باب ١

اقوال ۱ تا ۳۰
اس باب میں سوالات کے جوابات اور چھوٹے چھوٹے حکیمانہ جملوں کا انتخاب درج ہے جو مختلف اغراض و مقاصد کے سلسلہ میں بیان کئے گئے ہیں
.
1 فتنہ و فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نے ابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کئے ہوں کہ نہ تو اس کی پیٹھ پر سوار ی کی جاسکتی ہے اور نہ اس کے تھنوں سے دودھ دوہا جاسکتا ہے
لبون دودھ دینے والی اونٹنی کو اورابن اللبون اس کے دو سالہ بچے کو کہتے ہیں اور وہ اس عمر میں نہ سوار ی کے قابل ہوتا ہے ,اور نہ ہی اس کے تھن ہوتے ہیں کہ ان سے دودھ دوہا جاسکے .اسے ابن اللبون اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس دو سال کے عرصہ میں اس کی ماں عموماًدوسرا بچہ دے کر دودھ دینے لگتی ہے .
مقصد یہ ہے کہ انسان کو فتنہ و فساد کے موقع پر اس طرح رہنا چاہیے کہ لوگ اسے ناکارہ سمجھ کر نظر انداز کردیں اور کسی جماعت میںاس کی شرکت کی ضرورت محسوس نہ ہو .کیونکہ فتنوں اور ہنگاموں میں الگ تھلگ رہنا ہی تباہ کاریوں سے بچا سکتا ہے .البتہ جہاں حق و باطل کا ٹکراؤ ہو وہاں پر غیر جانبداری جائز نہیں اور نہ اسے فتنہ و فساد سے تعبیر کیاہے .بلکہ ایسے موقع پر حق کی حمایت اور باطل کی سرکوبی کے لیے کھڑا ہونا واجب ہے .جیسے جمل و صفین کی جنگوں میں حق کا ساتھ دینا ضروری اور باطل سے نبرد آزما ہو نا لازم تھا .
2 جس نے طمع کو اپنا شعار بنایا ,اس نے خود کو سبک کیا اور جس نے اپنی پریشان حالی کا اظہار کیا وہ ذلت پر آمادہ ہوگیا ,اور جس نے اپنی زبان کو قابو میںنہ رکھا ,اس نے خود اپنی بے وقعتی کا سامان کر لیا .
3 بخل ننگ و عار ہے اور بزدلی نقص و عیب ہے اورغربت مرد زیرک و دانا کی زبان کو دلائل کی قوت دکھانے سے عاجز بنا دیتی ہے اور مفلس اپنے شہرمیں رہ کر بھی غریب الوطن ہوتا ہے اور عجز ودرماندگی مصیبت ہے اور صبر شکیبائی شجاعت ہے اور دنیا سے بے تعلقی بڑی دولت ہے اور پرہیز گاری ایک بڑی سپر ہے.
4 تسلیم و رضا بہترین مصاحب اور علم شریف ترین میراث ہے اور علمی و عملی اوصاف تو بن وخلعت ہیں اورفکر صاف شفاف آئینہ ہے.
5 عقلمند کا سینہ اس کے بھیدوں کا مخزن ہوتا ہے اور کشادہ روئی محبت و دوستی کا پھندا ہے اور تحمل و برد باری عیبوں کا مدفن ہے . (یا اس فقرہ کے بجائے حضرت نے یہ فرمایا کہ )صلح صفائی عیبوں کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے .
6 جو شخص خود کو بہت پسند کرتا ہے وہ دوسروں کو ناپسند ہوجاتا ہے اور صدقہ کامیاب دوا ہے ,اور دنیا میںبندوں کے جو اعمال ہیں وہ آخرت میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوںگے
یہ ارشاد تین جملوں پر مشتمل ہے ;پہلے جملہ میں خود پسندی سے پیدا ہونے والے نتائج و اثرات کا ذکر کیا ہے کہ اس سے دوسروں کے دلوں میں نفرت و حقارت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے .چنانچہ جو شخص اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لے بات بات میں اپنی بر تر ی کا مظاہر ہ کرتا ہے وہ کبھی عزت و احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتااور لو گ اس کی تفو ق پسندانہ ذہنیت کو دیکھتے ہوئے اس سے نفر ت کرنے لگتے ہیں اور اسے اتنا بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے جتنا کچھ وہ ہے چہ جائیکہ جو کچھ وہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے وہی کچھ اسے سمجھ لیں .
