۱۰۔ ناقابل تجزیہ و تقسیم اکائی

دنیا جس طرح ایک ناقابل تخلف اور کلی نظام کی حامل ہے اسی طرح اپنی ذات میں بھی ایک ناقابل تجزیہ و تقسیم اکائی ہے یعنی اپنی مجموعی حیثیت میں ایک جسم کی مانند اکائی پر مشتمل ہے پس نہ صرف شرور اور نیستی و نابودی‘ خیر و ہستی سے جدا نہیں ہو سکتی بلکہ اجزائے کائنات کا مجموعہ بھی ایک اکائی اور ایک جلوہ ہونے سے ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔
مذکورہ دس اصولوں کی بنیاد پر جو چیز وجود کا امکان رکھتی ہے وہ معین کلی اور غیر متغیر نظام ہے پس امر دنیا اس بات پر منحصر ہے کہ یا تو معین نظام کے ساتھ موجود ہو یا اصلاً موجود نہ ہو لیکن یہ بات کہ خود تو موجود ہو لیکن نظام نہ رکھتا ہو یا نظام تو رکھتا ہو مگر اس نظام کی کوئی دوسری شکل ہو مثلاً علتیں معلولات کی جگہ اور معلولات علتوں کی جگہ ہوں تو یہ محال ہے۔ پس جو بات حکمت بالغہ کے حوالے سے قابل بحث ہے‘ وہ یہ ہے کہ دنیا یا تو ایک منظم نظام کے تحت موجود ہو یا کچھ بھی موجود نہ ہو۔ واضح سی بات ہے کہ حکمت افضل کا تقاضا کرتی ہے یعنی ہستی کا تقاضا کرتی ہے‘ عدم کا نہیں۔ اسی طرح وہ چیز جس کا وجود ممکن ہے وہ اشیاء کا اپنے سے جدا ہونے والے لوازم اوصاف کے ساتھ وجود رکھنا ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ نیکیاں اور ہستیاں شر اور نیستی سے جدا ہو جائیں‘ خیال محض اور توہم محال ہے۔ پس اس اعتبار سے بھی جو چیز حکمت بالغہ کے حوالے سے زیربحث ہے وہ یہ کہ خیر و شر کا بیک وقت نہ ہونا ہے نہ کہ خیر تو موجود ہو لیکن شر موجود نہ ہو۔
اسی طرح جو چیز امکان وجود رکھتی ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ متصل اکائی کی صورت میں کل کائنات کا موجود ہونا ہے نہ کہ ایک جزو کا موجود ہونا اور دوسرے کا معدوم پس حکمت بالغہ کی نظر سے جو چیز قابل بحث ہے وہ کل کا ہونا یا نہ ہونا ہے کسی جزو کا ہونا اور دوسرے جزو کا نہ ہونا نہیں ہے۔
مذکورہ اصول اگر اچھی طرح سمجھ میں آ جائے تو یہ حکمت بالغہ اور عدل کامل الٰہی سے متعلق تمام شبہات اور تمام اشکالات کو ختم کر دینے کے لئے کافی ہے۔ میں ایک بار پھر اپنے پڑھنے والوں کو اپنی کتاب ”عدل الٰہی“ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتا ہوں اور اس بات کے لئے معذرت چاہوں گا کہ میں نے ضرورت کے تحت ان مسائل کو پیش کیا جو اس کتاب کی سطح سے بالاتر ہیں۔
آخر میں اس عنوان سے کہ ”عدل“ کی بحث مسلمانوں کے درمیان خاص تاریخ کی حامل ہے یہاں تک کہ اسے شیعہ مذہب کے اصول میں داخل کر دیا گیا ہے یعنی شیعہ نقطہ نظر سے عدل اصول اسلام کا حصہ ہے لہٰذا اس کی مختصر تاریخ کی طرف اشارہ بے سود نہیں ہو گا۔