Table of Contents

دنیا اور آخرت

دنیا اور آخرت کے اعتبار سے کائنات کی تقسیم اسلامی تصور کائنات کا ایک اور موضوع ہے۔ غیب و شہادت کے عنوان سے پہلے ہم جو کچھ عرض کر چکے ہیں اس کا تعلق ایسی دنیا سے تھا جو ہماری اس دنیا پر محیط ہے اور ہماری اس دنیا کو سنوارتا ہے۔ اگرچہ ایک اعتبار سے عالم آخرت عالم غیب ہے اور یہ دنیا عالم شہادت لیکن یہ وہ دنیا ہے جس میں ہمیں اس موجودہ دنیا کے بعد قدم رکھنا ہے لہٰذا اس کی وضاحت ایک علیحدہ عنوان کے تحت ضروری ہے۔ عالم غیب وہ دنیا ہے جہاں سے ہم آئے ہیں اور عالم آخرت وہ منزل ہے جہاں ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ حضرت علیؑ کے اس جملے کا بھی یہی معنی ہے:
رحم اللّٰہ امرءً اعلم من این و فی این والی این
”اللہ کی رحمت ہو اس شخص پر جس نے یہ جان لیا کہ وہ کہاں سے آیا ہے؟ کس منزل پر ہے؟ اور اسے کہاں جانا ہے؟“
حضرت علیؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کی رحمت ہو‘ اس شخص پر جو یہ جان لے کہ کس چیز سے اس کی خلقت ہوئی ہے‘ کس چیز میں اسے جانا ہے‘ اور جس چیز سے وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اگر آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہوتا تو ہم یہ کہتے کہ مٹی سے ہماری خلقت ہوئی ہے‘ اسی میں ہمیں لوٹ کر جانا ہے‘ اور اسی سے دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ اگر آپ کا یہ ارشاد ہوتا ہے تو قرآن کی اس آیت کی طرف آپ کا اشارہ ہوتا:
مِنْہَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْہَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُكُمْ تَارَۃً اُخْرٰى
۝
۵۵
”ہم نے تمہیں زمین سے تخلیق کیا ہے‘ اسی میں تمہیں لوٹایا جائے گا‘ اور پھر اسی سے دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔“(سورئہ طہٰ‘ آیت
۵۵)
لیکن حضرت علیؑ کی نگاہ قرآن کی دوسری آیات کی جانب تھی کہ جو بلند تر مفاہیم کی حامل ہیں۔ آپ نے فرمایا ہم کس دنیا سے یہاں آئے ہیں؟ کس دنیا میں ہیں اور کس دنیا کی طرف ہمیں جانا ہے؟
دنیا و آخرت بھی غیب و شہادت کی مانند اسلامی تصور کائنات کے اعتبار سے دو مطلق مفاہیم کی حامل ہے نہ کہ نسبی اور قرآن کی رو سے ان میں سے ہر ایک جدا عالم ہے جو چیز نسبی ہے‘ وہ کار دنیا اور کار آخرت ہے‘ یعنی اگر کوئی کام نفس پرستی کے تحت انجام دیا جائے تو وہ دنیوی کام ہو گا اور اگر یہی کام خدا اور رضائے الٰہی کی خاطر ہو تو کار آخرت ہو گا‘ بعد میں ہم ”زندگی جاوید یا حیات اخروی“ کے عنوان سے دنیا و آخرت کے بارے میں تفصیل سے بحث کریں گے۔