Table of Contents

قسم پنجم: مذہب اہلبیت (ع)

فصل اول : دین کا مفہوم اہلبیت (ع) کے نزدیک
فصل دوم: شیعوں کے صفات

فصل اول: دین … اہلبیت (ع) کے نزدیک

530
۔
ابوالجارود!
میں نے امام باقر (ع) سے عرض کیا ، فرزند رسول ۔! آپ کو تو معلوم ہے کہ میں آپ کا چاہنے والا ، صرف آپ سے وابستہ آپ کا غلام ہوں ؟ فرمایا ۔بیشک !
میں نے عرض کیا کہ مجھے ایک سوال کرنا ہے، امید ہے کہ آپ جواب عنایت فرمادیں گے ، اس لئے کہ میں نابیناہوں، بہت کم چل سکتاہوں اور بار بارآپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتاہوں، فرمایا بتاؤ کیا کام ہے؟ میں نے عرض کی آپ اس دین سے باخبر کریں جس سے آپ اور آپ کے گھر والے اللہ کی اطاعت کرتے ہیں تا کہ ہم بھی اس کو اختیار کرسکیں۔
فرمایا کہ تم نے سوال بہت مختصر کیا ہے مگر بڑا عظیم سوال کیا ہے خیر میں تمھیں اپنے اور اپنے گھر والوں کے مکمل دین سے آگاہ کئے دیتاہوں دیکھو یہ دین ہے
توحید الہی، رسالت رسول اللہ ان کے تمام لائے ہوئے احکام کا اقرار ہمارے اولیاء سے محبت ہمارے دشمنوں سے عداوت ، ہمارے امر کے سامنے سراپا تسلیم ہوجانا ، ہمارا قائم کا انتظار کرنا اور اس راہ میں احتیاط کے ساتھ کوشش کرنا ۔( کافی
1
ص
21
/
10
۔
531
۔
ابوبصیر!
میں امام باقر (ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ سے سلام نے عرض کیا کہ خیثمہ بن ابی خیثمہ نے ہم سے بیان کیا ہے کہ انھوں نے آپ سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ جس نے بھی ہمارے قبلہ کا رخ کیا ، ہماری شہادت کے مطابق گواہی دی، ہماری عبادتوں جیسی عبادت کی ، ہمارے دوستوں سے حبت کی ، ہمارے دشمنوں سے نفرت کی وہ مسلمان ہے۔
فرمایا خیثمہ نے بالکل صحیح بیان کیا ہے… میں نے عرض کی اور ایمان کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ خدا پر ایمان، اس کی کتاب کی تصدیق اور ان کی نافرمانی نہ کرنا ہی ایمان ہے۔ فرمایا بیشک خیثمہ نے سچ بیان کیا ہے۔( کافی
2
ص
38
/
5
532
۔ علی بن حمزہ نے ابوبصیر سے روایت کی ہے کہ میں نے ابوبصیر کو امام صادق (ع) سے سوال کرتے سنا کہ حضور میں آپ پر قربان، یہ تو فرمائیں کہ وہ دین کیا ہے جسے پروردگار نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے اور اس سے ناواقفیت کو معاف نہیں کیا ہے اور نہ اس کے علاوہ کوئی دین قبول کیاہے؟
فرمایا ، دوبارہ سوال کرو …انھوں نے دوبارہ سوال کو دہرایا تو فرمایا لا الہ الا اللہ ، محمد رسول اللہ کی شہادت نماز کا قیام، زکٰوة کو ادائیگی، حج بیت اللہ استطاعت کے بعد ، ماہ رمضان کے روزہ۔
یہ کہہ کر آپ خاموش ہوگئے اور پھر دو مرتبہ فرمایا ولایت ، ولایت ( کافی
2
ص
22
/
11
533
۔ عمرو بن حریث
1
میں امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ اپنے بھائی عبداللہ بن محمد کے گھر پر تھے، میں نے عرض کیا کہ میں آپ پر
قربان!
