read

باب ٢

اقوال ۳۱ تا ۶۰
31 کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے .حد سے بڑھی ہوئی کاوش ,جھگڑا لو پن ,کج روی اور اختلاف .تو جو بے جا تعمق و کاوش کرتا ہے , وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جو جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے , وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جو حق سے منہ موڑ لیتا ہے .وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جو حق کی خلاف ورزی کرتاہے , اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ نکلنے کی راہ اس کے لیے تنگ ہوجاتی ہے ,شک کی بھی چار شاخیں ہیں ,کٹ حجتی خوف سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی .چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑ ے کو شیوہ بنالیا ,اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا ,وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جو شک و شبہہ میں سر گرداں رہتا ہے .اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کردیا.وہ دوجہاں میں تباہ و برباد ہوا .
سید رضی فرماتے ہیں کہ ہم نے طوالت کے خوف اوراس خیا ل سے کہ اصل مقصد جو اس بات کا ہے فوت نہ ,بقیہ کلام کو چھوڑ دیا ہے .
32 نیک کام کر نے والا خود اس کا م سے بہتر اور برائی کا مرتکب ہونے والا خود اس برائی سے بدتر ہے .
33 سخاوت کر و ,لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جز رسی کرو ,مگر بخل نہیں .
34 بہتر ین دولت مند ی یہ ہے کہ تمناؤں کو ترک کرے.
35 جو شخص لوگوں کے بار ے میں جھٹ سے ایسی باتیں کہہ دیتا ہے جو انہیں ناگوار گزریں ,تو پھر وہ اس کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے نہیں .
36 جس نے طول طویل امیدیں باندھیں ,اس نے اپنے اعمال بگاڑ لیے .
37 امیرالمومنین علیہ السّلام سے شام کی جانب روانہ ہو تے وقت مقام انبار کے زمینداروں کا سامنا ہوا ,تو وہ آپ کو دیکھ کر پیادہ ہوگئے اور آپ کے سامنے دوڑنے لگے .آپ نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا ؟انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا عام طریقہ ہے .جس سے ہم اپنے حکمرانوں کی تعظیم بجالا تے ہیں .آپ نے فرمایا .خدا کی قسم اس سے تمہارے حکمرانوں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتاالبتہ تم اس دنیا میں اپنے کو زحمت و مشقت میں ڈالتے ہو ,او رآخرت میں اس کی وجہ سے بدبختی مول لیتے ہو ,وہ مشقت کتنی گھاٹے والی ہے جس کا نتیجہ سزائے اخر وی ہو , اور وہ راحت کتنی فائدہ مند ہے جس کا نتیجہ دوزخ سے امان ہو .
38 اپنے فرزند حضرت حسن علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے چاراورپھر چار باتیں یاد رکھو .ان کے ہوتے ہوئے جو کچھ کر وگے ,وہ تمہیں ضرر نہ پہنچائے گا سب سے بڑی ثروت عقل و دانش ہے اور سب سے بڑی ناداری حماقت و بے عقلی ہے اور سب سے بڑی وحشت غرور خود بینیہے اور سب سے بڑا جوہر ذاتی حسن اخلاق ہے .
اے فرزند !بیوقوف سے دوستی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے گا ,تو نقصان پہنچائے گا .اور بخیل سے دوستی نہ کرنا کیونکہ جب تمہیں اس کی مدد کی انتہائی احتیاج ہوگی ,وہ تم سے دور بھاگے گا .اور بدکردار سے دوستی نہ کرنا ,وہ تمہیں کوڑیوں کے مول بیچ ڈالے گا اور جھوٹے سے دوستی نہ کرنا کیونکہ وہ سراب کے مانند تمہارے لیے دور کی چیزوں کو قریب اور قریب کی چیزوں کو دور کر کے دکھائے گا .
39 مستحبات سے قرب الہی نہیں حاصل ہوسکتا جب کہ وہ واجبات میں سد راہ ہوں .
40 عقل مند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے اور بے قوف کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے .
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ جملہ عجیب و پاکیزہ معنی کا حامل ہے.مقصد یہ ہے کہ عقلمند اس وقت زبان کھولتا ہے جب دل میں سوچ بچار اور غور و فکرسے نتیجہ اخذ کر لیتا ہے .لیکن بے وقو ف بے سوچے سمجھے جو منہ میں آتا ہے کہہ گزرتا ہے .اس طرح گویا عقلمند کی زبان اس کے دل کے تابع ہے اور بے وقوف کا دل اس کی زبان کے تابع ہے .
