۸۔ عدم اور نابود

کوئی شر شر محض نہیں ہوتا‘ عدم اور نابود اپنی اپنی جگہ خود مقدمہ ہستی اور مقدمہ کمالات و خیرات ہیں۔ شرور اپنے مقام پر تکامل کا زینہ ہیں اور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر برائی میں ایک اچھائی چھپی ہوتی ہے اور ہر عدم میں ایک وجود پوشیدہ ہوتا ہے۔