Table of Contents

صدق و اخلاص

خدا شناسی خود بخود انسان کی تمام شخصیت‘ اس کی روح‘ اس کے اخلاق اور اس کے اعمال پر اپنا اثر قائم کرتی ہے۔ اس تاثیر کی مقدار کا دار و مدار انسان کے اپنے ایمان پر ہے جتنا ایمان قوی تر اور شدید تر ہو گا اتنا ہی وجود انسانی میں خدا شناسی کا نفوذ بیشتر ہو گا اور وہ انسان پر زیادہ گہرے نقوش چھوڑے گا۔
انسان میں خدا شناسی کی تاثیر مراتب و درجات کی حامل ہے۔ کمال انسانی اور تقرب الٰہی کے اعتبار سے انسان الٰہی درجات سے وابستہ ہے اور ان سب کو ”صدق“ و ”اخلاص“ کہا جاتا ہے یعنی یہ سب درجات‘ صدق و اخلاص کے درجات ہیں۔
اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ پہلے ہم عرض کر چکے ہیں جب ہم اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں تو یوں اظہار کرتے ہیں کہ صرف تو ہی مستحق اطاعت و بندگی ہے اور میں تیرے مقابل تسلیم محض ہوں۔ اس طرح کھڑا ہونا اور یہ الفاظ ادا کرنا عبادت ہے اور الہہ کے سوا اور کسی کے لئے جائز نہیں لیکن ہمارا یہ اظہار و اقرار کس حد تک ”صدق“ کا حامل ہے یعنی ہم نے منزل عمل میں کس حد تک غیر خدا کے مقابل قید تسلیم سے رہائی حاصل کی ہے اور کہاں تک ذات احدیت کے مقابل تسلیم محض میں ہیں؟ اس کا انحصار ہمارے درجہ ایمان پر ہے۔
یقینا تمام لوگ اپنے صدق اخلاص کے اعتبار سے ایک منزل پر نہیں ہیں بعض لوگ اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ امر الٰہی کے سوا ان کے وجود پر کچھ اور حاکم نہیں ہوتا۔ ان کا ظاہر و باطن اللہ کی فرماں برداری پر مامور ہے‘ نہ تو ہوائے نفس اور نفسانی خواہشات انہیں ادھر سے ادھر سرکا سکتی ہیں اور نہ کوئی شخص انہیں اپنے احکامات کے تابع کر سکتا ہے۔ وہ اپنی نفسانی خواہشات کو صرف اس حد تک عمل کرنے کی اجازت دیتے ہیں جو رضائے الٰہی کے موافق ہو (البتہ رضائے الٰہی وہ راستہ ہے‘ جو انسان کو اپنے حقیقی کمال تک پہنچاتا ہے) اور اس میں وہ ماں‘ باپ اور معلم جیسے دیگر افراد کی اطاعت اسی حد تک کرتا ہے جس حد تک اللہ نے اس کی اجازت دی ہے جب کہ بعض لوگ اس سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں اور اللہ کے سوا ان کا کوئی محبوب و مطلوب نہیں ہوتا۔ خدا ہی ان کا اصل محبوب و معشوق ہوتا ہے۔ یہ لوگ عقل خدا کو اس اصول کی بنیاد پر چاہتے ہیں اور ان سے محبت کرتے ہیں کہ جو کوئی کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کے آثار‘ اس کی چیزیں اور اس کی نشانیاں اس کے لئے عزیز ہوتی ہیں اور وہ ان سے محبت کرتا ہے۔ اس بناء پر وہ اس لئے دوست رکھتا ہے کہ آثار‘ مخلوقات‘ الٰہی آیات‘ نشانیاں سب اللہ کی یاد دلاتی ہیں‘ کچھ لوگ اس سے بھی زیادہ آگے بڑھتے ہیں اور انہیں اللہ اور اس کے جلوؤں کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا یعنی وہ اللہ کو ہر چیز میں دیکھتے ہیں ہر چیز ان کے لئے آئینے کی مانند ہوتی ہے اور ان کے لئے یہ دنیا گویا ایک آئینہ گھر ہے کہ جس طرف نگاہ اٹھائیں اسی کو اسی کے جلوؤں کو دیکھتے ہیں‘ گویا ان کی زبان حال کچھ یوں کہتی ہے:
