Table of Contents

وحدت عالم

کیا یہ کائنات (طبیعت: خدا کی زمانی و مکانی مخلوقات) مجموعی طور پر ایک حقیقی ”اکائی“ ہے کیا توحید کا لازمہ یہ ہے کہ ہم ذات و صفات و فاعلیت میں اللہ کی وحدانیت کا یہ مفہوم لیں کہ خلقت اپنی مجموعی صورت میں ایک طرح کی وحدت کی حامل ہے۔
اگر یہ پورا عالم ایک مربوط اکائی کے حکم میں ہے تو اس ارتباط کی صورت کیا ہے؟ کیا یہ کسی مشین کے اجزاء کی طرح مصنوعی پیوند کے ذریعے مربوط ہے یا اس کا ارتباط بدن کے اعضاء کی صورت میں ہے؟ یعنی عالم کا اجزائے عالم سے ارتباط میکانیاتی ہے یا عضویاتی؟
ہم اصول فلسفہ کی پانچویں جلد میں وحدت عالم کی نوعیت کے بارے میں گفتگو کر چکے ہیں۔ اسی طرح اپنی کتاب عدل الٰہی میں بھی عرض کر چکے ہیں کہ عالم طبیعت ایک ”ناقابل تقسیم کل“ ہے۔ اس میں ایک جزو کا نہ ہونا کل کے نہ ہونے کے مترادف ہے اور اس بارے میں گفتگو کر چکے ہیں کہ طبیعت سے اس اٹھانے کو شرور کا نام دیا جاتا ہے‘ جو تمام طبیعت کی نابودی کے مترادف ہے۔ جدید فلاسفہ خاص کر جرمنی کے عظیم فلسفی ”ہیگل“ نے بدن سے اعضاء کے رابطے کی مثال میں کل سے اجزائے طبیعت کے رابطے کو صحیح گردانا ہے‘ اس جرمن فلسفی نے اس نظریے کو جن اصولوں کی بنیاد پر ثابت کیا ہے انہیں قبول کرنا اس کے تمام فلسفی اصولوں کو قبول کرنے پر منحصر ہے۔
ہیگل کے مادی پیروکاروں یعنی مادہ پرستانہ جدلیات کے حامیوں نے بھی یہ اصول ہیگل سے لیا ہے اور تاثیر متقابل یا ارتباط عمومی اشیاء یا اتحاد تضادات کے اصول کے عنوان سے بڑی شدت کے ساتھ اس کی حمایت کی ہے اور مدعی ہیں کہ عالم طبیعت میں کل کے ساتھ جزو کا رابطہ عضویاتی ہے۔ میکانیاتی نہیں لیکن جب وہ اثبات کی منزل میں آتے ہیں تو میکانیاتی رابطے کے علاوہ ان سے بن نہیں پڑتا۔
حقیقت یہ ہے کہ مادی فلسفے کے اصول اس بات کے اثبات سے قاصر ہیں کہ یہ دنیا کل میں انسان کے اعضائے بدن کی مانند ہے اور کل کے ساتھ اجزاء کے رابطے کی مانند ہے وہ الٰہی فلاسفہ جو قدیم زمانے سے کہتے آئے ہیں کہ عالم ”انسان کبیر“ ہے اور انسان عالم صغیر‘ ان کی نظر اسی قسم کے رابطے کی طرف تھی۔
مسلمان فلاسفہ ”اخوان الصفا“ نے سب سے زیادہ اس موضوع پر زور دیا ہے‘ یہی دنیا اور ہستی کو وحدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ عرفا کے نزدیک یہ تمام خلقت اور یہ پوری کائنات شاہد ازلی کا جلوہ واحد ہے۔
عکس روی تو چو در آئینہ جام افتاد
عارف از پرتو می در طمع خام افتاد
حسن روی تو بہ یک جلوہ کہ در آئینہ کرد
این ہمہ نقش در آئینہ اوھام افتاد
عرفاء ماسوا کو ”فیض مقدس“ کا نام دیتے ہیں اور تمثیلاً کہتے ہیں کہ فیض مقدس ایک مخروط کی طرح ہے کہ جو ”راس“ اور ابتدائی نقطے کے اعتبار سے یعنی ذات حق کے ساتھ ارتباط کی منزل میں بسیط محض اور بااعتبار قاعدہ ممتد و منبسط ہے۔
ہم یہاں فلاسفہ یا عرفا کے بیانات کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتے بلکہ صرف ان مطالب کو لے کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں‘ جو ہماری گذشتہ مباحث سے مربوط ہیں۔ پہلے ہم عرض کر چکے ہیں کہ یہ دنیا ”اس سے“ اور ”اسی کی سمت“ سے وابستہ حقیقت پر مبنی ہے۔ پھر اپنے مقام پر یہ ثابت ہے کہ دنیا ایک متحرک و سیال حقیقت نہیں بلکہ عین حرکت اور عین روانی ہے۔ دوسری طرف مباحث حرکت میں یہ نکتہ پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ وحدت مبداء‘ وحدت منتہا‘ وحدت خط سیر‘ حرکات کو طرح وحدت و یگانگت عطا کرتا ہے۔ پس اس اعتبار سے کہ کل عالم ایک مبداء سے ایک مقصد کی سمت اور ایک تکاملی خط سیر میں رواں دواں ہے۔ بہرحال کائنات ایک طرح کی وحدت و یگانگت کی بھی حامل ہے۔