واجب نہیں لیکن یہ سمجھتا ہو کہ اگر دوسرے کو اطلاع دے گا تو یہ کام ہو جائے گا تو ضروری ہے کہ اسے اطلاع دے۔

۹۱۱۔ اگر مسجد کی کوئی جگہ نجس ہوگئی ہو جسے کھودے یا توڑے بغیر پاک کرنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس جگہ کو کھودیں یا توڑیں جب کہ جزوی طور پر کھودنا یا توڑنا پڑے یا بے حرمتی کا ختم ہونا ممکل طور پر کھودنے یا توڑنے پر موقف ہو ورنہ توڑنے میں اشکال ہے۔ جو جگہ کھودی گئی ہو اسے پر کرنا اور جو جگہ توڑی گئی ہو اسے تعمیر کرنا واجب نہیں ہے لیکن مسجد کی کوئی چیز مثلاً اینٹ اگر نجس ہوگئی ہو تو ممکنہ صورت میں اسے پانی سے پاک کر کے ضروری ہے کہ اس کی اصلی جگہ پر لگا دیا جائے۔

۹۱۲۔ اگر کوئی شخص مسجد کو غصب کرے اور اس کی جگہ گھر یا ایسی ہی کوئی چیز تعمیر کرے یا مسجد اس قدر ٹوٹ پھوٹ جائے کہ اسے مسجد نہ کہا جائے تب بھی احتیاط مستحب کی بنا پر اسے نجس نہ کرے لیکن اسے پاک کرنا واجب نہیں۔

۹۱۳۔ ائمہ اہل بیت علیہم السلام میں سے کسی امام کا حرم نجس کرنا حرام ہے اگر ان کے حرموں میں سے کوئی حرم نجس ہو جائے اور اس کا نجس رہنا اس کی بے حرمتی کا سبب ہو تو اس کا پاک کرنا واجب ہے بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ خواہ بے حرمتی نہ ہوتی ہو تب بھی پاک کیا جائے۔

۹۱۴۔ اگر مسجد کی چٹائی نجس ہو جائے تو ضروری ہے کہ اسے دھو کر پاک کریں اور اگر چٹائی کا نجس ہونا مسجد کی بے حرمتی شمار ہوتا ہو اور وہ دھونے سے خراب ہوتی ہو اور نجس حصے کا کاٹ دینا بہتر ہو تو ضروری ہے کہ اسے کاٹ دیا جائے۔

۹۱۵۔ اگر کسی عین نجاست یا نجس چیز کو مسجد میں لے جانے سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہو تو اس کا مسجد میں لے جانا حرام ہے بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگر بے حرمتی نہ ہوتی ہو تب بھی عین نجاست کو مسجد میں نہ لے جایا جائے۔

۹۱۶۔ اگر مسجد میں مجلس عزا کے لئے قنات تانی جائے اور فرش بچھایا جائے اور سیاہ پردے لٹکائے جائیں اور چائے کا سامان اس کے اندر لے جایا جائے تو اگر یہ چیزیں مسجد کے تقدس کو پامال نہ کرتی ہوں اور نماز پڑھنے میں بھی مانع نہ ہوتی ہوں تو کوئی حرج نہیں۔

۹۱۷۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ مسجد کی سونے سے زینت نہ کریں اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسجد کو انسان اور حیوان کی طرح جانداروں کی تصویروں سے بھی نہ سجایا جائے۔

۹۱۸۔ اگر مسجد ٹوٹ پھوٹ بھی جائے تب بھی نہ تو اسے بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہی ملکیت اور سٹرک میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

۹۱۹۔ مسجد کے دروازوں، کھڑکیوں اور دوسری چیزوں کا بیچنا حرام ہے اور اگر مسجد ٹوٹ پھوٹ جائے تب بھی ضروری ہے کہ ان چیزوں کو اسی مسجد کی مرمت کے لئے استمعال کیا جائے اور اگر اس مسجد کے کام کی نہ رہی ہوں تو ضروری ہے کہ کسی دوسری مسجد کے کام میں لایا جائے اور اگر دوسری مسجدوں کے کام کی بھی نہ رہی ہوں تو انہیں بیچا جاسکتا ہے اور جو رقم حاصل ہو وہ بصورت امکان اسی مسجد کی مرمت پرورنہ کسی دوسری مسجد کی مرمت پر خرچ کی جائے۔

۹۲۰۔ مسجد کا تعمیر کرنا اور ایسی مسجد کی مرمت کرنا جو مخدوش ہو مستحب ہے اور اگر مسجد اس قدر مخدوش ہو کہ اس کی مرمت ممکن نہ ہو تو اسے گرا کر دوبارہ تعمیر کیا جاسکتا ہے بلکہ اگر مسجد ٹوٹی پھوٹی نہ ہو تب بھی اسے لوگوں کی ضرورت کی خاظر گرا کر وسیع کیا جاسکتا ہے۔

۹۲۱۔ مسجد کو صاف ستھرا رکھنا اور اس میں چراغ جلانا مستحب ہے اور اگر کوئی شخص مسجد میں جانا چاہے تو مستحب ہے کہ خوشبو لگائے اور پاکیزہ اور قیمتی لباس پہنے اور اپنے جوتے کے تلووں کے بارے میں تحقیق کرے کہ کہیں نجاست تو نہیں لگی ہوئی۔ نیز یہ کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پاوں اور باہر نکلتے وقت پہلے بایاں پاوں رکھے اور اسی طرح مستحب ہے کہ سب لوگوں سے پہلے مسجد میں آئے اور سب سے بعد میں نکلے۔

۹۲۲۔ جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو مستحب ہے کہ دو رکعت نماز تحیت و احترام مسجد کی نیت سے پڑھے اور اگر واجب نماز یا کوئی اور مستحب نماز پڑھے تب بھی کافی ہے۔

۹۲۳۔ اگر انسان مجبور نہ ہو تو مسجد میں سونا، دنیاوی کاموں کے بارے میں گفتگو کرنا اور کوئی کام کاج کرنا اور ایسے اشعار پڑھنا جن میں نصیحت اور کام کی کوئی بات نہ ہو مکر وہ ہے۔ نیز مسجد میں تھوکنا، ناک کی آلائش پھینکنا اور بلغم تھوکنا بھی مکروہ ہے بلکہ صورتوں حرام ہے۔ اور اس کے علاوہ گمشدہ (شخص یا چیز) کو تلاش کرتے ہوئے آواز کو بلند کرنا بھی مکروہ ہے۔ لیکن اذان کے لئے آواز بلند کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔

۹۲۴۔ دیوانے کی مسجد میں داخل ہونے دینا مکروہ ہے اور اسی اس بچے کو بھی داخل ہونے دینا مکروہ ہے جو نمازیوں کے لئے باعث زحمت ہو یا احتمال ہو کہ وہ مسجد کو نجس کر دے گا۔ ان دو صورتوں کے علاوہ بچے کو مسجد میں آنے دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس شخص کا مسجد میں جانا بھی مکروہ ہے جس نے پیاز، لہسن یا ان سے مشابہ کوئی چیز کھائی ہو کہ جس کی بو لوگوں کو ناگوار گزرتی ہو۔


اذان اور اقامت

 ۹۲۵۔ ہر مرد اور عورت کے لئے مستحب ہے کہ روزانہ کی واجب نمازوں سے پہلے اذان اور اقامت کہے اور ایسا کرنا دوسری واجب یا مستحب نمازوں کے لئے مشروع نہیں لیکن عید فطر اور عید قربان سے پہلے جب کہ نماز با جماعت پڑھیں تو مستحب ہے کہ تین مرتبہ "اَلصَّلوٰۃ" کہیں۔

۹۲۶۔ مستحب ہے کہ بچے کی پیدائش کے پہلے دن یا ناف اکھڑے سے پہلے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے۔

۹۲۷۔ اذان اٹھارہ جملوں پر مشتمل ہے۔

اَللّٰہُ اَکبَرُ اَللّٰہُ اَکبَرُ اَللّٰہُ اَکبَرُ اَللّٰہُ اَکبَرُ

اَشھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ اَشھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ

اَشھَدُ اَن مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہِ اَشھَدُ اَن مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہِ

حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ

 حَیَّ عَلَی الفلاَحِ حَیَّ عَلَی الفَلاَحِ

حَیَّ عَلَی خَیرِالعَمَلِ حَیَّ عَلٰی خَیرِ العَمَلِ

اَللّٰہُ اَکبَرُ اَللّٰہُ اَکبَرُ

 لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ

اور اقامت کے سترہ جملے ہیں یعنی اذان کی ابتدا سے دو مرتبہ اَللّٰہُ اَکبَرُ اور آخر سے ایک مرتبہ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ کم ہو جاتا ہے اور حَیَّ عَلٰی خَیرِالعَمَلِ کہنے کے بعد دو دفعہ قَدقَامَتِ الصَّلاَۃُ کا اضافہ کر دینا ضروری ہے۔

۹۲۸۔ اَشھَدُ اَنَّ عَلِیًّا وَلِیُّ اللہِ اذان اور اقامت کا جزو نہیں ہے لیکن اگر اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہِ کے بعد قربت کی نیت سے کہا جائے تو اچھا ہے۔


اذان اور اقامت کا ترجمہ

اَللہُ اَکبَرُ یعنی خدائے تعالی اس سے بزرگ تر ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اَشھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ  یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ یکتار اور بے مثل اللہ کے علاوہ کوئی اور پرستش کے قابل نہیں ہے۔

اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہِ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد بن عبداللہﷺ اللہ کے پیغمبر اور اسی کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں۔

اَشھَدُ اَنَّ عَلِیًّا اَمِیرَالمُئومِنِینَ وَلِیُّ اللہِ یعنی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی علیہ السلام مومنوں کے امیر اور تمام مخلوق پر اللہ کے ولی ہیں۔

حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ یعنی نماز کی طرف جلدی کرو۔

حَیَّ عَلَی الفلاَحِ یعنی رستگاری کے لئے جلدی کرو۔

حَیَّ عَلَی خَیرِالعَمَلِ یعنی بہترین کام کے لئے جو کہ نماز ہے جلدی کرو۔

قَدقَامَتِ الصَّلاَۃُ یعنی التحقیق نماز قائم ہوگئی۔

لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ یعنی یکتا اور بے مثل اللہ کے علاوہ کوئی اور پرستش کے قابل نہیں۔

۹۲۹۔ ضروری ہے کہ اذان اور اقامت کے جملوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہو اور اگر ان کے درمیان معمول سے فاصلہ رکھا جائے تو ضروری ہے کہ اذان اور اقامت دوبارہ شروع سے کہی جائیں۔

۹۳۰۔ اگر اذان یا اقامت میں آواز کو گلے میں اس طرح پھیرے کہ غنا ہو جائے یعنی اذان اور اقامت اس طرح کہے جیسا لہو و لعب اور کھیل کود کی محفلوں میں آواز نکالنے کا دستور ہے تو وہ حرام ہے اور اگر غنا نہ ہو تو مکروہ ہے۔

۹۳۱۔ تمام صورتوں میں جب کہ نمازی دو نمازوں کو تلے اوپر ادا کرے اگر اس نے پہلی نماز کے لئے اذان کہی ہو تو بعد والی نماز کے لئے اذان ساقط ہے۔ خواہ دو نمازوں کا جمع کرنا بہتر ہو یا نہ ہو مثلاً عرفہ کے دن جو نویں ذی الحجہ کا دن ہے ظہر اور عصر کی نمازوں کا جمع کرنا اور عید قربان کی رات میں مغرب اور عشا کی نمازوں کا جمع کرنا اس شخص کے لئے جو مشعرالحرام میں ہو۔ ان صورتوں میں اذان کا ساقط ہونا اس سے مشروط ہے کہ دونمازوں کے درمیان بالکل فاصلہ نہ ہو یا بہت کم فاصلہ ہو لیکن نفل اور تعقیبات پڑھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور احتیاط واجب یہ ہے کہ ان صوتوں میں اذان مشروعیت کی نیت سے نہ کہی جائےبلکہ آخری دو صورتوں میں اذان کہنا مناسب نہیں ہے اگرچہ مشروعیت کی نیت سے نہ ہو۔

۹۳۲۔ اگر نماز جماعت کے لئے اذان اور اقامت کہی جاچکی ہو تو جو شخص اس جماعت کے ساتھ نماز پڑھ ہو اس کے لئے ضروری نہیں کہ اپنی نماز کے لئے اذان اور اقامت کہے۔

۹۳۳۔ اگر کوئی شخص نماز کے لئے مسجد میں جائے اور دیکھے کہ نماز جماعت ختم ہو چکی ہے تو جب تک صفیں ٹوٹ نہ جائیں اور لوگ منتشر نہ ہوجائیں وہ اپنی نماز کے لئے اذان اور اقامت نہ کہے یعنی ان دونوں کا کہنا مستحب تاکیدی نہیں بلکہ اگر اذان دینا چاہتا ہو تو بہتر یہ ہے کہ بہت آہستہ کہے۔ اور اگر دوسری نماز جماعت قائم کرنا چاہتا ہو تو ہرگز اذان اور اقامت نہ کہے۔

۹۳۴۔ ایسی جگہ جہاں نماز جماعت ابھی ابھی ختم ہوئی ہو اور صفیں نہ ٹوٹی ہوں اگر کوئی شخص وہاں تنہا یا دوسری جماعت کے ساتھ جو قائم ہو رہی ہو نماز پڑھنا چاہے تو چھ شرطوں کے ساتھ اذان اور اقامت اس پر سے ساقط ہو جاتی ہے۔

۱۔  نماز جماعت مسجد میں ہو۔ اور اگر مسجد میں نہ ہو تو اذان اور اقامت کا ساقط ہونا معلوم نہیں۔

۲۔  اس نماز کے لئے اذان اور اقامت کہی جاچکی ہو۔

۳۔ نماز جماعت باطل نہ ہو۔

۴۔ اس شخص کو نماز اور نماز جماعت ایک ہی جگہ پر ہو۔ لہذا اگر نماز جماعت مسجد کے اندر پڑھی جائے اور وہ شخص مسجد کی چھت پر نماز پڑھنا چاہے تو مستحب ہے کہ اذان اور اقامت کہے۔

۵۔ نماز جماعت ادا ہو۔ لیکن اس بات کی شرط نہیں کہ خود اس کی نماز بھی ادا ہو۔

۶۔ اس شخص کی نماز اور نماز جماعت کا وقت مشترک ہو مثلاً دونوں نماز ظہر یا دونوں نماز عصر پڑھیں یا نماز ظہر جماعت سے پڑھی جارہی ہے اور وہ شخص نماز عصر پڑھے یا وہ شخص ظہر کی نماز پڑھے اور جماعت کی نماز، عصر کی نماز ہو اور اگر جماعت کی نماز عصر ہو اور آخری وقت میں وہ چاہے کہ مغرب کی نماز ادا پڑھے تو اذان اور اقامت اس پر سے ساقط نہیں ہوگی۔

