ایک اچھے تصور کائنات کا معیار

ایک اچھے تصور کائنات کا معیار یہ ہے کہ اولاً تو وہ قابل اثبات و استدلال ہو۔ دوسرے الفاظ میں اسے عقل و منطق کی حمایت حاصل ہو‘ دوسرا یہ کہ حیات و زندگی کو بامقصد اور بامعنی بناتا ہو‘ اور زندگی کے بے کار‘ بے سود‘ فضول اور بے ہودہ ہونے کے تصور کو اور اس خیال کو کہ تمام راہیں نیستی اور عدم کی طرف جا پہنچتی ہیں‘ ذہنوں سے نکال دیتا ہو‘ تیسرا یہ کہ آرزو پرور‘ ولولہ انگیز اور پرامید بنانے والا ہو‘ چوتھا یہ کہ انسانی اور اجتماعی اہداف کو تقدس عطا کرنے کی قوت رکھتا ہو‘ پانچواں یہ کہ ذمہ دار اور جواب دہ بناتا ہو‘ کسی تصور کائنات کا منطقی ہونا‘ جہاں اس کے لئے عقلی حوالوں سے اور اذہان کے لئے قابل قبول بنانے کی راہ ہموار کرتا ہے‘ وہاں ان ابہامات اور تاریکیوں کو بھی برطرف کر دیتا ہے جو عمل کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔
کسی مکتب کے تصور کائنات میں پرامید بنانے کا پہلو اسے تجاذب اور قوت کشش عطا کرتا ہے اور اسے طاقت و حرارت بھی بخشتا ہے۔
تصور کائنات کسی مکتب کے اہداف و مقاصد کو تقدس عطا کرتا ہے تو اس کے باعث لوگ باآسانی اس مکتب کے اہداف و مقاصد کی راہ میں اس وقت تک ایثار و قربانی پیش کرنے لگتے ہیں‘ جب تک مکتب کے عملی نفاذ کی ضمانت فراہم نہیں ہو جاتی۔ جب کوئی کسی شخص کے لئے ذمہ دارانہ جواب دہی پیدا کرتا ہے تو اس سے انسان اپنے ضمیر و وجدان کی گہرائیوں میں ذمہ داری کا احساس کرنے لگتا ہے اور معاشرے کے سامنے بھی اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا ہے۔