۱۔ توحید ذاتی

توحید ذاتی سے مراد ذات حق تعالیٰ کی وحدانیت و یگانگت کی معرفت ہے۔ جو کوئی ذات حق تعالیٰ کے بارے میں پہلی معرفت حاصل کرتا ہے وہ اس کی بے نیازی ہے یعنی ایک ایسی ذات جو کسی جہت سے بھی کسی وجود کی محتاج نہیں ہے اور قرآن کی اصطلاح میں ”غنی“ ہے جب کہ ہر چیز اسی کی محتاج ہے اور اسی سے مدد لیتی ہے جب کہ وہ سب سے غنی ہے:
يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَا
ۗ
ءُ اِلَى اللہِ
۝
۰
ۚ
وَاللہُ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ
۝
۱۵ (
سورۃ فاطر‘ آیت:
۱۵)
اور حکماء کی اصطلاح میں واجب الوجود ہے۔
اسی طرح اس کی ایک اور صفت ا”اولیت“ یعنی مبدایت و مشائیت اور خالقیت ہے وہ دوسرے موجودات کا خالق و مبداء ہے۔ تمام موجودات اسی سے ہیں جب کہ وہ خود کسی چیز سے نہیں ہے اور حکماء کی اصطلاح میں ”علت اولیٰ“ ہے۔
یہی وہ پہلی معرفت اور تصور ہے جو ہر شخص اللہ کے بارے میں رکھتا ہے۔ یعنی جو بھی اللہ کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کے اثبات یا نفی اور تصدیق یا انکار کی کوشش کرتا ہے اس کے ذہن میں یہی معنی و مفہوم آتا ہے کہ کیا کوئی ایسی حقیقت موجود ہے جو کسی اور حقیقت سے وابستہ نہ ہو۔ بلکہ تمام حقیقتیں اسی سے وابستہ ہیں‘ اسی کے ارادے سے وجود میں آئی ہوں جبکہ وہ خود کسی اور اصل سے وجود میں نہ آیا ہو؟ توحید ذاتی سے مراد یہ ہے کہ حقیقت دوئی کی حامل اور قابل کثرت نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی مثل و نظیر ہے:
لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ
۝
۰
ۚ
(
شوریٰ‘ آیت
۱۱)
اسی طرح اس کی برابری کا کوئی اور وجود نہیں ہے:
وَلَمْ يَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ
۝
۴
ۧ
(
اخلاص‘ آیت
۴)
کسی موجود کا ایک نوع کا فرد ہونا مثلاً حسن کا نوع انسان کا فرد ہونا (اور لامحالہ ایسی صورت میں انسان کے لئے دوسرے افراد بھی قابل فرض ہیں) مخلوقات و ممکنات کے ساتھ مخصوص ہے جب کہ ذات واجب الوجود اس معنی سے مبرا و منزہ ہے اور چونکہ ذات واجب الوجود واحد و یکتا ہے لہٰذا کائنات بھی مبداء و منشاء اور مرجع و منتہی کے اعتبار سے واحد و یکتا ہے۔
کائنات نہ تو متعدد سرچشموں سے وجود میں آئی ہے اور نہ ہی اسے متعدد سرچشموں کی طرف لوٹ کر جانا ہے بلکہ کائنات ایک ہی سرچشمے اور حقیقت سے وجود میں آئی ہے:
قُلِ اللہُ خَالِ
ـ
قُ كُلِّ شَيْءٍ (رعد‘ آیت
۱۶)
اور اسی سرچشمے اور حقیقت کی طرف لوٹ جائے گی۔
اَلَآ اِلَى اللہِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ
۝
۵۳
ۧ
(
شوریٰ‘ آیت
۵۳)
دوسرے الفاظ میں عالم ہستی ایک ہی قطب اور مرکز و محور کی حامل ہے۔
اللہ اور کائنات کے درمیان رابطہ‘ مخلوق کے ساتھ خالق کے رابطے یعنی معلول کے ساتھ علت (علت ایجادی) کے رابطے کی مانند ہے‘ نہ کہ چراغ کے ساتھ روشنی یا انسان کے ساتھ انسانی شعور کے رابطے کی مانند۔ یہ بات بجائے خود درست ہے کہ خدا کائنات سے جدا نہیں ہے۔ وہ تمام اشیاء کے ساتھ ہے جب کہ اشیاء اس کے ساتھ نہیں ہیں۔
ھو معکم اینما کنتم (لیس عن الاشیاء ولافیھا ‘نہج البلاغہ)
لیکن کائنات سے اللہ کے جدا نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پس خدا کائنات کے لئے چراغ کے لئے روشنی اور جسم انسانی کے لئے شعور کی مانند ہے ایسی صورت میں کائنات خدا کے لئے علت ہو گی نہ کہ خدا کائنات کے لئے علت کیوں کہ چراغ روشنی کے لئے علت ہے نہ کہ روشنی چراغ کے لئے علت‘ اسی طرح کائنات اور انسان سے خدا کے جدا نہ ہونے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ خدا‘ کائنات اور انسان سب ایک ہی جہت رکھتے ہیں اور سب ایک ارادے اور روح سے حرکت کرتے اور حیات رکھتے ہیں۔ یہ سب مخلوق و ممکن کی صفات ہیں جبکہ خداوند تعالیٰ مخلوقات کی صفات سے منزہ ہے۔
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا يَصِفُوْنَ
۝
۱۸۰
ۚ
(
سورئہ الضافات‘ آیت۔
۱۸۰)