41 یہی مطلب دوسرے لفظوں میں بھی حضرت سے مروی ہے اور وہ یہ کہ » بے وقو ف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے «.بہر حال ان دونوں جملوں کا مقصد ایک ہی ہے .
42 اپنے ایک ساتھی سے اس کی بیماری کی حالت میں فرمایا .اللہ نے تمہارے مرض کو تمہارے گناہوں کو دور کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے .کیونکہ خود مرض کا کوئی ثواب نہیں ہے .مگر وہ گناہوں کو مٹاتا ,اورانہیں اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں .ہاں !ثواب اس میں ہوتا ہے کہ کچھ زبان سے کہا جائے اور کچھ ہاتھ پیروں سے کیا جائے ,اورخدا وند عالم اپنے بندوں میں سے نیک نیتی اور پاکدامنی کی وجہ سے جسے چاہتا ہے جنت میں داخل کرتا ہے .
سیدرضی فرماتے ہیں کہ حضرت نے سچ فرمایا کہ مرض کا کوئی ثواب نہیں ہے کیونکہ مرض تو اس قسم کی چیزوں میں سے ہے جن میں عوض کا استحقاق ہوتا ہے .اس لیے کہ عوض اللہ کی طرف سے بندے کے ساتھ جو امر عمل میں آئے .جیسے دکھ ,درد ,بیماری وغیر ہ . اس کے مقابلہ میں اسے ملتا ہے .اور اجر وثواب وہ ہے کہ کسی عمل پر اسے کچھ حاصل ہو .لہٰذا عوض اور ہے ,اوراجر اور ہے اس فرق کو امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے علم روشن اور رائے صائب کے مطابق بیان فرمادیاہے .
43 خباب ابن ارت کے بارے میں فرمایا .خدا خباب ابن ارت پر اپنی رحمت شامل حال فرمائے وہ اپنی رضا مندی سے اسلام لائے اور بخوشی ہجرت کی اور ضرور ت بھر قناعت کی اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہے اور مجاہد انہ شان سے زندگی بسر کی .
حضرت خباب ابن ارت پیغمبر کے جلیل القدر صحابی اور مہاجرین اولین میں سے تھے .انہوں نے قریش کے ہاتھوں طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں .چلچلاتی دھوپ میں کھڑے کئے گئے آگ پر لٹائے گئے .مگر کسی طرح پیغمبر اکرم کا دامن چھوڑنا گوارا نہ کیا .بدر اور دوسرے معرکوں میں رسالت مآب کے ہمرکاب رہے .صفین و نہروان میں امیرالمومنین علیہ السّلام کا ساتھ دیا.مدینہ چھوڑ کر کو فہ میں سکو نت اختیار کر لی تھی .چنانچہ یہیں پر 37برس کی عمر میں 93ئھ میں انتقال فرمایا .نماز جنازہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے پڑھائی اور بیرو ن کوفہ دفن ہوئے او رحضرت نے یہ کلمات ترحم ان کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمائے .
44 خوشا نصیب اس کے جس نے آخرت کو یاد رکھا ,حساب و کتاب کے لیے عمل کیا .ضرورت بھر قناعت کی اور اللہ سے راضی و خوشنود رہا .
45 اگر میں مومن کی ناک پر تلوار لگاوں کہ وہ مجھے دشمن رکھے ,تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا .اور اگر تمام متاع دنیا کا فر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا اس لیے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جو پیغمبر امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہوگیا ہے کہ آپ نے فرمایا :
اے علی علیہ السّلام !کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا .
46 وہ گنا ہ جس کا تمہیں رنج ہو اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں اچھا ہے جو تمہیں خو د پسند بنادے .
جو شخص ارتکاب گناہ کے بعد ندامت و پشیمانی محسوس کرے اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرے وہ گناہ کی عقوبت سے محفوظ اور توبہ کے ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور جو نیک عمل بجالانے کے بعد دوسروں کے مقابلہ میں برتری محسوس کرتا ہے اور اپنی نیکی پر گھمنڈ کرتے ہوءے یہ سمجھتا ہے کہ اب اس کے لیے کوئی کھٹکا نہیں رہا وہ اپنی نیکی کو برباد کردیتا ہے اور حسن عمل کے ثواب سے محروم رہتا ہے .ظاہر ہے کہ جو توبہ سے معصیت کے داغ کو صاف کر چکا ہو وہ اس سے بہتر ہوگا جو اپنے غرور کی وجہ سے اپنے کئے کرائے کو ضائع کرچکا ہو اور توبہ کے ثواب سے بھی اس کا دامن خالی ہو .