یہاں کیوں تشریف لے آئے؟ فرمایا ذرا لوگوں سے دور سکون کے ساتھ رہنے کے لئے۔
میں نے عرض کی میں آپ پر قربان کیا میں اپنا دین آپ سے بیان کرسکتاہوں، فرمایا بیان کرو۔
میں نے کہا کہ میرا دین یہ ہے کہ میں لا الہ الا اللہ ، محمد رسول اللہ کلمہ پڑھتاہوں اور گواہی دیتاہوں کہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے، اور پروردگار سب کو قبروں سے نکالے گا، اور یہ کہ نماز کا قیام، زکٰوة کی ادائیگی، ماہ رمضان کے روزے، حج بیت اللہ ، رسول اکرم کے بعد حضرت علی (ع) کی ولایت، ان کے بعد امام حسن (ع) ،امام حسین (ع) ، امام علی (ع) بن الحسین (ع) ، امام محمد (ع) بن علی (ع) اور پھر آپ کی ولایت ضروری ہے، آپ ہی حضرات ہمارے امام ہیں، اسی عقیدہ پر جینا ہے اور اسی پر مرناہے اور اسی کو لے کر خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوناہے۔
فرمایا واللہ یہی دین میرا اور میرے آباء و اجداد کا ہے جسے ہم علی الاعلان اور پوشیدہ ہر منزل پر اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔( کافی
1
ص
23
/
14
534
۔ معاذ بن
مسلم!
میں اپنے بھائی عمر کو لے کر امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ہو اور میں نے عرض کی کہ یہ میرا بھائی عمر ہے، یہ آپ کی زبان مبارک سے کچھ سننا چاہتاہے، فرمایا دریافت کروکیا دریافت کرناہے۔
کہا کہ وہ دین بتادیجیئے جس کے علاوہ کچھ قابل قبول نہ ہو اور جس سے ناواقفیت میں انسان معذور نہ ہو، فرمایا لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ کی گواہی ، پانچ نمازیں ، ماہ رمضان کے روزے ، غسل جنابت ، حج بیت اللہ ، جملہ احکام الہی کا اقرار اور ائمہ آل محمد کی اقتداء …!
عمر نے کہا کہ حضور ان سب کے نام بھی بتادیجئے ؟ فرمایا امیر المومنین (ع) علی (ع)، حسن (ع) ، حسین (ع) ، علی بن الحسین (ع) ، محمد (ع) بن علی (ع) ، اور یہ خیر خدا جسے چاہتا ہے عطا کردیتاہے۔
عرض کی کہ آپ کا مقام کیاہے؟ فرمایا کہ یہ امر امامت ہمارے اول و آخر سب کے لئے جاری و ساری ہے۔( محاسن
1
ص
450
/
1037
، شرح الاخبار
1
ص
224
/
209
، اس روایت میں غسل جنابت کے بجائے طہارت کا ذکر ہے)۔
535
۔ روایت میں وارد ہواہے کہ مامون نے فضل بن سہل ذوالریاستیں کو امام رضا کی خدمت میں روانہ کیا اور اس نے کہا کہ میں چاہتاہوں کہ آپ حلال و حرام ، فرائض و سنن سب کو ایک مقام پر جامع طور پر پیش کردیں کہ آپ مخلوقات پر پروردرگار کی حجت اور علم کا معدن ہیں۔
آپ نے قلم و کاغذ طلب فرمایا اور فضل سے فرمایا کہ لکھو ہمارے لئے یہ کافی ہے کہ ہم اس بات کی شہادت دیں کہ خدا کے علاوہ کوئی دوسرا خدا نہیں ہے، وہ احدہے ، صمد ہے، اس کی کوئی زوجہ یا اولاد نہیں ہے وہ قیوم ہے، سمیع و بصیر ہے، قوی و قائم ہے، باقی اور نور ہے، عالم ہر شے اور قادر علیٰ کل شی ہے۔ ایسا غنی جو محتاج نہیں ہوتاہے اور ایسا عادل جو ظلم نہیں کرتاہے، ہر شے کا خالق ہے، اس کا کوئی مثل نہیں ہے، اس کی شبیہ و نظیر اور ضد یا مثل نہیں ہے اور اس کا کوئی ہمسر بھی نہیں ہے۔
پھر اس بات کی گواہی دیں کہ محمد (ع) اس کے بندہ ، رسول ، امین ، منتخب روزگار، سید المرسلین، خاتم النبییّن ، افضل العالمین ہیں، اس کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، ان کے نظام شریعت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے، وہ جو کچھ خدا کی طرف سے لے کر آئے میں سب حق ہے ، ہم سب کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے پہلے کے انبیاء و مرسلین اور حجج الہیہ کی تصدیق کرتے ہیں، اس کی کتاب صادق کی بھی تصدیق کرتے ہیں جہاں تک باطل کا گذر نہ سامنے سے ہے اور نہ پیچھے سے، وہ خدائے حکیم و حمید کی تنزیل ہے۔( فصلت
