اسلامی ثقافت میں اصول عدل کی مختصر تاریخ

مذہب شیعہ میں ”عدل“ اصول دین میں شامل ہے۔ ہم اپنی کتاب عدل الٰہی میں عرض کر چکے ہیں کہ اسلامی ثقافت میں عدل‘ عدل الٰہی اور عدل انسانی میں تقسیم ہوا ہے اور عدل الٰہی عدل تکوینی اور عدل تشریعی میں تقسیم ہوا ہے۔ عدل انسانی بھی اپنے مقام پر عدل انفرادی اور عدل اجتماعی میں تقسیم ہوا ہے اور جس عدل کو شیعہ مذہب کی خصوصیات میں سے شمار کیا گیا ہے‘ عدل الٰہی ہے اور عدل کی یہی قسم اسلامی تصور کائنات کا محور ہے۔
اردو

۱۰۔ ناقابل تجزیہ و تقسیم اکائی

دنیا جس طرح ایک ناقابل تخلف اور کلی نظام کی حامل ہے اسی طرح اپنی ذات میں بھی ایک ناقابل تجزیہ و تقسیم اکائی ہے یعنی اپنی مجموعی حیثیت میں ایک جسم کی مانند اکائی پر مشتمل ہے پس نہ صرف شرور اور نیستی و نابودی‘ خیر و ہستی سے جدا نہیں ہو سکتی بلکہ اجزائے کائنات کا مجموعہ بھی ایک اکائی اور ایک جلوہ ہونے سے ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔
اردو

۹۔ قانون و سنت

عالم ہستی اس جہت سے کہ علت و معلول کے نظام کے مطابق جاری و ساری ہے اور وہ نظام جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کلی ہے لہٰذا قوانین و سنن الٰہی کی بنیاد پر قائم ہے اور قرآن مجید بڑی صراحت کے ساتھ اس کی تائید کرتا ہے۔
اردو

۸۔ عدم اور نابود

کوئی شر شر محض نہیں ہوتا‘ عدم اور نابود اپنی اپنی جگہ خود مقدمہ ہستی اور مقدمہ کمالات و خیرات ہیں۔ شرور اپنے مقام پر تکامل کا زینہ ہیں اور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر برائی میں ایک اچھائی چھپی ہوتی ہے اور ہر عدم میں ایک وجود پوشیدہ ہوتا ہے۔
اردو

۷۔ نیکیاں اور شرور

نیکیاں اور شرور دو علیحدہ اور مختلف چیزیں نہیں ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے سے الگ اور مستقل ہیں بلکہ شرور نیکیوں کی ناقابل جدا صفت اور ان کا لازم ہیں۔ وہ شرور جو خود نیستی و عدم کی قسم سے ہیں ان میں صلاحیت اور قابلیت کا فقدان ہے لیکن قابلیت پیدا ہوتے ہی ذات واجب الوجود کی طرف سے افاضہ وجود حتمی اور لازم ہو جاتا ہے۔ اب رہے وہ شرور جو عدم کی قسم سے نہیں ہیں انہیں کبھی اچھائی سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
اردو

۶۔ حقیقی وجود

شرور اور برائیاں یا تو خود ہستی و عدم کی صنف سے ہیں۔ جیسے جہل‘ عجز و ناتوانی اور غربت و افلاس یا پھر ہستی کی صنف سے ہیں لیکن ان کا شر ہونا اس اعتبار سے ہے کہ یہ فقدان کا باعث بنتے ہیں جیسے زلزلے‘ جراثیم‘ سیلاب اور ژالہ باری وغیرہ۔ وہ ہستیاں جو نیستی اور عدم کا باعث بنتی ہیں ان کی شریت دوسری اشیاء کی نسبت سے ہوتی ہے نہ کہ اپنی ذاتی حیثیت میں شر ہوتی ہیں۔ ہر شے کا حقیقی وجود فی نفسہ اس کا وجود ہے اس کا اضافی اور نسبی وجود ایک اعتباری اور انتزاعی امر اور اس کے حقیقی وجود کا جزولاینفک ہے۔
اردو

۵۔ واجب بالذات

خداوندتعالیٰ جس طرح واجب بالذات ہے واجب من جمیع الجہات بھی ہے اور اسی لئے محال ہے کہ کوئی موجود قابلیت وجود رکھتا ہو اور اس کی جانب سے اس کے لئے افاضہ وجود نہ ہو اور اسے وجود سے محروم رکھے۔
اردو

۴۔ صلاحیت اور قابلیت

کسی حقیقت اور کسی واقعیت کو پانے کے لئے صرف فاعل کی فیاضت اور اس کا تام الفاعلیہ ہونا کافی نہیں ہے۔ اس کے لئے صلاحیت اور قابلیت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ صلاحیت اور قابلیت کا فقدان بعض موجودات کو بہت سے موارد میں بعض کمالات اور نیکیوں سے محروم رکھتا ہے اور نظام کلی نیز واجب الوجود کے ساتھ ارتباط کے حوالے سے جہل و عجز جیسے بعض نقائص پیدا ہو جانے کا راز بھی یہی ہے۔
اردو

۳۔اصول کلیت

خدا کے ساتھ اپنا موازنہ کرنے کے نتیجے میں انسان کی ایک اور غلطی یہ ہے کہ انسان ایک معین جگہ اور معین وقت میں (البتہ معینہ رائج شرائط کے تحت) گھر بنانے کی سوچتا ہے اور پھر اس پر عمل کرتا ہے‘ کچھ اینٹیں‘ کچھ لوہا‘ کچھ سیمنٹ کہ جن میں ذاتی اعتبار سے کوئی جوڑ نہیں انہیں آپس میں مصنوعی اتصال کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے اور گھر کے نام سے ایک معین عمارت کھڑی ہو جاتی ہے۔
اردو

۲۔ اصول ترتیب:

فیض الٰہی یعنی فیض ہستی جس نے پوری کائنات کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے‘ ایک مخصوص نظام ہے۔ موجودات و مخلوقات میں ایسی خاص قسم کا تقدم و تاخر‘ ایک ایسی علیت و معلولیت اور سببیت و مسببیت موجود ہے جو ناقابل تبدیل ہے یعنی کوئی موجود اپنے خاص مرتبے سے تجاوز کر سکتا ہے نہ اسے چھوڑ سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور موجود کے مرتبے پر اپنا قبضہ جما سکتا ہے۔ پس مراتب ہستی اور درجات ہستی کا لازمہ یہ ہے کہ ان کے درمیان نقص و کمال اور شدت ضعف کے اعتبار سے ایک طرح کا اختلاف موجود ہو‘ اختلاف و تفاوت اس معنی میں کہ وہ لازمہ مراتب ہستی ہے‘ امتیاز اور زیادتی نہیں کہ جسے خلاف حکمت اور خلاف عدل سمجھا جائ
اردو