۵۔ نسبیت

محسوس اور مشہود موجودات چاہے اپنی اصل ہستی کے اعتبار سے ہوں یا کمالات ہستی کے لحاظ سے‘ نسبی ہیں یعنی اگر مثال کے طور پر انہیں عظمت و بزرگی‘ قوت و توانائی‘ جمال و زیبائی یا قدامت حتیٰ ہستی اور ہونے سے تعبیر کیا جائے تب بھی یہ دوسری اشیاء کے ساتھ موازنہ کے اعتبار سے ہو گا‘ مثلاً اگر ہم کہتے ہیں سورج بڑا ہے‘ اس کی بزرگی تو‘ ہماری زمین اور ہمارے نظام شمسی کے ستاروں کی نسبت سے ہو گی۔ لیکن یہی سورج بعض دوسرے ستاروں کی نسبت چھوٹا ہو گا‘ اگر ہم کہتے ہیں کہ فلاں حیوان بہت طاقت ور ہے تو ایسا انسان کی قوت یا اس سے کمزور تر ہونے کے ساتھ موازنہ کرنے کے اعتبار سے ہو گا۔ اسی طرح کسی چیز کا حسن و جمال‘ علم و دانائی حتیٰ اس کی ہستی اور اس کا ہونا کسی دوسری چیز کی ہستی و ظہور کے اعتبار سے ہے۔ ہر ہستی‘ کمال‘ دانائی‘ حسن و جمال‘ عظمت و طاقت اور جاہ و جلال اپنے سے کم سطح کی نسبت سے ہے لیکن اس سے بالاتر سطح کو بھی فرض کیا جا سکتا ہے اور اس کی نسبت اس سے بھی بالاتر کا فرض ممکن ہے۔ یہ تمام صفات اپنی ضد میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ہستی‘ ظہور وکمال‘ نقص و دانائی‘ جہل و جمال‘ پستی اور عظمت و جلالت اپنے بالاتر کی نسبت سے کم رنگ اور حقیر ہو جاتی ہے
انسان کی عقلی و فکری قوت حواس کے برخلاف صرف ظواہر پر ہی اکتفا نہیں کرتی‘ یہ ہستی کے باطن تک نفوذ کر جاتی ہے اور یہ فیصلہ سنا دیتی ہے کہ عالم ہستی ان محدود‘ متغیر‘ نسبی‘ مشروط اور محتاج امور تک محدود نہیں رہ سکتا۔
عالم ہستی کے جس ظاہری پہلو کو ہم اپنے ساتھ دیکھتے ہیں‘ اپنی مجموعی حقیقت میں ایستادہ اور ثابت ہے اور اپنی ذات میں مستقل ہے اس بناء پر لامحالہ ایک ایسی لامحدود‘ پائیدار‘ مطلق‘ غیر مشروط اور بے نیاز ذات موجود ہے‘ جو ہر زمانے اور ہر مکان میں موجود ہے اور جس پر تمام مخلوقات اور موجودات کا دار و مدار ہے وگرنہ عالم ہستی کا ظاہر قائم نہیں رہ سکتا تھا یعنی بنیادی طور پر عالم ہستی کا ظاہری پہلو موجود ہی نہ ہوتا بلکہ عدم اور ہستی محض ہوتا۔
قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کو ”قیوم“، ”غنی اور صمد“ جیسی صفات سے یاد کیا ہے اور انہی صفات کی بنیاد پر اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ عالم ہستی کا ظاہری رخ ایک ایسی حقیقت کا محتاج ہے جس پر یہ قائم ہے‘ وہ حقیقت تمام محدود‘ نسبی اور مشروط چیزوں کا سہارا اور انہیں باقی رکھنے والی ہے۔ وہ بے نیاز ہے کیوں کہ ہر دوسری چیز نیازمند اور محتاج ہے۔ وہ ”بھرپور“ اور کامل (لامحدود) ہے کیوں کہ اس کے علاوہ ہر دوسری چیز اندر سے خالی اور ایسی حقیقت کی محتاج ہے جو اس کے خلاء کو ہستی سے پر کر دے۔
قرآن محسوس اور مشہود موجودات کو آیات (نشانیوں) سے تعبیر کرتا ہے یعنی ہر وجود اپنے مقام پر لامحدود ہستی اور اللہ کی مشیت‘ حیات اور علم و قدرت کی نشانی ہے۔ قرآن کی نظر میں پورا عالم طبیعت ایسی کتاب کی مانند ہے جسے ایک دانا و حکیم نے تحریر کیا ہے اور اس کی ہر سطر بلکہ اس کا ہر کلمہ اپنے منصنف کی بے انتہا حکمت و دانائی کی علامت ہے۔ قرآن کی نظر میں انسان جس قدر عملی صلاحیت اور اشیاء کی معرفت حاصل کرتا ہے اتنا ہی پہلے سے زیادہ اللہ کی رحمت و عنایت اور حکمت و قدرت کے آثار سے واقف ہوتا ہے۔
علوم طبیعت میں سے ہر علم جہاں ایک اعتبار سے طبیعت کی معرفت ہے وہاں ایک اور اعتبار اور زیادہ گہری نگاہ سے معرفت الٰہی ہے۔
اسی مقام پر اللہ کی معرفت کے حصول کی غرض سے نمونے کے طور پر اس کے حوالے سے قرآن کی بہت سی آیات میں سے ایک آیت پیش کی جا رہی ہے:
اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَا
ۗ
ءِ مِنْ مَّا
ۗ
ءٍ فَاَحْيَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِيْہَا مِنْ كُلِّ دَا
ۗ
بَّۃٍ
۝
۰
۠
وَّتَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَا
ۗ
ءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ
۝
۱۶۴
(سورئہ بقرہ‘ آیت
۱۶۴)
”بے شک آسمان و زمین کی پیدائش اور رات دن کے ادل بدل میں اور کشتیوں (جہازوں) کے لوگوں کو نفع کی چیزیں دریا میں لے چلنے میں اور پانی میں جو خدا نے آسمان سے برسایا پھر اس سے زمین کو مردہ ہونے کے بعد جلا دیا اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیئے اور ہواؤں کے چلانے میں اور بادل کہ جسے آسمان اور زمین کے مابین کام میں لگا رکھا ہے‘ ان سب میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے وجود خدا پر نشانیاں ہیں۔“
اس آیت شریفہ میں عمومی طور پر معرفت کائنات کے حصول مثلاً جہاز رانی کی صنعت‘ دنیا کی سیر و سیاحت اور اس کے معاشی فوائد‘ بادلوں کی حرکت‘ ہوا اور بارش کے بنیادی اسباب‘ علم حیاتیات اور جانداروں کی معرفت حاصل کرنے کی طرف دعوت دی گئی ہے اور ان علوم کے فلسفے پر غور و تدبیر کو معرفت الٰہی کا سبب قرار دیا ہے۔