read

باب ٤

اقوال ۹۱ تا ۱۲۰
91 یہ دل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں .لہٰذا (جب ایسا ہوتو)ان کے لیے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو .
92 وہ علم بہت بے قدروقیمت ہے جو زبان تک رہ جائے ,اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو.
93 تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ »اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا ہوں اس لیے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جو فتنہ کی لپیٹ میں نہ ہو ,بلکہ جو پناہ مانگے وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگے کیونکہ اللہ سبحان کا ارشاد ہے اور اس بات کو جانے رہو کہ تمہارا مال اور اولاد فتنہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ لوگوں کومال اور اولاد کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنی قسمت پر شاکرہے اگرچہ اللہ سبحانہ ان کو اتنا جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو اتنا نہیں جانتے .لیکن یہ آزمائش اس لیے ہے کہ وہ افعال سامنے آئیں جن سے ثواب و عذاب کا استحقاق پیدا ہوتا ہے کیونکہ بعض اولا د نرینہ کو چاہتے ہیں ,اور لڑکیوں سے کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اور بعض مال بڑھانے کو پسند کرتے ہیں اور بعض شکستہ حالی کو برا سمجھتے ہیں .
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ ان عجیب و غریب باتوں میں سے ہے جو تفسیر کے سلسلہ میں آپ سے وارد ہوئی ہیں .
94 آپ سے دریافت کیا گیا کہ نیکی کیا چیز ہے توآپ نے فرمایا کہ نیکی یہ نہیں کہ تمہارے مال واولاد میں فراوانی ہوجائے .بلکہ خوبی یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ اور حلم بڑا ہو ,اور تم اپنے پروردگار کی عباد ت پر ناز کرسکو اب اگر اچھا کام کرو .تو اللہ کا شکر بجالاؤ ,اور اگر کسی برائی کا ارتکاب کرو .تو توبہ واستغفارکرو ,اور دنیا میں صرف دو اشخاص کے لیے بھلائی ہے .ایک و ہ جو گناہ کرے توتوبہ سے اس کی تلافی کرے اور دوسرا وہ جو نیک کام میں تیز گام ہو.
95 جو عمل تقوی ٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جاسکتا اور مقبول ہونے والا عمل تھوڑا کیونکر ہوسکتا ہے ؟
96 انبیا سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کازیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی)ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے .اور ا ب اس نبی اور ایمان لانے والوں کی خصوصیت ہے .(پھرفرمایا)حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو ,اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے ,اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو .
97 ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نماز شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے توآپ نے فرمایا یقین کی حالت میں سونا شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے .
98 جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو,صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو ,کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں .
99 ایک شخص کو انا للہ و انا الیہ راجعون,(ہم اللہ کے ہیں اور اللہ کی طرف پلٹنا ہے )کہتے سنا تو فرمایا کہ ہمارا یہ کہنا کہ »ہم اللہ کے ہیں «.اس کے مالک ہونے کا اعتراف ہے اور یہ کہنا کہ ہمیں اسی کی طرف پلٹناہے .یہ اپنے لیے فنا کا اقرار ہے .
100 کچھ لوگوں نے آپ علیہ السّلام کے روبروآپ علیہ السّلام کی مدح و ستائش کی ,توفرمایا .اے اللہ! تومجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے ,اور ان لوگوں سے زیادہ اپنے نفس کومیں پہچانتا ہوں .اے خدا جو ان لوگوں کاخیال ہے ہمیں اس سے بہتر قرار دے اور ان (لغزشوں )کو بخش دے جن کاانہیں علم نہیں .
101حاجت روائی تین چیزوں کے بغیر پائدار نہیں ہوتی .اسے چھوٹا سمجھا جائے تاکہ وہ بڑی قرار پائے اسے چھپایا جائے تاکہ وہ خود بخود ظاہر ہواور اس میں جلدی کی جائے تاکہ وہ خوش گوار ہو .
102 لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں وہی بارگاہوں میں مقرب ہوگا جو لوگوں کے عیوب بیان کرنے والا ہواور وہی خوش مذاق سمجھا جائے گاجو فاسق و فاجر ہو اور انصا ف پسند کو کمزور و ناتواں سمجھا جائے گا صدقہ کو لوگ خسارہ اور صلہ رحمی کو احسان سمجھیں گے اور عبادت لوگوں پر تفو ق جتلانے کے لیے ہوگی .ایسے زمانہ میں حکومت کا دارو مدار عورتوں کے مشورے ,نو خیز لڑکوں کی کار فرمائی اور خواجہ سراؤں کی تدبیر و رائے پر ہوگا.