دوسرا جملہ صدقہ کے متعلق ہے اور اسے ایک »کامیاب دوا« سے تعبیر کیا ہے کیونکہ جب انسان صدقہ وخیرات سے محتاجوں اور ناداروں کی مدد کرتا ہے تو وہ د ل کی گہرایوں سے ا س کے لیے دعائے صحت و عافیت کرتے ہیں جو قبولیت حاصل کرکے اس کی شفایابی کا باعث ہوتی ہے .چنانچہ پیغمبر اکر م کا ارشاد ہے کہ راو وا مرضا کم بالصدقہ .اپنے بیماروں کا علا ج صدقہ سے کرو .
تیسرا جملہ حشر میں اعمال کے بے نقا ب ہو نے کے متعلق ہے کہ انسان ا س دنیا میں جو اچھے اور برے کام کرتا ہے وہ حجاب عنصری کے حائل ہونے کی وجہ سے ظاہر ی حواس سے اد راک نہیں ہوسکتے .مگر آخرت میں جب مادیت کے پردے اٹھادیئے جائیں گے تو وہ اس طرح آنکھوں کے سامنے عیاں ہوجائیں گے کہ کسی کے لیے گنجائش انکار نہ رہے گی .چنانچہ ارشاد الہی ہے .
ا س دن لوگ گروہ گروہ (قبروں سے )اٹھ کھڑے ہو ںگے تاکہ وہ اپنے اعمال کو دیکھیں توجس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا او ر جس نے ذرہ بھر بھی برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا .
7 یہ انسان تعجب کے قابل ہے کہ وہ چربی سے دیکھتا ہے اور گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے اور ہڈی سے سنتا ہے اور ایک سوراخ سے سانس لیتا ہے .
8 جب دنیا (اپنی نعمتوں کو لے کر) کسی کی طرف بڑھتی ہے تو دوسرو ں کی خوبیاں بھی اسے عاریت دے دیتی ہے .اور جب اس سے رخ موڑ لیتی ہے, تو خود اس کی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے .
مقصد یہ ہے کہ جس کابخت یا ور اور دنیا اس سے ساز گار ہوتی ہے ,اہل دنیا اس کی کار گزاریوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور دوسروں کے کارناموں کا سہرا بھی اس کے سر باندھ دیتے ہیں اور جس کے ہاتھ سے دنیا جاتی رہتی ہے اور ادبار نحوست کی گھٹا اس پر چھا جاتی ہے اس کی خوبیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں اور اس کا نام زبان پر لانا گوار انہیں کرتے .
دوستند آنکہ راز مانہ نواحت دشمنند آنکہ رازمانہ فگند
9 لوگوں سے اس طریقہ سے ملو کہ اگر مرجاؤ تو تم پر روئیں اور زند ہ رہو تو تمہارے مشتاق ہوں .
جو شخص لوگوں کے ساتھ نرمی اور اخلاق کا برتاؤ کرتا ہے .لوگ اس کی طرف دست تعاون بڑھاتے اس کی عزت و توقیر کرتے اور اس کے مرنے کے بعد اس کی یاد میںآنسو بہاتےہیں, لہٰذ ا انسان کو چاہیے کہ وہ اس طرح مرنجاں مرنج زندگی گزارے کہ کسی کو اس سے شکایت نہ پیدا ہو اور نہ اس سے کسی کو گزند پہنچے تاکہ اسے زندگی میں دوسروں کی ہمدردی حاصل ہو ,اور مرنے کے بعد بھی اسے اچھے لفظو ں میں یاد کیا جائے .
چناں بانیک و بد سرکن کہ بعد از مرونت عرفی مسلمانت بز مزم شویدو کافر بسو زاند
10 دشمن پر قابو پاؤ تو اس قابو پانے کاشکرانہ اس کو معاف کر دینا قرار دو .
