باب ١٤

اقوال
۳۹۱
تا
۴۲۰
391دنیا سے بے تعلق رہو ,تاکہ اللہ تم میں دنیا کی برائیوں کا احساس پیدا کرے .اور غافل نہ ہو اس لیے کہ تمہاری طرف سے غافل نہیں ہوا جائے گا .
392بات کرو ,تاکہ پہچانے جاؤکیونکہ آدمی اپنی زبا ن کے نیچے پوشیدہ ہے .
393جو دنیا سے تمہیں حاصل ہوا اسے لے لو اور جو چیز رخ پھیر لے اس سے منہ موڑ ے رہو .اور اگر ایسا نہ کر سکو تو پھر تحصیل و طلب میں میانہ روی اختیار کرو .
394بہت سے کلمے حملے سے زیادہ اثر ونفوذ رکھتے ہیں .
395جس چیز پر قناعت کر لی جائے و ہ کافی ہے .
396موت ہو اور ذلت نہ ہو .کم ملے اور دوسروں کو وسیلہ بنانا نہ ہو ,جسے بیٹھے بٹھائے نہیں ملتا اسے اٹھنے سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا زمانہ دو2 دنوں پر منقسم ہے ایک دن تمہارے موافق اور ایک تمہارے مخالف .جب موافق ہوتو اتراؤ نہیں . اور جب مخالف ہو تو صبر کرو .
397بہترین خوشبو مشک ہے جس کا ظرف ہلکا اورمہک عطر بار ہے .
398فخر و سر بلندی کو چھوڑ دو ,تکبر و غرو ر کو مٹاؤ اور قبر کو یاد رکھو .
399ایک حق فرزند کا باپ پر ہوتا ہے اور ایک حق باپ کا فرزند پر ہوتا ہے .باپ کا فرزند پر یہ حق ہے کہ وہ سوائے اللہ کی معصیت کے ہر با ت میں اس کی اطاعت کرے اور فرزند کا باپ پر یہ حق ہے کہ اس کا نام اچھا تجویز کرے ,اچھے اخلاق و آداب سے آراستہ کرے اور قرآن کی اسے تعلیم دے .
400چشم بد افسوس, سحر اورفال نیک ان سب میں واقعیت ہے .البتہ فال بد اور ایک بیماری کا دوسرے کو لگ جانا غلط ہے . خوشبو سونگھنا ,شہد کھانا,سواری کرنا اور سبزے پر نظرکرنا غم و اندوہ اور قلق و اضطراب کو دور کرتا ہے .
طیرہ کے معنی فال بد اور تفا ل کے معنی فال نیک کے ہوتے ہیں .شرعی لحاظ سے کسی چیز سے برا شگون لینا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور یہ صرف توہمات کا کر شمہ ہے اس بد شگوفی کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ کیومرث کےبیٹوں نے رات کے پہلے حصہ میں مرغ کی اذان سنی اور اتفاق سے اسی رات کو کیومرث کا انتقال ہوگیا جس سے انہیں یہ تو ہم ہو ا کہ مرغ کا بے وقت اذان دینا کسی خبر غم کا پیش خیمہ ہوتاہے چنانچہ انہوں نے اس مرغ کو ذبح کر دیا ,اور بعد میں مختلف حادثوں کا مختلف چیزوں سے خصوصی تعلق قائم کرلیاگیا.
البتہ فال نیک لینے میں کوئی مضائقہ نہیں .چنانچہ جب ہجرت پیغمبر کے بعد قریش نے یہ اعلان کیا کہ جو آنحضرت کو گرفتار کرے گا ,تو اسے سو اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے تو ابو بریدہ اسلمی اپنے قبیلہ کے ستر آدمیوں کے ہمراہ آپ کے تعاقب میں روانہ ہوا . اور جب ایک منزل پرآمنا سامنا ہوا توآنحضرت نے پوچھا تم کون ہو اس نے کہا کہ بریدہ ابن خصیب حضرت نے یہ نام سنا تو فرمایا برادمرنا ہمار امعاملہ خوشگوار ہوگیا .پھر پوچھا کہ کس قبیلہ سے ہو؟ اس نے کہا کہ اسلم سے .تو فرمایا کہ سلمنا ہم نے سلامتی پائی .پھر دریافت کیا کہ کس شاخ سے ہواس نے کہا کہ بنی سہم سے .تو فرمایا کہ خرج سھمک تمہارا تیر نکل گیا .بریدہ اس انداز سے گفتگو اور حسن گفتار سے بہت متاثر ہوا .اور پوچھا کہ آپ کون ہیں فرمایا کہ محمّد ابن عبداللہ, یہ سن بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا .اشھد انّک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اور قریش کے انعام سے دستبردار ہوکر دولت ایمان سے مالا مال ہوگیا .
