حقیقت بین تصور کائنات

اسلام ایک حقیقت بین اور واقعیت پرست دین ہے۔ اسلام کا لفظ تسلیم کے معنی میں ہے اور اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان ہونے کی پہلی شرط حقائق و واقعات کے سامنے تسلیم ہونا ہے‘ کسی بھی قسم کے عناد‘ ہٹ دھرمی‘ تعصب‘ اندھی تقلید“ جانب داری اور خود خواہی چونکہ حقیقت طلبی اور واقعیت پسندی کی روح کے خلاف ہے لہٰذا اسلام نے اس کی مذمت کی ہے اور اسے مسترد کر دیا ہے۔ اسلام کی نظر میں اگر انسان حقیقت جو اور حق تک پہنچنے کی راہ میں کوشش کرنے والا ہو اور بالفرض حقیقت تک نہ پہنچے تو مغرور ہے لیکن اگر کسی کی روح میں عناد اور ڈھٹائی کا مادہ پایا جاتا ہو اور بالفرض تقلید‘ وراثت اور ان جیسی دوسری چیزوں کے وسیلے سے حقیقت کو قبول بھی کر لیتا ہے تب بھی اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ایک حقیقی مسلمان چاہے وہ مرد ہو یا عورت‘ اپنی فطرت میں موجود اپنی حقیقت طلب روح کی بناء پر حکمت اور حقیقت کو جہاں سے بھی ملے‘ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور حصول علم کی راہ میں تعصب سے کام نہیں لیتا‘ اگر بالفرض وہ دنیا کے دور ترین خطے میں بھی اسے پاتا ہے تو اس کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے۔ ایک حقیقی مسلمان‘ حقیقت کی جستجو کو نہ تو اپنی عمر کے کسی خاص زمانے میں محدود کرتا ہے اور نہ ہی کسی خاص علاقے سے وابستہ کرتا ہے اور نہ ہی اسے مخصوص افراد میں منحصر سمجھتا ہے کیوں کہ اسلام کے عظیم پیشوا نے فرمایا ہے کہ حصول علم ہر مسلمان کا فریضہ ہے (چاہے وہ مرد ہو یا عورت) اسی طرح ان کا ارشاد ہے:
خذوا الحکما ولو من المشرک… الحکما ضالا المومن فلیطلبھا ولو فی ید اھل الشرک(تحف العقول‘ ص
۱۹۸)
”حکمت کو کہیں سے بھی اور چاہے جس کے ہاتھ میں بھی دیکھو اسے حاصل کرو اگرچہ وہ کسی مشرک کے ہاتھ میں کیوں نہ ہو۔“
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
اطلبوا العلم ولو بالصین
”علم حاصل کرو چاہے اس کے لئے تمہیں چین جانا پڑے۔“
اس طرح سے آپ سے یہ بھی منسوب ہے کہ
اطلبوا العلم من المھد الی اللحد
”گہوارے سے گور تک علم حاصل کرو۔“
مسائل کے سلسلے میں یک طرفہ اور سطحی سوچ‘ ماں باپ کی اندھی تقلید نیز موروثی سنتوں اور روایات کے سامنے جھک جانا اسی لئے قابل مذمت ہے کہ یہ چیز روح تسلیم اور اسلام کی حقیقت طلبی کے خلاف ہے اور حقیقت سے دوری‘ انحراف اور خطا کا باعث بنتی ہے۔