سائنسی تصور کائنات

اب ہم دیکھتے ہیں کہ سائنس ہمیں کس طرح اور کس حد تک بصیرت اور آگاہی عطا کرتی ہے۔ سائنس کی بنیاد دو چیزوں پر استوار ہے: ایک مفروضہ‘ دوسرا تجربہ۔ ایک سائنس دان کے ذہن میں کسی چیز کی تفسیر یا اسے کشف کرنے کے لئے سب سے پہلے مفروضہ قائم ہوتا ہے‘ اس کے بعد مفروضے کا عمل کے میدان یا لیبارٹری میں تجربہ کیا جاتا ہے۔ اگر تجربہ اس کی تائید کر دے تو ایک سائنسی اصول کی حیثیت سے اسے قبول کر لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ کوئی اس سے بھی زیادہ جامع مفروضہ سامنے آ جائے اور بہتر تجربات اس کی تائید کر دیں‘ وگرنہ اس سائنسی اصول کا اعتبار اپنی جگہ پر باقی رہے گا لیکن جونہی کوئی اس سے بھی زیادہ جامع مفروضہ سامنے آ جائے تو یہ اصول اس کی جگہ خالی کر دے گا۔
یوں سائنس تجربے کے ذریعے عمل و اسباب اور ان کے آثار اور مسببات کو کشف کرتی ہے یا سائنسی تجربہ کسی چیز کی علت یا کسی چیز کے اثر یا معلول کو کشف کرتا ہے اور یہ سلسلہ یہیں پر تمام نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد بھی سائنس یا سائنسی تجربہ اس علت یا معلول کا پتہ لگانے کی کوشش کرتا ہے اور حتی الامکان اپنے سلسلہ انکشاف کو جاری رکھتا ہے۔
سائنس کی تجربے پر استوار ہونے کے لحاظ سے کچھ خصوصیات بھی ہیں اور کچھ حدود بھی۔ سائنسی انکشافات کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا دقیق‘ سنجیدہ اور مشخص و معین ہونا ہے۔ سائنس ایک جزوی مخلوق کے بارے میں ہزاروں معلومات انسان کے حوالے کرنے پر قادر ہے۔ سائنس درخت کے ایک پتے کے بارے میں علم کا ایک دفتر بنا سکتی ہے۔ سائنس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ چونکہ یہ انسان کو ہر موجود کے خاص قوانین سے آگاہ کرتی ہے لہٰذا اس انسان کو اس پتے یا چیز پر تصرف و تسلط حاصل کرنے کی راہ بھی بتا دیتی ہے اور اسی راستے سے صنعت و حرفت اور ٹیکنالوجی وجود میں آتی ہے۔
لیکن سائنس جہاں دقیق‘ مشخص اور سنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہر جزوی چیز کے بارے میں ہزاروں مسائل لکھانے پر قادر ہے وہاں اس کا دائرہ محدود بھی ہے اور یہ محدودیت تجربے کے اعتبار سے ہے۔ سائنس اس حد تک آگے بڑھ جاتی ہے کہ عملاًچیز کا تجربہ کرنے کی کوشش کرنے لگتی ہے لیکن کیا پوری کائنات اور اس کے تمام پہلوؤں کو تجربے کی قید میں لایا جا سکتا ہے۔ مثلاً سائنس عمل و اسباب یا اثرات و مسببات کی تلاش میں عملاً ایک خاص اور معین حد تک آگے بڑھتی ہے لیکن اس کے بعد ”مجھے علم نہیں“ کی منزل سے ہمکنار ہو جاتی ہے۔ سائنس ایک وسیع عالم ظلمت میں روشنی کے ایک ایسے سرچشمے کی مانند ہے جو ایک محدود حلقے کو منور کرتا ہے۔ اپنی اس حد سے پرے کی وہ کوئی خبر نہیں دے سکتی۔ کیا سائنس کائنات کے آغاز اور انجام کو تجربے کے ذریعے ثابت کر سکتی ہے یا کائنات کا دونوں اطراف سے لامتناہی ہونا قابل تجربہ ہے‘ یا یہ کہ جب ایک سائنس دان اس مقام تک پہنچتا ہے تو شعوری یا لاشعوری طور پر فلسفہ کے پروں پر بیٹھ کر اظہار نظر کرتا ہے؟
سائنس کی نظر میں کائنات ایک ایسی پرانی کتاب کی مانند ہے جس کا پہلا اور آخری صفحہ پھٹ چکا ہے‘ نہ اس کا اول معلوم ہے اور نہ ہی آخر۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسی تصور کائنات جزئیات کا علم ہے نہ کہ معرفت کل‘ سائنس ہمیں کائنات کے بعض اجزاء سے آشنا کرتی ہے‘ نہ کہ کائنات کی پوری شخصیت اور شکل و صورت سے‘ سائنس دانوں کا سائنسی تصور کائنات ایسا ہے جیسے بعض لوگوں نے ہاتھی کو رات کی تاریکی میں چھو کر اور ٹٹول کر پہچانا ہو‘ جس نے ہاتھی کے کان کو چھوا اس نے ہاتھی کو ہاتھ سے جھلنے والے پنکھے کی مانند تصور کیا اور جس نے ہاتھی کے پاؤں کو ہاتھ لگایا اس نے اسے ایک ستون سمجھا اور جس نے اس کی پیٹھ کو چھوا اس نے اسے ایک تختہ سمجھا۔
