۴۔ توحید در عبادت

مذکورہ بالا تینوں مراتب کا تعلق توحید نظری اور ایک طرح کی معرفت سے ہے‘ لیکن توحید در عبادت‘ توحید عملی اور ”موجود ہونے“ اور ”واقع ہونے“ کی نوع سے ہے۔ توحید کے گذشتہ مراتب حقیقی تفکر و تعقل سے متعلق ہیں جبکہ توحید کا ہر مرحلہ حقیقی معنی میں ”ہونے“ اور ”ہو چکنے“ سے مربوط ہے۔ توحید نظری کمال کے بارے میں بصیرت ہے اور توحید عملی کمال تک پہنچنے کے لئے حرکت کرنے کا نام ہے۔ توحید نظری‘ وحدانیت خدا تک پہنچ جانے کا نام ہے جب کہ توحید عملی انسان کا ممتاز ہو جانا ہے توحید نظری ”دیکھنا“ ہے جب کہ توحید عملی ”راستے پر چلنا“ ہے۔
توحید عملی تشریح کرنے سے پہلے توحید نظری کے بارے میں ایک نقطے کا بیان ضروری ہے‘ کیا توحید نظری یعنی ذات خدا کو اس کی وحدانیت‘ ذات و صفات کی یگانگت اور فاعلیت میں وحدانیت کے اعتبار سے پہچاننا ممکن ہے یا غیر ممکن؟ ممکن ہونے کی صورت میں کیا اس قسم کی معرفتیں بشر کی سعادت میں موثر بھی ہیں یا یہ کہ ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ توحید کے مراتب میں صرف توحید عملی ہی مفید ہے؟
اس قسم کی معرفتوں کے امکان یا عدم امکان کے بارے میں ہم اپنی کتاب ”اصول فلسفہ اور روش ریالیسم“ میں گفتگو کر چکے ہیں لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ باعث سعادت ہے یا فضول‘ اس کا تعلق انسان اور اس کی سعادت کے بارے میں ہماری طرز معرفت سے ہے‘ انسان اور ہستی کے بارے میں مادی افکار اس چیز کا باعث بن چکی ہیں کہ خدا پر اعتقاد رکھنے والے بھی الٰہی معارف کو بے فائدہ اور بے سود سمجھنے لگے ہیں اور انہیں ایک طرح کی تصوریت پسندی (
Idealism
) اور حقیقت پسندی (
Realism
) سے گریز قرار دینے لگے ہیں لیکن ایک ایسا مسلمان جس کی انسان کے بارے میں سوچ یہ ہے کہ انسان کی حقیقت صرف اس کے مادی بدن میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس کی اصل حقیقت اور واقعیت اس کی روح ہے (ایسی روح جس کا جو ہر علم و تقدس اور پاکیزگی ہے) وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ توحید نظری جہاں توحید عملی کی اصل بنیاد ہے وہاں اپنی ذات میں کمال نفسانی بھی ہے بلکہ عالی ترین کمال نفسانی ہے کیوں کہ توحید نظری انسان کو حقیقی معنوں میں اللہ کی طرف لے جاتی ہے اور اسے کمال عطا کرتی ہے۔
اِلَيْہِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُہٗ
۝
۰
ۭ
(
سورئہ فاطر‘ آیت
۱۰)
”اسی کی بارگاہ میں اچھی باتیں پہنچتی ہیں اور اچھے کام کو وہ خود بلند فرماتا ہے۔“
انسان کی انسانیت معرفت الٰہی کی مرہون منت ہے کیوں کہ انسان کی معرفت انسان سے جدا نہیں ہے بلکہ اس کے وجود کا اصلی ترین اور محترم ترین حصہ ہے انسان جتنی زیادہ ہستی‘ نظام اور مبدائے ہستی کی معرفت پیدا کرے گا انسانیت (کہ جس کا نصف جوہر علم و معرفت ہے) اس میں پیدا ہوتی جائے گی۔
اسلام کی نظر میں خاص کر مذہب شیعہ کے معارف کے اعتبار سے اس بات میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ ان معارف پر مرتب سماجی اور عملی آثار سے قطع نظر‘ الٰہی معارف کا ادراک بذات خود انسانیت کا ہدف و مقصد ہے۔ (اس تمہید کے بعد) اب ہم توحید عملی کی طرف آتے ہیں۔