42
یہ کتاب تمام کتابوں کی محافظ اور اول سے آخر تک حق ہے، ہم اس کے محکم و متشابہ ، خاص و عام ، وعد و وعید، ناسخ و منسوخ، اور اخبار سب پر ایمان رکھتے ہیں، کوئی شخص بھی اس کا مثل و نظیر نہیں لاسکتاہے۔
اور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اکرم کے بعد دلیل اور حجت خدا، امور مسلمین کے ذمہ دار، قرآن کے ترجمان، احکام الہیہ کے عالم ان کے بھائی ، خلیفہ ، وصی ، صاحب منزلت ہارون علی (ع) بن ابیطالب امیر المومنین ، امام المتقیم ، قائد لغراالمحجلین، یعسوب المومنین ، افضل الوصیین ہیں اور ان کے بعد حسن (ع) و حسین (ع) ہیں اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے، یہ سب عترت رسول اور اعلم بالکتاب و السنة ہیں۔
سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے اور ہر زمانہ میں امامت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں، یہی عروة الوثقیٰ ہیں اور یہی ائمہ ہدی میں اور یہی اہل دنیا پر حجت پروردگار ہیں، یہاں تک کہ زمین اور اہل زمین کی وراثت خدا تک پہنچ جائے کہ وہی کائنات کا وارث و مالک ہے اور جس نے بھی ان حضرات سے اختلاف کیا وہ گمراہ اورگمراہ کن ہے، حق کو چھوڑنے والا اور ہدایت سے الگ ہوجانے والا ہے، یہی قرآن کی تعبیر کرنے والے اور اس کے ترجمان ہیں،
جو ان کی معرفت کے بغیر اور نام بنام ان کی محبت کے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرتاہے۔( تحف العقول ص
415
536
۔عبدالعظیم بن عبداللہ الحسنئ کا بیان ہے کہ میں امام علی نقی (ع) بن محمد (ع) بن علی (ع) بن موسیٰ (ع) بن جعفر (ع) بن محمد (ع) بن علی (ع) بن الحسین (ع) بن علی (ع) بن ابی طالب (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھ کر مرحبا کہا اور فرمایا کہ تم ہمارے حقیقی دوست ہو۔
میں نے عرض کی کہ حضور میں آپ کے سامنے اپنا پورا دین پیش کرنا چاہتاہوں کہ اگر صحیح ہے تو میں اسی پر قائم رہوں ؟
آپ نے فرمایا ضرور ۔!
میں نے کہا کہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ خدا ایک ہے، اس کا کوئی مثل نہیں ہے ، وہ ابطال اور تشبیہ دونوں حدودں سے باہر ہے، نہ جسم ہے نہ صورت ، نہ عرض ہے نہ جوہر، تمام اجسام کو جسمیت دینے والا اور تمام صورتوں کا صورت گر ہے، عرض و جوہر دونوں کا خالق ہر شے کا پرورگار ، مالک ، بنانے والا اور ایجاد کرنے والا ہے۔
حضرت محمد اس کے بندہ ، رسول اور خاتم النبیین ہیں ، ان کے بعد قیامت تک کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور ان کی شریعت بھی آخری شریعت ہے جس کے بعد کوئی شریعت نہیں ہے۔
اور امام و خلیفہ و ولی امر آپ کے بعد امیر المومنین (ع) علی ابن ابی طالب ہیں۔ اس کے بعد امام حسن (ع) ، پھر امام حسین (ع) پھر علی بن الحسین (ع) پھر محمد بن علی (ع) پھر جعفر بن محمد(ع) ، پھر موسیٰ (ع) بن جعفر (ع) ، پھر علی (ع) بن موسیٰ (ع) ، پھر اس کے بعد آپ !۔
حضرت نے فرمایا کہ میرے بعد میرا فرزند حسن (ع) اور اس کے بعد ان کے نائب کے بارے میں لوگوں کا کیا حال ہوگا؟
میں نے عرض کی کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ نظر نہ آئے گا اور اس کا نام لینا بھی جائز نہ ہوگا یہاں تک کہ منظر عام پر آجائے اور زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھردیگا جس طرح ظلم و جور سے بھری ہوگی ۔
میں نے عرض کی حضور میں نے اس کا بھی اقرار کرلیا اور اب یہ بھی کہتاہوں کہ جو ان کا دوست ہے وہی اپنا دوست ہے اور جو ان کا دشمن ہے وہی اپنا بھی دشمن ہے، ان کی اطاعت اطاعت خدا اور ان کی معصیت معصیت خدا ہے۔
اور میرا عقیدہ یہ بھی ہے کہ معراج حق ہے اور قبر کا سوال بھی حق ہے اور جنت و جہنم بھی حق ہے اور صراط و میزان بھی حق ہے اور قیامت بھی یقیناً آنے والی ہے اور خدا سب کو قبروں سے نکالنے والا ہے۔
اور میرا کہنا یہ بھی ہے کہ ولایت اہلبیت (ع) کے بعد فرائض میں نماز۔
زکوة، روزہ، حج، جہاد، امر بالمعروف ، نہی عن المنکر سب شامل ہیں، حضرت نے فرمایا اے ابوالقاسم ! خدا کی قسم یہی وہ دین ہے جسے خدا نے اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایاہے اور تم اس پر قائم رہو، پروردگار تمھیں دنیا و آخرت میں اس پر ثابت قدم رکھے۔( امالی (ر) صدوق
278
/
24
، التوحید
81
/
37
، کمال الدین
379
، روضة الواعظین ص
39
، کفایة الاثر ص
282
، ملاحظہ ہو صفات الشیعہ
127
/
68

فصل دوم: صفات شیعہ

537
۔ ہمارے شیعہ وہ ہیں جو راہ محبت میں ایک دوسرے پر خرچ کرنے والے، ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اور ہمارے دین کو زندہ رکھنے کیلئے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والے ہوتے ہیں، ان کی شان یہ ہے کہ غصہ آجائے تو کسی پر ظلم نہیں کرتے ہیں اور خوش حال ہوتے ہیں تو اسراف نہیں کرتے ہیں، اپنے ہمسایہ کے لئے برکت اور اپنے ساتھیوں کے لئے مجسمہ سلامتی ہوتے ہیں۔( کافی
2
ص
236
/
24
روایت ابوالمقدام عن الباقر (ع) ، خصال ص
397
/
154
، صفات الشیعہ
91
/
23
، تحف العقول ص
200
، مشکٰوة الانوار ص
6
، التمحیص
69
/
68
/
168
، شرح الاخبار
3
ص
504
/
1449
538
۔ امام علی (ع
)!
ہمارے شیعہ اللہ کی معرفت رکھنے والے، اس کے حکم پر عمل کرنے والے، صاحبان فضائل سچ بولنے والے ہوتے ہیں، ان کا کھانا بقدر ضرورت، ان کا لباس درمیانی اور ان کی رفتار متواضع ہوتی ہے، دیکھنے میں مریض اور مدہوش نظر آتے ہیں حالانکہ ایسے ہوتے نہیں ہیں، انھیں عظمت پروردگار اور جلال سلطنت الہیہ ایسا بنادیتی کہ دل بے قرار ہوجاتے ہیں اور ہوش و حواس اڑجاتے ہیں، اس کے بعد جب ہوش آتاہے تو نیک
اعمال کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، مختصر اعمال سے راضی نہیں ہوتے ہیں اور زیادہ اعمال کو کثیر نہیں سمجھتے ہیں۔(مطالب السئول ص
54
روایت نوف البکائی)۔
539
۔ نوف بن عبداللہ
البکالی!
مجھ سے ایک دن امام علی (ع) نے فرمایا کہ نوف ! ہم ایک پاکیزہ طینت سے پیدا ہوئے ہیں لہذا جب قیامت کا دن ہوگا تو ہمارے ساتھ ملادیئے جائیں گے۔
میں نے عرض کی حضور ذرا اپنے شیعوں کے اوصاف تو بیان فرمائیں ؟ تو حضرت رونے لگے، اور پھر فرمایا، نوف ! ہمارے شیعہ صاحبان عقل ، خدا اور دین خدا کے عارف ، اطاعت و امر الہی کے عامل، محبت الہی سے ہدایت یافتہ، عبادت گذار، زاہد مزاج، شب بیدای سے زرد چہرہ ، گریہ سے دھنسی ہوئی آنکھیں، ذکر خدا سے خشک ہونٹ، فاقوں سے دھنسے ہوئے پیٹ ، خداشناسی ان کے چہروں سے نمودار اور خوف خدا ان کے بشرہ سے نمایاں، تاریکیوں کے چراغ اور بدترین ماحول کے لئے گل و گلزار ہوتے ہیں…۔
ان کی کمزوریاں پوشیدہ اور ان کے دل رنجیدہ ، ان کے نفس عفیف اور ان کے ضروریات خفیف، ان کا نفس ہمیشہ رنج و تعب میں اور لوگ ان کی طرف سے ہمیشہ راحت و آرام میں، صاحبان عقل و خرد، خالص شریف، اپنے دین کو بچاکر نکل جانے والے ہوتے ہیں، محفلوں میں حاضر ہوتے ہیں تو کوئی انھیں پہچانتا نہیں ہے اور غالب ہوجاتے ہیں تو کوئی تلاش نہیں کرتاہے، یہی ہمارے پاکیزہ کردار شیعہ، ہمارے محترم برادر ہیں، ہائے میں ان کا کس قدر مشتاق ہوں ۔( امالی طوسی (ر)
176
/
1189
540
۔ محمد بن
الحنفیہ!
امیر المومنین (ع) جنگ جمل کے بعد بصرہ واپس آئے تو احنف بن قیس نے آپ کو دعوت میں بلایا اور کھانا تیار کیا اور اصحاب کو بھی مدعو کیا ، آپ تشریف لے آئے تو فرمایا، احنف ! میرے اصحاب کو بلاؤ ؟ احنف نے دیکھا کہ آپ کے ساتھ ایک جماعت ہے جیسے:
احنف نے عرض کی حضور ! انھیں کیا ہوگیاہے؟ انھیں کھانا نہیں ملاہے یا جنگ کے خوف نے ایسا بنادیاہے۔
فرمایا احنف ! ایسا کچھ نہیں ہے۔ اللہ ان لوگوں کو دوست رکھتاہے جو دار دنیا میں اس طرح عبادت کرتے ہیں جیسے انھوں نے روز قیامت کے ہول کو دیکھ لیا ہے اور اپنے نفس کو اس کی زحمتوں پر آمادہ کرلیاہے۔( صفات الشیعہ
118
/
63
541
۔امام صادق (ع
)!
ہمارے شیعوں کو تین طرح آزماؤ! اوقات نماز کی پابندی کس قدر کرتے ہیں، ہمارے اسرار کو دشمنوں سے کس طرح محفوظ رکھتے ہیں اور اپنے اموال میں دوسرے بھائیوں سے کس قدر ہمدردی کرتے ہیں۔( خصال
103
/
62
، روضة الواعظین ص
321
، مشکوة الانوار ص
78
، قرب الاسناد
78
/
253
542
۔ امام صادق (ع)! یاد رکھو کہ جعفر (ع) بن محمد (ع) کے شیعہ بس وہ ہیں جن کا شکم اور جنسی جذبہ عفیف ہو، محنت زیادہ کرتے ہوں، پروردگار کے لئے عمل کرتے ہوں اور اس کے ثواب کے امیدوار ہوں اور اس کے عذاب سے خوفزدہ ہوں، اگر ایسے افراد نظر آجائیں تو سمجھ لینا کہ یہی ہمارے شیعہ میں ( صفات الشیعہ
89
/
21
، کافی
2
ص
233
/
9
، خصال
296
/
63
روایت مفضل بن عمر)۔
543
۔ امام صادق (ع
)!
ہمارے شیعہ وہ ہیں جو اچھا کام کرتے ہوں، برے کاموں سے رک جاتے ہوں، ان کی نیکیاں ظاہر ہوں، مالک کی رحمت کے حصول کے لئے عمل خیر کی طرف سبقت کرتے ہوں، یہی لوگ ہیں جو ہم سے ہیں ان کی بازگشت ہمارے طرف ہے اور ان کی جگہ ہماری منزل ہے ہم جہاں بھی رہیں۔( صفات الشیعہ
95
/
32
روایت مسعدہ بن صدقہ)۔
544
۔ امام صادق (ع
)!
ہمارے شیعہ صاحبان تقویٰ و اجتہاد ہوتے ہیں، اہل وفا و امانتدار ہوتے ہیں، اہل زہد و عبادت ہوتے ہیں ، دن رات میں اکیاون رکعت نماز پڑھنے والے(
17
رکعت فریضہ
43
۔ رکعت نوافل) را توں کو قیام کرنے والے، دن میں روزہ رکھنے والے، اپنے اموال کی زکواة ادا کرنے والے حج بیت اللہ انجام دینے والے اور ہر حرام سے پرہیز کرنے والے ہوتے ہیں۔( صفات الشیعہ
81
/
1
روایت ابوبصیر)۔
545
۔ امام صادق (ع
)!
ہمارے شیعہ مختلف خصلتوں سے پہچانے جاتے ہیں، سخاوت، برادران ایمان پر مال صرف کرنا، دن رات مین
51
رکعت نماز۔( تحف العقول ص
303
546
۔ امام صادق (ع
)!
ہمارے شیعہ تین طرح کے ہیں
1
) واقعی محبت کرنے والے، یہ ہم سے ہیں
2
) ہمارے ذریعہ اپنی زینت کا انظام کرنے والے، ان کے لئے ہم بہر حال باعث زینت ہیں
3
) ہمارے ذریعہ مال دنیا کمانے والے، ایسے افراد ہمیشہ فقیر رہیں گے۔( خصال
103
/
61
اعلام الدین ص
130
روایت معاویہ بن وہب، روضة الواعظین ص
321
، مشکوة الانوار
78
547
۔امام صادق (ع
)!
لوگ ہمارے سلسلہ میں تین حصوں میں تقسیم ہوگئے ہیں، ایک جماعت ہم سے محبت کرتی ہے اور ہمارے قائم کا انتظار کرتی ہے تا کہ ہمارے ذریعہ دنیا حاصل کرے، یہ لوگ ہمارے کلام کو محفوظ رکھتے ہیں لیکن ہمارے اعمال میں کوتاہی کرتے ہیں، عنقریب خدا انھیں واصل جہنم کردے گا۔
دوسری جماعت ہم سے محبت کرتی ہے، ہماری بات سنتی ہے اور عمل میں بھی کوتاہی نہیں کرتی ہے لیکن مقصد مال دنیا ہی کا حصول ہے تو خدا ان کے پیٹ کو آتش جہنم سے بھر دے گا اور ان پر بھوک پیاس کو مسلط کردے گا۔
تیسری جماعت سے ہم سے محبت کرتی ہے، ہمارے اقوال کو محفوظ رکھتی ہے، ہمارے امر کی اطاعت کرتی ہے اور ہمارے اعمال کے خلاف نہیں کرتی ہے، یہی لوگ ہیں جو ہم سے ہیں ا ور ہم ان سے ہیں( تحف العقول
514
روایت مفضل)۔
548
۔ امام صادق (ع
)!
ایک شخص نے محبت اہلبیت (ع) کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم ہمارے کیسے دوستوں میں ہو، وہ شخص خاموش ہوگیا تو سدیر نے کہا مولا، آپ کے دوستوں کی کتنی قسمیں ہیں ؟ فرمایا ہمارے دوستوں کے تین طبقات ہیں۔
1
۔ وہ طبقہ جو ہم سے بظاہر محبت کرتاہے لیکن اندر سے محبت نہیں کرتاہے،
2
) وہ طبقہ جو اندر سے محبت کرتاہے باہر سے اظہار نہیں کرتاہے
3
) وہ طبقہ جو ہر حال میں ہم سے محبت کرتاہے، یہی تیسرا طبقہ قسم اعلیٰ ہے او دوسرا طبقہ جو بظاہر محبت کرتاہے بادشاہوں کی سیرت پر عملکرتاہے کہ زبان ہمارے ساتھ ہوئی ہے اور تلوار ہمارے خلاف اٹھتی ہے، یہ پست ترین طبقہ ہے اور تیسری قسم جہاں اندر سے محبت ہوتی ہے اگر چہ اس کا اظہار نہیں ہوتاہے یہ درمیانی طبقہ کے چاہنے والے ہیں … میری جان کی قسم اگر یہ لوگ اندر سے ہمارے چاہنے و الے ہیں اور صرف باہر سے اظہار نہیں کرتے ہیں تو یہ دن میں روزہ رکھنے والے، راتوں کو نماز پڑھنے والے ہوں ، ترک دنیاداری کا اثرات کے چہرہ سے ظاہر ہوگا اور مکمل طور پر تسلیم و اختیار والے ہوں گے۔
اس شخص نے عرض کی کہ میں تو ظاہر و باطن ہر اعتبار سے آپ کا چاہنے والاہوں… فرمایا ہمارے ایسے چاہنے والوں کی علامتیں معین ہیں، اس نے عرض کی وہ علامتیں کیا ہیں ؟ فرمایا… سب سے پہلی علامت یہ ہے کہ توحید پروردگار کی مکمل معرفت رکھتے ہیں اور اس کے نشانات کو محکم رکھتے ہیں۔( تحف العقول ص
325