Al-Islam.org تلاش کریں اعلانات آراء و تجاویز مالی تعاون کیجیئے
کتاب صوم

کتابِ صوم



روزہ کے وجوب اور صحت کے شرائط

س۷۴۷۔ اگر کوئی لڑکی سن بلوغ تک پہنچنے کے بعد جسمانی اعتبار سے کمزور ہونے کی وجہ سے ماہ رمضان کے روزے نہ رکہ سکتی ہو اور نہ آ نے والے رمضان تک ان کی قضا کی طاقت رکھتی ہو تو اس کے روزوں کا کیا حکم ہے؟

ج۔ صرف کمزوری و ناتوانی کے سبب روزہ اور اس کی قضا سے معذوری قضا کو ساقط نہیں کرتی بلکہ اس پر ماہ رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہے۔

س۷۴۸۔ اگر نوبالغ لڑکیوں پر روزہ حد سے زیادہ شاق ہو تو ان کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ اور کیا لڑکیوں کے لئے بلوغ نو سال ہے؟

ج۔ مشہور یہ ہے کہ قمری نو سال پورے ہونے کے بعد لڑکیاں بالغ ہوجاتی ہیں ، اس وقت ان پر روزہ رکھنا واجب ہے اور کسی عذر کی وجہ سے ان کے لئے روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر روزہ دن کے دوران نہیں ضرر پہنچائے یا عسرو حرج کا سبب ہو تو اس وقت ان کے لئے افطار کرنا جائز ہے۔

س۷۴۹۔ میں قطعی طور سے نہیں جانتا کہ کب بالغ ہوا ہوں لھذا یہ بتائیے کہ مجہ پر کب سے نماز و روزوں کی قضا واجب ہے اور کیا مجہ پر روزوں کی قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے جبکہ میں مسئلہ سے واقف نہیں تھا؟

ج۔ جب سے آ پ کو بلوغ کا یقین ہوا ہے اسی وقت سے آ پ پر نما زاور روزوں کی قضا واجب ہوگی لیکن ان روزوں کی قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے جن کے بارے میں آ پ کو یقین ہے کہ یہ روزے آ پ نے جان بوجہ کر اس وقت چھوڑے جب بالغ ہوچکے تھے ۔

س۷۵۰۔ اگر نو سالہ لڑکی روزہ شاق ہونے کی وجہ سے توڑ دے تو کیا اس کی قضا واجب ہے؟

ج۔ ماہ رمضان کے جو روزے اس نے توڑے ہیں ان کی قضا واجب ہے۔

س۷۵۱۔ اگر کوئی شخص پچاس فیصد سے زیادہ احتمال اور معقول عذر کی بنا پر یہ خیال کرے کہ اس پر روزہ واجب نہیں ہے اور روزہ نہ رکھے کہ اس پر روزے واجب نہیں ہیں لیکن بعد میں اس کو معلوم ہو کہ اس پر روزہ واجب تھا ایسی صورت میں قضا اور کفارہ کے اعتبار سے اس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔اگر صرف اسی احتمال کی بنا پر کہ اس پر روزہ واجب نہیں ہے اس نے ماہ مبارک رمضان کا روزہ توڑدیا ہو تو مذکورہ سوال کی روشنی میں اس پر قضا و کفارہ دونوں واجب ہیں ۔ لیکن اگر اس نے نقصان کے خوف سے روزے نہ رکھے ہوں اور اس خوف کی کوئی عقلائی وجہ بھی ہو تو اس صورت میں قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں ہے۔

س۷۵۲۔ ایک شخص فوج میں ملاز م ہے اور سفر اور ڈیوٹی پر رھنے کی وجہ سے پچھلے سال روزے نہیں رکہ سکا۔ دوسرا رمضان بھی شروع ہوچکا ہے اور وہ ابھی تک اسی علاقہ ھی میں ہے اور احتمال ہے کہ اس سال بھی روزے نہیں رکہ سکے گا تو جب اس نے فوجی خدمت سے فارغ ہونے کے بعد ان دو ماہ کے روزے رکہنے کا ارادہ کرلیا ہے، کیا اس پر روزوں کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے؟

ج۔ اگر سفر کی وجہ سے روزے ترک ہوئے ہوں اور یہ عذر دوسرے رمضان تک باقی ہو تو ( اس صورت میں ) صرف قضا واجب ہے۔ اس کے ساتھ فدیہ دینا واجب نہیں ہے۔