103 آپ کے جسم پر ایک بوسیدہ اور پیوند دار جامہ دیکھا گیا تو آپ سے اس کے بارے میں کہاگیا ,آپ نے فرمایا !اس سے دل متواضع اور نفس رام ہوتا ہے اور مومن اس کی تاسی کرتے ہیں .دنیا اورآخرت آپس میں دو ناساز گار دشمن اور دو 2جدا جدا راستے ہیں .چنانچہ جو دنیا کو چاہے گا اور اس سے دل لگاءے گا .وہ دونوں بمنزلہ مشرق و مغرب کے ہیں اور ان دونوں سمتوں کے درمیان چلنے والا جب بھی ایک سے قریب ہوگا تو دوسرے سے دور ہوناپڑے گا .پھر ان دونوں کا رشتہ ایسا ہی ہے جیسا دو2 سمتوں کاہوتا ہے .
104 نوف ابن فضالہ بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھاکہ وہ فر ش خواب سے اٹھے ایک نظر ستاروں پر ڈالی اور پھر فرمایا اے نوف! سوتے ہو یا جاگ رہے ہو ؟میں نے کہا کہ یا امیرالمومنین علیہ السّلامجاگ رہا ہوں .فرمایا !اے نوف!
خوشانصیب ان کے کہ جنہوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا ,اور ہمہ تن آخرت کی طر ف متوجہ رہے .یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو فرش ,مٹی کو بستر اور پانی کو شربت خوش گوا ر قرار دیا .قرآن کو سینے سے لگایا اور دعا کو سپر بنا یا.پھر حضرت مسیح کی طرح دامن جھاڑ کر دنیا سے الگ ہوگئے.
اے نوف! داؤدعلیہ السلام رات کے ایسے ہی حصہ میں اٹھے اور فرمایا کہ یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں بندہ جو بھی دعا مانگے مستجاب ہوگی سوا اس شخص کے جو سرکاری ٹیکس وصول کرنے والا ,یا لوگوں کی برائیاں کرنے والا ,یا( کسی ظالم حکومت کی) پولیس میں ہو یا سارنگی یا ڈھول تاشہ بجانے والا ہو.
سید رضی کہتے ہیں کہ عرطبہ کے معنی سارنگی اورکوبہ کے معنی ڈھول کے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ عرطبہ کے معنی ڈھول اور کوبہ کے معنی طنبورہ کے ہیں .
105 اللہ نے چند فرائض تم پرعائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو .اورتمہارے حدود کار مقرر کر دیئے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو.اس نے چند چیز وں سے تمہیں منع کیا ہے اس کی خلا ف ورزی نہ کرو ,اور جن چند چیزوں کا اس نے حکم بیان نہیں کیا ,انہیں بھولے سے نہیں چھوڑدیا.لہٰذا خواہ مخواہ انہیں جاننے کی کوشش نہ کرو.
106 جو لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھالیتے ہیں تو خد ا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کے لیے نقصان کی صورتیں پیدا کردیتا ہے .
107 بہت سے پڑھے لکھوں کو (دین سے) بے خبر ی تباہ کردیتی ہے اورجوعلم ان کے پاس ہوتا ہے انہیں ذرا بھی فائدہ نہیں پہنچاتا.
108 اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کاایک لوتھڑا ہے جو اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں کردیاگیا ہے اور وہ دل ہے جس میں حکمت و دانائی کے ذخیرے ہیں اور اس کے برخلاف بھی صفتیں پائی جاتی ہےں اگر اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر تی ہے اور اگر طمع ابھرتی ہے تو اسے حرص تباہ وبرباد کردیتی ہے .اگرنا امیدی اس پر چھا جاتی ہے تو حسرت و اندوہ اس کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں اور اگر غضب اس پر طاری ہوتا ہے تو غم و غصہ شدت اختیار کرلیتا ہے اور اگر خوش و خوشنود ہوتا ہے تو حفظ ما تقدم کو بھول جاتاہے اور اگر اچانک اس پر خوف طاری ہوتاہے تو فکر و اندیشہ دوسری قسم کے تصورات سے اسے روک دیتا ہے .اگر امن امان کا دور دورہ ہوتا ہے تو غفلت اس پر قبضہ کرلیتی ہے اور اگر مال دولتمند ی اسے سرکش بنادیتی ہے اور اگر اس پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بے تابی و بے قرار ی اسے رسوا کر دیتی ہے .اور اگر فقر و فاقہ کی تکلیف میں مبتلا ہو .تو مصیبت و ابتلا اسے جکڑلیتی ہے اور اگر بھوک اس پر غلبہ کرتی ہے . ناتوانی اسے اٹھنے نہیں دیتی اور اگر شکم پری بڑھ جاتی ہے تو یہ شکم پری اس کے لیے کرب و اذیت کا باعث ہوتی ہے کوتاہی اس کے لیے نقصان رساں اور حد سے زیادتی اس کے لیے تباہ کن ہوتی ہے .
