Table of Contents

عبادت کی تعریف

عبادت کے معنی و مفہوم کو جاننے کے لئے اور اس کی صحیح تعریف تک پہنچنے کے لئے دو مقدموں کا تذکرہ ضروری ہے:
۱
۔ عبادت کا تعلق یا قول سے ہوتا ہے یا عمل سے:
قولی پرستش ان جملوں اور افکار سے عبارت ہوتی ہے جنہیں ہم زبان سے ادا کرتے ہیں مثلاً حمد و سورۃکی قرات اور وہ ذکر جو نماز کے دوران تشہد اور رکوع و سجود میں پڑھے جاتے ہیں‘ اسی طرح ذکر لبیک جسے حج میں پڑھا جاتا ہے۔ عملی پرستش جیسے نماز میں رکوع یا سجود یا حج میں وقوف عرفات و مشعر اور طواف۔ عام طور سے عبادات قولی و عملی دونوں اجزا پر مشتمل ہوتی ہیں جیسے نماز اور حج قولی اور عملی دونوں اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں۔
۲
۔ انسانی اعمال دو طرح کے ہوتے ہیں:
بعض اعمال نہ صرف یہ کہ کسی خاص مقصد کے بغیر اور کسی دوسری چیز کی علامت کے طور پر انجام دیئے جاتے ہیں بلکہ صرف اپنے سکونی اور طبیعی اثر کی خاطر انجام دیئے جاتے ہیں مثلاً ایک کسان صرف اس لئے کھیتی باڑی سے مربوط بعض کام انجام دیتا ہے کہ اس کے ذریعے ان کے طبیعی نتیجے تک پہنچ سکے۔
ایک کسان کھیتی باڑی سے مربوط کاموں کو بعض مقاصد اور جذبات و احساسات کو بیان کرنے کے عنوان سے انجام دیتا ہے۔ اسی طرح ایک درزی بھی سلائی سے مربوط بعض کام انجام دیتا ہے۔ جب ہم اپنے گھر سے سکول کی جانب جاتے ہیں اور ہماری نگاہ میں سکول پہنچنے کے سوا کوئی اور مقصد نہیں ہوتا تو ہم اپنے اس فعل کے ذریعے کسی اور مقصد کو بیان کرنا نہیں چاہتے۔ لیکن ہم کچھ کام بعض مقاصد کی علامت کے عنوان سے اور اپنے خاص احساسات کے اظہار کی خاطر انجام دیتے ہیں مثلاً کسی چیز کی تصدیق کرنے کے لئے اپنا سر جھکا دیتے ہیں یا خضوع و خشوع کے کے اظہار کی خاطر گھر کی دہلیز پر بیٹھ جاتے ہیں اور کسی دوسرے شخص کی تعظیم و تکریم کی خاطر جھک جاتے ہیں۔
انسان کے زیادہ تر کام پہلی نوعیت کے ہوتے ہیں جبکہ بہت کم کام دوسری قسم کے ہوتے ہیں لیکن بہرحال انسان کے بعض کام کسی مقصد یا جذبے کے اظہار کی خاطر ہوتے ہیں۔ اس قسم کے کام معاشرے میں رائج ان کے کلمات‘ الفاظ اور لغات کی مانند ہوتے ہیں جنہیں کسی خاص مقصد یا نیت کے اظہار کی خاطر استعمال کیا جاتا ہے۔
ان دو مقدموں کو جان لینے کے بعد اب ہم اس بات کی طرف آتے ہیں کہ عبادت چاہے قولی ہو یا عملی‘ بامعنی اور بامقصد ہوتی ہے۔ انسان اپنے عابدانہ جملوں کے ساتھ حقیقت بلکہ حقائق کا اظہار کرتا ہے اور اپنے عابدانہ اعمال مثلاً رکوع و سجود‘ وقوف و طواف اور امساک کے ذریعے وہی کچھ کہنا چاہتا ہے جو وہ اپنے افکار کے ذریعے کہنا چاہتا ہے۔