read

باب ١٦

اقوال
۴۵۱
تا
۴۸۰
451جو تمہاری طر ف جھکے اس سے بے اعتنائی برتنا اپنے خط ونصیب میں خسارہ کرنا ہے اور جوتم سے بے رخی اختیار کرے, اس کی طرف جھکنا نفس کی ذلت ہے .
452اصل فقر و غنا (قیامت میں) اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہوگا .
453زبیر ہمیشہ ہمارے گھر کا آدمی رہا یہاں تک کہ اس کا بدبخت بیٹا عبداللہ نمودار ہوا .
454فرزند آدم کو فخر ومباہات سے کیا ربط, جب کہ اس کی ابتدائ نطفہ اور انتہا مردار ہے, وہ نہ اپنے لیے روز ی کاسامان کر سکتا ہے ,نہ موت کو اپنے سے ہٹا سکتا ہے .
اگر انسان اپنی تخلیق کی ابتدائی صورت اور جسمانی شکست و ریخت کے بعد کی حالت کا تصور کرے ,تو وہ فخر وغرور کے بجائے اپنی حقارت و پستی کا اعتراف کر نے پر مجبور ہوگا .کیونکہ وہ دیکھے گا کہ ایک وقت تھا ,کہ صفحہ ہستی پر ا س کا نام ونشان بھی نہ تھا کہ خدا وند عالم نے نطفہ کے ایک حقیر قطرہ سے اس کے وجود کی بنیاد رکھی جو شکم مادر میں ایک لوتھڑے کی صورت میں رونما ہوا .اور غلیظ خون سے پلتا اور نشونما پاتا رہا اور جب جسمانی تکمیل کے بعد زمین پر قدم رکھا تو اتنا بے بس اور لاچار کہ نہ بھوک پیاس پر اختیار ,نہ مرض و صحت پر قابو ,نہ نفع نقصان ہاتھ میں ,اور نہ موت و حیات بس میں, نہ معلوم کب ہاتھ پیروں کی حرکت جواب دے جائے حس و شعور کی قوتیں ساتھ چھوڑ جائیں ,آنکھوں کا نور چھن جائے اور کانوں کی سماعت سلب ہوجائے ,اورکب موت روح کوجسم سے الگ کرے,اور اسے گلنے سڑنے کے لیے چھوڑجائے ,تاکہ چیل ,گدھیں اسے نوچیں ,یاقبر میں اسے کیڑے کھائیں .
مابال من اولہ نطفۃ وجیفۃ اٰخر ہ یفخر ;
455 حضر ت سے پوچھا گیا کہ سب سے بڑا شاعر کون ہے؟ فرمایا کہ شعرا کی دوڑ ایک روش پر نہ تھی کہ گوئے سبقت لے جانے سے ان کی آخری حد کو پہچانا جائے ,اور اگر ایک کو ترجیح دینا ہی ہے تو پھر ملک ضلیل (گمراہ بادشاہ) ہے .
مطلب یہ ہے کہ شعراء میں موازنہ اسی صورت میں ہوسکتاہے ,جب ان کے توسن فکر ایک ہی میدان سخن میں جولانیاں دکھائیں اور جب کہ ایک روش دوسرے کی روش سے جدا اور ایک کا اسلوب کلام دوسر ے اسلوب کلام سے مختلف ہے ,تو یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کو ن میدان ہار گیا اور کون گوئے سبقت لے گیا .چنانچہ مختلف اعتبارات سے ایک دوسرے پر ترجیح دی جاتی ہے ,اور اگر کوئی کسی لحاظ سے اور کوئی کسی لحاظ سے شعرا سمجھا جاتا رہاہے جیسا کہ مشہور مقولہ ہے کہ :
عرب کا سب سے بڑا شاعر امرئالقیس ہے جب وہ سوار ہوا اور اعشی جب وہ کسی چیز کا خواہشمند ہواور نابغہ جب اسے خو ف و ہراس ہو.
