(الف) شرک ذاتی

بعض اقوام ثنویت یا تثلیت یا ایک دوسرے سے جدا کئی قدیم اوزاری مبداؤں کی قائل رہی ہیں اور کائنات کو چند محوروں اور کئی بنیادوں کی حامل سمجھتی رہی ہیں‘ اس قسم کے افکار کا منشاء کیا تھا‘ کیا ان میں سے ہر فکر اپنے دور کے عوام کی اجتماعی صورت حال کی آئینہ دار رہی ہے؟ مثلاً جب لوگ کائنات کے لئے دو قدیم اوزاری مبداؤں اور محوروں کے قائل تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا معاشرہ دو مختلف سمتوں میں تقسیم ہو چکا تھا اور جب لوگ تین مبداؤں اور تین خداؤں کے قائل تھے تو ان کا اجتماعی اور سماجی نظام ایک تثلیثی نظام تھا یعنی ہمیشہ سے اجتماعی نظام ایک اعتقادی اصول کی صورت میں لوگوں کے ذہنوں میں منعکس ہوتا رہا ہے اور لامحالہ جب انبیائے الٰہی کی جانب سے کائنات کے ایک مبداء اور عقیدہ توحید کو موضوع گفتگو بنایا گیا‘ تو یہ وہی وقت تھا جب اجتماعی نظام ایک قطبی ہو چکا تھا۔ یہ نظریہ ایک فلسفی نظریے سے ماخوذ ہے جس کے بارے میں ہم پہلے بھی روشنی ڈال چکے ہیں اس کے مطابق انسان کی فکری و معنوی جہات اور علم‘ قانون‘ فلسفہ‘ مذہب اور فن پر مبنی معاشرے کی معنوی و روحانی بنیادیں اس کے سماجی اور خاص کر اقتصادی نظام کے تابع ہیں اور ازخود اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ گذشتہ بحث میں ہم اس نظریے کا جواب دے چکے ہیں اور چونکہ ہم فکر و خیال‘ نظریہ حیات اور سب سے بڑھ کر انسانیت کے سلسلے میں اصالت و استقلال کے قائل ہیں لہٰذا شرک و توحید کے سلسلے میں اس طرح کے عمرانی نظریات کو بے بنیاد سمجھتے ہیں۔
البتہ یہاں پر ایک اور مسئلہ بھی ہے جسے اس مسئلے کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ کبھی ایک اعتقادی اور مذہبی نظام کسی معاشی اور اجتماعی نظام میں ناجائز استفادہ کا ذریعہ بن جاتا ہے جیسا کہ مشرکین قریش کی بت پرستی سے متعلق خاص نظام سود خور عربوں کی مفاد پرستی کے لئے ایک وسیلہ تھا‘ حالانکہ ابوسفیان‘ ابوجہل اور ولید بن مغیرہ جیسے افراد پر مشتمل سود خوروں کا گروہ ان بتوں پر ذرہ برابر بھی ایمان نہیں رکھتا تھا بلکہ ان کے پیش نظر اس وقت کے معاشرتی نظام کی بقاء تھی اور وہ اسی کا دفاع کرتے تھے اور اس دفاع نے خاص کر اس وقت عملاً سنجیدہ صورت اختیار کر لی جب توحیدی نظام کو جو استحصال اور سود خؤری کا دشمن اور مخالف تھا‘ اسلام کی صورت میں نمودار ہوتا دیکھا۔ جب بت پرستوں نے اپنے وجود کو مٹتے دیکھا تو انہوں نے عوام الناس کے اعتقادات کی حرمت و تقدس کو بہانہ بنایا۔ قرآنی آیات میں اس نکتے کی طرف بہت زیادہ توجہ دلائی گئی ہے‘ خاص طور پر موسیٰ اور فرعون کے واقعے میں‘ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہ مسئلہ اس مسئلے سے مختلف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی نظام بطور کلی فکری مذہبی نظام کی بنیاد ہے۔ فکری و مذہبی نظام‘ اقتصادی اور معاشرتی نظام کا جبری ردعمل ہوتا ہے۔