۹۳۵۔ جو شرطیں سابقہ مسئلہ میں بیان کی گئی ہیں اگر کوئی شخص ان میں سے تیسری شرط کے بارے میں شک کرے یعنی اسے شک ہو کہ جماعت کی نماز صحیح تھی یا نہیں تو اس پر سے اذان اور اقامت ساقط ہے لیکن اگر وہ دوسری پانچ شرائط میں سے کسی ایک کے بارے میں شک کرے تو بہتر ہے کہ رجاء مطلوبیت کی نیت سے اذان اور اقامت کہے۔

۹۳۶۔اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی اذان جو اعلان یا جماعت کی نماز کے لئے کہی جائے، سنے تو مستحب ہے کہ اس کا جو حصہ سنے خود بھی اسے آہستہ آہستہ دہرائے۔

۹۳۷۔ اگر کسی شخص نے کسی دوسرے کے اذان اور اقامت سنی ہو خواہ اس نے ان جملوں کو دہرایا ہو یا نہ دہرایا ہو نہ دہرایا ہو تو اگر اس اذان اور اقامت اور اس نماز کے درمیان جو وہ پڑھنا چاہتا ہو زیادہ فاصلہ نہ ہوا ہو تو وہ اپنی نماز کے لئے اذان اور اقامت کہہ سکتا ہے۔

۹۳۸۔اگر کوئی مرد عوت کی اذان کو لذت کے قصد سے سنے تو اس کی اذان ساقط نہیں ہوگی بلکہ اگر مرد کا ارادہ لذت حاصل کرنے کا نہ ہو تب بھی اس کی اذان ساقط ہونے میں اشکال ہے۔

۹۳۹۔ ضروری ہے کہ نماز جماعت کی اذان اور اقامت مرد کہے لیکن عورتوں کی نماز جماعت میں اگر عورت اذان اور اقامت کہہ دے تو کافی ہے۔

۹۴۰۔ ضروری ہے کہ اقامت، اذان کے بعد کہی جائے علاوہ ازیں اقامت میں معتبر ہے کہ کھڑے ہو کر اور حدث سے پاک ہو کر (وضو یا غسل یا تیمم کرکے) کہی جائے۔

۹۴۱۔ اگر کوئی شخص اذان اور اقامت کے جملے بغیر ترتیب کے کہے مثلاً حَیَّ عَلَی الفَلاَحِ کا جملہ حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃ سے پہلے کہے تو ضروری ہے کہ جہاں سے ترتیب بگڑی ہو وہاں سے دوبارہ کہے۔

۹۴۲۔ ضروری ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان فاصلہ نہ ہو اور اگر ان کے درمیان اتنا فاصلہ ہو جائے کہ جو اذان کہی جاچکی ہے اسے اس اقامت کی اذان شمار نہ کیا جاسکے تو مستحب ہے کہ دوبارہ اذان کہی جائے ۔ علاوہ ازیں اگر اذان اور اقامت کے اور نماز کے درمیان اتنا فاصلہ ہو جائے کہ اذان اور اقامت اس نماز کی اذان اور اقامت شمار نہ ہو تو مستحب ہے کہ اس نماز کے لئے دوبارہ اذان اور اقامت کے اور نماز کے درمیان اتنا فاصلہ ہو جائے کہ اذان اور اقامت اس نماز کی اذان اور اقامت شمار نہ ہو تو مستحب ہے کہ اس نماز کے لئے دوبارہ اذان اور اقامت کہی جائے۔

۹۴۳۔ ضروری ہے کہ اذان اور اقامت صحیح عربی میں کہی جائیں۔ لہذا اگر کوئی شخص انہیں غلط عربی میں کہے یا ایک حرف کی جگہ کوئی دوسرا حرف کہے یا مثلاً ان کا ترجمہ اردو زبان میں کہے تو صحیح نہیں ہے۔

۹۴۴۔ ضروری ہے کہ اذان اور اقامت، نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد کہی جائیں اور اگر کوئی شخص عمداً یا بھول کر وقت سے پہلے کہے تو باطل ہے مگر ایسی صورت میں جب کہ وسط نماز میں وقت داخل ہو تو اس نماز  پر صحیح کا حکم لگے گا کہ جس کا مسئلہ ۷۵۲ میں ذکر ہو چکا ہے۔

۹۴۵۔ اگر کوئی شخص اقامت کہنے سے پہلے شک کرے کہ اذان کہی ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ اذان کہے اور اگر اقامت کہنے میں مشغول ہو جائے اور شک کرے کہ اذان کہی ہے یا نہیں تو اذان کہنا ضروری نہیں۔

۹۴۶۔ اگر کوئی شخص اقامت کہنے کے دوران کوئی جملہ کہنے سے پہلے ایک شخص شک کرے کہ اس نے اس سے پہلے والا جملہ کہا ہے یا نہیں تو ضروری ہے کہ جس جملے کی ادائیگی کے بارے میں اسے شک ہوا ہو اسے ادا کرے لیکن اگر اس اذان یا اقامت کا کوئی جملہ ادا کرتے ہوئے شک ہو کہ اس نے اس سے پہلے والا جملہ کہا ہے یا نہیں تو اس جملے کا کہنا ضروری نہیں۔

۹۴۷۔ مستحب ہے کہ اذان کہتے وقت انسان قبلے کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو اور وضو یا غسل کی حالت میں ہو اور ہاتھوں کو کانوں پر رکھے اور آواز کو بلند کرے اور کھینچے اور اذان کے جملوں کے درمیان قدرے فاصلہ دے اور جملوں کے درمیان باتیں نہ کرے۔

۹۴۸۔ مستحب ہے کہ اقامت کہتے وقت انسان کا بدن ساکن ہو اور اذان کے مقابلے میں اقامت آہستہ  کہے اور اس کے جملوں کو ایک دوسرے سے ملا نہ دے لیکن اقامت کے جملوں کے درمیان اتنا فاصلہ نہ دے جتنا اذان کے جملوں کے درمیان دیتا ہے۔

۹۴۹۔ مستحب ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان ایک قدم آگے بڑھے یا تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جائے یا سجدہ کرے یا اللہ کا ذکر کرے یا دعا پڑھے یا تھوڑی دیر کے لئے ساکت ہو جائے یا کوئی بات کرے یا دو رکعت نماز پڑھے لیکن نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان کلام کرنا اور نماز مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان نماز پڑھنا (یعنی دو رکعت نماز پڑھنا) مستحب نہیں ہے۔

۹۵۰۔ مستحب ہے کہ جس شخص کو اذان دینے پر مقرر کیا جائے وہ عادل اور وقت شناس ہو، نیز یہ کہ بلند آہنگ ہو اور اونچی جگہ پر اذان دے۔


نماز کے واجبات

واجبات نماز گیارہ ہیں:

۱۔ نیت ۲۔ قیام ۳۔ تکبیرۃ الاحرام ۴۔ رکوع ۵۔ سجود ۶۔ قراءت ۷۔ ذکر ۸۔ تشہُّد ۹۔ سلام  ۱۰۔ ترتیب ۱۱۔مُوَالات یعنی اجزائے نماز کا پے در پے بجا لانا۔

۹۵۱۔ نماز کے واجبات میں سے بعض اس کے رکن ہیں یعنی اگر انسان انہیں بجا نہ لائے تو خواہ ایسا کرنا یا عمداً ہو یا غلطی سے ہو نماز باطل ہو جاتی ہے اور بعض واجبات رکن نہیں ہیں یعنی اگر وہ غلطی سے چھوٹ جائیں تو نماز باطل نہیں ہوتی۔

نماز کے ارکان پانچ ہیں :

۱۔ نیت

۲۔ تکبیرۃ الاحرام (یعنی نماز شروع کرتے وقت اللہ اکبر کہنا)

۳۔ رکوع سے متصل قیام یعی رکوع میں جانے سے پہلے کھڑا ہونا

۴۔ رکوع

۵۔ ہر رکعت میں دو سجدے۔ اور جہاں تک زیادتی کا تعلق ہے اگر زیادتی عمداً ہو تو بغیر کسی شرط کے نماز باطل ہے۔ اور اگر غلطی سے ہوئی ہو تو رکوع میں یا ایک ہی رکعت کے دو سجدوں میں زیادتی سے احتیاط لازم کی بنا پر نماز باطل ہے ورنہ باطل نہیں۔


نِیّت

۹۵۲۔ضروری ہے کہ انسان نماز قربت کی نیت سے یعنی خداوند عالم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پڑھے اور یہ ضروری نہیں کہ نیت کو اپنے دل سے گزراے یا مثلاً زبان سے کہے کہ چار رکعت نماز ظہر پڑھتا ہوں قُربَۃً اِلَی اللہِ۔

۹۵۳۔ اگر کوئی شخص ظہر کی نماز میں یا عصر کی نماز میں نیت کرے کہ چار رکعت نماز پڑھتا ہوں لیکن اس امر کا تعین نہ کرے کہ نماز ظہر کی ہے یاعصر کی تو اس کی نماز باطل ہے۔ نیز مثال کے طور پر اگر کسی شخص پر نماز ظہر کی قضا واجب ہو اور وہ اس قضا نماز یا نماز ظہر کو "ظہر کے وقت" میں پڑھنا چاہے تو ضروری ہے کہ جو نماز وہ پڑھے نیت میں اس کا تعین کرے۔

۹۵۴۔ ضروری ہے کہ انسان شروع سے آخر تک اپنی نیت پر قائم رہے۔ اگر وہ نماز میں اس طرح غافل ہو جائے کہ اگر کوئی پوچھے کہ وہ کیا کر رہا ہے تو اس کی سمجھ میں نہ آئے کہ کیا جواب دے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۹۵۵۔ ضروری ہے کہ انسان فقط خداوند عالم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نماز پڑھے پس جو شخص ریا کرے یعنی لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے خواہ یہ نماز پڑھنا فقط لوگوں کو یا خدا اور لوگوں دونوں کو دکھانے کے لئے ہو۔

۹۵۶۔ اگر کوئی شخص نماز کا کچھ حصہ بھی اللہ تعالی جل شانہ کے علاوہ کسی اور کے لئے بجا لائے خواہ وہ حصہ واجب ہو مثلاً سورہ الحمد یا مستحب ہو مثلاً قنوت اور اگر غیر خدا کا یہ قصد پوری نماز پر محیط ہو یا اس بڑے حصے کے تدارک سے بطلان لازم آتا ہو تو اس کی نماز باطل ہے۔ اور اگر نماز تو خدا کے لئے پڑھے لیکن لوگوں کو دکھانے کے لئے کسی خاص جگہ مثلاً مسجد میں پڑھے یا کسی خاص وقت مثلاً اول وقت میں پڑھے یا کسی خاص قاعدے سے مثلاً باجماعت پڑھے تو اس کی نماز بھی باطل ہے۔


تکبیرۃ الاحرام

۹۵۷۔ ہر نماز کے شروع میں اَللہُ اکبر کہنا واجب اور رکن ہے اور ضروری ہے کہ انسان اللہ کے حروف اور اکبر کے حروف اور دو کلمے اللہ اور اکبر پے در پے کہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ یہ دو کلمے صحیح عربی میں کہے جائیں اور اگر کوئی شخص غلط عربی میں کہے یا مثلاً ان کا اردو میں ترجمہ کر کے کہے تو صحیح نہیں ہے۔

۹۵۸۔ احتیاط مستحب یہ ہے کہ انسان نماز کی تکبیرۃ الاحرام کو اس چیز سے مثلاً اقامت یا دعا سے جو وہ تکبیر سے پہلے پڑھ رہا ہو نہ ملائے۔

۹۵۹۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ اللہ اکبر کو اس جملے کے ساتھ جو بعد میں پڑھنا ہو مثلاً بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم سے ملائے تو بہتر یہ ہے کہ اَکبَرُ کے آخری حرف "را" پر پیش دے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ واجب نماز میں اسے نہ ملائے ۔

۹۶۰۔ تکبیرۃ الاحرام کہتے وقت ضروری ہے کہ انسان کا بدن ساکن ہو اور اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اس حالت میں تکبیرۃ الاحرام کہے کہ اس کا بدن حرکت میں ہو تو (اس کی تکبیر) باطل ہے۔

۹۶۱۔ ضروری ہے کہ تکبیر، اَلَحمد، سورہ، ذکر اور دعا کم سے کم اتنی آواز سے پڑھے کہ خود سن سکے اور اگر اونچا سننے یا بہرہ ہونے کی وجہ سے یا شور و غل کی وجہ سے نہ سن سکے تو اس طرح کہنا ضروری ہے کہ اگر کوئی امر مانع نہ ہو تو سن لے۔

۹۶۲۔ جو شخص کسی بیماری کو بنا پر گونگا ہو جائے یا اس کی زبان میں کوئی نقص ہو جس کی وجہ سے اللہ اکبر نہ کہہ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اس طرح کہے اور اگر بالکل ہی نہ کہہ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ دل میں کہے اور اس کے لئے انگلی سے اس طرح اشارہ کرے کہ جو تکبیرہ سے مناسب رکھتا ہو اور اگر ہوسکے تو زبان اور ہونٹ کو بھی حرکت دے اور اگر کوئی پیدائشی گونگا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان اور ہونٹ کو اس طرح حرکت دے کہ جو کسی شخص کے تکبیر کہنے سے مشابہ ہو اور اس کے لئے اپنی انگلی سے بھی اشارہ کرے۔

۹۶۳۔ انسان کے لئے مستحب ہے کہ تکبیرۃ الاحرام کے بعد کہے :

"یَامُحسِنُ قَد اَتَاکَ المُسِٓئُ وَقَد اَمَرتَ المُحسِنَ اَن یَّتَجَاوَزَعنِ المُسِٓی اَنتَ المُحسِنُ وَاَناالمُسِیٓئُ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّتَجَاوَزعَن قَبِیعِ مَا تَعلَمُ مِنِّی۔"

(یعنی) اے اپنے بندوں پر احسان کرنے والے خدا ! یہ گنہگار بند تیری بارگاہ میں آیا ہے اور تونے حکم دیا ہے کہ نیک لوگ گناہ گاروں سے در گزر کریں۔ تو احسان کرنے والا ہے اور میں گناہ گارہوں۔ محمد ﷺ اور آل محمد (علیہم السلام) کے طفیل میری برائیوں سے جنہیں تو جانتا ہے در گزر فرما۔

۹۶۴۔ (انسان کے لئے) مستحب ہے کہ نماز کی پہلی تکبیر اور نماز کی درمیانی تکبریں کہتے وقت ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک لے جائے۔

۹۶۵۔ اگر کوئی شخص شک کرے کہ تکبیرۃ الاحرام کہی ہے یا نہیں اور قرات میں مشغول ہو جائے تو اپنے شک کی پروا نہ کرے اور اگر ابھی کچھ نہ پڑھا ہو تو ضروری ہے کہ تکبیر کہے۔

۹۶۶۔ اگر کوئی شخص تکبیرۃ الاحرام کہنے کے بعد شک کرے کہ صحیح طریقے سے تکبیر کہی ہے یا نہیں تو خواہ اس نے آگے کچھ پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو اپنے شک کی پروا نہ کرے۔