ایک مکتب فکر یا نظریہ کائنات کے لئے سائنسی تصور کائنات پر انحصار کے حوالے سے اس کی نارسائی کا ایک رخ یہ ہے کہ نظری اعتبار سے سائنس کسی حقیقت کو جیسی کہ وہ ہے اور حقیقت ہستی کی کیفیت پر ایمان لانے پر مائل کرنے کے اعتبار سے ناپائیدار اور غیر مستحکم ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے کائنات کا چہرہ روز بروز تغیر و تبدل سے دوچار ہوتا رہتا ہے‘ کیوں کہ سائنس مفروضے اور تجربے پر استوار ہوتی ہے نہ کہ بدیہی اور ابتدائی عقلی اصولوں پر۔ مفروضے اور تجربے کی قدر و قیمت وقتی حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔ اسی لئے سائنسی تصور کائنات متزلزل اور بے ثبات ہونے کی بناء پر ایمان و اعتقاد کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
ایمان و اعتقاد ایک ایسے مستحکم اور ناقابل تبدیل سہارے کی ایک ایسی بنیاد کا خواہاں ہوتا ہے جس میں ابدی رنگ پایا جاتا ہو۔
سائنسی تصور کائنات اپنی اس محدودیت کی بناء پر جس سائنسی وسائل (مفروضہ اور تجربہ) سائنس کے لئے جبراً وجود میں لائے ہیں‘ معرفت کائنات سے متعلق بعض بنیادی مسائل کا جواب دینے سے قاصر ہے جب کہ بہرحال ایک نظریہ کائنات یا مکتب فکر کے لئے ان کا قطعی جواب ضروری ہے مثلاً کائنات کہاں سے آئی ہے؟ اور کس طرف جا رہی ہے؟ ہم اس مجموعی کائنات میں کس نقطہ اور مقام پر کھڑے ہیں؟ کیا کائنات زمان کے اعتبار سے اول و آخر رکھتی ہے یا نہیں؟ اسی طرح مکانی لحاظ سے کائنات کی کیا صورت ہے؟ کیا ہستی اپنی مجموعی حیثیت میں صحیح ہے یا غلط؟ حق ہے یا بے ہودہ اور باطل؟ خوبصورت ہے یا بدصورت؟ کیا کائنات پر ضروری اور ناقابل تبدیل سنتیں حاکم ہیں یا کوئی بھی ناقابل تبدیل سنت حاکم نہیں ہے؟ کیا عالم ہستی اپنی مجموعی حیثیت میں ایک زندہ اور باشعور چیز ہے یا مردہ اور بے شعور ہے اور انسان کا وجود ایک استثنائی اور حادثاتی وجود ہے؟ کیا موجود معدوم ہو جائے گا؟ کیا معدوم وجود میں آ سکتا ہے؟ کیا اعادہ معدوم ممکن ہے یا محال؟ کیا کائنات اور تاریخ ہوبہو اگرچہ کئی ارب سال کے بعد قابل تکرار ہے؟ جیسا کہ ڈورو کور کا کہنا ہے: کیا واقعاً کائنات پر وحدت کا راج ہے یا کثرت حاکم ہے؟ کیا کائنات مادی اور غیر مادی دونوں پہلوؤں کی حامل ہے اور اس کا غیر مادی حصہ پوری کائنات کا ایک چھوٹا سا جزو ہے؟ کیا کائنات ہدایت یافتہ اور بابصیرت ہے یا اندھی اور نابینا؟ کیا کائنات انسان کے ساتھ دست و گریبان ہے؟ کیا کائنات بھی انسان کے نیک اور برے اعمال کے مقابلے میں اچھا یا برا ردعمل دکھاتی ہے؟ کیا اس حیات فانی کے بعد کوئی باقی رہ جانے والی حیات بھی موجود ہے؟ اور اسی طرح کے دوسرے سوالات۔
سائنس ان تمام سوالات کا جواب دینے سے عاجز ہے کیوں کہ انہیں تجربہ گاہ میں نہیں لے جایا جا سکتا۔ سائنس محدود اور جزوی مسائل کا جواب دیتی ہے‘ لیکن کائنات کی مکمل تصویر پیش کرنے سے عاجز ہے۔ ایک مثال کے ذریعے اس طرح وضاحت کی جا سکتی ہے۔
