روح عبادت و پرستش

انسان اپنی قولی و عملی عبادت سے جس چیز کا اظہار کرتا ہے اسے ذیل میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
۱
۔
اللہ کے ان اوصاف و صفات سے ثنا و تعریف جو خود اس کے ساتھ مخصوص ہیں‘ یعنی ایسے اوصاف جن کا مفہوم کمال مطلق ہے‘ مثلاً علم مطلق‘ قدرت مطلق‘ ارادہ مطلق اور کمال مطلق‘ علم مطلق اور قدرت و ارادہ مطلق سے مراد یہ ہے کہ وہ کسی چیز کے ساتھ محدود اور مشروط نہیں ہے اور اسی چیز کا لازمی نتیجہ اللہ کی بے نیازی ہے۔
۲
۔
ہر قسم کے نقص و عیب سے اللہ کی تنزیہ و تسبیح مثلاً فنا‘ محدودیت‘ نادانی‘ ناتوانی‘ بخل‘ ظلم و ستم وغیرہ سے مبرہ و منزہ قرار دینا۔
۳
۔
ہر خیر و نعت کا اصل سرچشمہ ہونے کے عنوان سے اور اس اعتبار سے اللہ کا شکر ادا کرنا کہ ہمارے پاس موجود تمام نعمتیں اسی کی عطا کردہ ہیں اور اس کے سوا دوسری ہر چیز اسی کی جانب سے وسیلہ ہے۔
۴
۔
اللہ کے سامنے اطاعت محض اور تسلیم محض کا اظہار اور اس چیز کا اقرار کہ وہ غیر مشروط طور پر قابل اطاعت اور مستحق اطاعت و تسلیم ہے اور ہم چونکہ اسی کے بندے ہیں لہٰذا اس کے سامنے جھکنے اور اس کی اطاعت کے اہل ہیں۔
۵
۔
مذکورہ بالا کسی مسئلے میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی کامل مطلق نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی ذات نقص و عیب سے منزہ نہیں ہے اس کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں ہے جو اصل منعم ہو‘ وہ تمام نعمتوں کا اصل سرچشمہ ہے اور تمام تعریفیں اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اس کے سوا کوئی بھی ذات نہیں جو اطاعت محض اور تسلیم محض کے لائق ہو۔ اطاعت چاہے کسی بھی نوعیت کی ہو مثلاً پیغمبر‘ امام‘ اسلامی اور شرعی حاکم کی اطاعت نیز ماں باپ یا استاد کی اطاعت اگر اس کی رضا کی طرف لوٹتی نہ ہو‘ تو وہ جائز نہیں ہو گی۔ یہی وہ ردعمل ہے جس کا خدائے عظیم کے سامنے ایک بندہ مستحق ہے اور خدائے واحد کے سوا کسی بھی دوسرے وجود کے سامنے بندے کے لئے نہ تو اس قسم کا استحقاق صادق ہے اور نہ ہی جائز۔