قیام یعنی کھڑا ہونا

۹۶۸۔ تکبیرۃ الاحرام کہنے سے پہلے اور اسکے بعد تھوڑی دیر کے لئے کھڑا ہونا واجب ہے تاکہ یقین ہو جائے کہ تکبیر قیام کی حالت میں کہی گئی ہے۔

۹۶۹۔ اگر کوئی شخص رکوع کرنا بھول جائے الحمد اور سورہ کے بعد بیٹھ جائے اور پھر اسے یاد آئے کہ رکوع نہیں کیا تو ضروری ہے کہ کھڑا ہو جائے اور رکوع میں جائے۔ لیکن اگر سیدھا کھڑا ہوئے بغیر جھکے ہونے کی حالت میں رکوع کرے تو چونکہ وہ قیام متصل برکوع بجا نہیں لایا اس لئے اس کا یہ رکوع کفایت نہیں کرتا۔

۹۷۰۔ جس وقت ایک شخص تکبیرۃ الاحرام یا قراءت کے لئے کھڑا ہو ضروری ہے کہ بدن کو حرکت نہ دے اور کسی طرف نہ جھکے اور احتیاط لازم کی بنا پر اختیار کی حالت میں کسی جگہ ٹیک نہ لگائے لیکن اگر ایسا کرنا بہ امر مجبوری ہو تو کوئی اشکال نہیں۔

 ۹۷۱۔ اگر قیام کی حالت میں کوئی شخص بھولے سے بدن کو حرکت دے یا کسی طرف جھک جائے یا کسی جگہ ٹیک لگالے تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

۹۷۲۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ قیام کے وقت انسان کے دونوں پاوں زمین پر ہوں لیکن یہ ضروری نہیں کہ بدن کا بوجھ دونوں پاوں پر ہو چنانچہ اگر ایک پاوں پر بھی ہو تو کوئی اشکال نہیں۔

۹۷۳۔ جو شخص ٹھیک طور پر کھڑا ہو سکتا ہو اگر وہ اپنے پاوں ایک دوسرے سے اتنے جدا رکھے کہ اس پر کھڑا ہونا صادق نہ آتا ہو تو اس کی نماز باطل ہے۔ اور اسی طرح اگر معمول کے خلاف پیروں کو کھڑا ہونے کی حالت میں بہت کھلا رکھے تو احتیاط کی بنا پر یہی حکم ہے۔

۹۷۴۔جب انسان نماز میں کوئی واجب ذکر پڑھنے میں مشغول ہو تو ضروری ہے کہ اس کا بدن ساکن ہو اور جب مستحب ذکر میں مشغول ہو تب بھی احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے اور جس وقت وہ قدرے آگے یا پیچھے ہونا چاہے یا بدن کو دائیں یا بائیں جانب تھوڑی سی حرکت دینا چاہے تو ضروری ہے کہ اس وقت کچھ نہ پڑھے۔

۹۷۵۔اگر متحرک بدن کی حالت میں کوئی شخص مستحب ذکر پڑھے مثلاً رکوع سجدے میں جانے کے وقت تکبیر کہے اور اس ذکر کے قصدے سے کہے جس کا نماز میں حکم دیا گیا ہےتو وہ ذکر صحیح نہیں لیکن اس کی نماز صحیح ہے۔ اور ضروری ہے کہ انسان اللّٰہِ وَقُوَّتِہ وَاَقعدُ اس وقت کہے جب کھڑا ہو رہا ہو۔

۹۷۶۔ ہاتھوں اور انگلیوں کو الحمد پڑھتے وقت حرکت دینے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ انہیں بھی حرکت نہ دی جائے۔

۹۷۷۔ اگر کوئی شخص الحمد اور سورہ پڑھتے وقت یا تسبیحات پڑھتے وقت بے اختیار اتنی حرکت کرے کہ بدن کے ساکن ہونے کی حالت سے خارج ہو جائے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ بدن کے دوبارہ ساکن ہونے جو کچھ اس نے حرکت کی حالت میں پڑھا تھا، دوبارہ پڑھے۔

۹۷۸۔ نماز کے دوران اگر کوئی شخص کھڑے ہونے کے قابل نہ ہو تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور اگر بیٹھ بھی نہ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ لیٹ جائے لیکن جب تک اس کے بدن کو سکون حاصل نہ ہو ضروری ہے کہ کوئی واجب ذکر نہ پڑھے۔

۹۷۹۔ جب تک انسان کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا ہو ضروری ہے کہ نہ بیٹھے مثلاً اگر کھڑا ہونے کی حالت میں کسی کا بدن حرکت کرتا ہو یا وہ کسی چیز پر ٹیک لگانے پر یا بدن کو تھوڑا سا ٹیرھا کرنے پر مجبور ہو تو ضروری ہے کہ جیسے بھی ہوسکے کھڑا ہو کر نماز پڑھے لیکن اگر وہ کسی طرح بھی کھڑا نہ ہوسکتا ہو تو ضروری ہے کہ سیدھا بیٹھ جائے اور بیٹھ کر نماز پڑھے۔

۹۸۰۔ جب تک انسان بیٹھ سکے ضروری ہے کہ وہ لیٹ کر نماز پڑھے اور اگر وہ سیدھا ہو کر نہ بیٹھ سکے تو ضروری ہے کہ جیسے بھی ممکن ہو بیٹھے اور اگر بالکل نہ بیٹھ سکے تو جیسا کہ قبلے کے احکام میں کہا گیا ہے ضروری ہے کہ دائیں پہلو لیٹے اور دائیں پہلو پر نہ لیٹ سکتا ہو تو بائیں پہلو پر لیٹے۔ اور احتیاط لازم کی بنا پر ضروری کہ جب تک دائیں پہلو پر لیٹ سکتا ہو بائیں پہلو پر نہ لیٹے اور اگر دونوں طرف لیٹنا ممکن نہ ہو تو پشت کے بل اس طرح لیٹے کہ اس کے تلوے قبلے کی طرف ہوں۔

۹۸۱۔ جو شخص بیٹھ کر نماز پرھ رہا ہو اگر وہ الحمد اور سورہ پڑھنے کے بعد کھڑا ہوسکے اور رکوع کھڑا ہو کر بجا لا سکے تو ضروری ہے کہ کھڑا ہو جائے اور قیام کی حالت سے رکوع میں جائے اور اگر ایسا نہ کر سکے تو ضروری ہے کہ رکوع بھی بیٹھ کر بجالائے۔

۹۸۲۔ جو شخص کرنماز پڑھ رہا ہو اگر وہ نماز کے دوران اس قابل ہو جائے کہ بیٹھ سکے تو ضروری ہے کہ نماز کی جتنی مقدار ممکن ہو بیٹھ کر پڑھے اور اگر کھڑا ہوسکے تو ضروری ہے کہ جتنی مقدار ممکن ہو کھڑا ہو کر پڑھے لیک جب تک اس کے بدن کو سکون حاصل نہ ہوجائے ضروری ہے کہ کوئی واجب ذکر نہ پڑھے۔

۹۸۳۔ جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو اگر نماز کے دوران اس قابل ہو جائے کہ کھڑا ہوسکے تو ضروری ہے کہ نماز کی جتنی مقدار ممکن ہو کھڑا ہو پڑھے لیکن جب تک اس کے بدن کو سکون حاصل نہ ہو جائے ضروری ہے کہ کوئی واجب ذکر نہ پڑھے۔

۹۸۴۔ اگر کسی ایسے شخص کو جو کھڑا ہو سکتا ہو یہ خوف ہو کہ کھڑا ہونے بیمار ہو جائے گا یا اسے کوئی تکلیف ہوگی تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر بیٹھنے سے بھی تکلیف کاڈر ہو تو لیٹ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔

۹۸۵۔اگر کسی شخص کو اس بات کی امید ہو کہ آخر وقت میں کھڑا ہو کر نماز پڑھ سکے گا اور وہ اول وقت میں نماز پڑھ لے اور آخر وقت میں کھڑا ہونے پر قادر ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ دوبارہ نماز پڑھے لیکن اگر کھڑا ہو کر نماز پڑھنے سے مایوس ہو اور اول وقت میں نماز پڑھ لے بعد ازاں وہ کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے تو ضروری نہیں کہ دوبارہ نماز پڑھے۔

۹۸۶۔ (انسان کے لئے) مستحب ہے کہ قیام کی حالت میں جسم سیدھا رکھے اور کندھوں کو نیچے کی طرف ڈھیلا چھوڑ دے نیز ہاتھوں کو رانوں پر رکھے اور انگلیوں کو باہم ملا کر رکھے اور نگاہ سجدہ کی جگہ پر مرکوز رکھے اور بدن کو بوجھ دونوں پاوں پر یکساں ڈالے اور خشوع اور خضوع کے ساتھ کھڑا ہو اور پاوں آگے پیچھے نہ رکھے اور اگر مرد تو پاوں کے درمیان تین پھیلی ہوئی انگلیوں سے لے کر ایک بالشت تک کا فاصلہ رکھے اور اگر عورت ہو تو دونوں پاوں ملا کر رکھے۔


قراءت

۹۸۷۔ ضروری ہے کہ انسان روزانہ کی واجب نمازوں کی پہلی اور دوسری رکعت میں پہلے الحمد اور اس کے بعد احتیاط کی بنا پر کسی ایک پورے سورے کی تلاوت کرے اور وَالضَّحٰی اور اَلَم نَشرَح کی سورتیں اور اسی طرح سورہ فیل اور سورہ قریش احتیاط کی بنا پر نماز میں ایک سورت شمار ہوتی ہیں۔

۹۸۸۔ اگر نماز کا وقت تنگ ہو یا انسان کسی مجبوری کی وجہ سے سورہ نہ پڑھ سکتا ہو مثلاً اسے خوف ہو کہ اگر سورہ پڑھے گا تو چور یا درندہ یا کوئی اور چیز اسے نقصان پہنچائے گی یا اسے ضروری کام ہو تو اگر وہ چاہے تو سورہ نہ پڑھے بلکہ وقت تنگ ہونے کی صورت میں اور خوف کی بعض حالتوں میں  ضروری ہے کہ وہ سورہ نہ پرھے۔

۹۸۹۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر الحمد سے پہلے سورہ پڑھے تو اس کی نماز باطل ہوگی لیکن اگر غلَطی سے الحمد سے پہلے سورہ پڑھے اور پڑھنے کے دوران یاد آئے تو ضروری ہے کہ سورہ کو چھوڑ دے اور الحمد پڑھنے کے بعد سورہ شروع سے پڑھے۔

۹۹۰۔ اگر کوئی شخص الحمد اور سورہ یا ان سے کسی ایک کا پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں جانے کے  بعد اسے یاد آئے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۹۹۱۔ اگر رکوع کے لئے جھکنے سے پہلے کسی شخص کو یاد آئے کہ اس نے الحمد اور سورہ نہیں پڑھا تو ضروری ہے کہ پڑھے اور اگر یہ یاد آئے کہ سورہ نہیں پڑھا تو ضروری ہے کہ فقط سورہ پڑھے لیکن اگر اسے یاد آئے کہ فقط الحمد نہیں پڑھی تو ضروری ہے کہ پہلے الحمد اور اس کے بعد دوبارہ سورہ پڑھے اور اگر جھک بھی جائے لیکن رکوع حد تک پہنچنے سے پہلے یاد آئے کہ الحمد اور سورہ یا فقط سورہ یا فقط الحمد نہیں پڑھی تو ضروری ہے کہ کھڑا ہو جائے اور اسی حکم کے مطابق عمل کرے۔

۹۹۲۔  اگر کوئی شخص جان بوجھ کر فرض نماز میں ان چار سوروں میں سے کوئی ایک سورہ پڑھے جن میں آیہ سجدہ ہو اور جن کا ذکر مسئلہ ۳۶۱ میں کیا گیا ہے تو واجب ہے کہ آیہ سجدہ پڑھنے کے بعد سجدہ کرے لیکن اگر سجدہ لائے تو احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے اور ضروری ہے کہ اسے دوبارہ پڑھے اور اگر سجدہ نہ کرے تو اپنی نماز جاری رکھ سکتا ہے اگرچہ سجدہ نہ کرکے اس نے گناہ کیا ہے۔

۹۹۳۔اگر کوئی شخص بھول کر ایسا سورہ پڑھنا شروع کر دے جس میں سجدہ واجب ہو لیکن آیہ سجدہ پر پہنچنے سے پہلے اسے خیال آجائے تو ضروری ہے کہ اس سورہ کو چھوڑ دے اور کوئی دوسرا سورہ پڑھے اور آیہ سجدہ پڑھنے کے بعد خیال آئے تو ضروری ہے کہ جس طرح سابقہ مسئلہ میں کہا گیا ہے عمل کرے۔

۹۹۴۔ اگر کوئی شخص نماز کے دوران کسی دوسرے کو آیہ سجدہ پڑھتے ہوئی سنے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن احتیاط کی بنا پر سجدے کا اشارہ کرے اور نماز ختم کرنے کے بعد اس کا سجدہ بجالائے۔

۹۹۵۔ مستحب نماز میں سورہ پڑھنا ضروری نہیں ہے خواہ وہ نماز منت ماننے کی وجہ سے ہی واجب کیوں نہ ہوگئی ہو۔ لیکن اگر کوئی شخص ایسی مستحب نمازیں ان کے احکام کے مطابق پڑھنا چاہے مثلاً نماز وحشت کہ جن میں مخصوص سورتیں پڑھنی ہوتی ہیں تو ضروری ہے کہ وہی سورتیں پرھے۔

۹۹۶۔ جمعہ کی نماز میں اور جمعہ کے دن ظہر کی نماز میں پہلی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ جمعہ اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد سورہ منافقوں پڑھنا مستحب ہے۔ اور اگر کوئی شخص ان میں سے کوئی ایک سورہ پڑھنا شروع کر دے تو احتیاط واجب کی بنا پر اسے چھوڑ کر کوئی دوسرا سورہ نہیں پڑھ سکتا۔

۹۹۷۔ اگر کوئی شخص الحمد کے بعد سورہ اخلاص یا سورہ کافروں پڑھنے لگے تو وہ اسے چھوڑ کر کوئی دوسرا سورہ نہیں پڑھ سکتا البتہ اگر نماز جمعہ یا جمعہ کے دن نماز ظہر میں بھول کر سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کی بجائے ان دو سورتوں میں سے کوئی سورہ پڑھے تو انہیں چھوڑ سکتا ہے اور سورہ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھ سکتا ہے اور احتیاط یہ ہے کہ اگر نصف تک پڑھ چکا ہو تو پھر ان سوروں کو نہ چھوڑے۔

۹۹۸۔ اگر کوئی شخص جمعہ کی نماز میں یا جمعہ کے دن ظہر کی نماز میں جان بوجھ کر سورہ اخلاص یا سورہ کافرون پڑھے تو خواہ وہ نصف تک نہ پہنچا ہو احتیاط واجب کی بنا پر انہیں چھوڑ کر سورہ جمعہ اور سورہ منافقوں نہیں پڑھ سکتا ۔