401لوگوں سے ان کے اخلاق و اطوار میں ہمرنگ ہونا ان کے شر سے محفوظ ہوجانا ہے .
402ایک ہم کلام ہونے والے سے کہ جس نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر ایک بات کہی تھی, فرمایا تم پر نکلتے ہی اڑنے لگے اور جوان ہونے سے پہلے بلبلانے لگے .
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس فقرہ میں شکیر سے مراد وہ پر ہیں جوپہلے پہل نکلتے ہیں اور ابھی مضبوط و مستحکم نہیں ہونے پاتے , اور سقب اونٹ کے بچے کوکہتے ہیں اور وہ اس وقت بلبلاتاہے .جب جوان ہوتا ہے.
403جو شخص مختلف چیز وں کا طلب گار ہوتا ہے اس کی ساری تدبیریں ناکا م ہوجاتی ہیں .»طلب الکل فوت الکل «.
404حضرت سے لاحول ولا قوۃ الا باللہ (قوت وتوانائی نہیں مگر اللہ کے سبب سے )کے معنی دریافت کئے گئے تو آپ نے فرمایا کہ ہم خدا کے ساتھ کسی چیز کے مالک نہیں اس نے جن چیزوں کا ہمیں مالک بنایا ہے بس ہم انہیں پر اختیار رکھتے ہیں .تو جب اس نے ہمیں ایسی چیز کا مالک بنا یا جس پر وہ ہم سے زیاد ہ اختیار رکھتا ہے تو ہم پر شرعی ذمہ داریاں عائد کیں .اور جب اس چیز کو واپس لے گا تو ہم سے اس ذمہ داری کو بھی بر طرف کردے گا .
مطلب یہ ہے کہ انسان کو کسی شے پر مستقلاً تملک و اختیار حاصل نہیں بلکہ یہ حق ملکیت و قوت تصرف قدرت کا بخشا ہوا ایک عطیہ ہے اور جب تک یہ تملک و اختیار باقی رہتا ہے .تکلیف شرعی بر قرار رہتی ہے اور اسے سلب کرلیا جاتا ہے تو تکلیف بھی برطرف ہوجاتی ہے .کیونکہ ایسی صورت میں تکلیف کا عائد کرنا تکلیف مالایطاق ہے جو کسی حکیم و دانا کی طرف سے عائد نہیں ہوسکتی .چنانچہ اللہ سبحانہ نے اعضا و جوارح میں اعمال کے بجالانے کی قوت و دیعت فرمانے کے بعد ان سے تکلیف متعلق کی .لہٰذاجب تک یہ قوت باقی رہے گی ان سے تکلیف کا تعلق رہے گا .اور اس قوت کے سلب کرلینے کے بعد تکلیف بھی برطرف ہوجائے گی ,جیسے زکوٰۃ کا فریضہ اسی وقت عائد ہوتا ہے جب دولت ہو ,اور جب دولت چھین لے گا .تو اس کے نتیجہ میں زکوٰۃ کا وجوب بھی ساقط کر دے گا .کیونکہ ایسی صور ت میں تکلیف کا عائد کرنا عقلاًقبیح ہے .
405عمار بن یاسر کو جب مغیر ہ ابن شعبہ سے سوال وجواب کرتے سنا تو ان سے فرمایا !اے عمار اسے چھوڑ دو اس نے دین سے بس وہ لیا ہے جو اسے دنیا سے قریب کر ے اور اس نے جان بوجھ کراپنے کو اشتباہ میں ڈال رکھا ہے تاکہ ان شبہات کو اپنی لغزشوں کے لیے بہانہ قرار دے سکے .
406اللہ کے یہاں اجر کے لیے دولتمندوں کا فقیروں سے عجز و انکساری برتنا کتنا اچھا ہے اور اس سے اچھا فقرا کا اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دولتمندوں کے مقابلہ میں غرور سے پیش آنا ہے .
407اللہ نے کسی شخص کو عقل ودیعت نہیں کی ہے مگر یہ کہ وہ کسی دن اس کے ذریعہ سے اسے تباہی سے بچائے گا .
408جو حق سے ٹکرائے گا,حق اسے پچھاڑ دے گا .
409دل آنکھوں کا صحیفہ ہے .
410تقویٰ تمام خصلتوں کا سرتاج ہے .