عفو و درگزر کا محل وہی ہوتا ہے جہاں انتقام پر قدرت ہو ,اور جہاں قدرت ہی نہ ہو وہاں انتقام سے ہاتھ اٹھا لینا ہی مجبوری کا نتیجہ ہوتا جس پر کوئی فضیلت مرتب نہیں ہوتی .البتہ قدرت و اقتدارکے ہوتے ہوئے عفو درگذر سے کام لینا فضیلت انسانی کا جوہر اور اللہ کی اس بخشی ہوئی نعمت کے مقابلہ میں اظہار شکر ہے .کیونکہ شکر کا جذبہ اس کا مقتضی ہو تا ہے کہ انسان اللہ کے سامنے تذال و انکسارسے جھکے جس سے اس کے دل میں رحم ورافت کے لطیف جذبا ت پیدا ہوں گے اور غیظ وغضب کے بھڑکتے ہوئے شعلے ٹھنڈے پڑجائیں گے جس کے بعد انتقام کا کوئی داعی ہی نہ رہے گا کہ وہ اس قوت و قدرت کو ٹھیک ٹھیک کام میں لانے کی بجائے اپنے غضب کے فرو کر نے کا ذریعہ قرا ر دے
11 لوگوں مین بہت درماندہ وہ ہے جو اپنی عمر میں کچھ بھی اپنے لیے نہ حاصل کرسکے ,اور اس سے بھی زیادہ درماندہ وہ ہے جو پاکر اسے کھو دے .
خوش اخلاقی و خندہ پیشانی سے دوسر وں کو اپنی طرف جذب کرنا اور شیریں کلامی سے غیروں کو اپنانا کوئی دشوار چیز نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے نہ جسمانی مشقت کی ضرورت اور نہ دماغی کدو کاوش کی حاجت ہوتی ہے اور دوست بنانے کے بعد دوستی اور تعلقات کی خوشگواری کو باقی رکھنا تو اس سے بھی زیادہ آسان ہے کیونکہ دوستی پیدا کرنے کے لیے پھر بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے مگر اسے باقی رکھنے کے لیے تو کوئی مہم سرکرنا نہیں پڑتی .لہٰذا جو شخص ایسی چیز کی بھی نگہداشت نہ کر سکے جسے صر ف پیشانی کی سلو ٹیں دور کر کے باقی رکھا جاسکتا ہے اس سے زیادہ عاجز ودرماندہ کون ہوسکتا ہے .
مقصد یہ ہے کہ انسان کو ہر ایک سے خو ش خلقی و خندہ روئی سے پیش آنا چاہیے تاکہ لوگوں اس سے وابستگی چاہیں اور اس کی دوستی کی طرف ہاتھ بڑھائیں .
12 جب تمہیں تھوڑی بہت نعمتیں حاصل ہوں تو ناشکری سے انہیں خود تک پہنچنے سے پہلے بھگا نہ دو .
13جسے قریبی چھوڑ دیں اسے بیگانے مل جائیں گے .
14 ہر فتنہ میں پڑجا نے والا قابل عتاب نہیں ہوتا .
جب سعد ابن ابی وقا ص ,محمد ابن مسلمہ اور عبداللہ ابن عمر نے اصحاب جمل کے مقابلہ میں آپ کا ساتھ دینے سے انکا ر کیا تو اس موقع پر یہ جملہ فرمایا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ مجھ سے ایسے منحرف ہوچکے ہیں کہ ان پر نہ میری بات کا کچھ اثر ہوتا ہے اور نہ ان پرمیری عتاب و سر زنش کار گر ثابت ہوتی ہے
15سب معا ملے تقدیر کے آگے سر نگوں ہیں یہاں تک کہ کبھی تدبیر کے نتیجہ میں موت ہوجاتی ہے .
16پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے متعلق کے بڑھاپے کو (خضاب کے ذریعہ) بدل دو .اور یہود سے مشابہت اختیار نہ کرو .آپ علیہ السّلام سے سوال کیا گیا ,تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ اس موقع کے لیے فرمایا تھا .جب کہ دین (والے)کم تھے اور اب جب کہ اس کا دامن پھیل چکا ہے اور سینہ ٹیک کر جم چکا ہے تو ہر شخص کو اختیار ہے .
