حکمت بالغہ اور عدل الٰہی

الٰہی تصور کائنات میں چند ایسے مسائل زیربحث آتے ہیں جو کائنات کے ساتھ اللہ کے رابطے سے متعلق ہیں‘ مثلاً حدوث و قدم عالم‘ نظام و ترتیب خلقت موجودات یا وہ دیگر مسائل جن کا الہیات میں تفصیل سے تذکرہ ہے۔ اس مقام پر جس چیز کا تذکرہ مناسب حال ہے وہ حکمت بالغہ الٰہی اور عدل الٰہی سے متعلق مسائل ہیں اور یہ دونوں مسائل ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب ہیں۔ حکمت بالغہ الٰہی کا مسئلہ اس حوالے سے زیربحث آتا ہے کہ یہ نظام ہستی ایک حکیمانہ نظام ہے یعنی امور دنیا میں صرف علم و شعور اور ارادہ و مشیت ہی کا عمل دخل نہیں ہے بلکہ موجودہ نظام ایک احسن اور اصلح نظام ہے اور اس سے زیادہ بہتر اور مفید نظام ناممکن اور محال ہے جہان موجود کامل ترین جہان ممکن ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے سوالات اور اعتراضات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں ایسے حوادث و واقعات مشاہدہ میں آتے ہیں جن پر اس کے نقص‘ شر‘ قبیح یا عبث ہونے کا عنوان آتا ہے۔ حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ شر کی جگہ خیر‘ بدصورتی کی جگہ خوبصورتی‘ عبث اور باطن کی جگہ مفید ہو۔ ناقص الخلقت لوگ‘ مختلف بلائیں‘ مصیبتیں‘ قبیح مناظر اور انسان و حیوان کے بدن میں زائد اعضاء و اجزاء خلاف حکمت کو ثابت کرتے ہیں۔ عادلانہ نظام تو یہ ہے کہ ظلم اور امتیازی سلوک کا کہیں وجود نہ ہو‘ آفت و بلا نام کی کوئی چیز نہ ہو بلکہ اس نظام میں عدم اور فنا بے معنی ہوں اس لئے کہ کسی ہستی کو وجود میں لانا‘ اسے لذت ہستی سے آشنا کرنا اور پھر دیار عدم میں بھیج دینا ظلم ہے۔ عادلانہ نظام سے مراد یہ ہے کہ اس نظام کے تمام موجودات میں جہل‘ عجز‘ ضعف و فقر جیسے نقائص موجود نہ ہوں‘ اس لئے کہ کسی موجود کو وجود کا لباس پہنانے کے بعد اسے ہستی و وجود کے شرائط کمالات سے محروم رکھنا ظلم ہے۔ اگر موجودہ نظام ایک عادلانہ نظام ہے تو پھر یہ تفاوت و تبعیض کیوں؟ اس کی کیا وجہ ہے کہ کوئی گورا ہے کوئی کالا‘ کوئی خوبصورت ہے تو کوئی بدصورت‘ کوئی تندرست ہے تو کوئی بیمار؟ کیوں ایک وجود کو انسان بنایا اور دوسرے کو بھیڑ‘ بکری یا بچھو یا زمین پر رینگنے والا کیڑا؟
ایک شیطان خلق ہوا‘ اور دوسرا فرشتہ سب ایک جیسے کیوں نہیں بنائے گئے؟ یا پھر ایسا کیوں نہیں ہوا کہ وہ جو گورا‘ خوبصورت اور تندرست ہے‘ کالا‘ بھدا اور بیمار ہو جائے۔ آخر کیوں؟
یہ اور اس جیسے دوسرے سوالات کائنات کے بارے میں اٹھائے گئے ہیں اور اب الٰہی تصور کائنات کہ جو اس دنیا کو فعل خدائے حکیم اور خدائے عادل علی الاطلاق جانتا ہے‘ کا یہ فرض ہے کہ ان سوالات کا جواب دے۔
چونکہ ان سوالات کا اگر تفصیلی جواب دیا جائے تو ایک ضخیم اور مستقل کتاب بن جائے گی۔ اس کے علاوہ ہم نے خود بھی اپنی کتاب عدل الٰہی میں انہی موضوعات پر گفتگو کی ہے جو کئی بار شائع ہو چکی ہے اور بازار میں دستیاب ہے اور ہم نے ان سوالات کا حل بھی کتاب میں پیش کر دیا ہے لہٰذا یہاں پر تفصیل میں جانے کی بجائے حقیقت کے متلاشی افراد کو اس کتاب کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہاں پر ہم صرف ان اصولوں کے تذکرہ پر اکتفا کر رہے ہیں جن سے آگاہی حاصل ہو جانے کے بعد ان اشکالات و سوالات کے حل کی راہ ہموار ہو جائے گی اور نتیجہ اخذ کرنے کی ذمہ داری خود محترم قاری پر چھوڑ رہے ہیں۔