Table of Contents

عرض تنظیم

عظمت اہلبیت (ع) عالم اسلام کا ایک مسلم مسئلہ ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ عالم اسلام کی اکثریت آج تک اہلبیت (ع) کی صحیح حیثیت اور ان کے واقعی مقام سے ناآشنا ہے … ورنہ… نہ اس طرح کی مہمل اختلافات ہوتے جن میں بلا وجہ مسلمانوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور ان کی اجتماعی طاقت برباد ہو رہی ہے… اور نہ اس طرح کے بیاج سوالات اٹھتے کہ اہلبیت (ع) اور اصحاب میں افضل کون ہے؟ … اور اہلبیت (ع) کا ماننا ضروری بھی ہے یا نہیں ؟
یہ سارے سوالات عالم اسلام کی جہالت اور انفاقیت کی علامت ہیں، ورنہ اہلبیت(ع) عظمت و جلالت کی اس منزل پر فائز ہیں جہاں انسان ان سے آشنا ہونے کے بعد کسی بھی قیمت پر ان سے الگ نہیں رہ سکتاہے، تاریخ کے جس دور میں بھی … اور جس موڑ پر بھی … کسی شخص نے ان کی معرفت حاصل کریل ہے ان کا کلمہ پڑھے بغیر نہیں رہ سکاہے۔
حجر اسود سے لیکر سرزمین حل و حرم تک سب ان کی عظمت و جلالت سے باخبر ہیں اور اس کے معترف رہے ہیں، محروم و معرفت رہا ہے تو صرف نادان انسان جس نے سیاسی مفادات کے لئے دین و مذہب کو بھی قربان کریدا ہے اور عیش و عشرت کی خاطر ضمیر کے تقاضوں کو بھی پامال کریدا ہے۔
اہلبیت (ع) کی عظمت و جلالت کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے اور ہر دور میں لکھا گیا ہے، لیکن اس طرح کا کام کبھی منظر عام پر نہیں آسکاہے جس طرح کا کام سرکار حجة الاسلام والمسلمین محمدی الری شہری نے انجام دیا ہے اور یہ آپ کا کمال توفیق ہے کہ قضاوت کے سب سے بڑے عہد ہ پر فائز ہونے کے باوجود اپنی مصر وفیات سے اتنا وقت نکال لیا کہ ” میزان الحکمہ“ جیسی مفصل کتاب تیار کردی اور پھر اس تسلسل میں تعارف اہلبیت (ع) کے حوالہ سے زیر نظر کتاب کو مرتب کردیا۔
اس کتاب میں عظمت اہلبیت (ع) سے متعلق ہزار سے زیادہ اقوال و ارشادات کا ذکر کیا گیا ہے اور نہایت ہی سلیقہ سے کیا گیا ہے کہ انسان زندگی کے جس شعبہ میں بھی ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہے نہایت آسانی سے حاصل کرسکتاہے اور اس معرفت کے درجہ پر فائز ہوسکتاہے جس کے بغیر سرکار دو عالم کے الفاظ میں انسان کی موت جاہلیت کی موت بن جاتی ہے۔
کتاب کی
تبویت
و تصنیف بے مثال ولا جواب ہے اور اس سے
مؤلف
کے کمال فن کا بھی اندازہ کیا جاسکتاہے۔
سیکڑوں کتابوں کا خلاصہ ایک کتاب میں جمع کردیا ہے اور بیشمار دریاؤں کو ایک کوزہ میں بند کردیا ہے۔
کتاب واقعاً اس بات کی حقدار تھی کہ اردو دال طبقہ اس کے معلومات سے بے خبر نہ رہے لیکن افسوس کہ
ماہرین
ترجمہ
کو نہ کتاب کی ہوا لگی اور نہ ان کے توفیقات نے ساتھ دیا اور یہ شرف بھی بالآخر سرکار علامہ جوادی دام ظلہ ہی کے حصہ میں آیا اور آپ نے ایام عزا کی بے پنا ہ
مصر وفیات
کے باوجود جہاں امریکہ جیسے ملک میں ایک ایک دن میں متعدد مجالس سے خطاب کرنا
ہوتا ہے
، امریکہ و یورپ کے قیام کے دوران ایام عزا میں اس کا ترجمہ مکمل کرلیا اور ملک واپس آنے سے پہلے اس کی فہرست بھی مکمل کرلی کہ ”بقول سرکار موصوف لندن سے واپسی پر جہاز سے اس وقت تک ایرپورٹ پر نہیں اترے جب تک کہ کتاب کی آخری سطر مکمل نہیں کرلی، اگر چہ سارے مسافر
اتر چکے
تھے اور عملہ کا اصرار اترنے کے لئے جاری تھا، اس لئے کہ آپ نے فرمائش کرنے والوں سے یہ وعدہ کرلیا تھا کہ انشاء اللہ یہ کام دوران سفر امریکہ و یورپ مکمل کردیا جائے گا۔
بہر حال اب دو ماہ کی یہ کاوش آپ حضرات کے سامنے ہے۔ ادارہ اس کی اشاعت کے سلسلہ میں اپنے قدیم کرم فرما ڈاکٹر حسن رضوی (ڈیڑائٹ) کا شکر گذار ہے کہ انھوں نے گذشتہ برسوں کی طرح امسال بھی ایک کتاب کی اشاعت کا ذمہ لے لیا اور اپنے مخصوص تعاون سے اسے مرحلہ اشاعت تک پہنچا دیا جس کا ثواب جناب ریاض حسین مرحوم، محترمہ طیبہ خاتون اور جناب عشرت حسین مرحوم کے لئے ہدیہ کیا جارہاہے۔
آخر میں ہماری دعا ہے کہ پروردگار علامہ جوادی( دام ظلہ) کے سایہ کو برقرار رکھے اور ہم کو ان کے ہدایات سے مستفید ہونے کی توفیق کرامت فرماتا رہے۔
ذاتی طور پر میں اپنے محترم بزرگ حضرت پیام اعظمی اور اپنے فعال ساتھی ضیغم زیدی کے بارے میں بھی دست بدعاہوں کہ اول الذ کر کی رہنمائی اور ثانی الذ کر کی دوڑ دھوپ ہی میرے لئے طباعت و اشاعت کے سارے مراحل کو آسان بنا دیتی ہے۔
والسلام
سید صفی حیدر