فلسفی تصور کائنات

ہرچند فلسفی تصور کائنات اپنے عمیق و معین ہونے کے اعتبار سے سائنسی تصور کائنات کی مانند نہیں ہے لیکن اس کے عوض بعض ایسے اصولوں پر استوار ہے جو اولاً تو بدیہی اور ذہن کے لئے ناقابل انکار ہیں اور برہانی و استدلالی روش کے تحت آگے بڑھتے ہیں اور ثانیاً عام اور ہمہ گیر ہیں (فلسفی اصطلاح میں ان کا تعلق موجود بماھو موجود کے احکام سے ہے) اسی لئے قدرتی طور پر ایک طرح کے یقین کے حامل ہیں اور جو ناپائیداری اور بے ثباتی سائنسی تصور کائنات میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ فلسفی تصور کائنات میں نہیں ہے اسی طرح سائنسی تصور کائنات کی طرح محدودیت بھی نہیں رکھتے۔
فلسفی تصور کائنات انہی مسائل کا جواب دہ ہے جن پر مختلف نظریات کا انحصار ہوتا ہے۔ فلسی تصور کائنات طرز فکر کائنات کے چہرے کو اس کی کلی حیثیت میں مشخص و معین کرتا ہے۔
سائنسی تصور کائنات اور فلسفی تصور کائنات دونوں عمل کے لئے مقدمہ ہیں‘ لیکن دونوں کی صورتیں مختلف ہیں۔ سائنسی تصور کائنات اس اعتبار سے مقدمہ عمل ہے کہ انسان کو کائنات پر تصرف اور اسے تبدیل کرنے کی قوت و توانائی عطا کرتا اور اسے عالم طبیعت پر مسلط کر دیتا ہے تاکہ وہ عالم طبیعت کو اپنے ارادہ و خواہش کے مطابق اپنے کام میں لا سکے‘ لیکن کہیں فلسفی تصور کائنات اس اعتبار سے مقدمہ عمل اور عمل میں موثر ہے کہ وہ انسان کے لئے جہت عمل اور زندگی کے انتخاب کی راہ متعین کرتا ہے۔ فلسفی تصور کائنات‘ عالم طبیعت کے مقابل انسان کے ردعمل اور طرزعمل میں موثر ہوتا ہے اور کائنات کے بارے میں انسان کے طرز فکر کو مشخص کرتا ہے نیز کائنات اور عالم ہستی کے سلسلے میں اس کی نگاہ کو ایک خاص زاویہ عطا کرتا ہے‘ انسان کو ایک نظریہ اپنانے میں مدد دتیا ہے یا کوئی نظریہ اس سے چھین لیتا ہے اس کی حیات کو بامعنی اور بامقصد یا بے ہودہ اور فضول قرار دے دیتا ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ سائنس انسان کو ایک ایسے تصور کائنات سے آگاہ نہیں کر سکتی جسے کسی مکتب فکر کی بنیاد قرار دیا جا سکے لیکن یہ کام فلسفہ کر سکتا ہے۔