47 انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدرو قیمت ہے اور جتنی مروت اور جوانمردی ہوگی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ,اور جتنی حمیت و خودداری ہوگی اتنی ہی شجاعت ہوگی اور جتنی غیرت ہوگی اتنی ہی پاک دامنی ہوگی .
48 کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے اور دور اندیشی فکر وتدبر کو کا م میں لانے سے اور تدبر بھیدوں کو چھپاکر رکھنے سے .
49 بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے کے حملہ سے ڈرتے رہو .
مطلب یہ ہے کہ باعزت و باوقار آدمی کبھی ذلت و توہین گوارا نہیں کرتا .اگر اس کی عزت و وقار پر حملہ ہوگا تو وہ بھو کے شیر کی طرح جھپٹے گا اور ذلت کی زنجیروں کو توڑ کر رکھ دے گا اور اگر ذلیل و کم ظرف کو اس کی حیثیت سے بڑھا دیا جائے گا تو اس کا ظرف چھلک اٹھے گا اور وہ خود کو بلند مرتبہ خیا ل کرتے ہوئے دوسروں کے وقارپر حملہ آور ہوگا .
50 لوگوں کے دل صحرائی جانور ہیں ,جو ان کو سدھائے گا ,اس کی طرف جھکیں گے .
اس قول سے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کہ انسانی قلوب اصل فطرت کے لحاظ سے وحشت پسند واقع ہوئے ہیں اور ان میں انس و محبت کا جذبہ ایک اکتسابی جذبہ ہے .چنانچہ جب انس و محبت کے دواعی اسباب پیدا ہوتے ہیں تو وہ مانوس ہو جاتے ہیں اور جب اس کے دواعی ختم ہوجاتے ہیں یا اس کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو وحشت کی طرف عود کر جاتے ہیں اور پھر بڑ ی مشکل سے محبت و التفات کی راہ پر گامز ن ہوتے ہیں .
مرنجا ں و لے راکہ ایں مرغ وحشی زبامے کہ برخوست مشکل نشنید
51 جب تک تمہارے نصیب یاور ہیں تمہارے عیب ڈھکے ہوئے ہیں .
52 معاف کر نا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزادینے پر قادر ہو .
53 سخاوت وہ ہے جو بن مانگے ہواور مانگے سے دینا یا شرم ہے یا بدگوئی سے بچنا .
54 عقل سے بڑھ کر کوئی ثروت نہیں اور جہالت سے بڑھ کر کوئی بے مائیگی نہیں .ادب سے بڑھ کر کوئی میراث نہیں اور مشورہ سے زیادہ کوئی چیز معین و مددگا ر نہیں .
55 صبر دو طرح کا ہوتاہے ایک ناگوار باتوںپر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر .
56 دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس .
57 قناعت وہ سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہو سکتا .
»علامہ رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی مروی ہے «.
قناعت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو جو میسر ہو اس پر خوش وخرم رہے اور کم ملنے پر کبیدہ خاطر و شاکی نہ ہو اور اگر تھوڑے پر مطمئن نہیں ہوگا تو رشوت ,خیانت اور مکر و فریب ایسے محرمات اخلاقی کے ذریعہ اپنے دامن حرص کو بھر نے کی کوشش کرے گا .کیونکہ حرص کا تقاضا ہی یہ ہے جس طرح بن پڑے خواہشات کو پورا کیا جائے اور ان خواہشات کا سلسلہ کہیں پر رکنے نہیں پاتا ,کیونکہ ایک خواہش کا پورا ہونا دوسری خواہش کی تمہید بن جایا کرتا ہے اور جوں جوں انسان کی خواہش کا میابی سے ہمکنار ہوتی ہے اس کی احتیاج بڑھتی ہی جاتی ہے .اس لیے کبھی محتاجی و بے اطمینانی سے نجات حاصل نہیں کرسکتا اگر اس بڑھتی ہوئی خواہش کو روکا جاسکتا ہے تو وہ صرف قناعت سے کہ جو ناگزیر ضرورتوں کے علاوہ ہر ضرورت سے مستغنی بنا دیتی ہے اور لازوال سرمایہ ہے جو ہمیشہ کے لیے فارغ البال کردیتا ہے .
58 مال نفسانی خواہشوں کا سر چشمہ ہے .
59 جو (برائیوں سے ) خوف دلائے وہ تمہارے لیے مژدہ سنانے والے کے مانند ہے .
60 زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے .