11 ۔ نجات از جہنم
1033
۔ رسول
اکرم!
روز قیامت پروردگار فاطمہ (ع) کو آواز دے گا کہ جو چاہو مانگ لو میں عطا کردوں گا ! تو فاطمہ (ع) کہیں گی کہ خدایا تجھ ہی سے ساری امیدیں وابستہ ہیں اور تو امیدوں سے بھی بالاتر ہے، میرا سوال صرف یہ ہے کہ میرے اور میری عترت کے محبون پر جہنم کا عذاب نہ کرنا ؟ تو آواز آئے گی ، فاطمہ (ع) ! میری عزّت و جلال اور بلندی کی قسم، میں نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے سے یہ عہد کررکھاہے کہ تیرے اور تیری اولاد کے دوستوں پر جہنم کا عذاب نہیں کروں گا۔( تاویل الآیات الظاہرہ روایت ابوذر)۔
1034
۔ بلال بن
حمامہ!
ایک دن رسول اکرم ہمارے درمیان مسکراتے ہوئے تشریف لائے تو عبدالرحمان بن عوف نے عرض کی کہ حضور آپ کے مسکرانے کا سبب کیا ہے؟
فرمایا میرے پاس پروردگار کی بشارت آئی ہے کہ مالک نے جب علی (ع) و فاطمہ (ع) کا عقد کرنا چاہا تو ایک فرشتہ کو حکم دیا کہ درخت طوبیٰ کو ہلائے-اس نے ہلایا تو بہت سے اوراق گر پڑے اور ملائکہ نے انھیں چن لیا، اب روز قیامت ملائکہ تمام مخلوقات کو دیکھیں گے اور جسے محبت اہلبیت (ع) پائیں گے اسے یہ پروانہ دیدیں گے جس پر جہنم سے برائت لکھی ہوگی میرے بھائی ، ابن عم اور میری بیٹئ کی طرف سے جو میری امت کے مرد و زن کو عذاب جہنم سے آزادی دلانے والے ہوں گے۔( تاریخ بغداد
4
ص
410
، اسدالغابہ
1
ص
415
/
492
، ینابیع المودہ
2
ص
460
/
278
، مناقب خوارزمی
231
/
361
، مناقب ابن شہر آشوب
3
ص
346
، مائئہ منقبہ ص
145
، الخرائج والجرائح
2
ص
356
/
11
)۔
1035
۔امام صادق (ع)! خدا کی قسم کوئی بندہ اللہ و رسول کا چاہنے والا اور ائمہ سے محبت کرنے والا ایسا نہیں ہوسکتاہے جسے آتش جہنم مس کرسکے۔( رجال نجاشی
1
ص
138
روایت الیاس بن عمرو البحلئ، شرح الاخبار
3
ص
463
/
1355
روایت حضرمی)۔