Table of Contents

وحدانیت خدا

خداوند تعالیٰ کا کوئی مثل و مانند اور شریک نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایسا ہونا محال ہے کہ جس کے نتیجے میں ایک خدا کی جگہ دو یا دو سے زیادہ خدا ہو جائیں کیوں کہ کسی چیز کا دو‘ تین یا زیادہ ہونا محدود اور نسبی موجودات کے خواص میں سے ہے جب کہ لامحدود اور مطلق وجود کے لئے تعدد و کثرت کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا مثلاًہماری ایک اولاد بھی ہو سکتی ہے اور دو سے زیادہ بھی‘ اسی طرح ہمارا ایک دوست یا دو اور دو سے زیادہ دوست بھی ہو سکتے ہیں‘ کیوں کہ اولاد یا دوست میں سے ہر ایک محدود مخلوق ہے اور ایک محدود مخلوق اپنے مقام پر مثل و نظیر رکھ سکتی ہے اور اسی کے نتیجے میں وہ تعدد اور کثرت کو قبول کر لیتی ہے لیکن لامحدود وجود قابل کثرت نہیں ہوتا۔ ذیل میں دی جانے والی مثال اگرچہ ایک اعتبار سے کافی نہیں‘ لیکن اس مطلب کو واضح کرنے کے لئے مفید ہے۔
محسوس اور مادی کائنات کی مختلف جہات کے بارے میں یعنی اجسام کی دنیا کے بارے میں حکماء اور سائنس دانوں نے دو قسم کا نظریہ پیش کیا ہے۔ بعض کا یہ دعویٰ ہے کہ کائنات کی اطراف اور جہات محدود ہیں یعنی یہ محسوس اور مادی دنیا ایک خاص مقام پر جا کر ختم ہو جاتی ہے لیکن بعض کا یہ دعوٰی ہے کہ مادی کائنات لامحدود ہے اور کسی جہت سے بھی محدود نہیں ہے۔ مادی کائنات کا کوئی اول و آخر اور وسط نہیں ہے۔ اگر ہم مادی و جسمانی کائنات کو محدود سمجھتے ہیں تو ہمیں ایک سوال کا جواب دینا پڑے گا اور وہ یہ کہ آیا مادی و جسمانی کائنات ایک ہے یا ایک سے زیادہ؟ لیکن اگر کائنات لامحدود ہو تو پھر اس کائنات کے علاوہ ایک اور جسمانی کائنات کا فرض کرنا معقول ہو گا کیوں کہ ایسی صورت میں جس کائنات کا بھی تصور کریں گے تو یا وہ بعینہ کائنات ہو گی یا اس کی ایک یہ مثال اجسام کی دنیا اور ایسے جسمانی موجودات سے مربوط ہے جو محدود و مشروط خلق کئے گئے ہیں اور کوئی بھی حقیقت مطلق‘ مستقل اور قائم بالذات نہیں اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے محدود ہیں اور چونکہ اس فرض کی بناء پر کہ کائنات کے اطراف اور جہات لامحدود ہیں لہٰذا اس جیسی کسی دوسری کائنات کا فرض نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ کا وجود لامحدود اور واقعیت مطلق ہے اور ہر مسئلے پر محیط ہے اور کوئی زمان و مکان اس سے خالی نہیں‘ ہم سے ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہے پس اس کے لئے نظیر و مثل کا ہونا محال ہے‘ اس جیسے مثل و نظیر کا فرض بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے علاوہ ہم اس کی عنایت و تدبیر اور حکمت کے آثار تمام موجودات میں دیکھتے ہیں اور پوری کائنات میں ایک ہی ارادے‘ مشیت اور نظم کا ادراک کرتے ہیں اور یہ بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری کائنات کا ایک ہی مرکز و محور ہے نہ کہ دو یا کئی مراکز۔
اس کے علاوہ اگر کائنات میں ایک سے زیادہ خدا ہوں تو لازمی طور پر دو یا دو سے زیادہ ارادوں اورمشیتوں کا عمل دخل ہوتا‘ اور تمام مشیتیں ایک ہی نسبت سے چیزوں میں موثر ہوتیں اور جو چیزیں بھی وجود میں آنا چاہتیں‘ انہیں آن واحد میں دو وجود کا حاصل ہونا چاہیے تھا تاکہ ہر ایک اپنے منبع سے منتسب ہو سکے اور نتیجتاً کوئی بھی شے وجود میں نہ آ سکتی اور کائنات معدوم ہی رہتی۔ قرآن کریم نے اسی مطلب کی اشارہ کیا ہے:
لَوْ كَانَ فِيْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا
۝
۰
ۚ
”اگر ذات احدیت کے سوا متعدد خدا ہوتے تو آسمان و زمین تباہ ہو چکے ہوتے۔“(سورئہ انبیاء‘ آیت
۲۲)
عبادت و پرستش
ایک کامل ترین ذات اور صفات نیز ہر قسم کے نقص و عیب سے منزہ ہونے کے عنوان سے خدائے واحد کی معرفت‘ اسی طرح کائنات کے ساتھ اس کے رابطے کی معرفت جو نگہداشت‘ جود و سخا‘ عطوفت اور رحمانیت سے عبارت ہے‘ ہمارے اندر ایسے ردعمل کو جنم دیتی ہے جسے ہم پرستش اور عبادت سے تعبیر کرتے ہیں۔
پرستش ایک طرح کے ایسے خاضعانہ‘ حامدانہ اور شاکرانہ رابطے کا نام ہے جو انسان اپنے خدا سے برقرار کرتا ہے۔ اس قسم کا رابطہ انسان صرف اپنے خدا سے برقرار کر سکتا ہے اور صرف خدا ہی کے بارے میں صادق آتا ہے جب کہ غیر خدا کے بارے میں نہ تو صادق ہے اور نہ ہی جائز۔ ایک تنہا مبدائے ہستی اور ہر چیز کے یکتا و واحد مالک اور خدا کے عنوان سے اللہ کی معرفت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی مخلوق کو بھی مقام عبادت میں اس کی شریک نہ ٹھہرائیں۔ قرآن کریم کا اس چیز پر بہت زیادہ اصرار اور زور ہے کہ عبادت و پرستش کو اللہ ہی کے لئے مخصوص ہونا چاہیے اور خدا کے شریک ٹھہرانے سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں ہے۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ جو عبادت یا پرستش خدا کے لئے مخصوص ہے اور انسان کو خدا کے سوا کسی بھی دوسرے وجود سے اس قسم کا رابطہ برقرار نہیں کرنا چاہیے‘ اس سے کیا مراد ہے اور یہ رابطہ کس نوعیت کا ہے؟