عالم محسوس اور معرفت کائنات

جہان بینی کے لفظ سے کہ جس میں لفظ ”بینی“ آیا ہے جو دیکھنے کے معنی میں آیا ہے‘ غلط معنی مراد لیتے ہوئے‘ جہان بینی کو معرفت کائنات کے معنی میں نہیں لینا چاہیے‘ معرفت کائنات کے معنی میں جہان بینی یا تصور کائنات معرفت کے موضوع سے مربوط ہے جو انسان کے امتیازات میں سے ہے جب کہ اس کے برخلاف احساس انسان اور دیگر حیوانات کے درمیان مشترک ہے۔ اس بناء پر معرفت کائنات انسان کی خصوصیات میں سے ہے اور اس کا تعلق اس کی فکری صلاحیت اور عقلی قوت سے ہے۔
بہت سے حیوانات دنیا کو محسوس کرنے کے اعتبار سے انسان سے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں یا یہ کہ حیوانات بعض ایسے حواس کے حامل ہوتے ہیں جن سے انسان عاری ہوتا ہے اور جیسا کہ کہا جاتا ہے‘ بعض پرندے ریڈار کی مانند ایک طرح کی حس رکھتے ہیں یا انسان کے ساتھ مشترک حواس میں انسان کی نسبت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ جیسا کہ عقاب کی بصارت‘ کتے اور چیونٹی میں سونگھنے کی قوت اور چوہے کی قوت سماعت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسرے حیوانات پر انسان کی برتری‘ کائنات کی معرفت کے اعتبار سے ہے یعنی انسان کائنات کے بارے میں ایک طرح کے گہرے شعور کا حامل ہوتا ہے۔ حیوان صرف کائنات کو محسوس کرتا ہے لیکن انسان کائنات کو محسوس کرنے کے علاوہ کائنات کی تفسیر بھی کرتا ہے۔
علم و معرفت سے کیا مراد ہے؟ احساس اور معرفت کے درمیان کس قسم کا رابطہ ہے؟ معرفت میں حسی عناصر کے علاوہ اور کون سے عناصر موجود ہوتے ہیں؟ وہ عناصر کہاں سے اور کس طرح ذہن میں داخل ہوتے ہیں؟ علم و معرفت کے عمل کا نظام (
Mechanism
) کیا ہے؟ صحیح اور غلط معرفت میں فرق کا معیار کیا ہے؟ یہ ایسے مسائل ہیں کہ ان کے لئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے‘ ہم فی الحال اس بحث میں نہیں پڑ سکتے۔ جو چیز مسلم ہے‘ وہ یہ ہے کہ احساس اور معرفت میں فرق ہے۔ ایک چیز کو دیکھتے تو سب ہیں اور دیکھنے میں سب برابر ہیں لیکن گنتی کے چند افراد اس کی تفسیر کرتے ہیں اور کبھی ان کی تفسیر مختلف بھی ہوتی ہے۔