جس چیز کی انبیاء کے مکتب نے شدت سے نفی کی ہے وہ یہ ہے کہ ہر مکتب فکر لازمی طور پر معاشرتی اور اجتماعی ضروریات و خواہشات کا آئینہ دار ہے اور یہ ضرورتیں اپنے مقام پر اقتصادی حالات اور شرائط کی پیداوار ہیں۔ اس بناء پر یہ نظریہ سو فیصد مادی ہے اور انبیائے الٰہی کا توحیدی مکتب بھی اپنے مقام پر اپنے زمانے کی معاشرتی ضرورتوں اور اقتصادی احتیاجات کی پیداوار ہے‘ یعنی پیداواری آلات ایسی معاشرتی خصوصیات کا سبب ہیں جن کی توحیدی فکر کی صورت میں توجیہہ کرنا پڑے گی اور انبیاء بھی درحقیقت اس معاشرتی اور اقتصادی ضرورت کے مبعوث کردہ ہوتے ہیں اور کسی فکر‘ عقیدہ و تصور کا اقتصادی بنیاد پر قائم ہونے کا یہی مفہوم ہے اور اسی میں توحید کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
چونکہ قرآن انسان کے لئے فطرت کا قائل ہے اور فطرت کو انسانی وجود کا ایک بنیادی پہلو سمجھتا ہے جو اپنے مقام پر افکار اور احتیاجات کی بنیاد بنتا ہے لہٰذا قرآن انبیاء کی دعوت توحید کو اسی فطری ضرورت کا جواب دہ سمجھتا ہے اور عام انسانی اور توحیدی فطرت کے سوا کسی دوسری چیز کو توحید کی بنیاد قرار نہیں دیتا۔
اسی لئے طبقاتی شرائط کو کسی فکر یا عقیدے کا جبری عامل نہیں جانتا اور طبقاتی حالات بنیادی حیثیت کے حامل ہوں اور فطرت کی کوئی حیثیت نہ ہو‘ تو پھر جبراً ہر شخص کی فکر کے شاہین اور خواہشات کا رخ اسی طرف ہو گا جس طرف اس کی طبقاتی شرائط کا تقاضا ہو گا۔ ایسی صورت میں اختیار و انتخاب کی بات ختم ہو جائے گی‘ نہ تو فرعون جیسے قابل ملامت ہوں گے اور نہ ہی ان کے مخالف ستائش و تحسین کے لائق‘ کیوں کہ انسان اسی لئے مستحق ملامت یا لائق تحسین ہوتا ہے‘ جب وہ ارادہ و اختیار رکھتا ہو۔ لیکن اگر اس کے ہاتھ میں اس کا اختیار نہ ہو (جیسے سیاہ فام باشندوں کی سیاہی اور سفید فام باشندوں کی سفیدی) نہ تو وہ ملامت کا مستحق ہو گا اور نہ ہی لائق تحسین و ستائش۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ انسان طبقاتی سوچ کا غلام نہیں ہے۔ وہ اپنے طبقاتی مفادات کے خلاف قیام کر سکتا ہے جیسا کہ فرعون کے ناز و نعم سے پلنے والے حضرت موسیٰ نے قیام کیا تھا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس قسم کی گفتگو کرنا جہاں انسان کی انسانیت کو سلب کر لیا جائے وہاں ایک بے ہودہ اور باطل بات سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔
البتہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مادی حالت کا فکری کیفیت اور فکری کیفیت کا مادی حالت پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ ایک دوسرے پر بے اثر ہیں بلکہ اس کے معنی ایک کے غالب اور دوسرے کے مغلوب ہونے کی نفی ہے وگرنہ قرآن نے خود کہا ہے کہ
كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى
۝
۶
ۙ
اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰى
۝
۷
ۭ
”انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز اور طاقت ور سمجھنے لگتا ہے تو باغی ہو جاتا ہے۔“(سورئہ علق‘ آیت ۔
۶
۔
۷)