۹۹۹۔ اگر کوئی شخص نماز میں سورہ اخلاص یا سورہ کافرون کے علاوہ کوئی دوسرا سورہ پڑھے تو جب تک نصف تک نہ پہنچا ہو اسے چھوڑ سکتا ہے اور دوسرا سورہ پڑھ سکتا ہے۔ اور نصف تک پہنچنے کے بعد بغیر کسی وجہ کے اس سورہ کو چھوڑ کر دوسرا سورہ پڑھنا احتیاط کی بنا پر جائز نہیں۔

۱۰۰۰۔  اگر کوئی شخص کسی سورے کا کچھ حصہ بھول جائے یا بہ امر مجبوری مثلاً وقت کی تنگی یا کسی اور وجہ سے اسے مکمل نہ کرسکتے تو وہ اس سورہ کو چھوڑ کر کوئی دوسرا سورہ پڑھ سکتا ہے خواہ نصف تک ہی پہنچ چکا ہو یا وہ سورہ اخلاص یا سورہ کافرون ہی ہو۔

۱۰۰۱۔ مرد پر احتیاط کی بنا پر واجب ہے کہ صبح اور مغرب و عشا کی نمازوں پر الحمد اور سورہ بلند آواز سے پڑھے اور مرد اور عورت دونوں پر احتیاط کی بنا پر واجب ہے کہ نماز ظہر و عصر میں الحمد اور سورہ آہستہ پڑھیں۔

۱۰۰۲۔احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ مرد صبح اور مغرب و عشا کی نماز میں خیال رکھے کہ الحمد اور سورہ کے تمام کلمات حتٰی کہ ان کے آخری حرف تک بلند آواز سے پڑھے۔

۱۰۰۳۔صبح کی نماز اور مغرب و عشا کی نماز میں عورت الحمد اور سورہ بلند آواز سے یا آہستہ جیسا چاہے پڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر نا محرم اس کی آواز سن رہا ہو اور اس کا سننا حرام ہو تو احتیاط کی بنا پر آہستہ پڑھے۔

۱۰۰۴۔ اگر کوئی شخص جس نماز کی بلند آواز سے پڑھنا ضروری ہے اسے عمداً آہستہ پڑھے یا جو نماز آہستہ پڑھنی ضروری ہے اسے عمداً بلند آواز سے پڑھے تو احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔ لیکن اگر بھول جانے کی وجہ سے یا مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایسا کرے تو (اس کی نماز) صحیح ہے۔ نیز الحمد اور سورہ پڑھنے کی دوران بھی اگر وہ متوجہ ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے تو ضروری نہیں کہ نماز کا جو حصہ پڑھ چکا ہو اسے دوبارہ پڑھے۔

۱۰۰۵۔ اگر کوئی شخص الحمد اور سورہ پڑھنے کے دوران اپنی آوز معمول سے زیادہ بلند کرے مثلاً ان سورتوں کو ایسے پڑھے جیسے کہ فریاد کر رہا ہو تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۰۰۶۔ انسان کے لئے ضروری ہے کہ نماز کی قرائت کو سیکھ لے تاکہ غلط نہ پڑھے اور جوشخص کسی طرح بھی پورے سورہ الحمد کو نہ سیکھ سکتا ہو جس قدر بھی سیکھ سکتا ہو سیکھے اور پڑھے لیکن اگر وہ مقدار بہت کم ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر قرآن کے دوسرے سوروں میں سے جس قدر سیکھ سکتا ہو اس کے ساتھ ملا کر پڑھے اور اگر ایسا نہ کر سکتا ہو تو تسبیح کو اس کے ساتھ ملاکر پڑھے اور اگر کوئی پورے سورہ کو نہ سیکھ سکتا ہو تو ضروری نہیں کہ اس کے بدلے کچھ پڑھے۔ اور ہر حال میں احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز کو جماعت کے ساتھ بجالائے۔

۱۰۰۷۔ اگر کسی کو الحمد اچھی طرح یاد نہ ہو اور وہ سیکھ سکتا ہو اور نماز کا وقت وسیع ہو تو ضروری ہے کہ سیکھ لے اور اگر وقت تنگ ہو اور وہ اس طرح پڑھے جیسا کہ گزشتہ مسئلےمیں کہا گیا ہے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر ممکن ہو تو عذاب سے بچنے کے لئے جماعت کے ساتھ نماز پڑھے۔

۱۰۰۸۔واجبات نماز سکھانے کی اجرات لینا احتیاط کی بنا حرام لیکن مستحبات نماز سکھانے کی اجرت لینا جائز ہے۔

۱۰۰۹۔ اگر کوئی شخص الحمد اور سورہ کا کوئی کلمہ نہ جانتا ہویا جان بوجھ کر اسے نہ پڑھے یا ایک حرف کے بجائے دوسرا حرف کہے مثلاً "ض" کی بجائے "ظ" کہے یا جہاں زیر اور زبر کے بغیر پڑھنا ضروری ہو وہاں زیر اور زبر لگائے یاتشدیدحذف کر دے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۰۱۰۔ اگر انسان نے کوئی کلمہ جس طرح یاد کیا ہوا سے صحیح سمجھتا ہو اور نماز میں اسی طرح پڑھے اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ اس نے غلط پڑھا ہے تو اس کے لئے نماز کا دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں۔

۱۰۱۱۔ اگر کوئی شخص کسی لفظ کے زبر اور زیر سے واقف نہ ہو یا یہ نہ جانتا ہو کہ وہ لفظ (ہ) سے ادا کرنا چاہئے یا (ح) سے تو ضروری ہے کہ سیکھ لے اور ایسے لفظ کو دو (یا دو سے زائد) طریقوں سے ادا کرے۔ اور اگر اس لفظ کا غلط پڑھنا قرآن یا ذکر خدا شمار نہ ہو تو اس کی نماز باطل ہے۔ اور اگر دونوں طریقوں سے پڑھنا صحیح ہو مثلاً "اِھدِنَاالصِّراطَ المُستَقِیمَ" کو ایک دفعہ (س) سے اور ایک دفعہ (ص) سے پڑھے تو ان دونوں طریقوں سے پڑھنےمیں کوئی مضائفہ نہیں۔

۱۰۱۲۔ علمائے تجوید کاکہنا ہے کہ اگر کسی لفظ میں واو ہو اور اس لفظ سے پہلے والے حرف پر پیش ہو اور اس لفظ میں داد کے بعد والا حرف ہمزہ ہو مثلاً "سُوٓءٍ" تو پڑھنے والے کو چاہئے کہ اس داد کو مدکے ساتھ کھینچ کر پڑھے۔ اسی طرح اگر کسی لفظ میں "الف" ہو اور اس لفظ میں الف سے پہلے والے حرف پر زبر ہو اور اس لفظ میں الف کے بعد والا حرف ہمزہ ہو مثلاً جآءَ تو ضروری ہے کہ اس لفظ کے الف کو کھینچ کر پڑھے۔ اور اگر کسی لفظ میں "ی" سے پہلے والے حرف پر زیر ہو اور اس لفظ میں "ی" کے بعد والا حرف ہمزہ ہو مثلاً "جَیٓءَ " تو ضروری ہے کہ "ی" کومد کے ساتھ پڑھے اور اگر ان حروف "داد، الف اوریا" کے بعد ہمزہ کے بجائے کوئی ساکن حرف ہو یعنی اس پر زبر، زیر یا پیش میں سے کوئی حرکت نہ ہو تب بھی ان تینوں حروف کو مدکے ساتھ پڑھنا ضروری ہے ۔ لیکن ظاہراً ایسے معاملے میں قرات کا صحیح ہونا مدپر موقف نہیں۔ لہذا جو طریقہ بتایا گیا ہے اگر کوئی پر اس پر عمل نہ کرے تب بھی اس کی نماز صحیح ہے لیکن وَلاَالضَّآلِّینَ جیسے الفاظ میں تشدید اور الف کا پورے طور پر ادا ہونا مد پر تھوڑا سا توقف کرنے میں ہے لہذا ضروری ہے کہ الف کو تھوڑا سا کھینچ کر پڑھے۔

۱۰۱۳۔ احتیاط مستحب یہ ہے کہ انسان نماز میں وقف بحرکت اور وصل بسکون نہ کرے اور وقف بحرکت کے معنی یہ ہیں کہ کسی لفظ کے آخر میں زیر زبر پیش پڑھے اور لفظ اور اس کے بعد کے لفظ کے درمیان فاصلہ درمیان فاصلہ دے مثلاً کہے اَلرَّحمٰنِ الَّرحِیمِ اور اَلَّرحِیمِ کے میم کو زیر دے اور اس کے بعد قدرے فاصلہ دے اور کہے مَالِکِ یَومِ الدِّینِ اور وصل بسکون کے معنی یہ ہیں کہ کسی لفظ کی زیر زبر یا پیش نہ پڑھے اور اس لفظ کو بعد کے لفظ سے جوڑ دے مثلاً یہ کہے اَلرَّحمٰنِ الَّرحِیمِ اور اَلرَّحِیمِ کے میم کو زیر نہ دے اور فوراً مَالِکِ یَومِ الدِّینِ کہے۔

۱۰۱۴۔ نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں فقط ایک دفعہ الحمد یا ایک دفعہ تسبیحات اربعہ پڑھی جاسکتی ہے یعنی نماز پڑھنے والا ایک دفعہ کہے سُبحَاَنَ اللہِ وَالحَمدُ لِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ اَلاَّ اللہُ وَاللہُ اَکبَرُ اور بہتر یہ ہے کہ تین دفعہ کہے۔ اور وہ ایک رکعت میں الحمد اور دوسری رکعت میں تسبیحات بھی پڑھ سکتا ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ دونوں رکعتوں میں تسبیحات پڑھے۔

۱۰۱۵۔اگر وقت تنگ ہو تو تسبیحات اربعہ ایک دفعہ پڑھنا چاہئے اور اگر اس قدر وقت بھی نہ ہو تو بعید نہیں کہ ایک دفعہ سُبحاَنَ اللہ کہنا لازم ہو۔

۱۰۱۶۔ احتیاط کی بنا پر مرد اور عورت دونوں پر واجب ہے کہ نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں الحمد یا تسبیحات اربعہ آہستہ پڑھیں۔

۱۰۱۷۔اگر کوئی شخص تیسری اور چوتھی رکعت میں الحمد پڑھے تو واجب نہیں کہ اس کی بِسمِ اللہ بھی آہستہ پڑھے لیکن مقتدی کے لئے احتیاط واجب یہ ہے کہ بِسمِ اللہ بھی آہستہ پڑھے۔

۱۰۱۸۔ جو شخص تسبیحات یاد نہ کر سکتا ہو یا انہیں ٹھیک ٹھیک پڑھ نہ سکتا ہو ضروری ہے کہ وہ تیسری اور چوتھی رکعت میں الحمد پڑھے۔

۱۰۱۹۔ اگر کوئی شخص نماز کی پہلی دو رکعتوں میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ آخری دو رکعتیں ہیں تسبیحات پڑھے لیکن رکوع سے پہلے اسے صحیح صورت کا پتہ چل جائے تو ضروری ہے کہ الحمد اور سورہ پڑھے اور اگر اسے رکوع کے دوران یا رکوع کے بعد پتہ چلے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۰۲۰۔ اگر کوئی شخص نماز کی کی آخری دو رکعتوں میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ پہلی دو رکعتیں ہیں الحمد پڑھے یا نماز کی پہلی دو رکعتوں میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ آخری دو رکعتیں الحمد پڑھے تو اسے صحیح صورت کا خواہ رکوع سے پہلے پتہ چلے یا بعد میں اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۰۲۱۔اگر کوئی شخص تیسری یا چوتھی رکعت میں الحمد پڑھنا چاہتا ہو لیکن تسبیحات اس کی زبان پر آجائیں یا تسبیحات پڑھنا چاہتا ہو لیکن الحمد اس کی زبان پر آجائے اور اگر اس کے پڑھنے کا بالکل ارادہ نہ تھا تو ضروری ہے کہ اسے چھوڑ کر دوبارہ الحمد یا تسبیحات پڑھے لیکن اگر بطور کلی بلا ارادہ نہ ہو جیسے کہ اس کی عادت وہی کچھ پڑھنے کی ہو جو اس کی زبان پر آیا ہے تو وہ اسی کو تمام کر سکتا ہے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۰۲۳۔ جس شخص کی عادت تیسری اور چوتھی رکعت میں تسبیحات پڑھنے کی ہو اگر وہ اپنی عادت سے غفلت برتے اور اپنے وظیفے کی ادائیگی کی نیت سے الحمد پڑھنے لگے تو وہی کافی ہے اور اس کے لئے الحمد یا تسبیحات دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں۔

۱۰۲۳۔ تیسری اور چوتھی رکعت میں تسبیحات کے بعد اِستِغفار کرنا مثلاً کہے "اَستَغفِرُاللہَ رَبِّیِ وَاَتُوبُ اِلَیہِ" یا کہے "اَللّٰھُمَّ اغفِرلیِ" اور اگر نماز پڑھنے والا رکوع کے لئے جھکنے سے پہلے استغفارہ پڑھ رہا ہو یا اس سے فارغ ہو چکا ہو اور اسے شک ہو جائے کہ اس نے الحمد یا تسبیحات پڑھی ہیں یا نہیں تو ضروری ہے کہ الحمد یا تسبیحات پڑھے۔

۱۰۲۴۔ اگر تیسری یا چوتھی رکعت میں یا رکوع میں جاتے ہوئے شک کرے کہ اس نے الحمد یا تسبیحات پڑھی ہیں یا نہیں تو اپنے شک کی پروا نہ کرے۔

۱۰۲۵۔ اگر نماز پڑھنے والا شک کرے کہ آیا اس نے کوئی آیت یا جملہ درست پڑھاہے یا نہیں مثلاً شک کرے کہ قُل ہُوَاللہُ اَحَد درست پڑھا ہے یا نہیں تو وہ اپنے شک کی پروانہ کرے لیکن اگر احتیاط وہی آیت یا جملہ دوبارہ صحیح طریقے سے پڑھ دے تو کوئی حرج نہیں اور اگر کئی بار بھی شک کرے تو کئی بار پڑھ سکتا ہے۔ ہاں اگر وسوسے کی حد تک پہنچ جائے اور پھر بھی دوبارہ پڑھے تو احتیاط مستحب کی بنا پر پوری نماز دوبارہ پڑھے۔

۱۰۲۶۔ مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں الحمد پڑھنے سے پہلے "اَعُوذُ بِاللہِ مِنِ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ" کہے اور ظہر اور عصر کی پہلی اور دوسری رکعتوں میں بِسمِ اللہِ بلند آواز سے کہے اور الحمد اور سورہ کو ممیز کرکے پڑھے اور ہر آیت کے آخر پر وقف کرے یعنی اسے بعد والی آیت کے ساتھ نہ ملائے اور الحمد اور سورہ پرھتے وقت آیات کے معنوں کے طرف توجہ رکھے۔ اور اگر جماعت سے نماز پڑھ رہا ہو تو امام جماعت کے سورہ الحمد ختم کرنے کے بعد اور اگر فُرادٰی نماز پڑھ رہا ہو تو سورہ الحمد پڑھنے کے بعد کہے "الحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِینَ" اور سورہ قُل ھُوَاللہُ اَحَد پڑھنے کے بعد ایک یا دو تین دفعہ " کَذَالِکَ اللہُ رَبِّی " یا تین دفعہ " کَذَلِکَ اللہُ رَبُّناَ" کہے اور سورہ پڑھنے کے بعد اور تھوڑی دیر رکے اور اس کے بعد رکوع سے پہلے کی تکبیر کہے یا قنوت پڑھے۔

