باب ١١

اقوال
۳۰۱
تا
۳۳۰
301 تمہارا قاصد تمہاری عقل کا ترجمان ہے اور تمہاری طرف سے کامیاب ترین ترجمانی کرنے والا تمہارا خط ہے .
302 ایسا شخص جو سختی و مصیبت میں مبتلا ہو .جتنا محتاج دعا ہے, اس سے کم وہ خیر وعافیت سے ہے .مگر اندیشہ ہے کہ نہ جانے کب مصیبت آجائے .
303 لوگ اسی دنیا کی اولا د ہیں اور کسی شخص کو اپنی ماں کی محبت پر لعنت ملامت نہیں کی جاسکتی .
304 غریب و مسکین اللہ کا فرستادہ ہوتا ہے تو جس نے اس سے اپنا ہاتھ روکا اس نے خدا سے ہاتھ روکا اور جس نے اسے کچھ دیا اس نے خدا کو دیا .
305 غیر ت مند کبھی زنا نہیں کرتا .
306 مدت حیات نگہبانی کے لیے کافی ہے .
مطلب یہ ہے کہ لاکھ آسمان کی بجلیا ں کڑکیں ,حوادث کے طوفان امنڈیں ,زمین میں زلزلے آئیں او رپہاڑ آپس میں ٹکرائیں , اگر زندگی باقی ہے تو کوئی حادثہ گزند نہیں پہنچا سکتا اور نہ صرصر موت شمع زندگی کو بجھا سکتی ہے کیونکہ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور اس مقررہ وقت تک کوئی چیز سلسلہ حیات کو قطع نہیں کر سکتی ,اس لحاظ سے بلا شبہ موت خود زندگی کی محافظ و نگہبان ہے .
»موت کہتے ہیں جسے ہے پاسبان زندگی «
307 اولاد کے مرنے پہ آدمی کو نیند آجاتی ہے مگر مال کے چھن جانے پر اسے نیند نہیں آتی .
سید رضی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اولاد کے مرنے پر صبر کر لیتا ہے مگر مال کے جانے پر صبر نہیں کرتا .
308 باپوں کی باہمی محبت اولاد کے درمیان ایک قرابت ہواکرتی ہے اور محبت کوقرابت کی اتنی ضرورت نہیں جتنی قرابت کو محبت کی .
309 اہل ایمان کے گمان سے ڈرتے رہو, کیونکہ خداوند عالم نے حق کو ان کی زبانوں پر قرار دیا ہے.
310 کسی بند ے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجو دہونے والے مال سے اس پر زیادہ اطمینان نہ ہو جو قدرت کے ہاتھ میں ہے .
311 جب حضرت بصرہ میں وارد ہوئے تو انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا تھا کہ ان دونوں کو کچھ وہ اقوال یاد دلائیں جو آپ علیہ السّلام کے بارے میں انہوں نے خود پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہیں .مگر انہوں نے اس سے پہلوتہی کی ,اور جب پلٹ کر آئے تو کہا کہ وہ بات مجھے یاد نہیں رہی اس پر حضرت نے فرمایا اگر تم جھو ٹ بول رہے ہو تو اس کی پاداش میں خداوند عالم ایسے چمکدار داغ میں تمہیں مبتلا کرے ,کہ جسے دستا ر بھی نہ چھپا سکے .
(سید رضی فرماتے ہیں کہ)سفید داغ سے مراد برص ہے چنانچہ انس مر ض میں مبتلا ہوگئے جس کی وجہ سے ہمیشہ نقاب پوش دکھائی دیتے تھے.
علامہ رضی نے اس کلام کے جس مورد و عمل کی طرف اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب حضرت نے جنگ جمل کے موقع پر انس ابن مالک کو طلحہ وزبیر کے پاس اس مقصد سے بھیجا کہ وہ انہیں پیغمبر کا قول انکما استقاتلان علیا و انتھالہ ظالمان (تم عنقریب علی علیہ السّلام سے جنگ کر و گے اور تم ان کے حق میں ظلم و زیادتی کرنے والے ہوگے )یاد دلائیں ,تو انہوں نے پلٹ کر یہ ظاہر کیا کہ وہ اس کا تذکر ہ بھو ل گئے تو حضرت نے ان کے لیے یہ کلمات کہے .مگر مشہور یہ ہے کہ حضرت نے یہ جملہ اس موقع پر فرمایا جب آپ پیغمبرکے اس ارشاد کی تصدیق چاہی کہ:
جس کا میں مولا ہوں اس کے علی بھی مولا ہیں .اے اللہ جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ اور جو انہیں دشمن رکھے تو بھی اسے دشمن رکھ .
چنانچہ متعدد لوگو ں نے اس کی گواہی دی .مگر انس بن مالک خاموش رہے جس پر حضرت نے ان سے فرمایا کہ تم بھی تو غدیر خم کے موقع پر موجود تھے پھر اس خاموشی کی کیا وجہ ہے ؟انہوں نے کہا یا امیرالمومنین علیہ السّلام میں بوڑھا ہوچکا ہوں اب میری یاد داشت کا م نہیں کرتی جس پر حضرت نے ان کے لیے بددعا فرمائی .چنانچہ ابن قیتبہ تحریر کرتے ہیں کہ .
لوگوں نے بیان کیا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے انس ابن مالک سے رسول اللہ کے ارشاد اے اللہ جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ اور جو انہیں دشمن رکھے تو بھی اسے دشمن رکھ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور اسے بھول چکا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اگر تم جھوٹ کہتے ہو تو خدا تمہیں ایسے بر ص میں مبتلا کرے جسے عمامہ بھی نہ چھپا سکے .
ابن ابی الحدید نے بھی اسی قول کی تائید کی ہے اور سید رضی کے تحریر کردہ واقعہ کی تردید کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ
سید رضی نے جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے حضرت نے انس کو طلحہ و زبیر کی طرف روانہ کیا تھا ایک غیر معروف واقعہ ہے اگر حضرت نے اس کلا م کی یاد دہانی کے لیے انہیں بھیجا ہوتا کہ جو پیغمبر نے ان دونوں کے بارے میں فرمایا تھا تو یہ بعید ہے کہ وہ پلٹ کر یہ کہیں کہ میں بھول گیا تھا .کیونکہ جب وہ حضرت سے الگ ہوکر روانہ ہوئے تھے تو اس وقت یہ اقرار کیاتھا کہ پیغمبر کا یہ ارشاد میرے علم میں ہے اور مجھے یاد ہے پھر کس طرح یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایک گھڑی یا ایک دن کے بعد یہ کہیں کہ میں بھول گیا تھا ,اور اقرار کے بعد انکا ر کریں .یہ ایک نہ ہونے والی بات ہے .
312 دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہوجا تے ہیں .لہٰذا جب مائل ہوں ,اس وقت انہیں مستحبات کی بجا آوری پرآمادہ کرو .اور جب اچاٹ ہوں تو واجبات پر اکتفا کرو .
313 قرآن میں تم سے پہلے کی خبر میں, تمہارے بعد کے واقعات اور تمہارے درمیانی حالات کے لیے احکام ہیں .
314 جدھر سے پتھر آئے اسے ادھر ہی پلٹا دو کیونکہ سختی کا دفیعہ سختی ہی سے ہوسکتا ہے .
315 اپنے منشی عبیداللہ ابن ابی رافع سے فرمایا:
دوات میں صو ف ڈالا کر و ,اور قلم کی زبان لمبی رکھا کرو .سطروں کے درمیان فاصلہ زیادہ چھوڑا کرو اور حروف کو ساتھ ملا کر لکھا کرو کہ یہ خط کی دیدہ زیبی کے لیے منا سب ہے .
316 میں اہل ایمان کا یعسوب ہوں اور بدکرداروں کا یعسوب مال ہے .
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان والے میری پیروی کرتے ہیں اور بدکردار مال و دولت کا اسی طرح اتباع کرتے ہیں جس طرح شہد کی مکھیا ں یعسوب کی اقتدا کرتی ہیں اور یعسوب اس مکھی کو کہتے ہیں جو ان کی سردار ہوتی ہے .
317 ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کودفن نہیں کیا تھا کہ ان کے بارے میں اختلاف شروع کردیا .حضرت نے فرمایا ہم نے ان کے بارے میں اختلا ف نہیں کیا .بلکہ ان کے بعد جانشینی کے سلسلہ میں اختلاف ہوا مگر تم تو وہ ہوکہ ابھی دریائے نیل سے نکل کر تمہارے پیر خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ اپنے نبی سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا خدا بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں .توموسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ بیشک تم ایک جاہل قوم ہو.
اس یہودی کی نکتہ چینی کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے باہمی اختلاف کو پیش کر کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو ایک اختلافی امر ثابت کرلے ,مگر حضرت نے یہ لفظ فیہ کے بجائے لفظ عنہ فرماکر اختلاف کا موردواضح کر دیا کہ وہ اختلاف رسول کی نبو ت کے بارے میں نہ تھا بلکہ ان کی نیابت و جانشینی کے سلسلہ میں تھا .اور پھر یہودیوں کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جوآج پیغمبر کے بعد مسلمانوں کے باہمی اختلاف پر نقدکر رہے ہیں خود ان کی حالت یہ تھی کہ حضرت موسیٰ کی زندگی ہی میں عقیدہ توحید میں متزلزل ہوگئے تھے چنانچہ جب وہ اہل مصر کی غلامی سے چھٹکار ا پاکر دریا کے پار اتر ے تو سینا کے بت خانہ میں بچھڑے کی ایک مورتی دیکھ کر حضرت موسیٰ سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسی مورتی بنا دیجئے .جس پر حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ تم اب بھی ویسے ہی جاہل ہو,جیسے مصر میں تھے تو جس قوم میں توحید کی تعلیم پانے کے بعد بھی بت پرستی کا جذبہ اتنا ہو کہ وہ ایک بت کو دیکھ کر تڑپنے لگے اور یہ چاہے کہ اس کے لیے بھی ایک بت خانہ بنا دیا جائے اس کو مسلمانوں کے کسی اختلاف پر تبصرہ کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے .
318 حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پرغالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی مقابلہ کر تا تھا وہ اپنے خلاف میری مدد کرتا تھا .
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کی ہیبت دلو ں پر چھاجاتی تھی .
جو شخص اپنے حریفوں سے مرعوب ہوجائے ,اس کا پسپا ہونا ضروری سا ہوجاتا ہے کیونکہ مقابلہ میں صرف جسمانی طاقت کا ہونا ہی کافی نہیں ہوتا .بلکہ دل کا ٹھہراؤ اورحوصلہ کی مضبوطی بھی ضروری ہے .اور جب وہ ہمت ہار دے گا اور یہ خیال دل میں جما لے گا کہ مجھے مغلوب ہی ہونا ہے تو مغلوب ہو کر رہے گا .یہی صورت امیر المومنین علیہ السّلام کے حریف کی ہوتی تھی کہ و ہ ان کی مسلمہ شجاعت سے اس طرح متاثر ہوتا تھا کہ اسے موت کا یقین ہو جاتاتھا .جس کے نتیجہ میں اس کی قوت معنوی و خود اعتماد ی ختم ہوجاتی تھی اورآخر یہ ذہنی تاثر اسے موت کی راہ پرلا کھڑا کرتا تھا .
319 اپنے فرزند محمد ابن حنفیہ سے فرمایا! اے فرزند !میں تمہارے لیے فقر و تنگدستی سے ڈرتا ہوں لہٰذا فقر و ناداری سے اللہ کی پناہ مانگو .کیونکہ یہ دین کے نقص ,عقل کی پریشانی اور لوگوں کی نفرت کا باعث ہے .
320 ایک شخص نے ایک مشکل مسئلہ آپ سے دریافت کیا ,تو آپ نے فرمایا .سمجھنے کے لیے پوچھو ,الجھنے کے لیے نہ پوچھو . کیونکہ وہ جاہل جو سیکھنا چاہتا ہے مثل عالم کے ہے اور وہ عالم جو الجھنا چاہتا ہے وہ مثل جاہل کے ہے .
321 عبد اللہ ابن عباس نے ایک امر میں آپ کو مشورہ دیا جو آپ کے نظر یہ کے خلاف تھا .تو آپ نے ان سے فرمایا .تمہارا یہ کام ہے کہ مجھے رائے دو .اس کے بعد مجھے مصلحت دیکھنا ہے .اور اگر میں تمہاری رائے کو نہ مانوں ,تو تمہیں میری اطاعت لازم ہے .
عبداللہ ابن عباس نے امیر المومنین علیہ السّلام کو یہ مشورہ دیا تھا کہ طلحہ و زبیر کو کو فہ کی حکومت کا پروانہ لکھ دیجئے اور معاویہ کو شام کی ولایت پر برقرار رہنے دیجئے ,یہاں تک کہ آپ کے قد م مضبوطی سے جم جائیں اور حکومت کو استحکام حاصل ہوجائے جس کے جو اب میں حضرت نے فرمایا کہ میں دوسروں کی دنیا کی خاطر اپنے دین کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتا لہٰذا تم اپنی بات منوانے کی بجائے میری بات کو سنو اور میری اطاعت کرو .
322 وارد ہو اہے کہ جب حضرت صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ پہنچے تو قبیلہ شبام کی آبادی سے ہوکر گزرے .جہاں صفین کے کشتوں پر رونے کی آواز آپ کے کانوں میں پڑی اتنے میں حرب ابن شرجیل شبامی جو اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں میں سے تھے ,حضرت کے پاس آئے تو آپ نے اس سے فرمایا !کیاتمہار اان عورتوں پر بس نہیں چلتا جو میں رونے کی آوازیں سن رہا ہوں اس رونے چلانے سے تم انہیں منع نہیں کرتے ؟حرب آگے بڑھ کر حضرت کے ہمرکا ب ہولیے درآں حالیکہ حضرت سوارتھے تو آپ نے فرمایا !پلٹ جاؤ تم جیسے آدمی کا مجھ جیسے کے ساتھ پیادہ چلنا والی کے لیے فتنہ اور مومن کے لیے ذلت ہے .
323 نہروان کے دن خوارج کے کشتوں کی طرف ہو کر گزرے تو فرمایا !تمہارے لیے ہلاکت وتباہی ہو جس نے تمہیں ورغلایا ,اس نے تمہیں فریب دیا .کہاگیاکہ یا امیر المومنین علیہ السّلام کس نے انہیں ورغلایا تھا؟فرمایا کہ گمراہ کرنے والے شیطان او ربرائی پر ابھارنے والے نفس نے کہ جس نے انہیں امیدوں کے فریب میں ڈالا اور گناہوں کا راستہ ان کے لیے کھول دیا .فتح و کامرانی کے ان سے وعدے کئے اور اس طرح انہیں دوزخ میں جھونک دیا .
324 تنہائیوں میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈر و .کیونکہ جو گوا ہ ہے وہی حاکم ہے .
325 جب آپ کو محمد ابن ابی بکر رحمتہ اللہ علیہ کے شہید ہونے کی خبر پہنچی توآپ نے فرمایا ہمیں ان کے مر نے کا اتنا ہی رنج و قلق ہے جتنی دشمنوں کو اس کی خوشی ہے .بلاشبہ ان کا ایک دشمن کم ہوا .اور ہم نے ایک دوست کو کھودیا .
326 وہ عمر کہ جس کے بعد اللہ تعالیٰ آدمی کے عذر کو قبول نہیں کرتا ,ساٹھ برس کی ہے .
327 جس پر گناہ قابو پا لے ,وہ کامران نہیں اور شرکے ذریعہ غلبہ پانے والا حقیقتاً مغلوب ہے .
328 خدا وند عالم نے دولتمندوں کے مال میں فقیروں کا رزق مقرر کیا ہے لہٰذا اگر کوئی فقیر بھوکا رہتا ہے تو اس لیے کہ دولت مند نے دولت کو سمیٹ لیا ہے اور خدائے بزرگ و برتران سے اس کا مواخذہ کرنے والا ہے .
329 سچاعذر پیش کرنے سے یہ زیادہ دقیع ہے کہ عذر کی ضرورت ہی نہ پڑے .
مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے فرائض پر اس طرح کا ر بند ہونا چاہیے کہ اسے معذرت پیش کرنے کی نوبت ہی نہ آئے .کیونکہ معذرت میں ایک گونہ کوتاہی کی جھلک اور ذلت کی نمود ہوتی ہے ,اگرچہ وہ صحیح و درست ہی کیوں نہ ہو .
330 اللہ کا کم سے کم حق جو تم پر عائد ہوتا ہے یہ ہے کہ اس کی نعمتوں سے گناہوں میں مدد نہ لو.
کفران نعمت وناسپاسی کے چنددرجے ہیں .پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان نعمت ہی کی تشخیص نہ کرسکے ,جیسے آنکھوں کی روشنی ,زبان کی گویائی ,کانوں کی شنوائی اور ہاتھ پیروں کی حرکت کو, یہ سب اللہ کی بخشی ہوئی نعمتیں ہیں .مگر بہت سے لوگوں کو ان کے نعمت ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان میں شکر گزاری کا جذبہ پیدا ہو.دوسرا درجہ یہ ہے کہ نعمت کو دیکھے اور سمجھے .مگر اس کے مقابلہ میں شکر بجا نہ لائے. تیسرادرجہ یہ ہے کہ نعمت بخشنے والے کی مخالفت و نافرمانی کرے .چوتھا درجہ یہ ہے کہ اسی کی دی ہوئی نعمتوں کو اطاعت وبندگی میں صرف کر نے کے بجائے اس کی معصیت و نافرمانی میں صرف کرے یہ کفران نعمت کا سب سے بڑ ا درجہ ہے .