توحید عملی یا توحید در عبادت سے مراد ایک خدا کی پرستش ہے۔ دوسرے الفاظ میں حق تعالیٰ کی پرستش کی راہ میں منفرد اور ممتاز ہونا اور بعد میں ہم اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ اسلام کی نظر میں عبادت کے کئی مراتب اور درجات ہیں اور عبادت کے روشن ترین مراتب تقدس و تنزیہ پر مشتمل ایسے اعمال بجا لانا ہے کہ اگر انہیں غیر خدا کے لئے انجام دیا جائے تو اسے بجا لانے والا مکمل طور پر اہل توحید کی صف اور دائرئہ اسلام سے خارج ہو جائے گا‘ لیکن اسلام کی نظر میں عبادت و پرستش صرف اسی مرتبے پر منحصر نہیں ہے بلکہ کسی بھی قسم کی جہت کے انتخاب آئیڈیل اپنانے اور اپنا روحانی قبلہ قرار دینے سے عبارت ہے۔ جو شخص اپنی حیوانی خواہشات کو اپنی راہ تصور اور روحانی قبلہ قرار دیتا ہے وہ بھی پرستش کرتا ہے۔
اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰ
ـ
ہَہٗ ہَوٰىہُ
۝
۰
ۭ
”کیا تم نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی ہوائے نفس کو اپنا خدا اور معبود قرار دے رکھا ہے؟“(سورئہ فرقان‘ آیت
۴۳)
جو شخص کسی ایسے فرد کے امر اور فرمان کی اطاعت کرتا ہے جس کی اطاعت کا اللہ نے حکم نہیں دیا ہے اور اس کے سامنے تسلیم محض ہو جاتا ہے تو اس نے اس کی عبادت کی ہے۔
اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ (سورئہ توبہ‘ آیت
۳۱)
”(وہی لوگ) جنہوں نے اپنے اپنے علمائے دین اور زاہدوں کو اللہ کی بجائے اپنا خدا بنا لیا ہے۔“
وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ
۝
۰
ۭ
(
سورئہ آل عمران‘ آیت
۶۴)
”بے شک ہم انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے کو اپنا خدا اور حاکم قرار نہیں دینا چاہتے۔“
اس بناء پر توحید عملی یا توحید در عبادت سے مراد صرف خدا کو قبلہ روح‘ اپنی سمت اور اپنا آئیڈیل قرار دینا اور اسی کی اطاعت کرنا اور اس کے مقابلے میں ہر دوسرے قبلہ‘ آئیڈیل اور جہت کی نفی کرنا اور خدا کے سوا کسی اور کی اطاعت نہ کرنا ہے یعنی اللہ ہی کے لئے خم و راست ہونا‘ اسی کے لئے قیام کرنا‘ اسی کی خدمت کرنا اسی کے لئے جینا اور مرنا‘ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے کہا ہے:
وجھت وجھی للذی فطرالسموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین (سورئہ انعام‘ آیت
۷۹)
”اپنے صفحہ دل اور چہرہ قلب کو ایسی حقیقت کی جانب موڑ دیا ہے جس نے اعلیٰ اور پست کائنات کو وجود بخشا اور میں ہرگز مشرکین میں سے نہیں ہوں
اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
۝
۱۶۲
ۙ
لَا شَرِيْكَ لَہٗ
۝
۰
ۚ
وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِ
ـ
مِيْنَ
۝
۱۶۳ (
سورئہ انعام‘ آیات
۱۶۲
اور
۱۶۳)
”بے شک میری نماز‘ میری عبادت‘ میرا جینا مرنا خدا ہی کے لئے ہے جو مختلف جہانوں کا رب ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اسی چیز کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں ہی حق کے سامنے تسلیم ہونے والوں میں سے (ایک) ہوں۔“
یہی توحید ابراہیمی ان کی توحید عملی ہے کلمہ طیبہ یعنی لا الٰہ الا اللہ ہر چیز سے زیادہ توحید عملی پر دلالت کرتا ہے یعنی خدا کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں ہے۔