۱۰۲۷۔ مستحب ہے کہ تمام نمازوں کی پہلی رکعت میں سورہ قدر اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھے۔

۱۰۲۸۔ پنج گانہ نمازوں میں سے کسی ایک نماز میں بھی انسان کا سورہ اخلاص کا نہ پڑھنا مکروہ ہے۔

۱۰۲۹۔ ایک ہی سانس میں سورہ قُل ھُوَاللہُ اَحَد کا پڑھنا مکروہ ہے۔

۱۰۳۰۔ جو سورہ انسان پہلی رکعت میں پڑھے اس کا دوسری رکعت میں پڑھنا مکروہ ہے لیکن اگر سورہ اخلاص دونوں رکعتوں میں پڑھے تو مکروہ نہیں ہے۔


رکوع

۱۰۳۱۔ضروری ہے کہ ہر رکعت میں قرائت کے بعد اس قدر جھکے کہ اپنی انگلیوں کے سرے گھٹنے پر رکھ سکے اور اس عمل کو رکوع کہتے ہیں۔

۱۰۳۲۔ اگر رکوع جتنا جھک جائے لیکن اپنی انگلیوں کے سرے گھٹنوں پر نہ رکھے تو کوئی حرج نہیں ۔

۱۰۳۳۔ اگر کوئی شخص رکوع عام طریقے کے مابق نہ بجا لائے مثلاً بائیں یا دائیں جانب جھک جائے تو خواہ اس کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ بھی جائیں اس کا رکوع صحیح نہیں ہے۔

۱۰۳۴۔ ضروری ہے کہ جھکنا رکوع کی نیت سے ہو لہذا اگر کسی اور کام کے لئے مثلاً کسی جانور کو مارنے کے لئے جھکے تو اسے رکوع نہیں کہا جاسکتا بلکہ ضروری ہے کہ کھڑا ہو جائے اور دوبارہ رکوع کے لئے جھکے اور اس عمل کی وجہ سے رکن میں اضافہ نہیں ہوتا اور نماز باطل نہیں ہوتی۔

۱۰۳۵۔ جس شخص کے ہاتھ یا گھٹنے دوسرے لوگوں کے ہاتھوں اور گھٹنوں سے مختلف ہوں مثلاً اس کے ہاتھ اتنے لمبے ہوں کہ اگر معمولی سا بھی جھکے تو گھٹنوں تک پہنچ جائیں یا اس کے گھٹنے دوسرے لوگوں کے گھٹنوں کے مقابلے میں نیچے ہوں اور اسے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچانے کے لئے بہت زیادہ جھکنا پڑتا ہو تو ضروری ہے کہ اتنا جھکے جتنا عموماً لوگ جھکتے ہیں۔

۱۰۳۶۔ جو شخص بیٹھ کر رکوع کر رہا ہو اسے اس قدر جھکنا ضروری ہے کہ اس کا چہرہ اس کے گھٹنوں کے بالمقابل جا پہنچے اور بہتر ہے کہ اتنا جھکے کہ اس کا چہرہ سجدے کی جگہ کے قریب جاپہنچے۔

۱۰۳۷۔ بہتر یہ ہے کہ اختیار کی حالت میں رکوع میں تین دفعہ "سُبحَانَ اللہ" یا ایک دفعہ "سُبحَانَ رَبِّی العَظِیمَ وَبِحَملِہ" کہے اور ظاہر یہ ہے کہ جو ذکر بھی اتنی مقدار میں کہا جائے کافی ہے لیکن وقت کی تنگی اور مجبوری کی حالت میں ایک دفعہ "سبحَانَ اللہ" کہنا ہی کافی ہے۔

۱۰۳۸۔ ذِکرِ رکوع مسلسل اور صحیح عربی میں پڑھنا چاہئے اور مستحب ہے کہ اسے تین یا پانچ یا ساتھ دفعہ بلکہ اس سے بھی زیادہ پڑھا جائے۔

۱۰۳۹۔ رکوع کی حالت میں ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کا بدن ساکن ہو نیز ضروری ہے کہ وہ اپنے اختیار سے بدن کو اس طرح حرکت نہ دے کہ اس پر ساکن ہونا صادق نہ آئے حتٰی کہ احتیاط کی بنا پر اگر وہ واجب ذکر میں مشغول نہ ہو تب بھی یہی حکم ہے۔

۱۰۴۰۔ اگر نماز پڑھنے والا اس وقت جبکہ رکوع کا واجب ذکر ادا کر رہا ہو بے اختیار اتنی حرکت کرے کہ بدن کے سکون کی حالت میں ہونے سے خارج ہوجائے تو بہتر یہ ہے کہ بدن کے سکون حاصل کرنے کے بعد دوبارہ ذکر کو بجالائے لیکن اگر اتنی کم مدت کے لئے حرکت کرے کہ بدن کے سکون میں ہونےکی حالت میں خارج نہ ہو یا انگلیوں کو حرکت دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

۱۰۴۱۔ اگر نماز پڑھنے والا اس سے پیشتر کہ رکوع جتنا جھکے اور اس کا بدن سکون حاصل کرے جان بوجھ کر ذکر رکوع پڑھنا شروع کر دے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۰۴۲۔ اگر ایک شخص واجب ذکر کے ختم ہونے سے پہلے جان بوجھ کر سر رکوع سے اٹھالے تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر سہواً سر اٹھالے اور اس سے پیشتر کہ رکوع کی حالت سے خارج ہو جائے اسے یاد آئے کہ اس نے ذکر رکوع ختم نہیں کیا تو ضروری ہے کہ رک جائے اور ذکر پڑھے۔ اور اگر اسے رکوع کی حالت سے خارج ہونے کے بعد یاد آئے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۰۴۳۔ اگر ایک شخص ذکر کی مقدار کے مطابق رکوع کی حالت میں نہ رہ سکتا ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کا بقیہ حصہ رکوع سے اٹھتے ہوئے پڑھے۔

۱۰۴۴۔ اگر کوئی شخص مرض وغیرہ کی وجہ سے رکوع میں اپنا بدن ساکن نہ رکھ سکے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن ضروری ہے کہ رکوع کی حالت میں خارج ہونے سے پہلے واجب ذکر اس طریقے سے ادا کرے جیسے اوپر بیان کیا گیا ہے۔

۱۰۴۵۔جب کوئی شخص رکوع کے لئے نہ جھک ہو تو ضروری ہے کہ کسی چیز کا سہارا لے کر رکوع بجالائے اور اگر سہارے کے ذریعے بھی معمول کے مطابق رکوع نہ کر سکے تو ضروری ہے کہ اس قدر جھکے کہ عُرفاً اسے رکوع کہا جاسکے اور اگر اس قدر نہ جھک سکے تو ضروری ہے کہ رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے۔

۱۰۴۶۔ جس شخص کو رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرنا ضروری ہو اگر وہ اشارہ کرنے پر قادرنہ ہو تو ضروری ہے کہ رکوع کی نیت کے ساتھ آنکھوں کو بند کرے اور ذکر رکوع پڑھے اور رکوع سے اٹھنے کی نیت سے آنکھوں کو کھول دے اور اگر اس قابل بھی نہ ہو تو احتیاط کی بنا پر دل میں رکوع کی نیت کرے اور اپنے ہاتھ سے رکوع کے لئے اشارہ کرے اور ذکر رکوع پڑھے۔

۱۰۴۷۔ جو شخص کھڑے ہو کر رکوع نہ کرسکے لیکن جب بیٹھا ہو تو رکوع کے لئے جھک سکتا ہو تو ضروری ہے کہ کھڑے ہوکر نماز پڑھے اور رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے۔ اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ایک دفعہ پھر نماز پڑھے اور اس کے رکوع کے وقت بیٹھ جائے اور رکوع کے لئے جھک جائے۔

۱۰۴۸۔ اگر کوئی شخص رکوع کی حد تک پہنچنے کے بعد سر کو اٹھالے اور دوبارہ رکوع کرنے کی حد تک جھکے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۰۴۹۔ ضروری ہے کہ ذکر رکوع ختم ہونے کے بعد سیدھا کھڑا ہو جائے اور جب اس کا بدن سکون حاصل کرلے اس کے بعد سجدے میں جائے اور اگر جان بوجھ کر کھڑا ہونے سے پہلے یا بدن کے سکون حاصل کرنے سے پہلے سجدے میں چلا جائے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۰۵۰۔ اگر کوئی شخص رکوع ادا کرنا بھول جائے اور اس سے پیشتر کہ سجدے کی حالت میں پہنچے اسے یاد آجائے تو ضروری ہے کہ کھڑا ہو جائے اور پھر رکوع میں جائے۔ اور جھکے ہوئے ہونے کی حالت میں اگر رکوع کی جانب لوٹ جائے تو کافی نہیں۔

۱۰۵۱۔  اگر کسی شخص کو پیشانی زمین پر رکھنے کے بعد یاد آئے کہ اس نے رکوع نہیں کیا تو اس کے لئے ضروری ہے کہ لوٹ جائے اور کھڑا ہونے کے بعد رکوع بجالائے۔ اور اگر اسے دوسرے سجدے میں یاد آئے تو احتیاط لازم کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

۱۰۵۲۔ مستحب ہے کہ انسان رکوع میں جانے سے پہلے سیدھا کھڑا ہو کر تکبیر کہے اور رکوع میں گھٹنوں کو پیچھے کی طرف دھکیلے۔ پیٹھ کو ہموار رکھے۔ گردن کو کھینچ کر پیٹھ کے برابر رکھے۔ دونوں پاوں کے درمیان دیکھے۔ ذکر سے پہلے یا بعد میں درود پڑھے اور جب رکوع کے بعد اٹھے اور سیدھا کھڑا ہو تو بدن کے سکون کی حالت میں ہوتے ہوئے "سَمِعَ اللہُ لِمَن حَمِدَہ" کہے۔

۱۰۵۳۔ عورتوں کے لئے مستحب ہے کہ رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں سے اوپر رکھیں اور گھٹنوں کو پیچھے کی طرف نہ دھکیلیں۔


سجود

  ۱۰۵۴۔ نماز پرھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ واجب اور مستحب نمازوں کی ہر رکعت میں رکوع کے بعد دو سجدے کرے۔ سجدہ یہ ہے کہ خاص شکل میں پیشانی کو خضوع کی نیت سے زمین پر رکھے اور نماز کے سجدے کی حالت میں واجب ہے کہ دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں پاوں کے انگوٹھے زمین پر رکھے جائیں۔

۱۰۵۵۔دو سجدے مل کر ایک رکن ہیں اور اگر کوئی شخص واجب نماز میں عمداً یا بھولے سے ایک رکعت میں دونوں سجدے ترک کر دے تو اس کی نماز باطل ہے۔ اور اگر بھول کر ایک رکعت میں دو سجدوں کا اضافہ کرے تو احتیاط لازم کی بنا پر یہی حکم ہے۔

۱۰۵۶۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایک سجدہ کم یا زیادہ کر دے تو اس کی نماز باطل ہے اور اگر سہواً ایک سجدہ کم یا زیادہ کرے تو اس کا حکم بعد میں بیان کیا جائے گا۔

۱۰۵۷۔ جو شخص پیشانی زمین پر رکھ سکتا  ہو اگر جان بوجھ کر یا سہواً پیشانی زمین پر نہ رکھے تو خواہ بدن کے دوسرے حصے زمین سے لگ بھی گئے ہوں تو اس نے سجدہ نہیں کیا لیکن اگر وہ پیشانی زمین پر رکھ دے اور سہواً بدن کے دوسرے حصے زمین پر نہ رکھے یا سہواً ذکر نہ پڑھے تو اس کا سجدہ صحیح ہے۔

۱۰۵۸۔ بہتر یہ ہے کہ اختیار کی حالت میں سجدے میں تین دفعہ "سُبحَانَ اللہ" یا ایک دفعہ "سُبحَاَنَ رَبِّ الاَعلٰی وَبِحَمدِہ" پڑھے اور ضروری ہے کہ یہ جملے مسلسل اور صحیح عربی میں کہے جائیں اور ظاہر یہ ہے کہ ہر ذکر کا پڑھنا کافی ہے لیکن احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ اتنی ہی مقدار میں ہو اور مستحب ہے کہ "سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلٰی وَبِحَمدِہ" تین یا پانچ یا سات دفعہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ پڑھے۔

۱۰۵۹۔ سجدے کی حالت میں ضروری ہے کہ نمازی کا بدن ساکن ہو اور حالت اختیار میں اسے اپنے بدن کو اس طرح حرکت نہیں دینا چاہئے کہ سکون کی حالت سے نکل جائے اور جب واجب ذکر میں مشغول نہ ہو تو احتیاط کی بنا پر یہی حکم ہے۔

۱۰۶۰۔ اگر اس پیشتر کہ پیشانی زمین سے لگے اور بدن سکون حاصل کرلے کوئی شخص جان بوجھ کر ذکر سجدہ پڑھے یا ذکر ختم ہونے سے پہلے جان بوجھ کر سر سجدے سے اٹھالے تو اسکی نماز باطل ہے۔

۱۰۶۱۔ اگر اس سے پیشتر کہ پیشانی زمین پر لگے کوئی شخص سہواً ذکر سجدہ پڑھے اور اس سے پیشتر کہ سر سجدے سے اٹھائے اسے پتہ چل جائے کہ اس نے غلطی کی ہے تو ضروری ہے کہ ساکن ہو جائے اور دوبارہ ذکر پڑھے۔

۱۰۶۲۔ اگر کسی شخص کو سر سجدے سے اٹھالینے کے بعد پتہ چلے کہ اس نے ذکر سجدہ ختم ہونے سے پہلے سر اٹھا لیا ہے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۰۶۳۔ جس وقت کوئی شخص ذکر سجدہ پڑھ رہا ہو اگر وہ جان بوجھ کر سات اعضائے سجدہ میں سے کسی ایک کو زمین پر سے اٹھائے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی لیکن جس وقت ذکر پڑھنے میں مشغول نہ ہو اگر پیشانی کے علاوہ کوئی عضو زمین پر سے اٹھالے اور دوبارہ رکھ دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اگر ایسا کرنا اس کے بدن کے ساکن ہونے کے منافی ہو تو اس صورت میں احتیاط کی بنا پر اس کی نماز باطل ہے۔