مقصد یہ ہے کہ چونکہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اس لیے ضرورت تھی کہ مسلمانوں کی جماعتی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں یہودیوں سے ممتاز رکھا جائے .اس لیے آنحضرت سے خضاب کا حکم دیا کہ جو یہودیوں کے ہاں مرسوم نہیں ہے .اس کے علاوہ یہ مقصد بھی تھا کہ وہ دشمن کے مقابلہ میں ضعیف و سن رسیدہ دکھائی نہ دیں.
17 ان لوگوں کے بارے میں کہ جوآپ کے ہمراہ ہوکر لڑنے سے کنارہ کش رہے .فرمایا ان لوگوں نے حق کو چھوڑدیا اور باطل کی بھی نصرت نہیں کی .
یہ ارشاد ان لوگوں کے متعلق ہے جو اپنے کو غیر جانبدار ظاہر کرتے تھے .جیسے عبداللہ ابن عمر ,سعد ابن ابی وقاص ,ابو موسیٰ اشعری ,احنف ابن قیس اور انس ابن مالک وغیرہ.بیشک ان لوگوں نے کھل کر باطل کی حمایت نہیں کی .مگر حق کی نصر ت سے ہاتھ اٹھا لینا بھی ایک طرح سے باطل کو تقویت پہنچانا ہے.اس لیے ان کا شمار مخالفین حق کے گروہ ہی میں ہوگا .
18جو شخص امید کی راہ میں میں بگ ٹٹ دوڑتا ہے وہ موت سے ٹھوکر کھاتا ہے .
19بامروت لوگو ں کی لغزشوں سے درگزر کرو .(کیونکہ )ان میں سے جو بھی لغزش کھا کر گرتا ہے تو اللہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھالیتا ہے .
20 خوف کا نتیجہ ناکامی اور شرم کانتیجہ محرومی ہے اور فرصت کی گھڑیاں (تیزرو) ابر کی طرح گزر جاتی ہیں .لہٰذا بھلائی کے ملے ہوئے موقعوں کو غنیمت جانو.
عوام میں ایک چیز خواہ کتنی ہی معیوب خیال کی جائے اور تحقیر آمیز نظر وں سے دیکھی جائے اگر اس میں کوئی واقعی عیب نہیں ہے تو اس سے شرمانا سراسر نادانی ہے کیونکہ اس کیوجہ سے اکثر ان چیز وں سے محروم ہونا پڑتا ہے جو دنیا وآخرت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا باعث ہوتی ہیں .جیسے کوئی شخص اس خیال سے کہ لو گ اسے جاہل تصور کریں گے کسی اہم اور ضرور ی بات کے دریافت کرنے میں عار محسوس کرے تو یہ بے موقع و بے محل خودداری اس کے لیے علم ودانش سے محرومی کا سبب بن جائے گی ,اس لیے کوئی ہوشمند انسان سیکھنے اور دریافت کرنے میں عار نہیں محسوس کرے گا .چنانچہ ایک سن رسیدہ شخص سے کہ جو بڑھاپے کے با وجود تحصیل علم کرتا تھا کہا گیا کہ ما تستحیٌ ان تتعلم علی الکبر«تمہیں بڑھاپے میں پڑھتے ہوئے شرم نہیں آتی .اس نے جواب میں کہا کہ» انالا استحی من الجھل علی الکبر فکیف استحی من التعلم علی الکبر «جب مجھے بڑھاپے میں جہالت سے شرم نہیں آئی تو اس بڑھاپے میں پڑھنے سے شرم کیسے آسکتی ہے .البتہ جن چیزوں میںواقعی برائی مفسد ہو ا ن کے ارتکاب سے شرم محسوس کرنا انسانیت اور شرافت کا جوہر ہے جیسے وہ اعمال ناشائستہ کہ جوشروع وعقل اور مذہب و اخلاق کی رو سے مذموم ہیں .بہر حال حیاء کی پہلی قسم قبیح اوردوسر ی قسم حسن ہے .چنانچہ پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے .
جبا کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو بتقاضائے عقل ہوتی ہے .یہ حیا علم و دانائی ہے .اور ایک و ہ جو حماقت کے نتیجہ میں ہوتی ہے . یہ سراسر جہل و نادانی ہے .
