۶۔ حقیقی وجود

شرور اور برائیاں یا تو خود ہستی و عدم کی صنف سے ہیں۔ جیسے جہل‘ عجز و ناتوانی اور غربت و افلاس یا پھر ہستی کی صنف سے ہیں لیکن ان کا شر ہونا اس اعتبار سے ہے کہ یہ فقدان کا باعث بنتے ہیں جیسے زلزلے‘ جراثیم‘ سیلاب اور ژالہ باری وغیرہ۔ وہ ہستیاں جو نیستی اور عدم کا باعث بنتی ہیں ان کی شریت دوسری اشیاء کی نسبت سے ہوتی ہے نہ کہ اپنی ذاتی حیثیت میں شر ہوتی ہیں۔ ہر شے کا حقیقی وجود فی نفسہ اس کا وجود ہے اس کا اضافی اور نسبی وجود ایک اعتباری اور انتزاعی امر اور اس کے حقیقی وجود کا جزولاینفک ہے۔