قرآن نے ایک طرف انبیاء کے خلاف سرمایہ داروں کے خصوصی کردار کا ذکر کیا ہے اور دوسری طرف یہ بھی بتایا ہے کہ مستضعفین نے انبیاء کی خصوصی حمایت کی ہے اور اس طرح سے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ ہر شخص میں‘ فطرت انسانی (کہ جو انسان کو دعوت بیداری دیتی ہے) کے وجود کا قائل ہے۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ ان میں سے ایک گروہ (سرمایہ دار) کو روحانی اعتبار سے ایک بڑی رکاوٹ یعنی موجود مادی مفادات اور جن ظالمانہ امتیازات کو حاصل کیا ہے ان سے عبور کرنا ہو گا لیکن دوسرے گروہ کی راہ میں ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور بقول سلمان فارسی ”نجی المحفون“ جن کا بوجھ ہلکا ہے‘ انہی کو نجات حاصل ہے بلکہ جہاں ان کی فطرت کو مثبت جواب فراہم کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں وہاں ایک سہولت اور بھی حاصل ہے اور وہ یہ کہ اپنی پرمشقت زندگی سے بہتر حالت تک پہنچتے ہیں اور اسی سبب پیغمبروں کے پیروکاروں میں اکثریت ان لوگوں کی رہی ہے جو اپنے معاشرے کے مستضعف لوگ تھے لیکن ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ انبیاء نے دوسرے گروہ میں سے اپنے حامی پیدا کئے اور انہیں اپنے طبقے اور طبقاتی نظام کے خلاف قیام پر ابھارا جیسا کہ مستضعفین کے گروہ میں سے کچھ لوگ اپنی بعض عادات و خصائل اور وراثتی میلانات وغیرہ کی وجہ سے انبیاء کے دشمنوں سے مل گئے۔ قرآن نے حضرت موسیٰ اور حضرت پیغمبر اکرم ﷺکے خلاف لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے والے فرعونوں اور ابوسفیانوں کی اپنے زمانے کی شرک آلود نظام سے وابستگی اور حمایت کو طبقاتی نظام کی جبری سوچ پر محمول نہیں کیا اور یہ نہیں کہا کہ انہوں نے اپنے طبقاتی نظام کے تقاضے کی بناء پر ایسا کیا ہے اور وہ ایسی روش اختیار کرنے پر مجبور تھے اور ان کے عقائد میں معاشرتی تقاضوں کی چھاپ تھی‘ بلکہ قرآن نے یہ بات پیش کی کہ یہ لوگ دھوکہ باز تھے اور حقیقت کو خداداد فطرت پر سمجھنے کے باوجود اس کا انکار کرتے تھے۔
وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَيْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ(سورئہ نمل‘ آیت
۱۴)
قرآن کریم نے ان کے کفر کو کفر جحودی سے تعبیر کیا ہے یعنی دل میں اقرار اور زبان پر انکار۔ دوسرے الفاظ میں قرآن نے اس طرح کے انکار کو اپنے ضمیر کی آواز کے خلاف ایک طرح کے قیام سے تعبیر کیا ہے۔
ایک بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ بعض افراد نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ قرآن‘ مارکسزم (
Historical Materialism
) کو قبول کرتا ہے۔ ہم اسلامی تصور کائنات سے متعلق اپنی بحث کے دوسرے حصے میں جہاں ”معاشرے اور تاریخ“ کا اسلامی نقطہ نظر سے جائزہ لیں گے‘ اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کریں گے۔ یہ نظریہ نہ تو تاریخ کے عینی حقائق پر منطبق ہے اور نہ علمی اعتبار سے اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔
بہرحال متعدد مبداء پر اعتقاد شرک در ذات ہے اور توحید ذاتی کا مدمقابل ہے۔ قرآن برہان (برہان تمانع) قائم کرتے ہوئے کہتا ہے:
لَوْ كَانَ فِيْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا
۝
۰
ۚ
”اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا کئی خدا ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو چکے ہوتے۔“(سورہ انبیاء۔
۲۲)
بہرحال اس قسم کا اعتقاد اہل توحید کی صفت اور دائرئہ اسلام سے خارج ہو جانے کا باعث بنتا ہے اور اسلام شرک در ذات کو ہر صورت میں بطور کلی رد کرتا ہے۔