21 ہمارا ایک حق ہے اگر وہ ہمیں دیا گیا تو ہم لے لیں گے .ورنہ ہم اونٹ کے پیچھے والے پٹھوں پر سوار ہوںگے .اگرچہ شب روی طویل ہو .
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ بہت عمدہ اور فصیح کلام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں ہمارا حق نہ دیاگیا ,تو ہم ذلیل و خوار سمجھے جائیں گے اورمطلب اس طرح نکلتا ہے کہ اونٹ کے پیچھے کے حصہ پر ردیف بن کر غلام اور قیدی یا ا س قسم کے لوگ ہی سوار ہوا کرتے تھے.
سید رضی علیہ الرحمتہ کے تحریر کردو معنی کا ماحصل یہ ہے کہ حضر ت فرمانا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے حق کا کہ جوامام مفترض الطاعتہ ہونے کی حیثیت سے دوسروں پر واجب ہے اقرار کرلیا گیا اور ہمیں ظاہری خلافت کا موقع دیاگیا تو بہتر ورنہ ہمیں ہر طرح کی مشقتوں اور خواریوں کو برداشت کرنا پڑے گا ,اور ہم اس تحقیر و تذلیل کی حالت میں زندگی کا ایک طویل عرصہ گزارنے پر مجبور ہوں گے .
بعض شارحین نے اس معنی کے علاوہ اور معنی بھی تحریر کئے ہیں .اور وہ یہ کہ اگر ہمیں ہمارے مرتبہ سے گرا کر اونٹ کے پٹھے پر سوار ہوتا ہے وہ آگے ہوتا ہے اوربعض نے یہ معنی کہے ہیں کہ اگر ہمار ا حق دے دیا گیا توہم اسے لے لیں گے ,اور اگرنہ دیا گیا,تو اس سوار کی مانند نہ ہوں گے جو اپنی سواری کی باگ دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے .کہ وہ جدھر اسے لے جانا چاہے لے جائے .بلکہ اپنے مطالبہ حق پربرقرار رہیں گے خوا ہ مدت دراز کیوں نہ گزر جائے اور کبھی اپنے حق سے دستبردار ہوکر غضب کرنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں گے .
22 جسے اس کے اعمال پیچھے ہٹا دیں اسے حسب و نسب آگے نہیں بڑھا سکتا .
23 کسی مضطرب کی دا د فریا د سننا اور مصیبت زدہ کو مصیبت سے چھٹکارادلا نا بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ ہے .
24 اے آدم علیہ السّلام کے بیٹے جب تو دیکھے کہ اللہ تجھے پے درپے نعمتیں دے رہا ہے اور تو اس کی نافرمانی کررہا ہے تو اس سے ڈرتے رہنا .
جب کسی کو گناہوں کے باوجود پے درپے نعمتیں حاصل ہورہی ہوں ,تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اللہ اس سے خوش ہے اور یہ اس کی خوشنودی و نظر کرم کا نتیجہ ہے .حالانکہ نعمتوں میں زیادتی شکر گزاری کی صورت میں ہوتی ہے .اور ناشکری کے نتیجہ میں نعمتوں کا سلسلہ قطع ہوجاتا ہے .جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے .
اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہیں اور زیادہ نعمتیں دوں گا او ر اگر ناشکر ی کی تو پھر یاد رکھو کہ میرا عذاب سخت عذاب ہے .
لہٰذا عصیان و ناسپاہی کی صورت میں برابر نعمتو ں کاملنا اللہ کی خوشنود ی و رضا مند ی کا ثمر ہ نہیں ہوسکتا اورنہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس صورت میں اسے نعمتیں دے کر شبہہ میں ڈال دیا ہے کہ وہ نعمتوں کی فراوانی کو اس کی خوشنودی کا ثمرہ سمجھے .کیونکہ جب وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ خطا کار عاصی ہے اور گناہ کو گناہ او ربرائی کو برائی سمجھ کر اس کا مرتکب ہورہا ہے ,تو اشتباہ کی کیا وجہ کہ وہ اللہ کی خوشنودی و رضامندی کا تصور کرے بلکہ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک طرح کی آزمائش اور مہلت ہے تاکہ جب اس کی طغیانی و سر کشی انتہا کو پہنچ جائے تو اسے دفعتاًگرفت میں لے لیا جائے .لہٰذا ایسی صورت میں اسے منتظر رہنا چاہیے کہ کب اس پر غضب الہی کا ورود ہو اور یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں .اور محرومی و نامرادی کی عقوبتوں میں اسے جکڑلیا جائے .
