الٰہی تصور کائنات

ایک اچھا تصور کائنات جن خصوصیات اور اوصاف کا حامل ہوتا ہے وہ تمام خصوصیات الٰہی تصور کائنات میں بھی جمع ہیں اور صرف الٰہی تصور کائنات ہی تمام خصوصیات کا حامل ہو سکتا ہے۔
الٰہی تصور کائنات سے مراد اس چیز کا ادراک ہے کہ کائنات ایک حکیمانہ مشیت سے وجود میں آئی ہے اور نظام ہستی خیر اور جود و رحمت نیز مخلوقات کو اپنے شایان شان کمالات تک پہنچانے کی بنیاد پر استوار ہے۔ الٰہی تصور کائنات کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا صرف ایک ہی محور و مرکز ہے۔ الٰہی تصور کائنات کا مطلب یہ ہے کہ کائنات اسی سے ہے:
اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ
۝
۱۵۶
ۭ
(
سورہ بقرہ‘ آیت
۱۵۶)
مخلوقات جہاں ایک ہم آہنگ نظام کے تحت ایک ہی مرکز کی طرف ارتقائی منازل طے کر رہی ہیں۔ کسی بھی مخلوق کی خلقت عبث‘ بے ہودہ اور بے مقصد نہیں ہے‘ کائنات ایسے قطعی نظاموں کے تحت چل رہی ہے جنہیں ”الٰہی سننوں“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تمام مخلوقات میں انسان کو ایک خاص شرف و بزرگی حاصل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے کاندھوں پر ایک خاص ذمہ داری کا بوجھ بھی ہے۔ وہ اپنی تکمیل و تربیت اور معاشرے کی اصلاح کا ذمہ دار بھی ہے۔ یہ کائنات انسان کے لئے ایک درس گاہ ہے اور خداوند تعالیٰ ہر انسان کو اس کی صحیح نیت اور کوشش کے مطابق جزا دیتا ہے۔
الٰہی تصور کائنات منطق و علم اور استدلال پر استوار ہے۔ کائنات کے ہر ذرے میں خدائے علیم و حکیم کے وجود کے دلائل موجود ہیں اور ہر برگ‘ شجر‘ معرفت پروردگار کا دفتر ہے۔ الٰہی تصور کائنات حیات و زندگی کو بامعنی و بامقصد بناتا ہے اور اسے روح عطا کرتا ہے کیوں کہ الٰہی تصور کائنات انسان کو کمال کے ایسے راستے پر ڈال دیتا ہے‘ جس کی کوئی معین حد نہیں ہوتی اور وہ ہمیشہ آگے ہی بڑھتا رہتا ہے‘ الٰہی تصور کائنات میں جو کشش اور جاذبیت پائی جاتی ہے اس سے انسان کو دل گرمی اور خوشی و مسرت حاصل ہوتی ہے‘ الٰہی تصور کائنات مقدس اور اعلیٰ و ارفع اہداف سے روشناس کراتا ہے اور ایسے افراد پیدا کرتا ہے‘ جو جذبہ ایثار اور قربانی سے سرشار ہوتے ہیں۔ صرف الٰہی تصور کائنات ہی ایسا تصور کائنات ہے جس سے انسانوں میں ایک دوسرے کی نسبت احساس ذمہ داری کی صحیح شکل سامنے آتی ہے نیز صرف یہی ایک ایسا تصور کائنات ہے جو انسان کو عدم کی پرستش اور عبث پسندی کے ہولناک گڑھے میں گرنے سے نجات دلاتا ہے۔