لیکن اس تقیید کے باوجود امرائ القیس حسن تخییل و لطف ومحا کات اور ان چھوتی تشبیہات اور نادر استعارات کے لحاظ سے طبقہ اولیٰ کے شعرائ میں سب سے اونچی سطح پر سمجھا جاتا ہے .اگرچہ اس کے اکثر اشعا ر عام معیار اخلاق سے گرے ہوئے اورفحش مضامین پر مشتمل ہیں , مگر اس فحش نگاری کے باوجود اس کی فنی عظمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا .اس لیے کہ فن کار صرف فنی زاویہ نگار سے شعر کے حسن و قبیح کو دیکھتا ہے اور دوسری حیثیات کو جوفن میں دخیل نہیں ہوتیں ,نظر انداز کردیتا ہے .
بہرحال امر ائ القیس عرب کانامور شاعر تھا ,اور اس کا باپ حجر کندی سلاطین کند ہ کی آخری فرد اورصاحب علم و سپاہ تھا اور بنی تغلب کے مشہور شاعر وسخن ران کلیباور مہلہل اس کے ماموں تھے اس لیے فطری رجحان کے علاوہ یہ اپنے ننھیال کی طرف سے بھی شعر وسخن کا ورثہ دار تھا اور سرزمین نجد کی آزاد فضا اور عیش و تغم کے گہوارے میں تربیت پانے کی وجہ سے شورہ پستی و سرمستی اس کے ضمیر میں رچ بس گئی تھی .چنانچہ حسن وعشق اور نغمہء و شعر کی کیف آور فضاؤں میں پوری طرح کھو گیا .باپ نے باز رکھنا چاہا ,مگراس کا کوئی نصیحت کار گر نہ ہوئی .آخر اس نے مجبو ر ہوکر اسے الگ کردیا الگ ہونے کے بعد اس کے لیے کوئی روک ٹوک نہ تھی .پوری طرح ادا و عیش و عشرت دینے پر اترآیا .اور جب اپنے باپ کے مارے جانے کی اسے خبر ہوئی تواس کے قصاص کے لیے کمر بستہ ہو ا او رمختلف قبیلوں کے چکر لگائے تاکہ ان سے مدد حاصل کرے اور جب کہیں سے حسب و لخواہ امداد حاصل نہ ہوئی ,تو قیصر روم کے ہاں جاپہنچا اور اس سے مدد کا طالب ہوا .بیان کیا جاتا ہے کہ وہاں بھی اس نے ایک ناشائستہ حرکت کی جس سے قیصر روم نے اسے ٹھکانے لگانے کے لیے ایک زہرآلودہ پیراہن دیا .جس کے پہنتے ہی زہر کا اثر اس کے جسم میں سرایت کر گیا اور اسی زہر کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہوئی اور نقرہ میں دفن ہوا .
456 کیا کوئی جوانمرد ہے جو اس چبائے ہوئے لقمہ (دنیا) کو اس کے اہل کے لیے چھوڑدے تمہارے نفسوں کی قیمت صرف جنت ہے .لہٰذاجنت کے علاوہ او ر کسی قیمت پر انہیں نہ بیچو .
457دو ایسے خواہشمند ہیں جو سیر نہیں ہوتے طالب علم اور طلبگار دنیا .
458ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں تمہارے لیے سچائی باعث نقصان ہو ,اسے جھو ٹ پر ترجیح دو,خواہ وہ تمہارے فائدہ کا باعث ہو رہا ہو ,اور تمہاری باتیں ,تمہارے عمل سے زیادہ نہ ہوں اور دوسرے کے متعلق بات کرنے میں اللہ کا خوف کرتے رہو .
459تقدیر ٹھہرائے ہوئے انداز ے پر غالب آجاتی ہے .یہاں تک کہ چارہ سازی ہی تناہی و آفت بن جاتی ہے .
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ مطلب اس سے مختلف لفظوں میں پہلے بھی گزر چکا ہے.
460برد باری اور صبردونوں کا ہمیشہ ہمیشہ کا ساتھ ہے اور یہ دونوں بلند ہمتی کا نتیجہ ہیں .
461 کمزور کا یہی زور چلتا ہے کہ وہ پیٹھ پیچھے برائی کرے .
462بہت سے لوگ اس وجہ سے فتنہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اںکے بارے میں اچھے خیالات کا اظہا ر کیاجاتا ہے .
463دنیا ایک دوسری منزل کے لیے پید ا کی گئی ہے نہ اپنے (بقاودوام کے) لیے .
464بنی امیہ کے لیے ایک مرودارواد (مہلت کا میدان) ہے جس میں وہ دوڑ لگا رہے ہیں جب ان میں باہمی اختلاف رونما ہو تو پھر بجو بھی ان پر حملہ کریں تو ان پر غالب آجائیں گے .
(سید رضی فرماتے ہیں کہ)مرودار واد سے مفعل کے وزن پر ہے اور اس کے معنی مہلت و فرصت دینے کے ہیں اور یہ بہت فصیح اور عجیب و غریب کلام ہے گویا آپ علیہ السّلام نے ان کے زمانہ مہلت کو ایک میدان سے تشبیہہ دی ہے جس میں انتہا کی حد تک پہنچنے کے لیے دوڑے جائیں گے تو ان کا نظام درہم برہم ہوجائے گا .
یہ پیشن گوئی بنی امیہ کی سلطنت کے زوال و الفرض کے متعلق ہے جو صر ف بحرف پوری ہوئی .اس سلطنت کی بنیاد معاویہ ابن ابی سفیان نے رکھی اور نوے برس گیارہ مہینے اور تیرہ دن کے بعد 231ئ ھج میں مروان الحمار پر ختم ہوگئی بنیامیہ کا دور ثلم و وستم اور قہر و استبداد کے لحاظ سے آپ اپنی نظیر تھا .اس عہد کے مطلق العنان حکمرانوں نے ایسے ایسے مظالم کئے کہ جن سے اسلام کا دامن داغدار , تاریخ کے اوراق سیاہ اور روح انسانیت مجروح نظر آتی ہے .انہوں نے اپنے شخصی اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر تباہی و بربادی کو جائز قرار دے لیا تھا. مکہ پر فوجوں کی یلغا ر خانہ کعبہ پر آگ برسائی ,مدینہ کو اپنی بیہمانہ خواہشوں کا مرکز بنایا اور مسلمانوں کے قتل عام سے خون کی ندیاں بہا دیں .آخر ان سفاکیوں اور خونریزیوں کے نتیجہ میں ہر طرف بغاوتیں اور سازشیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور ان کے اندرونی خلفشا ر اور باہمی رزم آرائی نے ان کی بربادی کا راستہ ہموار کردیا .اگرچہ سیاسی اضطراب ان میں سے پہلے ہی سے شروع ہوچکا تھا مگر ولید ابن یزید کے دور میں کھلم کھلا نزاع کا دروازہ کھل گیا اور ادھر چپکے چپکے بنی عباس نے بھی پر پرزے نکالنا شروع کئے اور مروان الحمار کے دور میں خلافت الہیہ کے نام سے ایک تحریک شروع کردی اور اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے انہیں ابو مسلم خراسانی ایسا امیر سپاہ مل گیا جو سیاسی حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے علاوہ فنون حرب میں بھی پوری مہارت رکھتا تھا .چنانچہ اس نےخراسان کو مرکز قرار دے کر امو یوں کے خلاف ایک جال بچھادیا اور عباسیوں کو برسر اقتدار لانے میں کامیاب ہوگیا .
یہ شخص ابتد ائ میں گمنام اور غیر معروف تھا.چنانچہ اسی گمنامی وپستی کی بنا پر حضرت نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو بجو سے تعبیر کیا ہے کہ جو ادنیٰ و فرومایہ لوگوں کے لیے بطور استعارہ استعمال ہوتا ہے .