109 ہم (اہلیت )ہی وہ نقطہ اعتدال ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے کو اس سے آکر ملنا ہے اور آگے بڑھ جانے والے کو اس کی طرف پلٹ کر آنا ہے .
110 حکم خدا کا نفاذ وہی کر سکتا ہے جو (حق معاملہ میں) نرمی نہ برتے عجز و کمزوری کا اظہار نہ کرے اور حرص و طمع کے پیچھے نہ لگ جائے .
111سہل ابن حنیف انصار ی حضرت کو سب لوگو ں میں زیادہ عزیز تھے یہ جب آپ کے ہمراہ صفین سے پلٹ کر کوفہ پہنچے تو انتقال فرماگئے جس پر حضرت نے فرمایا .
اگر پہاڑبھی مجھے دوست رکھے گا تووہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے گا .
سید رضی فرماتے ہیں کہ چونکہ اس کی آزمائش کڑی اور سخت ہوتی ہے .اس لیے مصیبتیں اس کی طرف لپک کر بڑھتی ہے اور ایسی آزمائش انہی کی ہوتی ہے جو پرہیز گار نیکو کار منتخب و برگزیدہ ہوتے ہیں اور ایسا ہی آپ کا دوسرا ارشادہے .
112 جو ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہناچاہیے .
سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت کے اس ارشا د کے ایک اور معنی بھی کئے گئے ہیں جس کے ذکر کا یہ محل نہیں ہے .
شاید اس روایت کے دوسرے معنی یہ ہوں کہ جو ہمیں دوست رکھتا ہے اسے دنیاطلبی کے لیے تگ و دونہ کرنا چاہیے خواہ اس کے نتیجہ میں اسے فقر و افلاس سے دو چار ہونا پڑے بلکہ قناعت اختیار کرتے ہوئے دنیا طلبی سے الگ رہنا چاہیے .
113 عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی و حشت ناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اورادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا وصبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی وشرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں
114 جب دنیا اور اہل دنیا میں نیکی کا چلن ہو ,اورپھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے کہ جس سے رسوائی کی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی سو ءِ ظن رکھے تو اس نے اس پر ظلم و زیادتی کی اور جب دنیا واہل دنیا پر شروفساد کا غلبہ ہو اور پھر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے حسن ظن رکھے تو اس نے (خود ہی اپنےآپ کو )خطرے میں ڈالا.
115 امیرالمومنین علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ آپ علیہ السّلام کا حال کیسا ہے ؟تو آپ علیہ السّلامنے فرمایا کہ ا س کا حال کیا ہوگا جسے زندگی موت کی طرف لیے جارہی ہو ,اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے .
116 کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اور اپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑگئے ہیں اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے .
117 میرے بارے میں دو2 قسم کے لوگ تباہ و برباد ہوئے .ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جو عداوت رکھے .
118 موقع کو ہاتھ سے جانے دینا رنج و اندوہ کا باعث ہوتا ہے .
119 دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندرزہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے ,فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھینچتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے .
120 حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ)بنی مخزوم قریش کا مہکتا ہوا پھول ہیں ,ان کے مردوں سے گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی پسندیدہ ہے اوربنی عبد شمس دو ر اندیش اور پیٹھ پیچھے کی اوجھل چیز وں کی پوری روک تھا م کرنے والے ہیں لیکن ہم (بنی ہاشم )توجو ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے صرف کر ڈالتے ہیں ,اور موت آنے پر جان دیتے ہیں .بڑے جوانمرد ہوتے ہیں اور یہ بنی (عبدشمس )گنتی میں زیادہ حیلہ باز اور بد صورت ہوتے ہیں اور ہم خوش گفتار خیر خواہ اور خوب صورت ہوتے ہیں .