۱۰۶۴۔ اگر ذکر سجدہ ختم ہونے سے پہلے کوئی شخص سہواً پیشانی زمین اٹھالے تو اسے دوبارہ زمین پر نہیں رکھ سکتا اور ضروری ہے کہ اسے ایک سجدہ شمار کرے لیکن اگر دوسرے اعضا سہواً زمین پر سے اٹھائے تو ضروری ہے کہ انہیں دوبارہ زمین پر رکھے اور ذکر پڑھے۔

۱۰۶۵۔ پہلے سجدے کا ذکر ختم ہونے کے بعد ضروری ہے کہ بیٹھ جائے حتی کہ اس کا بدن سکون حاصل کرلے اور پھر دوبارہ سجدے میں جائے۔

۱۰۶۶۔ نماز پڑھنے والے کی پیشانی رکھنے کی جگہ گھٹنوں اور پاوں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ بلند یا پست نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کی پیشانی کی جگہ اس کے کھڑے ہونے کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ نیچی یا اونچی بھی نہ ہو۔

۱۰۶۷۔ اگر کسی ایسی ڈھلوان جگہ میں اگرچہ اس کا جھکاو صحیح طور پر معلوم نہ ہو نماز پڑھنے والے  کی  پیشانی کی جگہ اس کے گھٹنوں اور پاوں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ بلند یا پست ہو تو اس کی نماز میں اشکال ہے۔

۱۰۶۸۔ اگر نماز پڑھنے والا اپنی پیشانی کی غلطی سے ایک ایسی چیز پر رکھ دے جو گھٹنوں اور اس کے پاوں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ بلند ہو اور ان کی بلندی اس قدر ہو کہ یہ نہ کہہ سکیں کہ سجدے کی حالت میں ہے تو ضروری ہے کہ سر کو اٹھائے اور ایسی چیز پر جس کی بلندی چار ملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ نہ ہو رکھے اور اگر اس کی بلندی اس قدر ہو کہ کہہ سکیں کہ سجدے کی حالت میں ہے تو پھر واجب ذکر پڑھنے کے بعد متوجہ ہو تو سر سجدے سے اٹھا کر نماز کو تمام کر سکتا ہے۔ اور اگر واجب ذکر پڑھنے سے پہلے متوجہ ہو تو ضروری ہے کہ پیشانی کو اس چیز سے ہٹا کر اس چیز پر رکھے کہ جس کی بلندی چار ملی ہوئی انگلیوں کے برابر یا اس سے کم ہو اور واجب ذکر پڑھے اور اگر پیشانی کو ہٹاتا ممکن نہ ہو تو واجب ذکر کو اسی حالت میں پڑھے اور نماز کو تمام کرے اور ضروری نہیں کہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔

۱۰۶۹۔ ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کی پیشانی اور اس چیز کے درمیان جس پر سجدہ کرنا صحیح ہے کوئی دوسری چیز نہ ہو پس اگر سجدہ گاہ اتنی میلی ہو کہ پیشانی سجدہ گاہ کو نہ چھوئے تو اس کا سجدہ باطل ہے۔ لیکن اگر سجدہ گاہ کارنگ تبدیل ہوگیا ہو تو کوئی حرج نہیں۔

۱۰۷۰۔ ضروری ہے کہ سجدے میں دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھے لیکن مجبوری کی حالت میں ہاتھوں کی پشت بھی زمین پر رکھے تو کوئی حرن نہیں اور اگر ہاتھوں کی پشت بھی زمین پر رکھنا ممکن نہ ہو تو احتیاط کی بنا ضروری ہے کہ ہاتھوں کی کلائیاں زمین پر رکھے اور اگر انہیں بھی نہ رکھ سکے تو پھر کہنی تک جو حصہ بھی ممکن ہو زمین پر رکھے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر بازو کا رکھنا بھی کافی ہے۔

۱۰۷۱۔ (نماز پڑھنے والے کے لئے) ضروری ہے کہ سجدے میں پاوں کے دونوں انگوٹھے زمین پر رکھے لیکن ضروری نہیں کہ دونوں انگوٹھوں کے سرے زمین پر رکھے بلکہ ان کا ظاہری یا باطنی حصہ بھی رکھے تو کافی ہے۔ اور اگر پاوں کی دوسری انگلیاں یا پاوں کا اوپر والا حصہ زمین پر رکھے یا ناخن لمبے ہونے کی بنا پر انگوٹھوں کے سرے زمین پر نہ لگیں تو نماز باطل ہے اور جس شخص نے کوتاہی اور مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اپنی نمازیں اس طرح پڑھی ہوں ضروری ہے کہ انھیں دوبارہ پڑھے۔

۱۰۷۲۔ جس شخص کے پاوں کے انگوٹھوں کے سروں سے کچھ حصہ کٹا ہوا ہو ضروری ہے کہ جتنا باقی ہو وہ زمین پر رکھے اور اگر انگوٹھوں کا کچھ حصہ بھی نہ بچا ہو اور اگر بچا بھی ہو تو بہت چھوٹا ہو تو احتیاط کی بنا پر ضروری ہے کہ باقی انگلیوں کو زمین پر رکھے اور اگر اس کی کوئی بھی انگلی نہ ہو تو پاوں کا جتنا حصہ بھی باقی بچا ہو اسے زمین پر رکھے۔

۱۰۷۳۔ اگر کوئی شخص معمول کے خلاف سجدہ کرے مثلا سینے اور پیٹ کو زمین پر ٹکائے یا پاوں کو کچھ پھیلائے چنانچہ اگر کہا جائے کہ اس نے سجدہ کیا ہے تو اس کی نماز صحیح ہے لیکن اگر کہا جائے کہ اس نے پاوں پھیلائے ہیں اور اس پر سجدہ کرنا صادق نہ آتا ہو تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۰۷۴۔ سجدہ گاہ یا دوسری چیز جس پر نماز پڑھنے والا سجدے کرے ضروری ہے کہ پاک ہو لیکن اگر مثال کے طور پر سجدہ گاہ کو نجس فرش پر رکھ دے یا سجدہ گاہ کی ایک طرف نجس ہو اور وہ پیشانی پاک طرف رکھے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

۱۰۷۵۔  اگر نماز پڑھنے والے کی پیشانی پر پھوڑا یا زخم یا اس طرح کی کوئی چیز ہو۔ جس کی بنا پر وہ پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا ہو مثلاً اگر وہ پھوڑا پوری پیشانی کو نہ گھیرے ہوئے ہو تو ضروری ہے کہ پیشانی کے صحت مند حصے سے سجدہ کرے اور اگر پیشانی کی صحت مند جگہ پر سجدہ کرنا اس بات پر موقوف ہو کہ زمین کو کھودے اور پھوڑے کو گڑھے میں اور صحت مند جگہ کی اتنی مقدار زمین پر رکھے کہ سجدے کے لئے کافی ہو تو ضروری ہے کہ اس کام کا انجام دے۔

۱۰۷۶۔ اگر پھوڑا یا زخم تمام پیشانی پر پھیلا ہوا ہو تو نماز پڑھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے چہرے کہ کچھ حصے سے سجدہ کرے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ اگر ٹھوڑی سے سجدہ کرسکتا ہو تو ٹھوڑی سے سجدہ کرے اور اگر نہ کر سکتا ہو تو پیشانی کے دونوں اطراف میں سے ایک طرف سے سجدہ کرے اور اگر چہرے سے سجدہ کرنا کسی طرح بھی ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ سجدے کے لئے اشارہ کرے۔

۱۰۷۷۔ جو شخص بیٹھ سکتا ہو لیکن پیشانی زمین پر نہ رکھ سکتا ہو ضروری ہے کہ جس قدر بھی جھک سکتا ہو جھکے اور سجدہ گاہ یا کسی دوسری چیز کو جس پر سجدہ صحیح ہو کسی بلند چیز پر رکھے اور اپنی پیشانی اس پر اس طرح رکھے کہ لوگ کہیں کہ اس نے سجدہ کیا ہے لیکن ضروری ہے کہ ہتھیلیوں اور گھٹنوں اور پاوں کے انگوٹھوں کو معمول کے مطابق زمین پر رکھے۔

۱۰۷۸۔  اگر کوئی ایسی بلند چیز نہ ہو جس پر نماز پڑھنے والا سجدہ گاہ یا کوئی دوسری چیز جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو رکھ سکے اور کوئی شخص بھی نہ ہو جو مثلاً سجدہ گاہ کو اٹھائے اور پکڑے تا کہ وہ شخص اس پر سجدہ کرے تو احتیاط یہ ہے کہ سجدہ گاہ یا دوسری چیز کو جس پر سجدہ کر رہا ہو ہاتھ سے اٹھائے اور اس پر سجدہ کرے۔

۱۰۷۹۔اگر کوئی شخص بالکل ہی سجدہ نہ کر سکتا ہو تو ضروری ہے کہ سجدے کے لئے سر سے اشارہ کرے اور اگر ایسا نہ کرسکے تو ضروری ہے کہ آنکھوں سے اشارہ کرے اور اگر آنکھوں سے بھی اشارہ نہ کرسکتا ہو تو احتیاط لازم کی بنا پر ضروری ہے کہ ہاتھ وغیرہ سے سجدے کے لئے اشارہ کرے اور دل میں بھی سجدے کی نیت کرے اور واجب ذکر ادا کرے۔

۱۰۸۰۔ اگر کسی شخص کی پیشانی بے اختیار سجدے کی جگہ سے اٹھ جائے تو ضروری ہے کہ حتی الامکان اسے دوبارہ سجدے کی جگہ پر نہ جانے دے قطع نظر اس کے کہ اس نے سجدے کا ذکر پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو یہ ایک سجدہ شمار ہوگا۔ اور اگر سر کو نہ روک سکے اور وہ بے اختیار دوبارہ سجدے کی جگہ پہنچ جائے تو وہی ایک سجدہ شمار ہوگا۔ لیکن اگر واجب ذکر ادا نہ کیا ہو تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اسے قربت مُطلَقَہ کی نیت سے ادا کرے۔

۱۰۸۱۔ جہاں انسان کے لئے تقیہ کرنا ضروری ہے وہاں وہ قالین یا اسطرح کی چیز پر سجدہ کرے اور یہ ضروری نہیں کہ نماز کے لئے کسی دوسری جگہ جائے یا نماز کو موخر کرے تا کہ اسی جگہ پر اس سبب کے ختم ہونے کے بعد نماز ادا کرے۔ لیکن اگر چٹائی یا کسی دوسری چیز جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو اگر وہ اس طرح سجدےکرے کہ تقیہ کی مخالفت نہ ہوتی ہو تو ضروری ہے کہ پھر وہ قالین یا اس سے ملتی جلتی چیز پر سجدہ نہ کرے۔

۱۰۸۲۔ اگر کوئی شخص (پرندوں کے) پروں سے بھرے گدے یا اسی قسم کی کسی دوسری چیز پر سجدہ کرے جس پر جم سکون کی حالت میں نہ رہے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۰۸۳۔ اگر انسان کیچڑ والی زمین پر نماز پڑھنے پر مجبور ہو اور بدن اور لباس کا آلودہ ہو جانا اس کے لئے مشقت کا موجب نہ ہو تو ضروری ہے کہ سجدہ اور تشہد معمول کے مطابق بجالائے اور اگر ایسا کرنا مشقت کا موجب ہو تو قیام کی حالت میں سجدے کے لئے سر سے اشارہ کرے اور تشہد کھڑے ہو کر پڑھے تو اس کی نماز صحیح ہوگی۔

۱۰۸۴۔  پہلی رکعت میں اور مثلاً نماز ظہر، نماز عصر، اور نماز عشا کی تیسری رکعت میں جس میں تشہد نہیں ہے احتیاط واجب یہ ہے کہ انسان دوسرے سجدے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے سکون سے بیٹھے اور پھر کھڑا ہو۔


وہ چیزیں جن پر سجدہ کرنا صحیح ہے

۱۰۸۵۔   سجدہ زمین پر اور ان چیزوں پر کرنا ضروری ہے جو کھائی اور پہنی نہ جاتی ہوں اور زمین سے اگتی ہوں مثلاً لکڑی اور درختوں کے پتے پر سجدہ کرے۔ کھانے اور پہننے کی چیزوں مثلاً گندم، جو اور کپاس پر اور ان چیزوں پر جو زمین کے اجزاء شمار نہیں ہوتیں مثلاً سونے، چاندی اور اسی طرح کی دوسری چیزوں پر سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے لیکن تار کول اور گندہ بیروزا کی مجبوری کی حالت میں دوسری چیزوں کے مقابلے میں کہ جن پر سجدہ کرنا صحیح نہیں سجدے کے لئے اولیت دے۔

۱۰۸۶۔ انگور کے پتوں پر سجدہ کرنا جبکہ وہ کچے ہوں اور انھیں معمولاً کھایا جاتا ہو جائز نہیں۔ اس صورت کے علاوہ ان پر سجدہ کرنے میں ظاہراً کوئی حرج نہیں۔

۱۰۸۷۔ جو چیزیں زمین سے اگتی ہیں اور حیوانات کی خوراک ہیں مثلاً گھاس اور بھوسا ان پر سجدہ کرنا صحیح ہے۔

۱۰۸۸۔جن پھولوں کو کھایا نہیں جاتا ان پر سجدہ صحیح ہے بلکہ ان کھانے کی دواوں پر بھی سجدہ صحیح ہے جو زمین سے اگتی ہیں اور انھیں کوٹ کر یا جوش دیکر انکا پانی پیتے ہیں مثلاً گل بنفشہ اور گل گاو زبان، پر بھی سجدہ صحیح ہے۔

۱۰۸۹۔  ایسی گھاس جو بعض شہروں میں کھائی جاتی ہو اور بعض شہروں میں کھائی تو نہ جاتی ہو۔ لیکن وہاں اسے اشیاء خوردنی میں شمار کیا جاتا ہو اس پر سجدہ صحیح نہیں اور کچے پھلوں پر بھی سجدہ کر صحیح نہیں ہے۔

۱۰۹۰۔ چونے کے پتھر اور جپسم پر سجدہ کرنا صحیح ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اختیار کی حالت میں پختہ جپسم اور چونے اور اینٹ اور مٹی کے پکے ہوئے برتنوں اور ان سے ملتی جلتی چیزوں پر سجدہ نہ کیا جائے۔

۱۰۹۱۔ اگر کاغذ کو ایسی چیز سے بنایا جائے کہ جس پر سجدہ کرنا صحیح ہے مثلاً لکڑی اور بھوسے سے تو اس پر سجدہ کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح اگر روئی یا کتان سے بنایا گیا ہو تو بھی اس پر سجدہ کرنا صحیح ہے لیکن اگر ریشم یا ابریشم اور اسی طرح کی کسی چیز سے بنایا گیا ہو تو اس پر سجدہ صحیح نہیں ہے۔

۱۰۹۲۔ سجدے کے لئے خاک شفا سب چیزوں سے بہتر ہے اس کے بعد مٹی، مٹی کے بعد پتھر اور پتھر کے بعد گھاس ہے۔