25جس کسی نے بھی کوئی بات دل میں چھپا کہ رکھنا چاہی وہ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلے ہوئے الفاظ اور چہرہ کے آثار سے نمایا ںضرور ہو جاتی ہے .
انسان جن باتوں کو دوسروں سے چھپانا چاہتا ہے ,وہ کسی نہ کسی وقت زبان سے نکل ہی جاتی ہیں اور چھپانے کی کو شش ناکام ہو کر رہ جاتی ہے .وجہ یہ ہے کہ عقل مصلحت اندیش اگرچہ نہیں پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے .مگر کبھی کسی اور اہم معاملہ میں الجھ کر ادھر سے غافل ہو جاتی ہے اور وہ بے اختیار لفظوں کی صورت میں زبان سے نکل جاتی ہیں اور جب عقل ملتفت ہوتی ہے تو تیر ازکمان جستہ واپس پلٹایا نہیں جاسکتا اور اگر یہ صورت نہ بھی پیش آئے اور عقل پورے طور سے متنبہ و ہوشیار رہے,جب بھی وہ پوشیدہ نہیں رہ سکتیں .کیونکہ چہرے کے خد وخال ذہنی تصورات کے غماز اور قلبی کیفیات کے آئینہ دار ہوتے ہیں .چنانچہ چہرے کی سرخی سے شرمندگی کا اور زردی سے خوف کا بخوبی پتہ چل سکتا ہے .
26 مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے چلتے پھرتے رہو .
مقصد یہ ہے کہ جب تک مرض شدت اختیار نہ کر ے اسے اہمیت نہ دینا چاہیے کیونکہ اہمیت دینے سے طبیعت احساس مرض سے متاثر ہوکر اس کے اضافہ کا باعث ہوجایاکر تی ہے .اس لیے چلتے پھرتے رہنا اور اپنے کو صحت مند تصور کرنا تحلیل مرض کے علاوہ طبیعت کی قوت مدافعت کو مضمحل ہونے نہیں دیتا اور اس کی قوت معنوی کو برقرار رکھتا ہے اور قوت معنوی چھوٹے موٹے مرض کو خود ہی دبایا کر تی ہے بشرطیکہ مرض کے وہم میں مبتلا ہوکر اسے سپر انداختہ ہونے پر مجبور نہ کردیا جائے.
27 بہترین زہد زہد کا مخفی رکھنا ہے .
28 جب تم (دنیا کو) پیٹھ دکھا رہے ہو .اور موت تمہاری طرف رخ کئے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی ؟
29 ڈرو !ڈرو !اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے ,کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے .
30 حضرت علیہ السّلام سے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا .ایمان چار ستونوں پر قائم ہے .صبر ,یقین ,عدل اور جہاد . پھرصبر کی چار شاخیں ہیں .اشتیاق ,خوف ,دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار .اس لیے کہ جو جنت کا مشتاق ہوگا ,وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جو دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جو دنیا سے بے اعتنائی اختیا ر کر ے گا ,وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظا ر ہوگا ,وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا .اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں .روشن نگاہی ,حقیقت رسی ,عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ .چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی .اور جس کے لیے علم وعمل آشکار ہو جائے گا ,وہ عبرت سے آشنا ہوگا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں ,تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری .چنانچہ جس نے غور و فکر کیا ,وہ علم کی گہرائیوں میں اترا ,وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہوکر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی .اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر ز ندگی بسر کی اورجہاد کی بھی چار شاخیں ہیں .امر بالمعروف ,نہی عن المنکر ,تمام موقعوں راست گفتاری اور بدکرداروں سے نفرت .چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا ,اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی ,اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا ,اس نے اپنا فرض اداکردیا او رجس نے فاسقوں کو براسمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا .