(ب) شرک در خالقیت

بعض قومیں اللہ کو بے مثل و مانند اور عالم ہستی کا واحد مبداء سمجھتی تھیں لیکن بعض دوسری قومیں مخلوقات کو اس کے ساتھ خالقیت میں شریک گردانتی تھیں مثلاً وہ کہتی تھیں کہ خداوند عالم ”شر اور برائی“ کی خلقت کا ذمہ دار نہیں بلکہ ”شر“ کو بعض دیگر مخلوقات نے جنم دیا ہے۔
اس طرح کا شرک جو خالقیت اور فاعلیت میں شرک ہے‘ توحید افعالی کا مدمقابل ہے۔ اسلام اس طرح کے شرک کو بھی ناقابل معافی سمجھتا ہے۔ البتہ شرک در خالقیت کے بھی اپنے مقام پر کئی درجات ہیں کہ جن سے بعض کا تعلق شرک خفی سے ہے نہ کہ شرک جلی سے‘ اور اس میں انسان اہل توحید کے زمرے اور دائرئہ اسلام سے مکمل طور پر خارج نہیں ہوتا۔