س۷۵۳۔ اگر روزہ دار اذان ظہر سے قبل تک متوجہ نہ ہو کہ مجنب ہوا ہے پہر اس کے بعد جب متوجہ ہو تو غسل ارتماسی کر ڈالے تو کیا اس سے اس کا روزہ باطل ہوجائے گا؟ اور اگر غسل ارتماسی کے بعد متوجہ ہو کہ وہ روزے سے تھا تو کیا اس پر روزے کی قضا واجب ہے؟

ج۔ اگر روزے سے غفلت و فراموشی کی بنا پر غسل ارتماسی کرلی ہو تو اس کا روزہ اور غسل صحیح ہے اور اس پر روزہ کی قضا واجب نہیں ہے۔

س۷۵۴۔ اگر روزہ دار کا یہ ارادہ ہو کہ زوال سے قبل محل اقامت تک پھنچ جائے گا لیکن کسی عذر کی وجہ سے نہ پھنچ سکا تو کیا اس کے روزے میں اشکال ہے؟ اور کیا اس پر کفارہ بھی واجب ہے یا صرف اس دن کے روزہ کی قضا کرے گا؟

ج۔ سفر میں اس کا روزہ صحیح نہیں ہے اور جس دن وہ زوال سے پھلے قیام گاہ تک نہیں پھنچ سکا تھا صرف اس دن کے روزہ کی قضا کرے گا، کفارہ واجب نہیں ہے۔

س۷۵۵۔ سطح زمین سے کافی بلندی پر ڈھائی تین گھنٹے کی پرواز کرنے والے پائیلٹ اور جھاز کے میزبانوں کو جسمی توانائی برقرار رکہنے کے لئے ہر بیس منٹ پر پانی پینے کی ضرورت ہے تو کیا ایسی صورت میں قضا و کفارہ دونوں لازم ہیں ۔

ج۔ اگر روزہ مضر ہو تو پانی پی کر افطار کرسکتا ہے لیکن بعد میں صرف قضا کرے گا ایسی حالت میں کفارہ واجب نہیں ہے۔

س۷۵۶۔ اگر غروب آ فتاب سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ قبل روزہ دار عورت حائضہ ہوجائے تو کیا اس کا روزہ باطل ہوگا؟

ج۔ باطل ہوجائے گا۔

س۷۵۷۔ اگر غوطہ خوری کے مخصوص لباس کو پھن کر کوئی شخص پانی میں جائے جس سے اس کا جسم تر نہ ہو تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر لباس سر سے چسپیدہ ہو تو اس کے روزہ کا صحیح ہونا مشکل ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ قضا کرے۔

س۷۵۸۔ کیا روزہ کی زحمت سے فرار کی خاطر عمداً سفر کرنا جائز ہے؟

ج۔ کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ چہے اگر روزہ سے بچنے کے لئے ھی سفر پر نکلے اس پر افطار کرنا واجب ہے۔

س۷۵۹۔ اگر کسی شخص کے ذمہ روزہ واجب ہو اور اس نے روزہ رکہنے کا ارادہ کیا ہو لیکن کوئی ایسا عذر پیش آ جائے جو روزہ رکہنے میں مانع ہو مثلاً طلوع آ فتاب کے بعد درپیش سفر کی وجہ سے روزہ نہ رکہ سکا اور ظہر کے بعد گہر واپس ہوا اور راستہ میں کسی روزہ شکن چیز کا استعمال نہیں کیا تھا مگر واجب روزہ کی نیت کا وقت گذر چکا تھا اور یہ دن ایام میں سے تھا جس میں روزہ رکھنا مستحب ہے توکیا یہ شخص مستحب روزہ کی نیت کرسکتا ہے؟

ج۔ جب تک ماہ رمضان کے روزوں کی قضا اس پر واجب ہو سنتی روزہ کی نیت صحیح نہیں ہوگی خواہ واجب روزہ کی نیت کا وقت گذر ھی کیوں نہ چکا ہو۔

س۷۶۰۔ میں سگریٹ نوشی کا بہت عادی ہوں اور رمضان مبارک میں ہرچند کوشش کرتا ہوں کہ مزاج میں تندی نہ آ جائے مگر پیدا ہوجاتی ہے جس کے سبب بیوی بچوں کے لئے باعث اذیت ہوجاتا ہوں اور میں خود بھی اپنی اس تند مزاجی سے رنجیدہ ہوں ۔ ایسی صورت میں میری شرعی تکلیف کیا ہے؟

