۳۔اصول کلیت

خدا کے ساتھ اپنا موازنہ کرنے کے نتیجے میں انسان کی ایک اور غلطی یہ ہے کہ انسان ایک معین جگہ اور معین وقت میں (البتہ معینہ رائج شرائط کے تحت) گھر بنانے کی سوچتا ہے اور پھر اس پر عمل کرتا ہے‘ کچھ اینٹیں‘ کچھ لوہا‘ کچھ سیمنٹ کہ جن میں ذاتی اعتبار سے کوئی جوڑ نہیں انہیں آپس میں مصنوعی اتصال کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے اور گھر کے نام سے ایک معین عمارت کھڑی ہو جاتی ہے۔
کیا خدا کا کام بھی اسی نوعیت کا ہے؟ کیا خداوند عالم کی مضبوط و مستحکم صنعتیں بھی اسی طرح چند لاتعلق چیزوں کے درمیان مصنوعی اور عارضی رابطے سے وجود میں آئی ہیں؟ اس طرح کا مصنوعی اور عارضی جوڑ انسان جیسی مخلوق کا کام ہے کہ جو اس نظام کا ایک حصہ ہے اور ایک معین مقدار میں خلق شدہ موجود اشیاء کے خواص اور طاقتوں سے فائدہ حاصل کرتا ہے۔ یہ کام اس مخلوق کا ہے کہ جس کی فاعلیت اور خالقیت‘ فاعلیت حرکت کی حد میں ہے‘ فاعلیت ایجادی کی حد میں نہیں یعنی وہ کسی موجود شے میں حرکت وجود میں لاتا ہے اور وہ بھی ”طبیعی“ نہیں ہوتی بلکہ ”قسری“ نوعیت کی ہوتی ہے۔ لیکن خداوند عالم فاعل ایجادی ہے‘ وہ اشیاء کو تمام طاقتوں‘ تمام خصلتوں اور تمام خاصیتوں کے ساتھ خلق کرتا ہے۔
مثلاً انسان آگ اور بجلی کے وجود سے استفادہ کرتا ہے اور اپنے اس جزوی کام کو اس طرح مرتب کرتا ہے کہ جب چاہتا ہے اس کے اثرات کو ظاہر کر کے اس سے استفادہ کرتا ہے اور جب نہیں چاہتا یا ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے تو فوراً ایک لمحے میں اس کے اثر کو توڑ کر اس کی خاصیت منجمد کر دیتا ہے۔ لیکن خداوند عالم تمام خاصیتوں کے ساتھ آگ اور بجلی کا خالق ہے۔ بجلی اور آگ کا لازمہ ہے کہ وہ گرمی دے یا حرکت پیدا کرے یا جلائے۔ خداوند عالم نے ان دونوں چیزوں کو خاص شخص یا خاص شے کے لئے خلق نہیں کیا مثلاً وہ فقیر کی کٹھیا کو گرم کرے لیکن جب اس کا لباس آگ میں گرے تو اسے نہ جلائے۔ خدا نے آگ کو جلانے کی خاصیت کے ساتھ خلق کیا ہے۔ پس نظام عالم میں آگ کو اس کی کلیت کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جہاں اس کا وجود لازم‘ مفید اور حکمت کے موافق ہو‘ نہ یہ کہ اس کی جزوی حیثیت کو سامنے رکھ کر یہ کہا جائے کہ فلاں جزوی شے میں فلاں ذاتی غرض کے پیش نظر‘ کیا اس کا وجود فائدہ مند‘ خیر اور حکمت ہے یا نہیں؟ دوسرے الفاظ میں جہاں حکمت الٰہی میں غایت کو غایت فعل سمجھنا چاہیے۔ غایت فاعل نہیں اور خدا کے حکیم ہونے کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس نے موجودات کو ان کی غایات تک پہنچانے کے لئے بہترین نظام ایجاد کیا ہے۔ اپنے نقص کو کمال اور قوت کو فعل سے بدلنے اور اہداف کمالیہ حاصل کرنے کے لئے بہترین وسیلے کی فراہمی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ افعال الٰہی کی غایات کلی ہیں‘ جزوی غایات نہیں۔ آگ کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ کلی پر جلائے نہ کہ فلاں مورد میں جلانے کے لئے کہ جو ممکن ہے ایک شخص کے لئے مفید ہو اور دوسرے کے لئے مضر۔