Table of Contents

تصور کائنات

بہرحال ہر فلسفہ حیات اور مسلک و مکتب کائنات کے بارے میں ایک طرح کی تفسیر و تحلیل اور رائے و بصیرت پر استوار ہوتا ہے۔ ایک مکتب‘ کائنات کے بارے میں جس طرح کے طرز فکر اور فہم و شعور سے آگاہ کرتا ہے اسے ہی اس مکتب کی فکری اساس اور بنیاد قرار دیا جاتا ہے اور اسے ہی فکری اساس و بنیاد کو تصور کائنات یا جہان بینی کہا جاتا ہے۔
ہر دین و مذہب اور اجتماعی فلسفہ ایک طرح کے تصور کائنات پر منحصر ہوتا ہے۔ ایک مکتب و مذہب جن اہداف و مقاصد کی طرف دعوت دیتا ہے‘ جس راہ و روش کو متعین کرتا ہے‘ جس طرح چاہیے اور نہیں چاہیے‘ کو وجود میں لاتا ہے اور جن ذمہ داریوں کو بیان کرتا ہے وہ سب اسی تصور کائنات کے لازمی نتیجہ کی مانند ہوتا ہے جو وہ مکتب پیش کرتا ہے۔
حکماء حکمت کو حکمت نظری اور حکمت عملی میں تقسیم کرتے ہیں۔ حکمت نظری عالم ہستی کو اس طرح پہچاننے کا نام ہے کہ جیسے وہ ہے جب کہ حکمت عملی‘ زندگی کی جو راہ متعین ہونی چاہیے اسی کے فہم و شعور کا نام ہے۔ لہٰذا جو کچھ کسی کا تصور ہو گا‘ اسی کے ماتحت وہ چاہے گا حکم لگائے گا‘ خصوصاً وہ ہست و وجود کہ جس کا بیان فلسفہ اولیٰ اور حکمت مابعدالطبیعات کے ذمہ ہے۔