صحرا کو دیکھوں تو صحرا میں تو ہے
دریا میں دیکھوں تو دریا میں تو ہے
پہاڑوں میں دشتوں میں دیکھو ں تجھے میں
ہر اک سو تجلی زیبا میں تو ہے
(قزلباش)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
”میں کسی چیز کو نہیں دیکھتا مگر یہ کہ اس سے پہلے یا اس کے ساتھ خدا کو نہ دیکھ لوں۔“
ایک عابد‘ عبادت کی حالت میں جو کچھ اپنے پروردگار سے کہتا ہے اسے اپنی اصل زندگی میں بروئے کار لا کر ”صدق“ کے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔
عبادت ایک حقیقی عابد کے لئے ایک ”عہد“ ہے اور سفر زندگی اس عہد کی وفا ہے یہ عہد دو بنیادی شرائط پر مشتمل ہے: ایک غیر اللہ کی اطاعت و حکومت سے رہائی و آزادی‘ چاہے وہ ہوائے نفس اور نفسانی خواہشات ہوں یا موجودات‘ اشیاء اور اشخاص اور دوسری ان اوامر کے سامنے تسلیم محض جن کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان پر راضی اور انہیں دوست رکھنا۔
عابد کے لئے حقیقی عبادت‘ اس کی روحانی تربیت اور پرورش کے باب میں سب سے بڑا عامل ہے۔ عبادت‘ عابد کے لئے وابستگی‘ حریت‘ فداکاری‘ اللہ سے محبت‘ اس کی مخلوق سے محبت‘ اس کے اوامر سے محبت‘ اہل حق سے دوستی‘ احسان اور بندگان الٰہی کی خدمت کا درس ہے۔
ان معروضات کی روشنی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلامی توحید اللہ کے سوا کسی محرک کو تسلیم نہیں کرتی۔ انسان اور کائنات کے تکامل کی حقیقت‘ الٰہی حقیقتیں ہیں‘ جن کی واپسی اسی (خدا) کی طرف ہے۔ اسلام کے نقطہ نظر سے جس طرح اپنے کام کو خدا کی راہ میں کرنا ضروری ہے اسی طرح مخلوق خدا کے کام کو بھی خدا کے لئے انجام دینا ضروری ہے۔ اللہ کے لئے کام کا مطلب مخلوق کے لئے کام ہے۔ راہ خدا اور راہ خلق خدا ایک ہے۔ خدا کے لئے کام کا مطلب خلق خدا کے لئے کام ہے‘ وگرنہ خلق کو چھوڑ کر خدا کے لئے کام ملائیت اور صوفیت ہے جو ہرگز درست نہیں ہے۔ اسلام کی رو سے راہ اللہ کی راہ ہے اور بس۔ مقصد اللہ کی ذات ہے اور کوئی دوسری شے نہیں لیکن راہ خدا خلق کے درمیان سے گزرتی ہے۔ اپنے لئے کام کرنا نفس پرستی ہے اور خلق کے لئے کام کرنا بت پرستی ہے۔ اسی لئے خلق اور خالق دونوں کے لئے کام کرنا شرک اور دوگانہ پرستی ہے۔
لیکن اپنے اور مخلوقات کے کام کو اللہ کے لئے کرنا توحید اور خدا پرستی ہے۔ اسلامی توحیدی روش میں تمام امور کا آغاز اللہ کے نام سے ہوتا ہے۔ خلق کے نام سے آغاز بت پرستی ہے اور خالق و مخلوق کے مشترکہ نام سے شرک اور بت پرستی‘ صرف اللہ کے نام سے آغاز توحید پرستی اور یگانہ پرستی ہے۔ قرآن مجید میں ”اخلاص“ کے بارے میں ایک دلچسپ نکتہ سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ مخلص ہونا مخلص کرنے سے مختلف ہے۔ مخلص ہونے کا مطلب عمل میں اخلاص سے کام لینا ہے۔ عمل کو اللہ کے لئے پاک و خالص کرنا ہے لیکن فتح لام کے ساتھ مخلص ہونا‘ اللہ کے لئے پورے وجود کا پاک و خالص ہونا ہے اور واضح سی بات ہے کہ عمل کا پاک و خالص ہونا اور چیز ہے پورے وجود کا پاکیزہ ہونا اور چیز۔