۱۔ اصول غنا اور اصول کمال ذات حق:

اللہ تعالیٰ اس عنوان سے کہ واجب الوجود علی الاطلاق ہے اور کوئی ایسا کمال اور کوئی ایسی فضیلت نہیں جو اس میں نہ ہو‘ کسی کام کو اپنے کسی مقصد یا کمال تک پہنچنے یا اپنے اندر کسی کمی کو پورا کرنے کے لئے انجام نہیں دیتا‘ اس کا کام نقص سے کمال کی طرف حرکت کے مفہوم میں نہیں ہوتا۔ اس اعتبار سے اس کے بارے میں مفہوم حکمت یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے کاموں میں بہترین مقاصد کو اپنے لئے اور بہترین وسائل کو اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے انتخاب کرتا ہے۔ حکمت اپنے اس مفہوم میں انسان کے بارے میں صادق آتی ہے۔ خدا کے بارے میں نہیں‘ حکمت الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کام موجودات کو ان کے وجودی کمالات اور غایت وجود تک پہنچانا ہے‘ اس کا کام ایجاد کرنا ہے کہ جو خود (عدم سے) کمال وجود تک پہنچانا ہے یا ان کی تدبیر و تکمیل ہے اور اشیاء کو ان کے کمالات اور ان کی جہات خیر تک پہنچانا ہے‘ خود ایک طرح سے افاضہ و تکمیل ہے۔
سوالات‘ اشکالات کا ایک حصہ خدا کو انسان پر قیاس کرنے کی وجہ سے عمل میں آتا ہے‘ اکثر جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ”فلاں مخلوق کی حکمت اور فائدہ کیا“ تو سوال کرنے والا خدا کو اس مخلوق کی مانند سمجھتا ہے کہ جو اپنے کاموں میں دوسری مخلوقات اور موجودات سے اپنے مقصد تک پہنچنے کی خاطر فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور اگر پوچھنے والا پہلے سے اس چیز کو اپنی نظر میں رکھے کہ حکمت الٰہی کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا فعل غایت رکھتا ہے نہ کہ خود اور ہر مخلوق کی غایت خود اس کے وجود میں پنہاں ہے اور خداوند عالم اس کو خود اپنی ذاتی غایت کی سمت بڑھاتا ہے تو بہت سے سوالات کا خود بخود جواب مل جائے گا۔