۱۰۹۳۔ اگر کسی کے پاس ایسی چیز نہ ہو جس پر سجدہ کرنا صحیح ہے یا اگر ہو تو سردی یا زیادہ گرمی وغیرہ کی وجہ سے اس پر سجدہ نہ کرسکتا ہو تو ایسی صورت میں تار کول اور گندہ بیروزا کو سجدے کے لئے دوسری چیزوں پر اولیت حاصل ہے لیکن اگر ان پر سجدہ کرنا ممکن نہ ہو تو ضروری ہے کہ اپنے لباس یا اپنے ہاتھوں کی پشت یا کسی دوسری چیز پر کہ حالت اختیار میں جس پر سجدہ جائز نہیں سجدہ کرے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ جب تک اپنے کپڑوں پر سجدہ ممکن ہو کسی دوسری چیز پر سجدہ نہ کرے۔

۱۰۹۴۔ کیچڑیر اور ایسی نرم مٹی پر جس پر پیشانی سکون سے نہ ٹک سکے سجدہ کرنا باطل ہے ۔

۱۰۹۵۔ اگر پہلے سجدے میں سجدہ گاہ پیشانی سے چپک جائے تو دوسرے سجدے کے لئے اسے چھڑا لینا چاہئے۔

۱۰۹۶۔جس چیز پر سجدہ کرنا ہو اگر نماز پڑھنے کے دوران وہ گم ہو جائے اور نماز پڑھنے والے کے پاس کوئی ایسی چیز نہ ہو جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو تو جو ترتیب مسئلہ ۱۰۹۳ میں بتائی گئ ہے اس پر عمل کرے خواہ وقت تنگ ہو یا وسیع، نماز کو توڑ کر اس کا اعادہ کرے۔

۱۰۹۷۔ جب کسی شخص کو سجدے کی حالت میں پتہ چلے کہ اس نے اپنی پیشانی کسی ایسی چیز پر رکھی ہے جس پر سجدہ کرنا باطل ہے چنانچہ واجب ذکر ادا کرنے کے بعد متوجہ ہو تو سر سجدے سے اٹھائے اور اپنی نماز جاری رکھے اور اگر واجب ذکر ادا کرنے سے پہلے متوجہ ہو تو ضروری ہے کہ اپنی پیشانی کو اس چیز پر کہ جس پر سجدہ کرنا صحیح ہے لائے اور واجب ذکر پڑھے لیکن اگر پیشانی لانا ممکن نہ ہو تو اسی حال میں واجب ذکر ادا کر سکتا ہے اور اس کی نماز ہر دو صورت میں صحیح ہے۔

۱۰۹۸۔ اگر کسی شخص کو سجدے کے بعد پتہ چلے کہ اس نے اپنی پیشانی کسی ایسی چیز پر رکھی ہے جس پر سجدہ کرنا باطل ہے تو کوئی حرج نہیں ۔

۱۰۹۹۔ اللہ تعالی کے علاوہ کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہے۔ عوام میں سے بعض لوگ جو ائمہ علیہم السلام کے مزارات مقدسہ کے سامنے پیشانی زمین پر رکھتے ہیں اگر وہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کی نیت سے ایسا کریں تو کوئی حرج نہیں ورنہ ایسا کرنا حرام ہے۔


سجدہ کے مستحبات اور مکروہات

۱۱۰۰۔ چند چیزیں سجدے میں مستحب ہیں :

۱۔ جو شخص کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو وہ رکوع سر اٹھانے کے بعد مکمل طور پر کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھنے والا رکوع کے بعد پوری طرح بیٹھ کر سجدہ میں جانے کے لئے تکبیر کہے۔

۲۔ سجدے میں جاتے وقت مرد پہلے اپنی ہتھیلیوں اور عورت اپنے گھٹنوں کو زمین پر رکھے۔

۳۔ نمازی ناک کو سجدہ گاہ یا کسی ایسی چیز پر رکھے جس پر سجدہ کرنا درست ہو۔

۴۔ نمازی سجدے کی حالت میں ہاتھ کی انگلیوں کو ملا کر کانوں کے پاس اس طرح رکھے کہ ان کے سرے رو بہ قبلہ ہوں۔

۵۔ سجدے میں دعا کرے، اللہ تعالی سے حاجت طلب کرے اور یہ دعا پڑھے :

"یَاخَیرَ المَسئُولِینَ وَیاَخَیرَ المُعطِینَ ارزُقنِی وَ ارزُق عَیَالِی مِن فضلِکَ فَاِنَکَ ذُوالفَضلِ الَظِیمِ "۔

یعنی :اے ان سب میں سے بہتر جن سے کہ مانگا جاتا ہے اور اے ان سب سے برتر جو عطا کرتے ہیں۔ مجھے اور میرے اہل و عیال کو اپنے فضل و کرم سے رزق عطا فرما کیونکہ تو ہی فضل عظیم کا مالک ہے۔

۶۔ سجدے کے بعد بائیں ران پر بیٹھ جائے اور دائیں پاوں کا اوپر والا حصہ (یعنی پشت) بائیں پاوں کے تلوے پررکھے۔

۷۔ ہر سجدے کے بعد جب بیٹھ جائے اور بدن کو سکون حاصل ہوجائے تو تکبیر کہے۔

۸۔ پہلے سجدے کہ بعد جب بدن کو سکون حاصل ہو جائے تو "اَستَغفِرُاللہَ رَبّیِ وَاَتُوبُ اِلَیہِ" کہے۔

۹۔ سجدہ زیادہ دیر تک انجام دے اور بیٹھنے کے وقت ہاتھوں کو رانوں پر رکھے

۱۰۔ دوسرے سجدے میں جانے کے لئے بدن کے سکون کی حالت میں اَللہُ اَکبَر کہے :

۱۱۔ سجدوں میں درود پڑھے۔

۱۲۔ سجدے یا قیام کے لئے اٹھتے وقت پہلے گھٹنوں کو اور ان کے بعد ہاتھوں کو زمین سے اٹھائے۔

۱۳۔ مرد کہنیوں اور پیٹ کو زمین سے نہ لگائیں نیز بازووں کو پہلو سے جدا رکھیں۔ اور عورتیں کہنیاں اور پیٹ زمین پر رکھیں اور بدن کے اعضاء کو ایک دوسرے سے ملالیں۔ ان کے علاوہ دوسرے مستحبات بھی ہیں جن کا ذکر مفصل کتابوں میں موجود ہے۔

۱۱۰۱۔ سجدے میں قرآن مجید پڑھنا مکروہ ہے اور سجدے کی جگہ کو گردوغبار جھاڑنے کے لئے پھونک مارنا بھی مکروہ ہے بلکہ اگر پھونک مارنے کی وجہ سے دو حرف بھی منہ سے عمداً نکل جائیں تو احتیاط کی بنا پر نماز باطل ہے اور ان کے علاوہ اور مکروہات کا ذکر بھی مفصل کتابوں میں آیا ہے۔


قرآن مجید کے واجب سجدے

۱۱۰۲۔ قرآن مجید کی چار سورتوں یعنی وَالنَّجم، اِقرَا، الٓمّ تنزیل اور حٰمٓ سجدہ میں سے ہر ایک میں ایک آیہ سجدہ ہے جسے اگر انسان پڑھے یا سنے تو آیت ختم ہونے کے بعد فوراً سجدہ کرنا ضروری ہے اور اگر سجدہ کرنا بھول جائے تو جب بھی اسے یاد آئے سجدہ کرے اور ظاہر یہ ہے کہ آیہ سجدہ غیر اختیاری حالت میں سنے تو سجدہ واجب نہیں ہے اگرچہ بہتریہ ہے کہ سجدہ کیا جائے۔

۱۱۰۳۔ اگر انسان سجدے کی آیت سننے کے وقت خود بھی وہ آیت پڑھے تو ضروری ہے کہ دو سجدے کرے۔

۱۱۰۴۔ اگر نماز کے علاوہ سجدے کی حالت میں کوئی شخص آیہ سجدہ پڑھے یا سنے تو ضروری ہے کہ سجدے سے سر اٹھائے اور دوبارہ سجدہ کرے۔

۱۱۰۵۔ اگر انسان سوئے ہوئے شخص یا دیوانے یا بچے سے جو قرآن سمجھ کر نہ پڑھ رہا ہو سجدے کی آیت سنے یا اس پر کان دھرے تو سجدہ واجب ہے۔ لیکن اگر گرامافون یا ٹیپ ریکارڈ سے (ریکارڈشدہ آیہ سجدہ) سنے تو سجدہ واجب نہیں۔ اور سجدے کی آیت ریڈیو پر ٹیپ ریکارڈ کے ذریعے نشر کی جائے تب بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ریڈیوں اسٹیشن سے (براہ راست نشریات میں) سجدے کی آیت پڑھنے اور انسان اسے ریڈیو پر تو سجدہ واجب ہے۔

۱۱۰۶۔ قرآن کا واجب سجدہ کرنے کے لئے احتیاط واجب کی بنا پر ضروری ہے کہ انسان کی جگہ غصبی نہ ہو اور احتیاط مستحب کی بنا پر اس کے پیشانی رکھنے کی جگہ اس کے گھٹنوں اور پاوں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ اونچی یا نیچی نہ ہو لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس نے وضو یا غسل کیا ہوا ہو یا قبلہ رخ ہو یا اپنی شرمگاہ کو چھپائے یا اس کا بدن اور پیشانی رکھنے کی جگہ پاک ہو۔ اس کے علاوہ جو شرائط نماز پڑھنے والے کے لباس کے لئے ضروری ہیں وہ شرائط قرآن مجید کا واجب سجدہ ادا کرنے والے کے لباس کے لئے نہیں ہیں۔

۱۱۰۷۔  احتیاط واجب یہ ہے کہ قرآن مجید کے واجب سجدے میں انسان اپنی پیشانی سجدہ گاہ یا کسی ایسی چیز پر رکھے۔ جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو اور احتیاط مستحب کی بنا پر بدن کے دوسرے اعضاء زمین پر اس طرح رکھے۔ جس طرح نماز کے سلسلے میں بتایا گیا ہے۔

۱۱۰۸۔ جب انسان قرآن مجید کا واجب سجدہ کرنے کے ارادے سے پیشانی زمین پر رکھ دے تو خواہ وہ کوئی ذکر نہ بھی پڑھے تب بھی کافی ہے اور ذکر کا پڑھنا مستحب ہے۔ اور بہتر ہے کہ یہ پڑھے:

"لآَ اِلٰہَ الاَّ اللہُ حَقّاً حقّاً، لآَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ اِیماَناً وّتَصدِیقاً،لآَ اِلٰہَ الاَّ اللہُ عُبُودِیَّۃً وَّرِقاً، سَبَحتُّ لَکَ یَارَبِّ تَعَبُّدًا وَّرِقّاً، مُستَنکِفاً وَّلاَ مُستَکبِرًا، بَل اَنَا عَبدٌ ذَلِیلٌ ضَعِیفٌ خَآئِفٌ مُّستَجِیرٌ۔


تشہد

۱۱۰۹۔ سب واجب اور مستحب نمازوں کی دوسری رکعت میں اور نماز مغرب کی تیسری رکعت میں اور ظہر، عصر اور عشا کی چوتھی رکعت میں انسان کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے سجدے کے بعد بیٹھ جائے اور بدن کے سکون کی حالت میں تشہد پڑھے یعنی کہے اَشھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ وَحدَہ لاَ شَرِیکَ لَہ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّمدًا عَبدُہ وَرَسُولُہ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ اور اگر کہے اَشہَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ  وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّمدًا صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہ عَبدُہُ وَرَسُولُہ تو بنابر اقوی کافی ہے۔ اور نماز وتر میں بھی تشہُد پڑھنا ضروری ہے۔

۱۱۰۔ضروری ہے کہ تشہد کے جملے صحیح عربی میں اور معمول کے مطابق مسلسل کہے جائیں۔

۱۱۱۱۔ اگر کوئی شخص تشہد پڑھنا بھول جائے اور کھڑا ہو جائے، اور رکوع سے پہلے اسے یاد آئے کہ اس نے تشہد نہیں پڑھا تو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اور تشہد پڑھے اور پھر دوبارا کھرا ہو اور اس رکعت میں جو کچھ پڑھنا ضروری ہے پڑھے اور نماز ختم کرے۔ اور احتیاط مستحب کی بنا پر نماز کے بعد بے جا قیام کرے اور نماز کے سلام کے بعد احتیاط مستحب کی بنا پر تشہد کی قضا کرے۔ اور ضروری ہے کہ بھولے ہوے تشہد کے لئے دو سجدہ سہو بجا لائے۔

۱۱۱۲۔مستحب ہے کہ تشہد کی حالت میں انسان بائیں ران پر بیٹھے اور دائیں پاوں کی پشت کو بائیں پاوں کے تلوے پر رکھے اور تشہد سے پہلے کہے "اَلحَمدُ لِلّٰہِ" یا کہے۔ "بِسمِ اللہِ وَ بِاللہِ وَالحَمدُ لِلّٰہِ وَ خَیرُالاَسمَآءِ لِلّٰہِ" اور یہ بھی مستحب ہے کہ ہاتھ رانوں پر رکھے اور انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملائے اور اپنے دامن پر نگاہ ڈالے اور تشہد میں صلوات کے بعد کہے :"وَتَقَبَّل شَفَاعَتَہ وَارفَع دَرَجَتَہ"۔

۱۱۱۳۔ مستحب ہے کہ عورتیں تشہد پڑھتے وقت اپنی رانیں ملا کر رکھیں۔


نماز کا سلام

۱۱۱۴۔ نماز کی آخری رکعت کے تشہد کے بعد جب نمازی بیٹھا ہو اور اس کا بدن سکون کی حالت میں ہو تو مستحب ہے کہ وہ کہے : "اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرکَاتُہ" اور اس کے بعد ضروری ہے کہ کہے اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم کے جملے کے ساتھ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرکَاتُہ کے جملے کا اضافہ کرے یا یہ کہے اَلسَّلاَمُ عَلَینَا وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحیِینَ لیکن اگر اس اسلام کو پڑھے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کے بعد اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم بھی کہے۔

۱۱۱۵۔ اگر کوئی شخص نماز کا سلام کہنا بھول جائے اور اسے ایسے وقت یاد آئے جب ابھی نماز کی شکل ختم نہ ہوئی ہو اور اس نے کوئی ایسا کام بھی نہ کیا ہو جسے عمداً اور سہواً کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہو مثلاً قبلے کی طرف پیٹھ کرنا تو ضروری ہے کہ سلام کہے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۱۱۶۔ اگر کوئی شخص نماز کا سلام کہنا بھول جائے اور اسے ایسے وقت یاد آئے جب نماز کی شکل ختم ہوگئی ہو یا اس نے کوئی ایسا کام کیا ہو جسے عمداً اور سہواً کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے مثلاً قبلے کی طرف پیٹھ کرنا تو اس کی نماز صحیح ہے۔


ترتیب

۱۱۱۷۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر نماز کی ترتیب الٹ دے مثلاً الحمد سے پہلے سورہ پڑھ لے یا رکوع سے پہلے سجدے بجالائے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے۔