ممکن ہے کسی شخص کے پاس تہران کے بارے میں علاقائی اور مقامی معلومات موجود ہوں۔ مثلاًیہ تہران یا اس کے بعض حصوں سے اچھی طرح واقف ہو‘ یہاں تک کہ وہ اس علاقے کی سڑکوں‘ گلیوں حتیٰ گھروں کو بھی اپنے ذہن میں تصور کر سکتا ہے۔ اسی طرح ممکن ہے کوئی دوسرا شخص کسی دوسرے علاقے کو اسی انداز میں پہچانتا ہو‘ اسی طرح ممکن ہے کوئی تیسرا‘ چوتھا اور پانچواں شخص‘ بعض اور دوسرے علاقوں سے واقف ہو‘ اس طرح سے کہ اگر ان تمام معلومات کو یکجا کیا جائے تو تہران کے مختلف حصوں کے بارے میں بقدر کافی معلومات جمع ہو جائیں گی۔ لیکن اگر تہران کو اس انداز میں پہچان لیا جائے‘ تو کیا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے تہران کو ہر پہلو سے پہچان لیا ہے؟ کیا ہم اس ذریعے سے تہران کی مجموعی اور مکمل تصویر پیش کرنے پر قادر ہیں یعنی تہران اپنی مجموعی حیثیت میں کس شکل و صورت کا حامل ہے؟ کیا دائرے کی شکل میں ہے یا مربع کی؟ کیا درخت کے پتے کی مانند ہے؟
اگر برگ و درخت کی مانند ہے تو یہ کونسا درخت ہے؟ علاقوں کا آپس میں ایک دوسرے سے کیا رابطہ ہے؟ بسوں کے راستے جو کئی علاقوں کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں‘ کس نوعیت کے ہیں؟ کیا تہران اپنی مجموعی حیثیت میں خوبصورت شجر ہے یا بدصورت؟ نہیں اس طرح سے ان چیزوں کا جواب نہیں مل سکتا۔ اگر ہم اس سلسلے میں معلومات اکٹھی کرنا چاہتے ہیں مثلاًہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ تہران کی شکل و صورت کیسی ہے؟ کیا تہران خوبصورت ہے؟ تو ہمیں ہوائی جہاز پر سوار ہو کر اور بلندی سے مجموعی لحاظ سے شہر کا جائزہ لینا ہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ سائنس ایک تصور کائنات کے لئے ضروری اور نہایت بنیادی مسائل مثلاً کائنات کی مجموعی حیثیت کا جواب دینے سے عاجز ہے۔
ان تمام چیزوں کے علاوہ تصور کائنات کی قدر و قیمت سائنسی اور فنی ہے‘ نظری نہیں۔ جو چیز کسی مکتب فکر کا سہارا بن سکتی ہے اسے نظری قدر و قیمت کا حامل ہونا چاہیے نہ کہ عملی۔ سائنس کی نظری قدر و اہمیت یہ ہے کہ وہ اپنے آئینے میں کائنات کی حقیقت کو جیسی کہ وہ ہے‘ پیش کرے جب کہ اس کی فنی و عملی قدر و قیمت یہ ہے کہ سائنس خواہ حقیقت نما ہو یا نہ ہو‘ عمل کے میدان میں انسان کو توانائی عطا کر دے اور اس کے لئے ثمر بخش ہو‘ آج کی صنعت اور ٹیکنالوجی سائنس کی عملی و فنی قدر و قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آج کی دنیا میں سائنس کے بارے میں ایک تعجب انگیز امر یہ ہے کہ جہاں اس کی عملی و فنی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے‘ وہاں اس کی نظری حیثیت کم ہو گئی ہے۔ جو لوگ گہری نگاہ سے جائزہ نہیں لیتے‘ ان کا یہ خیال ہے کہ حقیقت و واقعیت کے سلسلے میں (کہ جو ایسی ہے‘ جیسا کہ سائنس بیان کرتی ہے)۔ اطمینان اور ایمان پیدا کرنے اور انسانی ضمیر کو روشن کرنے کے اعتبار سے بھی سائنسی ترقی و پیشرفت عملی ترقی کے شانہ بشانہ ہے‘ ناقابل انکار ہے‘ جب کہ حقیقت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔
یہاں تک جو کچھ بیان کیا جا چکا ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک مکتب فکر ایک طرح کے ایسے تصور کائنات کا محتاج ہے جو اولاً تو معرفت کائنات سے متعلق ان بنیادی مسائل کا جواب دے جن کا تعلق پوری کائنات سے ہے نہ کہ اس کے کسی خاص جزو سے۔ دوسرا یہ کہ یہ مکتب فکر ایک پائیدار اعتماد اور دائمی معرفت کا باعث بنتا ہو‘ نہ یہ کہ وقتی اور جلد زائل ہو جانے والی معرفت کا موجب ہو‘ تیسرا یہ کہ مکتب فکر جو کچھ پیش کرے اسے نظری حیثیت کا حامل ہونا چاہیے اور حقیقت کو بیان کرنا چاہیے نہ کہ صرف عملی و فنی حیثیت کا حامل ہو‘ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح ہو گیا کہ سائنسی تصور کائنات دوسری جہات سے اپنی تمام تر خصوصیات کے باوجود مذکورہ بالا تینوں خصوصیات سے عاری ہے۔