read

باب ٧

اقوال
۱۸۱
تا
۲۱۰
181 کوتاہی کا نتیجہ شرمندگی اوراحتیاط و دور اندیشی کا نتیجہ سلامتی ہے .
182 حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی نہیں جس طرح جہالت کی بات میں کوئی اچھائی نہیں .
183 جب دو مختلف دعوتیں ہوںگی, تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہوگی .
184 جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے اس میں کبھی شک نہیں کیا .
185 نہ میں نے جھوٹ کہا ہے نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی ہے نہ میں خود گمراہ ہوا نہ مجھے گمراہ کیا گیا.
186 ظلم میں پہل کرنے والا کل (مذامت سے) اپنا ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹتا ہوگا .
187 چل چلاؤقریب ہے .
188 جو حق سے منہ موڑ تا ہے, تباہ ہوجاتا ہے .
189 جسے صبر رہائی نہیں دلاتا, اسے بے تابی و بے قرار ی ہلاک کر دیتی ہے .
190 العجب کیا خلافت کا معیار بس صحابیت اور قرابت ہی ہے .
سید رضی کہتے ہیں کہ اس مضمون کے اشعار بھی حضرت سے مروی ہیں جو یہ ہیں .اگر تم شوری کے ذریعہ لوگوں کے سیاہ و سفید کے مالک ہوگئے ہوتو یہ کیسے جب کہ مشورہ دینے کے حقدار افراد غیر حاضر تھے اور اگر قرابت کی وجہ سے تم اپنے حریف پر غالب آئے ہوتو پھر تمہارے علاوہ دوسر ا نبی کا زیادہ حقدار اور ان سے زیادہ قریبی ہے .
191دنیا میں انسان موت کی تیر اندازی کا ہدف اور مصیبت و ابتلاء کی غارت گری کی جولانگاہ ہے جہاں ہر گھونٹ کے ساتھ اچھو اور ہر لقمہ میں گلو گیر پھندا ہے اور جہاں بندہ ایک نعمت اس وقت نہیں پاتا .جب تک دوسری نعمت جدا نہ ہوجائے اور اس کی عمر کا ایک دن آتا نہیں جب تک کہ ایک دن اس کی عمر کا کم نہ ہوجائے ہم موت کے مددگار ہیں اور ہماری جانیں ہلاکت کی زد پر ہیں تو اس صورت میں ہم کہاں سے بقا کی امید کر سکتے ہیں جب کہ شب ورو ز کسی عمارت کو بلند نہیں کرتے مگر یہ کہ حملہ آور ہوکر جو بنایا ہے اسے گراتے اور جویکجا کیا ہے اسے بکھیر تے ہوتے ہیں .
192 اے فرزند آدم علیہ السّلام! تو نے اپنی غذا سے جو زیادہ کمایا ہے اس میں دوسرے کا خزانچی ہے .
193 دلوں کے لیے رغبت و میلان ,آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے .لہٰذا ان سے اس وقت کام لو جب ان میں خواہش و میلان ہو ,کیونکہ دل کو مجبور کرکے کسی کام پر لگایا جائے تو اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا .
194 جب غصہ مجھے آئے تو کب اپنے غصہ کو اتاروں کیا اس وقت کہ جب انتقام نہ لے سکوں اور یہ کہا جائے کہ صبر کیجئے .یا اس وقت کہ جب انتقام پر قدرت ہو اور کہا جائے کہ بہتر ہے درگزر کیجئے .
195 آپ کا گزر ہواایک گھورے کی طر ف سے جس پر غلاظتیں تھیں .فرمایا .یہ وہ ہے جس کے ساتھ بخل کرنے والوں نے بخل کیا تھا.ایک اور روایت میں ہے کہ اس موقع پر آپ نے فرمایا :یہ وہ ہے جس پر تم لوگ کل ایک دوسرے پر رشک کرتے تھے .
196 تمہار ا وہ مال اکارت نہیں گیا جو تمہارے لیے عبرت و نصیحت کا باعث بن جائے .
جو شخص مال و دولت کھو کر تجربہ و نصیحت حاصل کر ے اسے ضیاع مال کی فکر نہ کر نا چاہیے اور مال کے مقابلہ میں تجربہ کو گراں سمجھنا چاہیے .کیونکہ مال تو یوں بھی ضائع ہوجاتا ہے مگر تجربہ آئندہ کے خطرات سے بچالے جاتا ہے .ایک عالم سے جو مالدار ہونے کے بعد فقیر و نادار ہوچکاتھا ,پوچھا گیا کہ تمہار ا مال کیا ہوا ؟اس نے کہا کہ میں نے اس سے تجربات خرید لیے ہیں جو میرے لیے مال سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں .لہٰذا سب کچھ کھو دینے کے بعد بھی میں نقصان میں نہیں رہا ہوں .
197 یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں .لہٰذا (جب ایسا ہوتو )ان کے لیے لطیف حکیمانہ جملے تلاش کرو
198جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ «(حکم اللہ سے مخصوص ہے )سنا تو فرمایا :یہ جملہ صحیح ہے مگرجو اس سے مرا د لیا جاتا ہے وہ غلط ہے .
