Table of Contents

مقدّمہ

ساری تعریف خدائے رب العالمین کے لئے اور صلوات و سلام اس کے بندہٴ منتخب حضرت محمد مصطفیٰ اور ان کی آل طاہرین (ع) اور ان کے نیک کردار اصحاب کرام کے لئے۔
اما بعد، یہ کتاب جو آپ حضرات کے سامنے ہے، یہ سیکڑوں کتابوں اور ہزاروں حدیثوں کا خلاصہ اور نچوڑ ہے جسے ایک نئے انداز سے عالم حدیث اور دنیائے معارف اسلامیہ کے سامنے پیش کیا جارہاہے۔
یہ کتاب در حقیقت برسہا برس کی تحقیق ، تلاش اور جستجو کا نتیجہ ہے جو ” میزان الحکمة“ سے الگ مستقل شکل میں پیش کی جارہی ہے، اس کے مآخذ کی فہرست پر اجمالی نظر ڈالنے والا بھی یہ اندازہ کرسکتاہے کہ اس کی تالیف میں کس قدر زحمت برداشت کی گئی ہے اور کتنی عرقریزی سے کام لیا گیا ہے۔
ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ
366
ء
1
ہجری شمسی میں ” میزان الحکمة“ کی مقبولیت نے بھی یہ خیال پیدا کردیا تھا کہ اس انداز کی ایک جامع پیشکش عالم اسلام کے سامنے پیش کی جائے اور اس کام کے لئے مختلف فضلاء حوزہ علمیہ قم کی امداد سے
1374
ء ھ میں ایک ” مؤسسہ دار الحدیث“ قائم بھی
ہو گیا
تھا جس کے ذریعہ اس مفصل کتاب کا ایک بڑا حصہ منظر عام پر آچکاہے اور امید ہے کہ فضل و کرم خداوندی سے بہت جلد یہ سلسلہ مکمل ہوجائے گا۔
اس وقت چونکہ عالم اسلام کو اس جامع کتاب کے بہت سے موضوعات کی شدید ترین ضرورت ہے اور ان کی مستقل اشاعت ضروری ہے اس لئے ہم نے مناسب خیال کیا کہ تدریجی طور پر ان موضوعات کو مستقل کتابوں کی شکل میں بھی پیش کردیا جائے۔
چنانچہ اس سلسلہ کی پہلی کتاب ” دارالحدیث“ کی طرف سے معرفت اہلبیت(ع) کے عنوان سے پیش کی جارہی ہے اور اس حقیر ہدیہ کو معصومہ عالم جناب فاطمہ(ع) کی بارگاہ میں پیش کیا جارہاہے تا کہ ان کی دعاؤں کی برکت سے یہ ہدیہ بارگاہ الہی میں قابل قبول ہوجائے اور بعد موت کے منازل اور آخرت کے مراحل کیلئے ذخیرہ بن جائے اور دنیا میں بھی اس کے اثرات اہلبیت(ع) کے تعارف اور امت اسلامیہ کے اتحاد کے سلسلہ میں ہماری توقعات سے زیادہ ہوں۔
آخر کلام میں ہمارا فرض ہے کہ ان تمام عزیزوں کا شکریہ ادا کریں جنہوں نے اس کتاب کی تالیف میں ہماری امداد کی ہے ، خصوصیت کے ساتھ فاضل عزیز السید رسول الموسوی … جنہوں نے اس میدان میں اپنی تمام کوششیں صرف کردی ہیں اور بیحد مشقت برداشت کی ہے۔
رب کریم انہیں اہلبیت (ع) طاہرین علیہم السلام کی طرف سے دنیا و آخرت میں بہترین جزا عنایت فرمائے۔
محمدی الری شہری
شعبان المظعم
1417
ء ھ
﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللهِ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ بَیْتِ وَ یُطَھَّرَکُمْ تَطْھِیْرَا ﴾
(احزاب
23
)