411جس ذات نے تمہیں بولنا سکھایا ہے اسی کے خلاف اپنی زبان کی تیزی صرف نہ کرو .اور جس نے تمہیں راہ پر لگا یا ہے اس کے مقابلہ میں فصاحت ُگفتار کا مظاہرہ نہ کرو .
412تمہارے نفس کی آراستگی کے لیے یہی کافی ہے کہ جس چیز کو اوروں کے لیے ناپسند کرتے ہو ,اس سے خود بھی پرہیز کرو .
413جو انمردوں کی طرح صبر کرے ,نہیں تو سادہ لوحوں کی طرح بھو ل بھال کر چپ ہوگا .
414ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا :اگر بزرگوں کی طرح تم نے صبر کیا تو خیر !ورنہ چوپاؤں کی طرح ایک دن بھول جاؤگے .
415دنیا کے متعلق فرمایا!
دنیا دھوکے باز ,نقصان رساں اور رواں دواں ہے .اللہ نے اپنے دوستوں کے لیے اسے بطور ثواب پسند نہیں کیا ,اور نہ دشمنوں کے لیے اسے بطور سزا پسند کیا.اہل دنیا سواروں کے مانند ہیں کہ ابھی انہوں نے منزل کی ہی تھی کہ ہنکانے والے نے انہیں للکارا ,اور چل دیئے .
416اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و .اس لیے کہ تم دو2 میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے .ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت وآرام کا باعث ہوگا.یا وہ ہوگا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ,تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہوگا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میں اس کے معین و مدد گار ہوگے ,اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو .
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلا م ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے
جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے .اور یہ تمہارے بعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو .ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا .تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہوگا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختی کا سبب ہوگا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ,جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوارر ہو .
417ایک کہنے والے نے آپ کے سامنے استغفراللہ کہا.تو آپ نے اس سے فرمایا .
تمہاری ماں تمہارا سوگ منائے کچھ معلوم بھی ہے کہ استغفار کیاہے؟ استغفار بلند منزلت لوگوں کامقام ہے اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جو چھ باتوں پر حاوی ہے .پہلے کہ جو ہوچکااس پر نادم ہو ,دوسرے ہمیشہ کے لیے اس کے مرتکب نہ ہونے کاتہیا کرنا ,تیسرے یہ کہ مخلوق کے حقوق ادا کرنا یہاں تک کہ اللہ کے حضور میں اس حالت میں پہنچو کہ تمہارا دامن پاک و صاف اورتم پر کوئی مواخذہ نہ ہو.چوتھے یہ کہ جو فرائض تم پر عائد کئے ہوئے تھے ,اور تم نے انہیں ضائع کردیاتھا .انہیں اب پورے طور پر بجالاؤ .پانچویں یہ کہ جو گوشت (کل) حرام سے نشونما پاتا رہا ہے ,اس کو غم و اندوہ سے پگھلاؤیہاں تک کے کھال کو ہڈیوں سے ملادو کہ پھرسے ان دونوں کے درمیان نیا گوشت پیدا ہو,چھٹے یہ کہ اپنے جسم کو اطاعت کے رنج سے آشنا کرو .جس طرح اسے گناہ کی شیرینی سے لذت اندوز کیا ہے .تو اب کہو »استغفراللہ «.
418حلم و تحمل ایک پورا قبیلہ ہے .
4196بیچارہ آدمی کتنا بے بس ہے, موت اس سے نہاں, بیماریاں اس سے پوشیدہ اور اس کے اعمال محفوظ ہیں .مچھر کے کاٹنے سے چیخ اٹھتاہے ,اچھو لگنے سے مرجاتا ہے اور پسینہ اس میں بدبو پیدا کر دیتا ہے .
420وارد ہوا ہے کہ حضرت اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے, کہ ان کے سامنے سے ایک حسین عورت کا گزر ہوا جسے انہوں نے دیکھنا شروع کیا جس پر حضرت نے فرمایا:
ان مردوں کی آنکھیں تاکنے والی ہیں اور یہ نظر باز ی ان کی خواہشات کو برانگیختہ کرنے کاسبب ہے لہٰذا تم میں سے کسی کی نظر ایسی عورت پر پڑے کہ جو اسے اچھی معلوم ہوتو اسے اپنی زوجہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ عورت بھی اس عورت کے مانند ہے .یہ سن کر ایک خارجی نے کہا کہ خدااس کافرکو قتل کر ے یہ کتنا برا فقیہ ہے .یہ سن کر لوگ اسے قتل کرنے اٹھے.حضرت نے فرمایا کہ ٹھہرو! زیادہ سے زیادہ گالی کا بدلہ گالی ہوسکتا ہے ,یااس کے گناہ ہی سے درگزر کرو .