199 بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا:یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے ہیں .جب منتشر ہوںتو پہچانے نہیں جاتے .ایک قول یہ ہے کہ آپ نے فرمایا :کہ جب اکٹھا ہوتے ہیں تو باعث ضرر ہوتے ہیں اور جب منتشر ہوجاتے ہیں تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں لوگوں نے کہا کہ ہمیں ان کے مجتمع ہونے کا نقصان تو معلوم ہے مگر ان کے منتشر ہونے کا فائدہ کیا ہے ؟آپ نے فرمایا کہ پیشہ ور اپنے اپنے کاروبار کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو لوگ ان کے ذریعہ فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے معمار اپنی (زیرتعمیر)عمارت کی طرف جولاہا اپنے کاروبار کی جگہ کی طرف اور نانبائی اپنے تنور کی طر ف.
200 آپ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا توآ پ نے فرمایا: ان چہروں پر پھٹکا ر کہ جوہر رسوائی کے موقع پر ہی نظر آتے ہیں .
201ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ اس کے اور موت کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں اور بے شک انسان کی مقررہ عمر اس کے لیے ایک مضبوط سپر ہے .
202 طلحہ وزبیر نے حضرت سے کہا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ اس حکومت میں آپ کے ساتھ شریک رہیں گے .آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم تقویت پہنچانے اور ہاتھ بٹانے میں شریک اور عاجزی اور سختی کے موقع پر مددگار ہوگے.
203 اے لوگو! اللہ سے ڈرو کہ اگر تم کچھ کہو تو وہ سنتا ہے اور دل میں چھپاکر رکھو تو وہ جان لیتا ہے اس موت کی طرف بڑھنے کا سرو سامان کرو کہ جس سے بھاگے تو وہ تمہیں پالے گی اور اگر ٹھہرے تو وہ تمہیں گرفت میں لے لے گی اور اگر تم اسے بھول بھی جاؤتو وہ تمہیں یاد رکھے گی .
204 کسی شخص کا تمہارے حسن سلوک پر شکر گزا ر نہ ہونا تمہیں نیکی اور بھلائی سے بددل نہ بنا دے اس لیے کہ بسا اوقات تمہاری اس بھلائی کی وہ قدر کرے گا, جس نے اس سے کچھ فائدہ بھی نہیں اٹھایا اور اس ناشکرے نے جتنا تمہاراحق ضائع کیا ہے, اس سے کہیں زیادہ تم ایک قدردان کی قدر دانی سے حاصل کرلو گے اور خدا نیک کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے .
205 ہر ظرف اس سے کہ جو اس میں رکھا جائے تنگ ہوتا جاتا ہے, مگر علم کا ظرف وسیع ہوتا جاتا ہے .
206 بردبار کو اپنی بردباری کا پہلا عوض یہ ملتا ہے .کہ لوگ جہالت دکھانے والے کے خلاف اس کے طرفدار ہوجاتے ہیں .
207 اگر تم بردبار نہیں ہو تو بظاہر برد بار بننے کی کوشش کرو, کیونکہ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی جماعت سے شباہت اختیار کرے اور ان میں سے نہ ہو جائے .
مطلب یہ ہے کہ اگر انسان طبعاً حلیم و برد بار ہو تو اسے برد بار بننے کی کوشش کرنا چاہیے .اس طرح کہ اپنی افتادہ طبیعت کے خلاف حلم و بردباری کا مظاہرہ کرے اگرچہ اسے طبیعت کا رخ موڑ نے میں کچھ زحمت محسوس ہوگی مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آہستہ آہستہ حلم طبعی خصلت کی صور ت اختیار کر لے گا اور پھر تکلف کی حاجت نہ رہے گی کیونکہ عادت رفتہ رفتہ طبیعت ثانیہ بن جایا کرتی ہے .
208 جو شخص اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے وہ فائد ہ اٹھاتا ہے اورجو غفلت کرتا ہے وہ نقصا ن میں رہتا ہے جو ڈرتا ہے وہ (عذا ب سے) محفوظ ہو جاتا ہے اور جو عبرت حاصل کرتا ہے وہ بینا ہوجاتا ہے اور جو بینا ہوجاتا ہے وہ بافہم ہوجاتا ہے اور جو بافہم ہوتا ہے اسے علم حاصل ہوتا ہے .
209 یہ دنیا منہ زور ی دکھانے کے بعد پھر ہماری طرف جھکے گی جس طرح کاٹنے والی اونٹنی اپنے بچے کی طرف جھکتی ہے .اس کے بعد حضرت نے اس آیت کی تلاوت فرمائی .ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ زمین میں کمزور کردیئے گئے ہیں, ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنائیں اور انہی کو اس زمین کا مالک بنائیں .
یہ ارشاد امام منتظر کے متعلق ہے جو سلسلہ امامت کے آخری فرد ہیں .ان کے ظہور کے بعد تمام سلطنتیں اور حکومتیں ختم ہوجائیں گی اور »لیظھرہ علی الدین کلہ «کا مکمل نمونہ نگا ہوں کے سامنے آجائے گا .
ہر کسے رادو لتے از آسمان آید پدید دولت آل علی علیہ السّلام آخر زمان آید پدید
210 اللہ سے ڈرو اس شخص کے ڈرنےکی مانند جس نے دنیا کی وابستگیوں کو چھوڑ کر دامن گردان لیا اور دامن گردان کر کوشش میں لگ گیا اور اچھائیوں کے لیے اس وقفہ حیات میں تیز گامی کے ساتھ چلا اور خطروں کے پیش نظر اس نے نیکیوں کی طرف قدم بڑھایااور اپنی قرار گاہ اور اپنے اعمال کے نتیجہ اور انجام کار کی منزل پر نظر رکھی .