465انصار کی مدح و توصیف میں فرمایا خدا کی قسم انہوں نے اپنی خوش حالی سے اسلام کی اس طرح تربیت کی, جس طرح یک سالہ بچھڑے کو پالا پوسا جاتا ہے .اپنے کریم ہاتھو ں اور زبانوں کے ساتھ .
466آنکھ عقب کے لیے تسمہ ہے .
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب استعارات میں سے ہے گویا آپ نے عقب کو ظرف سے اور آنکھ کو تسمہ سے تشبیہہ دی ہے اور تسمہ کھول دیا جائے تو برتن میں جو کچھ ہوتا ہے .رک نہیں سکتا مشہور واضح ہے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے .مگر کچھ لوگوں نے اسے امیر المومنین علیہ السلام سے بھی روایت کیا ہے چنانچہ مبرد نے اس کا اپنی کتاب »المقتضب«باب اللفظ بالحروف میں ذکر کیا ہے اور ہم نے اپنی کتاب »مجازات الآثارالنبویہ«میں اس استعار ہ کے متعلق بحث کی ہے.
467ایک کلام کے ضمن آپ نے فرمایا:
لوگوں کے امور کا ایک حاکم و فرماں روا ذمہ دار ہوا جو سیدھے راستے پر چلا اور دوسروں کو اس راہ پر لگایا .یہاں تک کہ دین نے اپنا سینہ ٹیک دیا.
468لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں . چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو «اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی.حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے)خریدنے کومنع کیا ہے .
مجبور و مضطر لوگوں سے معاملہ عموما ًاس طرح ہوتا ہے کہ ان کی احتیاج و ضرور ت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ان سے سستے داموں چیزیں خرید لی جاتی ہیں ,اور مہنگے داموں ان کے ہاتھ فروخت کی جاتی ہیں .اس پریشا ن حالی میں ان کی مجبوری و بے بسی سے فائدہ اٹھانے کی کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا اورنہ آئین اخلاق میں اس کی کوئی گنجائش ہے کہ دوسرے کی اضطراری کیفیت سے نفع اندوزی کی راہیں نکالی جائیں .
469 میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے .ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا جھو ٹ و افترا باندھنے والا .
سید رضی کہتے ہیں کہ حضر ت کایہ قول اس ارشاد کے مانند ہے کہ میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاک ہوئے ایک محبت میں غلو کرنے والا ,اور دوسرا دشمنی و عناد رکھنے والا .
470حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیاگیا توآپ نے فرمایا:
توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤاور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ.
عقیدہ توحید اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس میں تنزیہ کی آمیزش نہ ہو .یعنی اسے جسم وصورت اور مکان و زمان کے حدود سے بالا ترسمجھتے ہوئے اپنے اوہام و ظنون کا پابند نہ بنایا جائے کیونکہ جسے اوہام و ظنون کا پابند بنایا جائے گا ,وہ خدا نہیں ہوگا بلکہ ذہن انسانی کی پیداوار ہوگا اور ذہنی قوتیں دیکھی بھالی ہوئی چیزوں ہی میں محدود رہتی ہیں .لہٰذا انسان جتنا گڑھی ہوئی تمثیلوں اور قوت واہمہ کی خیال آرائیوں سے اسے سمجھنے کی کوشش کرے گا ,اتنا ہی حقیقت سے دور ہوتا جائے گا .چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے:
جب بھی تم اسے اپنے تصور و وہم کا پابند بناؤگے وہ خدا نہیں رہے گا بلکہ تمہاری طرح کی مخلوق اور تمہاری ہی طر ف پلٹنے والی کوئی چیز ہوگی .
اور عدل یہ ہے کہ ظلم و فبح کی جتنی صورتیں ہوسکتی ہیں ان کی ذات باری سے نفی کی جائے اور اسے ان چیزوں سے متہم نہ کیا جائے کہ جو بری اور بے فائدہ ہیں اورجنہیں عقل اس کے لیے کسی طرح تجویز نہیں کرسکتی .چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے:
تمہارے پروردگار کی بات سچائی اور عدل کے ساتھ پوری ہوئی. کوئی چیز اس کی باتوں میں تبدیلی پیدا نہیں کرسکتی .
471حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں .
472 طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں.
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب فصاحت پر مشتمل ہے ۔ اس طرح کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کڑک، چمک، ہوا اور بجلی والے بدلوں کو اُن اونٹوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اپنی منہ زوری سے زمین پر پیر مار کر پالان پھینک دیتے ہوں اور اپنے سواروں کو گرا دیتے ہوں۔ اور ان خوفناک چیزوں سے خالی ابر کو ان اونٹنیوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع ہوں اور سواری کرنے میں سوار کی مرضی کے مطابق چلیں۔
473 حضرتؑ سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس پر حضرتؑ نے فرمایا کہ خضاب زینت ہے اور ہم لوگ سوگوار ہیں۔
سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت نے اس سے وفاتِ پیغمبر
مراد لی ہے۔
474 وہ مجاہد جو خدا کی راہ میں شہید ہو، اُس شخص سے زیادہ اجر کا مستحق نہیں ہے جو قدرت و اختیار رکھتے ہوئے پاک دامن رہے۔ کیا بعید ہے کہ پاکدامن فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہو جائے۔
475 قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتا۔
سید رضی کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس کلام کو پیغمبر
سے روایت کیا ہے۔
476 جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا تو ایک بہمی گفتگو کے دوران کہ جس میں اسے پیشگی مالگزاری کے وصول کرنے سے روکنا چاہا, کہا:
عسل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشہ کرو کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا۔
477 سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے والا سُبک سمجھے.
478 اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں۔
479 بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ اس لیےکہ مقدور سے زیادہ تکلیف، رنج و مشقت کا سبب ہوتی ہے اور جس بھائی کے لیے تکلف کیا جائے، اُس سے لازمی طور پر زحمت پہنچے گی۔ لہذا وہ بُرا بھائی ہوا۔
480 جب کوئی مومن اپنے کسی بھائی کا احتشام کرے تو یہ اُس سے جدائی کا سبب ہو گا۔
سید رضی کہتے ہیں کہ حشم واحشام کے معنی ہیں غضبناک کرنا، اور ایک معنی ہیں شرمندہ کرنا۔ اور احتشام کے معنی ہیں "اس سے غصہ یا خجالت کا طالب ہونا" اور ایسا کرنے سے جدائی کا امکان غالب ہوتا ہے۔
اختتام
سید رضی اس کتاب کے اختتام پر لکھتے ہیں:
اب یہ ہمارے پایانِ کار کی منزل ہے کہ ہم امیر المومنینؑ کے منتخب کلام کا سلسلہ ختم کریں ۔ ہم اللہ سبحانہ کی بارگاہ میں شکر گزار ہیں کہ اُس نے ہم پر یہ احسان کیا کہ ہمیں توفیق دی کہ ہم حضرت کے منتشر کلام کو یک جا کریں اور دوردست کلام کو قریب لائیں۔ ہمارا ارادہ ہے جیسا کہ پہلے طے کر چکے ہیں کہ ان ابواب میں سے ہر باب کے آخر میں کچھ سادہ ورق چھوڑ دیں تاکہ جو کلام اب تک ہاتھ نہیں لگا اُسے قابو میں لا سکیں اور جو ملے اُسے درج کر دیں۔ شاید ایسا کلام جو اس وقت ہماری نثروں سے اوجھل ہے۔ بعد میں ہمارے لیے ظاہر ہو اور دور ہونے کے بعد ہمارے دامن میں سمٹ آئے۔ ہمیں توفیق حاصل ہے تو اللہ سے اور اسی پر ہمارا بھروسا ہے اور وہی ہمارے لیے کافی اور اچھا کارساز ہے۔
یہ کتاب ماہ رجب سن 400 ہجری میں اختتام کو پہنچی
وصلی اللہ علی سیدنا محمد خاتم الرسل، والھادی الی خیر السبل والہ الطاہرین، و اصحابہ نجوم الیقین