خدا واقعیت مطلق اور مبدائے ہستی

انسان ایک واقعیت پسند مخلوق ہے۔ انسان کا بچہ اپنی زندگی کی ابتداء ہی سے ماں کی چھاتی کو ایک حقیقت کے عنوان سے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر جب آہستہ آہستہ بچے کی جسمانی اورذہنی نشوونما ہونے لگتی ہے تو وہ اپنے اور دیگر اشیاء کے درمیان تمیز کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ اشیاء کو اپنے سے باہر اور جدا سمجھتا ہے‘ اگرچہ اشیاء کے ساتھ اس کا رابطہ ذہنی خیالات کے ایک سلسلہ کے ذریعے قائم ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ذہن سے ایک وسیلے اور رابطہ عمل کے طور پر استفادہ کرتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اشیاء کی حقیقت اس کے ذہن میں موجود افکار سے جدا ہے۔
جن حقائق اور واقعیات کا انسان اپنے حواس کے ذریعے ادراک کرتا ہے اور جس کے مجموعے کو کائنات سے تعبیر کیا جاتا ہے‘ وہ ایسے امور سے عبارت ہیں جن سے مندرجہ ذیل خصوصیات جدا نہیں ہو سکتیں: