(د) شرک در پرستش

بعض قومیں پرستش کے مرحلے میں لکڑی‘ پتھر‘ دھات‘ حیوان‘ ستارے‘ چاند‘ سورج‘ درخت یا دریا وغیرہ کو پوجتی رہی ہیں۔ اس نوعیت کا شرک کثرت سے تھا اور آج بھی دنیا کے بعض حصوں میں یہ موجود ہے۔ یہ شرک‘ شرک در عبادت میں شمار ہوتا ہے اور یہ توحید در عبادت کا مقابل ہے۔ اوپر بیان کئے جانے والے شرک کی اقسام اور مراتب نظری سے منسوب ہیں اور غلط معرفت پر مبنی ہیں لیکن یہ شرک‘ شرک عملی ہے اور اس کا تعلق غلط ہونے اور غلط انجام پانے سے ہے۔
البتہ شرک عملی کی بھی اقسام اور درجات ہیں اور ان میں سب سے بلند درجہ وہ ہے جو انسان کو دائرئہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے اور جسے شرک جلی کہا جاتا ہے لیکن شرک خفی کی بعض ایسی اقسام ہیں کہ جن کا اسلام اپنی توحید عملی کے پروگرام میں سخت مقابلہ کرتا ہے۔ ان میں سے بعض شرک تو اتنے چھوٹے اور مخفی ہوتے ہیں جن کو طاقت ور ترین خوردبین سے بمشکل دیکھا جا سکتا ہے۔
جناب رسالت مآب سے ایک حدیث میں وارد ہوا ہے:
الشرک اخفی من دبیب الذر علی الصفافی اللیلة الظلما و ادناہ یحب علی شئی من الجور و یبغض علی شئی من العدل و ھل الدین الا الحب و البغض فی اللہ قال اللہ ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ(تفسیرالمیزان (عربی متن) آیت قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی کے ذیل میں)۔
شرک کی چال اس چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے کہ جو گھپ اندھیری رات میں ایک صاف پتھر پر قدم جمائے آگے بڑھ رہی ہے۔ سب سے چھوٹا اور کم ترین شرک یہ ہے کہ انسان بہت معمولی ظلم کو پسند کرے اور اس پر راضی ہو جائے یا پھر بہت معمولی حد تک عدل سے دشمنی اختیار کرے۔ کیا دین اللہ کے لئے دوستی اور اللہ کے لئے دشمنی کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے؟ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:
”کہہ دو اے رسول! اگر تم اللہ سے دوستی کے دعویدار ہو تو میری پیروی کرو (میرے ان احکامات کی پیروی کرو جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں) اللہ تم کو دوست رکھے گا۔“
اسلام ہر طرح کی نفس پرستی‘ مقام پرستی‘ مال پرستی اور شخصیت پرستی کو شرک گردانتا ہے۔ قرآن جناب موسیٰ اور فرعون کے قصے میں بنی اسرائیل پر فرعون کے جابرانہ تسلط کو ”بندہ بنانے“ سے تعبیر کرتا ہے۔ خداوند عالم جناب موسیٰ کی زبانی فرعون سے اس کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے:
وَتِلْكَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَيَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِيْٓ اِسْرَا
ۗ
ءِيْلَ
۝
۲۲
ۭ
(
سورئہ اشعراء آیت۔
۲۲)
”یعنی تو نے ایک بنی اسرائیل کو اپنا بندہ بنا لیا ہے اور پھر مجھ پر احسان جتاتا ہے کہ جب میں تیرے گھر میں تھا تو ایسا یا ویسا تھا؟“
واضح سی بات ہے کہ بنی اسرائیل نہ تو فرعون کی پرستش کرتے تھے اور نہ ہی فرعون کے غلام تھے بلکہ اس کے ظالمانہ طاغوتی نظام کے تحت تسلط تھے۔ قرآن ایک اور مقام پر فرعون کی زبان سے اس غلبے اور ظالمانہ تسلط کو ان الفاظ میں نقل کرتا ہے:
انا فوقھم قاھرون (سورئہ مومنون‘ آیت
۴۷)
”لوگ ہمارے ماتحت اور ہم ان پر حاکم اور قاہر ہیں۔“
اسی طرح ایک اور مقام پر پھر فرعون کی زبان سے نقل کرتا ہے:
وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ
۝
۴۷
ۚ
”یعنی جناب موسیٰ اور ہارون کی قوم (بنی اسرائیل) ہماری غلام ہے۔“
اس آیہ کریمہ میں ”لنا“ کا لفظ (ہمارے لئے) اس امر کا بہترین قرینہ ہے کہ یہاں پرستش مراد نہیں ہے کیوں کہ اگر بالفرض بنی اسرائیل پرستش پر مجبور ہوتے تو وہ تنہا فرعون کی پرستش کرتے نہ کہ فرعون کے سب ساتھیوں کی۔ وہ چیز جو فرعون اور فرعون کے تمام ساتھیوں کی طرف سے (جسے قرآن کی اصطلاح میں ”ملا“(
۱)
فرعون) ان پر مسلط کی گئی تھی‘ جبری اطاعت تھی۔
حضرت علی علیہ السلام خطبہ قاصعہ میں فرعون کے ہاتھوں بنی اسرائیل کی محکومیت اور اس کے ظالمانہ تسلط کو بندہ بنانے سے تعبیر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:
اتخذ تھم الفراعنة عبیدا
”فراعنہ نے انہیں اپنا عبد بنا رکھا تھا۔“
اس کے بعد آپ اس بندگی کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
فسا موھوم العذاب و جرعوھم المرار فلم تبرح الحال بھم من ذل الھلکۃ و قھر الغلبۃ لا یجدون حیلۃ فی امتناع و لا سبیلا الی دفاع
”فرعونوں نے انہیں تکلیفیں دیں‘ عذاب میں ڈالا‘ کڑوے گھونٹ پلائے‘ لوگ ہلاکت میں ڈالنے والی ذلت اور دشمن کی ظالمانہ فرماں روائی پر مبنی مقہوریت میں اپنی زندگی کے دن کاٹ رہے تھے ان کے پاس اپنے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں تھا۔“
سب سے زیادہ واضح اور روشن گفتگو اس آیت میں ہے جس میں اہل ایمان سے خلافت الٰہیہ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَ
ـ
مَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ
۝
۰
۠
وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُمْ مِّن
ۢ
ْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا
۝
۰
ۭ
يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَ
ـ
يْ
ــــ
ًٔ
ـ
ا
۝
۰
ۭ
(
سورئہ نور‘ آیت
۵۵)
”خداوند عالم نے ان سب لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل انجام دیئے‘ یہ وعدہ کیا ہے کہ ضرور ان کو زمین کی خلافت دے گا جیسا کہ ان سے پہلے والوں کو دے چکا ہے اور ان کے اس دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کر لیا ہے‘ اقتدار عطا کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا‘ اس وقت وہ میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“
اس آیت کا آخری جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جب حق کی حکومت اور خلافت الٰہیہ کا قیام عمل میں آئے گا اور اہل ایمان ہر ظالم کی قید اطاعت سے آزاد ہوں گے تو وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی کو میرا شریک نہیں بنائیں گے۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ قرآن کی نظر میں ہر حکم کی اطاعت عبادت ہے‘ اگر خدا کے لئے ہو تو اطاعت الٰہی ہے اور اگر غیر اللہ کے لئے ہو تو شرک ہے۔
یہ ایک عجیب بات ہے کہ جبری اطاعتیں جو اخلاقی نقطہ نظر سے ہرگز عبادت نہیں ہیں معاشرتی نقطہ نگاہ سے عبادت محسوب ہوتی ہیں- رسول اکرم
۱
کا ارشاد ہے:
اذا بلغ بنو العاص ثلثین اتخذوا مال اللّٰہ دولا و عباد اللّٰہ خولا و دین اللہ دخل(شرح ابن ابی الحدید‘ شرح نہج البلاغہ‘ خطبہ
۱۲۸
کی شرح)
”جس وقت عاص بن امیہ کی اولاد (مروان بن حکم کا دادا اور اکثر خلفائے بنی امیہ)
۳۰
کی تعداد تک پہنچ جائے گی تو اللہ کا مال ان کے درمیان تقسیم ہونے لگے گا اور یہ لوگ اللہ کے بندوں کو اپنا بندہ قرار دیں گے اور اللہ کے دین میں دخل اندازی کریں گے۔“
یہاں پر بنی امیہ کے ظلم و استبداد کی طرف اشارہ ہے۔ ظاہر ہے کہ بنی امیہ نہ لوگوں کو اپنی پرستش کی دعوت دیتے تھے اور نہ انہوں نے لوگوں کو اپنا غلام بنایا ہوا تھا‘ بلکہ انہوں نے لوگوں پر اپنے استبداد اور جبر کو مسلط کر رکھا تھا‘ جناب رسول خدا نے اپنی مستقبل بین الٰہی نگاہوں سے اس صورت حال کو ایک طرح کا شرک اور ”رب و مربوب“ کا رابطہ قرار دیا ہے۔