۱۱۱۸۔ اگر کوئی شخص نماز کا کوئی رکن بھول جائے اور اس کے بعد کا رکن بجالائے مثلاً رکوع کرنے سے پہلے دو سجدے کرے تو اس کی نماز احتیاط کی بنا پر باطل ہے۔

 ۱۱۱۹۔ اگر کوئی شخص نماز کو کوئی رکن بھول جائے اور ایسی چیز بجالائے جو اس کے بعد ہو اور رکن نہ ہو مثلاً اس سے پہلے کہ دو سجدے کرے تشہد پڑھ لے تو ضروری ہے کہ رکن بجالائے اور جو کچھ بھول کر اس سے پہلے پڑھا ہو اسے دوبارہ پڑھے۔

۱۱۲۰۔ اگر کوئی شخص ایک ایسی چیز بھول جائے جو رکن نہ ہو اور اس کے بعد کا رکن بجالائے مثلاً الحمد بھول جائے اور رکوع میں چلاجائے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۱۲۱۔ اگر کوئی شخص ایک ایسی چیز بھول جائے جو رکن نہ ہو اور اس چیز کو بجالائے جو اس کے بعد ہو اور وہ بھی رکن نہ ہو مثلاً الحمد بھول جائے اور سورہ پڑھ لے تو ضروری ہے کہ جو چیز بھول گیا ہو وہ بجائے اور اس کے بعد وہ چیز جو بھول کر پہلے پڑھ لی ہو دوبارہ پڑھے۔

۱۱۲۲۔ اگر کوئی شخص پہلا سجدہ اس خیال سے بجالائے کہ دوسرا سجدہ ہے یا دوسرا سجدہ اس خیال سے بجالائے کہ پہلا سجدہ ہے تو اس کی نماز صحیح ہے اور اس کی پہلا سجدہ، پہلا سجدہ اور دوسرا سجدہ دوسرا سجدہ شمار ہوگا۔


مُوَالات

۱۱۲۳۔ ضروری ہے کہ انسان نماز مولات کے ساتھ پڑھے یعنی نماز کے افعال مثلاً رکوع، سجود اور تشہد تواتُر اور تسلسل کے ساتھ بجالائے۔ اور جو چیزیں بھی نماز میں پڑھے معمول کے مطابق پے در پے پڑھے اور اگر ان کے درمیان اتنا فاصلہ ڈالے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ نماز پڑھ رہا ہے تو اس کی نماز باطل ہے۔

۱۱۲۴۔ اگر کوئی شخص نماز میں سہواً حروف یا جملوں کے درمیان فاصلہ دے اور فاصلہ اتنا نہ ہو کہ نماز کی صورت برقرار نہ رہے تو اگر وہ ابھی بعد والے رکن میں مشغول نہ ہوا ہو تو ضروری ہے کہ وہ حروف یا جملے معمول کے مطابق پڑھے اور اگر بعد کی کوئی چیز پڑھی جاچکی ہو تو ضروری ہے کہ اسے دہرائے اور اگر بعد کے رکن میں مشغول ہو گیا ہو تو اس کی نماز صحیح ہے۔

۱۱۲۵۔ رکوع اور سجود کو طول دینا اور بڑی سورتیں پڑھنا مُوَالات کو نہیں توڑتا۔


قُنوت

۱۱۲۶۔تمام واجب اور مستحب نمازوں میں دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا مستحب ہے لیکن نماز شفع میں ضروری ہے کہ اسے رجاءً پڑھے اور نماز وتر میں بھی باوجودیکہ ایک رکعت کی ہوتی ہے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا مستحب ہے۔ اور نماز کی جمعہ کی ہر رکعت میں ایک قنوت، نماز آیات میں پانچ قنوت، نماز عید فطر و قربان کی پہلی رکعت میں پانچ قنوت اور دوسری رکعت میں چار قنوت ہیں۔

۱۱۲۷۔ مستحب کہ قنوت پڑھتے وقت ہاتھ چہرے کے سامنے اور ہتھیلیاں ایک دوسری کے ساتھ ملا کر آسمان کی طرف رکھے اور انگوٹھوں کے علاوہ باقی انگلیوں کو آپس میں ملائے اور نگاہ ہتھیلیوں پر رکھے۔

۱۱۲۸۔ قنوت میں انسان جو ذکر بھی پڑھے خواہ ایک دفعہ "سُبحَانَ اللہِ" ہی کہے کافی ہے اور بہتر ہے کہ یہ دعا پڑھے۔ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ الحَلِیمُ الکَرِیمُ، لآَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ العَلِیُّ العَظِیمُ، سُبحَانَ اللہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبعِ وَرَبِّ الاَرَضِینَ السَّبعِ وَمَافِیھِنَ وَمَا بَینَھُنَّ وَرَبِّ العَرشِ العَظِیمِ وَالحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِینَ۔

۱۱۲۹۔ مستحب ہے کہ انسان قنوت بلند آواز سے پڑھے لیکن اگر ایک شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو اور امام اس کی آواز سن سکتا ہو تو اس کا بلند آواز سے قنوت پڑھنا مستحب نہیں ہے۔

۱۱۳۰۔ اگر کوئی شخص عمداً قنوت نہ پڑھے تو اس کی قضا نہیں ہے اور اگر بھول جائے اور اس سے پہلے کہ رکوع کی حد تک جھکے اسے یاد آجائے تو مستحب ہے کہ کھڑا ہو جائے اور قنوت پڑھے۔ اور اگر رکوع میں یاد آجائے تو مستحب ہے کہ رکوع کے بعد قضا کرے اور اگر سجدے میں یاد آئے تو مستحب ہے کہ سلام کے بعد اس کی قضا کرے۔


نماز کا ترجمہ

 ۱۔ سورہ الحمد کا ترجمہ

بِسمِ اللہِ الَّرحِیمِ :"بِسمِ اللہِ " یعنی میں ابتدا کرتا ہوں خدا کے نام سے اس ذات کے نام سے جس میں تمام کملات یکجا ہیں اور جو ہر قسم کے نقص سے مُنَزَّہ ہے۔ "اَلرَّحمٰنِ " اس کی رحمت وسیع اور بے انتہا ہے۔ "الرَّحِیمِ " اس کی رحمت ذاتی اور اَزَلیِ و اَبَدیِ ہے۔ "اَلحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِینَ"۔ یعنی ثنا اس خداوند کی ذات سے مخصوص ہے جو تمام موجودات کا پالنے والا ہے۔ "اَلرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ۔" اس کے معنی بتائے جاچکے ہیں۔ "مَالِکِ یَومِ الدِّینِ" یعنی وہ توانا ذات کہ جزا کے دن کی حکمرانی اس کے ہاتھ میں ہے۔ "اِیَّاکَ نَعبُدُ وَاِیَّاکَ نَستَعِینُ" یعنی ہمیں فقط تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور فقط تجھی سے مدد طلب کرتے ہیں "اِھدِنَاالصِّرَاطَ المُستَقِیمَ" یعنی ہمیں راہ راست کی جانب ہدایت فرما جو کہ دین اسلام ہے "صِراطَ الَّذِینَ اَنعَمتَ عَلَیھِم" یعنی ان لوگوں کے راستے کی جانب جنہیں تو نے اپنی نعمتیں عطا کی ہیں جو انبیاء اور انبیاء کے جانشین ہیں۔ "غَیرِالمَغضُوبِ عَلَیھِم وَلاَ الضَّآلِّینَ" یعنی نہ ان لوگوں کے راستے کی جانب جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان کے راستے کی جانب جو گمراہ ہیں۔

۲۔ سورہ اخلاص کا ترجمہ

بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ۔ اس کے معنی بتائے جاچکے ہیں۔

"قُل ھُوَاللہُ اَحَدٌ"یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کہہ دیں کہ خداوندی وہی ہے جو یکتا خدا ہے۔ "اللہُ الصَّمدُ" یعنی وہ خدا جو تمام موجودات سے بے نیاز ہے۔ "لَم یَلِدوَلَم یُولَد" یعنی نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ "وَلَم یَکُن لَّہ کُفُوًا اَحَدٌ" اور مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کے مثل نہیں ہے۔

۳۔ رکوع، سجود اور ان کے بعد کے مستحب اذ کار کا ترجمہ

"سُبحَانَ رَبِّیَ العَظِیمِ وَبِحَمدہ " یعنی میرا پروردگار بزرگ ہر عیب اور ہر نقص سے پاک اور مُنَزَّہ ہے، میں اس کی ستائش میں مشغول ہوں۔ "سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلٰی وَبِحَمدِہ" یعنی میرا پروردگار جو سب سے بالاتر ہے اور ہر عیب اور نقص سے پاک اور مُنَزَّ ہے، میں اس کی ستائش میں مشغول ہوں۔ "سَمِعَ اللہُ لِمَن حَمِدَہ" یعنی جو کوئی خدا کی ستائش کرتا ہے خدا اسے سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔

"اَستغفِرُاللہِ رَبِّی وَاَتُوبُ اِلَیہِ" یعنی میں مغفرت طلب کرتا ہوں اس خداوند سے جو میرا پالنے والا ہے۔ اور میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ "بِحَولِ اللہِ وَقُوَّتِہٓ اَقُومُ وَاَقعُدُ" یعنی میں خداتعالی کی مدد سے اٹھتا اور بیٹھتا ہوں۔

۴۔ قنوت کا ترجمہ

لآَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ الحَلِیمُ الکَرِیمُ" یعنی کوئی خدا پرستش کے لائق نہیں سوائے اس یکتا اور بے مثل خدا کے جو صاحب حلم و کرم ہے۔ "لآَ اِلٰہُ الاَّ اللہُ العَلِیُّ العَظِیمُ" یعنی کوئی خدا پرستش کے لائق نہیں سوائے اس یکتا اور بے مثل خدا کے جو بلند مرتبہ اور بزرگ ہے۔ "سُبحَانَ اللہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبعِ وَرَبِّ الاَرَضِینَ السَّبعِ" یعنی پاک اور مُنَزَّہ ہے وہ خدا جو سات آسمانوں اور سات زمینوں کا پروردگار ہے۔ "وَمَافِیھِنَّ وَمَافِیھِنَّ وَمَا بَینَھُنَّ وَرَبِّ العَرشِ العَظِیمِ" یعنی وہ ہر اس چیز کا پروردگار ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں اور ان کے درمیان ہے اور عرش اعظم کا پروردگار ہے۔

"وَالحَمدُلِلّٰہِ رَبِّ العَالَمِینَ" اور حمد و ثنا اس خدا کے لئے مخصوص ہے جو تمام موجودات کا پالنے والا ہے۔

۵۔ تسبیحات اربعہ کا ترجمہ

"سُبحَانَ اللہِ وَالحَمدُلِلّٰہِ وَلآَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ اَکبَرُ" یعنی خدا تعالی پاک اور مُنَزَّہ اور ثنا اسی کے لئے مخصوص ہے اور اس بے مثل خدا کے علاوہ کوئی خدا پرستش کے لائق نہیں اور وہ اس سے بالاتر ہے کہ اس کی (کَمَاحَقُّہ) توصیف کی جائے۔

۶۔ تشہُّد اور سلام کا ترجمہ

"اَلحَمدُلِلّٰہِ، اَشھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ الاَّ اللہُ وَحدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہ" یعنی ستائش پروردگار کے لئے مخصوص ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ سوائے اس خدا کے جو یکتا ہے اور جس کا کوئی شریک نہیں کوئی اور خدا پرستش کے لائق نہیں ہے ۔ "وَاَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا وَرَسُولُہ" اور میں گواہی دیتا ہوں کہ مُحمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں "اللّٰھُمَّ صَلِّ علیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ" یعنی اے خدا رحمت بھیج محمد اور آل محمد پر۔ "وَتَقبَّل شَفَاعَتَہ وَارفَع دَرَجَتَہ"۔ یعنی رسول اللہ کی شفاعت قبول کر اور آنحضرت ﷺ کا درجہ اپنے نزدیک بلند کر۔ "اَلسَّلاَمُ عَلَیکَ اَیُّھَاالنّبِیُّ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ" یعنی اے اللہ کے رسول آپ پر ہمارا سلام ہو اور آپ پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ "اَلسَّلامُ عَلَیناَ وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِینَ" یعنی ہم نماز پڑھنے والوں پر اور تمام صالح بندوں پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہو۔ "اَلسَّلاَمُ عَلَیکُم وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرکَاتُہ" یعنی تم مومنین پر خدا کی طرف سے سلامتی اور رحمت و برکت ہو۔


تعقیبات نماز


۱۱۳۱۔ مستحب ہے کہ نماز پڑھنے کے بعد انسان کچھ دیر کے لئے تعقیبات یعنی ذکر، دعا اور قرآن مجید پڑھنے میں مشغول رہے۔ اور بہتر ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ اپنی جگہ سے حرکت کرے کہ اس کا وضو، غسل یا تیمم باطل ہو جائے روبہ قبلہ ہو کر تعقبات پڑھے اور یہ ضروری نہیں کہ تعقیبات عربی میں ہوں لیکن بہتر ہے کہ انسان وہ دعائیں پڑھے جو دعاوں کی کتابوں میں بتائی گئی ہیں اور تسبیح فاطمہ ان تعقیبات میں سے ہے جن کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ یہ تسبیح اس ترتیب سے پڑھنی چاہئے: ۳۴  دفعہ "اَللہُ اَکبَرُ" اس کے بعد ۳۳ دفعہ "اَلحَمدُلِلّٰہِ" اور اس کے بعد ۳۳ دفعہ "سُبحَانَ اللہِ" اور سُبحَانَ اللہِ، اَلحَمدُ لِلّٰہِ سے پہلے بھی پڑھا جاسکتا ہے لیکن بہتر ہے کہ اَلحَمدُ لِلّٰہِ کے بعد پڑھے۔

۱۱۳۲۔ انسان کے لئے مستحب ہے کہ نماز کے بعد سجدہ شکر بجالائے اور اتنا کافی ہے کہ شکر کی نیت سے پیشانی زمین پر رکھے لیکن بہتر ہے کہ سو دفعہ یا تین دفعہ یا ایک دفعہ "شُکرًا لِّلّٰہِ" یا "عَفوًا" کہے اور یہ بھی مستحب ہے کہ جب بھی انسان کو کوئی نعمت ملے یا کوئی مصیبت ٹل جائے سجدہ شکر بجالائے۔


پیغمبر اکرمﷺ پر صَلَوات (دُرود)


۱۱۳۳۔ جب بھی انسان حضرت رسول اکرم ﷺ کا اسم مبارک مثلاً محمد اور اَحمَد یا آنحضرت کا لقب اور کنیت مثلاً مصطفیٰ اور ابوالقاسم ﷺ زبان سے ادا کرے یا سنے تو خواہ نماز میں ہی کیوں نہ ہو مستحب ہے کہ صَلَوَات بھیجے۔

۱۱۳۴۔ حضرت رسول اکرم ﷺ کا اسم مبارک لکھتے وقت مستحب ہے کہ انسان صَلَوَات بھی لکھے اور بہتر ہے کہ جب بھی آنحضرت کو یاد کرے تو صَلَوَات بھیجے۔