اسلامی تصور کائنات

اسلامی تصور کائنات دراصل الٰہی توحیدی تصور کائنات ہی ہے۔ اسلام میں توحید کو اپنی خالص اور پاک ترین شکل میں بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کی نظر میں خدا کی کوئی مثل و نظیر نہیں ہے:
لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ
۝
۰
ۚ
(
سورہ شوریٰ‘ آیت
۱۱)
خدا نہ تو کسی چیز سے شباہت رکھتا ہے اور نہ ہی اسے کسی چیز سے تشبیہ دی جا سکتی ہے‘ خدا مطلقاً بے نیاز ہے‘ سب اسی کے محتاج ہیں جبکہ وہ سب سے بے نیاز ہے۔
اَنْتُمُ الْفُقَرَا
ۗ
ءُ اِلَى اللہِ
۝
۰
ۚ
وَاللہُ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ
۝
۱۵ (
سورہ فاطر‘ آیت
۱۵)
خدا ہر چیز سے آگاہ ہے اور ہر چیز پر قادر ہے:
اِنَّہٗ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ
۝
۱۲ (
سورہ شوریٰ‘ آیت
۱۲)
وَاَنَّہٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
۝
۶
ۙ
(
سورہ حج‘ آیت
۶
اور دیگر بہت سی آیات)
وہ ہر جگہ پر ہے اور کوئی جگہ اس سے خالی نہیں۔ آسمان کے بالائی حصے‘ زمین کی گہرائی کی نسبت اس کے ساتھ ایک ہی ہے۔ ہم جس طرف بھی رخ کر کے کھڑے ہوں گے تو اسی کی جانب کھڑے ہوں گے۔
فَاَيْنَ
ـ
مَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِہ ( سورہ بقرہ‘ آیت
۱۱۵)
وہ سب کے دلوں کے بھید‘ ذہنی خیالات و نیتوں اور ارادوں سے واقف ہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ
۝
۰
ۚۖ
(
سورہ ق‘ آیت
۱۶)
وہ انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس سے نزدیک ہے:
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ
۝
۱۶(
سورہ ق‘ آیت
۱۶)
وہ تمام کمالات کا حامل ہے اور ہر نقص و عیب سے مبرا اور منزہ ہے:
وَلِلہِ الْاَسْمَا
ۗ
ءُ الْحُسْنٰى( سورہ اعراف‘ آیت
۱۸۰)
وہ جسم نہیں ہے اور نہ ہی اسے آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے:
لَا تُدْرِكُہُ الْاَبْصَارُ
۝
۰
ۡ
وَہُوَيُدْرِكُ الْاَبْصَارَ
۝
۰
ۚ
(
سورہ انعام‘ آیت
۱۰۳)
الٰہی اور اسلامی تصور کائنات کی نظر میں کائنات ایک مخلوق ہے اور اللہ کی مشیت و عنایت ہی کے ذریعے قائم ہے۔ اگر کائنات ایک لمحے کے لئے بھی اللہ کے لطف و کرم سے محروم ہو جائے تو نیست و نابود ہو جائے گی۔ اس کائنات کو عبث و باطل اور لہو و لعب کے لئے نہیں بنایا گیا۔ انسان اور کائنات کی تخلیق میں حکیمانہ مقاصد کارفرما ہیں۔ کوئی بھی چیز بے جا اور فائدہ کے بغیر پیدا نہیں کی گئی۔ موجودہ نظام‘ ایک احسن و اکمل نظام ہے‘ کائنات عدل اور حق پر قائم ہے‘ نظام عالم اسباب و سببات پر استوار ہے اور ہر نتیجے کو اس کے مخصوص مقدمے اور سبب میں تلاش کرنا چاہیے‘ ہر نتیجے اور سبب سے صرف اسی کے مخصوص اثر کی توقع رکھنی چاہیے۔
قضا و قدر الٰہی‘ ہر موجود کو اس کی خاص علت کے راستے سے وجود میں لاتی ہے۔ قضا و تقدیر الٰہی بعینہ سلسلہ عدل و اسباب کی قضا و تقدیر ہے۔
(مزید وضاحت کیلئے استاد مطہری ہی کی کتاب ”انسان اور حیوان“)
اللہ کی مشیت اور ارادہ ”سنت“ کی صورت میں یعنی ایک کلی اصول اور قانون کی صورت میں کائنات میں جاری و ساری ہے۔ الٰہی سنتیں تبدیل نہیں ہوتیں بلکہ جو چیز تبدیل ہوتی ہے وہ الٰہی سنتوں کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہے۔ انسان کے لئے دنیا کی اچھائی اور برائی کائنات میں اس کے طرز سلوک اور طریقہ عمل کے ساتھ مربوط ہے۔ انسان کو اچھے اور برے اعمال پر جہاں آخرت میں جزا یا سزا دی جائے گی‘ وہاں یہ اس دنیا میں بھی تاثیر سے خالی نہیں ہوں گے۔ ترویج و ارتقاء اللہ کی سنت ہے‘ کائنات انسانی ارتقاء کا گہوارہ ہے۔
قضا و قدر الٰہی پوری کائنات پر حاکم ہے اور انسان اسی قضا و قدر کی رو سے آزاد‘ خود مختار‘ ذمہ دار اور اپنی تقدیر پر حاکم ہے۔ انسان ذاتاً شرف و بزرگی کا حامل اور خلاف الٰہیہ کے لائق ہے۔ دنیا اور آخرت کا ایک دوسرے سے گہرا رشتہ ہے دونوں کا رابطہ کاشت کے مرحلے اور فصل کی کٹائی کے مرحلے کے درمیان پائے جانے والے رابطے کی مانند ہے یعنی ہر شخص آخرت میں وہی کاٹے گا جو دنیا میں بوئے گا۔ اس کی مثال بچپن اور بڑھاپے کے مابین رابطے کی ہے کیوں کہ بڑھاپے کی بنیاد بچپن اور جوانی ہی میں پڑتی ہے۔