۲۔ اصول ترتیب:

فیض الٰہی یعنی فیض ہستی جس نے پوری کائنات کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے‘ ایک مخصوص نظام ہے۔ موجودات و مخلوقات میں ایسی خاص قسم کا تقدم و تاخر‘ ایک ایسی علیت و معلولیت اور سببیت و مسببیت موجود ہے جو ناقابل تبدیل ہے یعنی کوئی موجود اپنے خاص مرتبے سے تجاوز کر سکتا ہے نہ اسے چھوڑ سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور موجود کے مرتبے پر اپنا قبضہ جما سکتا ہے۔ پس مراتب ہستی اور درجات ہستی کا لازمہ یہ ہے کہ ان کے درمیان نقص و کمال اور شدت ضعف کے اعتبار سے ایک طرح کا اختلاف موجود ہو‘ اختلاف و تفاوت اس معنی میں کہ وہ لازمہ مراتب ہستی ہے‘ امتیاز اور زیادتی نہیں کہ جسے خلاف حکمت اور خلاف عدل سمجھا جائے‘ زیادتی اس وقت ہو گی جب دو موجود‘ کمال کے ایک ہی معین درجے کی قابلیت رکھتے ہوں لیکن ایک کو کمال عطا کر دیا جائے جب کہ دوسرے کو محروم رکھا جائے لیکن جہاں اختلاف و تفاوت کا تعلق ذات میں موجود نقص اور کمی سے ہو تو اسے امتیاز نہیں کہا جا سکتا۔