ج۔ آ پ پر ماہ رمضان کے روزے واجب ہیں اور روزہ کی حالت میں سگریٹ نوشی جائز نہیں ہے۔ بلا عذر دوسروں سے تند خوی بھی جائز نہیں ہے اور سگریٹ ترک کرنے کا غصہ سے کوئی ربط نہیں ہے۔


حاملہ اور دودہ پلانے والی عورت کے احکام

س۷۶۱۔ کیا حمل کے ابتدائی مہینوں میں عورت پر روزے واجب ہیں ؟

ج۔ صرف حمل روزہ کے واجب ہونے میں مانع نہیں ہوتا لیکن اگر روزہ رکہنے میں ماں یا باپ کے لئے ضرر کا خوف ہو اور اس خوف کی وجہ عقلائی ہو تو پہر روزہ واجب نہیں ہے۔

س۷۶۲۔ اگر حاملہ عورت یہ نہ جانتی ہو کہ اس کا روزہ بچہ کے لئے نقصان دہ نہیں تو کیا اس پر روزہ واجب ہے؟

ج۔ اگر اس کے روزہ سے بچے کو نقصان پہنچنے کا ڈر ہو اور اس ڈر کی معقول وجہ ہو تو روزہ ترک کرنا واجب ہے ورنہ اس پر روزہ رکھنا واجب ہے۔

س۷۶۳۔ اگر کسی عورت نے زمانہ حمل میں بچوں کو دودہ بھی پلایا اور روزے بھی رکھےلیکن جو بچہ پیدا ہوا وہ مردہ تھا اب اگر ضرر کا احتمال پھلے سے تھا اس کے باوجود اس نے روزے رکھے تو ایسی صورت میں:

الف۔ ماں کے روزے صحیح ہوں گے یا نہیں ؟

ب۔ ماں پر بچہ کی دیت واجب ہے یا نہیں ؟

ج۔ اور اگر پھلے ضرر کا احتمال نہیں تھا لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ نقصان روزوں ھی سے پھنچا ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر ضرر کا خوف رہا ہو اور خوف کا سبب بھی عقلائی ہو اس کے باوجود روزے رکھے یا بعد میں ثابت ہو کہ روزے بچہ یا حاملہ عورت کے لئے نقصان دہ تھے توروزے باطل ہیں اور ان کی قضا واجب ہے۔ لیکن دیت اس وقت عائد ہوگی جب یہ ثابت ہوجائے کہ بچہ کی موت روزے ھی سے ہوئی ہو۔

س۷۶۴۔ خالق نے مجھے بچہ عطا فرمایا ہے جسے میں دودہ پلا رھی ہوں اور ماہ رمضان انشاء اللہ آ نے والا ہے۔ رمضان میں روزہ بھی رکہ سکتی ہوں لیکن روزوں کی وجہ سے دودہ خشک ہوجائے گا۔ یہ واضح رہے کہ میں جسمانی اعتبار سے کمزور ہوں اور ہر دس منٹ کے وقفہ سے بچہ کو دودہ پلانے کی ضرورت ہے ایسے میں میرا شرعی فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اگر روزوں کی وجہ سے دودہ خشک ہوجائے یا کم ہوجائے اور اس سے بچہ کو خطرہ درپیش ہو تو ایسی صورت میں روزہ ترک کرنا جائز ہے لیکن ہر روزے کے عوض تین پاوٴ ( ۷۵۰ گرام) فدیہ فقیر کو دینا ہوگا اور عذر برطرف ہوجانے پر روزوں کی قضا کرنا پڑے گی۔



بیماری اور ڈاکٹر کی طر ف سے ممانعت

س۷۶۵۔ بعض غیر متدین ڈاکٹر خوف ضرر کی دلیل سے مریض کو روزہ سے روکتے ہیں ایسے ڈاکٹروں کا قول حجت ہے یا نہیں ؟

ج۔ اگر ڈاکٹر متدین نہیں ہے اور مریض کو اس کے قول پر اطمینان بھی نہیں ہے اور نہ ھی روزوں سے ضرر کا خوف ہے تو ایسی صورت میں اس کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔

س۷۶۶۔ میری والدہ تقریباً ۱۳ سال بیمار رہیں لھذا روزے رکہنے سے محروم رہیں اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ اس فریضہ سے ان کی محرومیت کی وجہ یہ تھی کہ دن میں ان کے لئے دوا کا استعمال ضروری تھا ، اب برائے مہر بانی یہ فرمائیں کہ کیا ان پر روزوں کی قضا واجب ہے؟

ج۔ اگر وہ مرض کی وجہ سے روزے رکہنے پر قادر نہیں تہیں تو پہر قضا نہیں ہے۔

س۷۶۷۔ میں نے آ غاز بلوغ سے بارہ سال کی مدت تک اپنی جسمانی کمزوریوں کی وجہ سے روزے نہیں رکھے ، اس وقت میرا فریضہ کیا ہے؟

ج۔ بلوغ کے بعد جتنے روزے ترک ہوئے ہیں ان کی قضا واجب ہے اور اگر عمداً و اختیاراً اور کسی شرعی عذر کے بغیر ترک کئے ہیں تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔

س۷۶۸۔ آ نکہوں کے ڈاکٹر نے مجھے روزے رکہنے سے منع کیا اور کھا کہ تمہاری آ نکھ میں جو مرض ہے ، اس کی وجہ سے تمہارے لئے روزہ رکھنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے لیکن میرا دل نہیں مانا اور میں نے روزے شروع کردئیے جس کی وجہ سے مجھے مشکلیں پیش آ ئیں۔ کسی دن تو افطار تک مجھے کسی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ اور کسی دن عصر کے وقت تکلیف شروع ہوجاتی تھی اور میں اس شک و تردید کی حالت میں کہ روزہ توڑ دوں یا رکہوں ، روزہ پورا کرتاتھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر روزہ رکھنا واجب ہے؟ اور جن ایام میں روزہ رکھتا تھا لیکن نہیں جانتا تھا کہ مغرب تک روزہ رکہ پاوٴں گا کیا ان میں مجھے روزے کی حالت میں باقی رھنا چاھئیے ؟ اور یہ کہ میری نیت کیا ہونی چاھئیے؟

ج۔ اگر متدین اور امین ڈاکٹر کے کہنے پر آ پ کو اطمینان حاصل ہوگیا کہ روزہ آ پ کے لئے باعث ضرر ہے یا روزے سے آ پ کی آ نکھوں کو خطرہ ہے تو ایسی صورت میں روزہ واجب نہیں ہے۔ بلکہ روزہ رکھنا جائز ھی نہیں ہے اور ضرر کے خوف کے ساتھ روزہ کی نیت کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ اور اگر خوف ضرر نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن آ پ کا روزہ اسی وقت صحیح ہوگا جب واقعی ضرر نہ پایا جاتا ہو۔

س۷۶۹۔ میری آ نکہوں کی بینائی بہت کمزور ہے۔ اور میں بڑے نمبر والی عینک استعمال کرتا ہوں میرے ڈاکٹر کا کھنا ہے کہ اگر آ نکھوں کی تقویت کا خیال نہ کیا تو بینائی مزید کم ہوجائے گی۔ ایسی صورت میں اگر ماہ رمضان کے روزے نہ رکہ سکوں تو میرا فریضہ کیا ہوگا؟

ج۔ اگر روزہ آ نکھوں کے لئے مضر ہے تو واجب نہیں ہے بلکہ روزہ نہ رکھنا آ پ پر واجب ہے اور اگر یہ عذر اگلے رمضان المبارک تک باقی رہے تو ہر روزے کے بدلے ایک مد طعام فقیر کو دیا جائے گا۔

س۷۷۰۔ میری والدہ ایک شدید مرض میں مبتلا ہیں اور والد صاحب بھی بہت کمزور ہیں لیکن اس کے باوجود روزے رکھتے ہیں ۔ اکثر اوقات معلوم ہوتھے کہ روزہ ان کے مرض میں اضافہ کا باعث ہورہا ہے ۔ میں بار بار سمجھتا رہا ہوں کہ بیماری میں روزہ ساقط ہے لیکن والدین مطمئن نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں آ پ میری راھنمائی فرمائیں؟

ج۔اگر یہ علم ہو کہ روزہ نقصان دہ ہے اس کے باوجود روزہ رکھا جائے تو حرام ہے لیکن روزہ کس وقت باعث مرض ہوگا، کب مرض میں اضافہ کا سبب بنے گا اور کب رکہنے کی طاقت و قوت نہیں ہے۔ ان سارے امور کی تعیین و تشخیص خود روزہ دار پر منحصر ہے۔

