مذہبی تصور کائنات

اگر کائنات اور عالم ہستی کے بارے میں ہر قسم کے کلی اظہار نظر کو فلسفی تصور کائنات سے تعبیر کیا جائے (البتہ اس چیز سے قطع نظر کہ اس کائنات کا مبداء قیاس‘ برہان یا استدلال ہے یا عالم غیب سے وحی کا تھا) تو مذہبی تصور کائنات کو ایک طرح کا فلسفی تصور کائنات سمجھنا چاہیے۔ مذہبی تصور کائنات اور فلسفی تصور کائنات کا دائرئہ کار ایک ہی ہے‘ جب کہ سائنسی تصور کائنات اس کے برخلاف ہے‘ لیکن اگر معرفت و شناخت کے مبداء پر نظر رکھی جائے تو مسلمہ طور پر مذہبی تصور کائنات اور فلسفی تصور کائنات دونوں کو مختلف انواع میں شمار کیا جائے گا۔
بعض مذاہب میں مثلاًمذہب اسلام میں کائنات کے بارے میں مذہبی شعور نے خود مذہب کی گہرائیوں میں فلسفی یعنی استدلالی رنگ اپنا رکھا ہے۔ مذہب کا انحصار عقل‘ استدلال اور برہان قائم کرنے پر ہے‘ اسی لئے اسلامی تصور کائنات اپنے اسلامی اور مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ فلسفی اور عقلی تصور کائنات بھی ہے۔ مذہبی تصور کائنات کی ممتاز خصوصیات میں سے ایک اور خصوصیت (فلسفی تصور کائنات کی دو خصوصیات کے علاوہ یعنی ثبات و دوام اور عام اور ہمہ گیر) کہ سائنسی تصور کائنات اور خالص فلسفی تصور کائنات جس سے عاری ہے۔ اس کا تصور کائنات کے اصول کو تقدس عطا کرنا ہے۔
ایک مکتب فکر کے لئے ایمان کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی مکتب پر ایمان تب ہی ہو سکتا ہے کہ جب اس کے اصولوں کے جاویداں اور ناقابل تغیر ہونے پر اعتقاد ہو اور خصوصاً سائنسی تصور کائنات میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔ علاوہ ازیں کسی مکتب پر ایمان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا احترام تقدس کی حد تک ہو۔
اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کوئی تصور کائنات اسی صورت میں کسی مکتب فکر اور ایمان کی بنیاد قرار پا سکتا ہے‘ جب اس میں مذہبی رنگ پایا جاتا ہو۔
گذشتہ گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ ایک تصور کائنات پر اسی صورت میں کسی مکتب فکر کا انحصار ہو سکتا ہے جب اس میں ایک طرف تو مستحکم اور وسیع سوچ پائی جاتی ہو اور دوسری طرف مذہبی اصول کا تقدس اور حرمت بھی۔