س۷۷۱۔ گزشتہ سال میں نے اپنے گردوں کا آ پریشن اس کے مہر ڈاکٹر سے کرایا اس کی تجویز یہ تھی کہ میں کبھی بھی روزے نہ رکہوں فی الحال میں معمول کے مطابق کھاتا پیتا ہوں اور کسی قسم کا احساس مرض اپنے میں نہیں پاتا اس وقت میرا شرعی فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اگر آ پ اپنے تئیں روزہ رکہنے میں خوف ضرر نہیں محسوس کرتے اور ترک صوم کے لئے کوئی عذر شرعی بھی نہیں پاتے تو آ پ پر رمضان کا روزہ واجب ہے۔

س۷۷۲۔ اگرمسائل شرعیہ سے ناواقف ڈاکٹر روزہ نہ رکہنے کا حکم دیتے ہیں تو کیا ان کی تجویز پر عمل کیا جاسکتا ہے؟

ج۔ اگرمریض کو ڈاکٹر کے قول و تجویز کی بناء پر یا اس کے خبر دینے یا کسی اور معقول ذریعہ سے اطمینان پیدا ہوجائے کہ روزہ اس کے لئے مضر ہے تو اس پر روزہ واجب نہیں ہے۔

س۷۷۳۔ میرے گردوں میں پتہر ی ہے۔ اس سے چھٹکارے کا واحد راستہ یہ ہے کہ میں مسلسل رقیق چیزیں استعمال کرتا رہوں ڈاکٹروں کا عقیدہ ہے کہ روزہ رکھنا میرے لئے جائز نہیں ہے۔ پس ماہ رمضان کے روزوں کے سلسلہ میں میرا کیا فریضہ ہے؟

ج۔ اگر دن میں پانی یا اس جیسی چیز کے استعمال سے ھی پتہر ی سے چھٹکارا مل سکتا ہے تو ایسی صورت میں آ پ پر روزہ واجب نہیں ہے۔

س۷۷۴۔ چونکہ شوگر کے مریض مجبور ہوتے ہیں کہ روزانہ دو ایک مرتبہ انسولین کا انجیکشن کریں۔ ( اس حالت میں) دیر سے کھانا کہنے یا کہنے میں زیادہ فاصلہ خون میں شکر کی مقدار کم ہونے کی باعث ہوتی ہے اور اس طرح بے ہوشی اور تشنج کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے بسا اوقات ڈاکٹر ایسے مریض کو دن میں چار بار کھانا کہنے کی تاکید کرتے ہیں ۔ ایسے افراد کے روزے کے سلسلے میں آ پ کی کیا رائے ہے؟

ج۔ اگر صبح صادق سے غروب آ فتاب تک کہنے پینے سے پرھیز ان کے لئے ضرر کا باعث ہو تو ان پر روزہ واجب نہیں بلکہ جائز نہیں ہے۔


وہ امور جن سے امساک واجب ہے

س۷۷۵۔ اگر روزہ دار کے منہ سے خون خارج ہو تو کیا اس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟

ج۔ روزہ باطل تو نہیں ہوتا لیکن خون کو گلے تک نہیں پھنچنا چاھئیے۔

س۷۷۶۔ کیا حالت روزہ میں نسوار لی جاسکتی ہے؟

ج۔ اگر ناک کے راستے حلق تک جانے کا اندیشہ ہو تو روزہ دار کے لئے اس کا لینا جائز نہیں ہے۔

س۷۷۷۔ نسوار جو تمباکو سے بنائی جاتی ہے اور جس کو کچھ دیر زبان کے نیچے رکہنے کے بعد تہوک دیا جاتا ہے۔ کیا اس کا استعمال روزہ کو باطل کردیتا ہے؟

ج۔ اگر لعاب دھن سے مخلوط ہو کر حلق سے نیچے اتر جائے تو روزہ باطل ہے۔

س۷۷۸۔ جو افراد تنفس کے شدید مریض ہیں ان کے لئے ایک طبی اسپرے ہے۔ جسے دھن میں چھڑکاجاتا ہے ، حلق کے ذریعہ دوا مریض کے پھیپھڑوں تک منتقل ہوتی ہے جس سے سانس لینے میں آ سانی ہوجاتی ہے۔ بسا اوقات تو مریض کو دن میں کئی کئی بار اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے بغیر اس کے یا تو وہ روزہ رکہ نہیں سکتا یا اس کے لئے بہت سخت ہوگا۔ کیا مریض کے لئے ان اسپرے کے ساتھ روزہ جائز ہے؟

ج۔ اگر اسپرے کے ذریعہ جس مادہ کو پھیپھڑوں تک پھنچایا ہے ، صرف ہوا ہے تو اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن اگر اس میں دوا ملی ہوئی ہے خواہ غبار و سفوف ھی کی شکل میں کیوں نہ ہو اور اگر وہ حلق میں داخل ہوجائے تو ایسی صورت میں روزہ کا صحیح ہونا مشکل ہے۔ اس سے اجتناب واجب ہے۔ لیکن اگر اس کے بغیر روزہ رکھنا مشقت و زحمت کا باعث ہو تو پہر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

س۷۷۹۔ بسا اوقات میرے لعاب دھن میں مسوڑہوں کا خون مل جاتا ہے لھذا جو لعاب میرے پیٹ میں جتھے اس کے بارے میں مجھے نہیں معلوم کہ اس میں خون بھی ملا ہے یا نہیں ۔ اس حالت میں میرے روزوں کا کیا حکم ہے۔ اور یہ مشکل کیسے حل ہوسکتی ہے؟

ج۔ مسوڑہوں کا خون اگر لعاب دھن سے مل کر مستھلک و نابود ہوجائے توپاک ہے اس کے نگلنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اور اگر شک ہو کہ لعاب خون آ لود ہوا ہے یا نہیں تو اسے نگلا جاسکتا ہے اور اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

س۷۸۰۔ میں نے رمضان کے ایام میں ایک دن اپنے دانتوں کو برش نہیں کیا۔ دانتوں میں پھنسی ہوئی غذا میں نے جان بوجہ کر نہیں نگلی وہ خود بخود اندر چلی گئی کیا مجھے اس روزہ کی قضا کرنی پڑے گی؟

ج۔ اگر آ پ کو یہ علم نہیں تھا کہ غذا دانتوں میں پھنسی رہ گئی ہے یا یہ یقین نہیں تھا کہ غذا اندر چلی جائے گی۔ اگر توجہ و اختیار کے بغیر وہ اندر چلی جائے تو آ پ کا روزہ صحیح ہے۔

س۷۸۱۔ اگر روزہ دار کے مسوڑہے سے کافی مقدار میں خون خارج ہو تو کیا اس کا روزہ باطل ہوجائے گا اور کیا وہ کسی برتن سے اپنے سر پر پانی ڈال سکتھے ؟

ج۔ جب تک خون نگلا نہ جائے روزہ باطل نہیں ہوتا، اسی طرح برتن وغیرہ سے سر پر پانی ڈالنے سے بھی اس کے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

س۷۸۲۔ بعض نسوانی امراض کے علاج کے لئے کچھ اینما جیسی خاص دوائیں ہیں جن کو شرم گاہ سے داخل کرتے ہیں ، کیا اس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے؟

ج۔ ان دواوٴں کے استعمال سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔

س۷۸۳۔ روزے کی حالت میں درد کو روکنے کے لئے دانتوں کے ڈاکٹر جو انجکشن لگاتے ہیں اور اسی طرح دوسرے انجیکشن جو مریض روزہ داروں کو لگائے جاتے ہیں ، ان کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر انجیکشن قوت کے لئے نہیں ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اگر قوت کا ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں اس سے پرھیز کیا جائے۔

س۷۸۴۔ آ ج کل رگوں کے ذریعہ طاقت کی دوائیں جسم میں منتقل کی جاتی ہیں ، کیا یہ روزہ کو باطل کردیتی ہیں ؟

ج۔ روز کی حالت میں رگوں کے ذریعہ دواوٴں کا اندر تک منتقل کیا جانا محل اشکال ہے۔ لھذا اس سے اجتناب کی احتیاط کو ترک نہ کیا جائے۔

س۷۸۵۔ کیا بلڈ پریشر کے مریض روزہ کی حالت میں ٹیبلیٹ کا استعمال کرسکتے ہیں ؟

ج۔ اگر ٹیبلیٹ کا استعمال ضروری ہے تو کھائی جاسکتی ہے لیکن روزہ باطل ہوجائے گا۔

س۷۸۶۔ عرف عام میں علاج کے لئے ٹیبلیٹ کے استعمال پر کھانا پینا نہیں کھا جاتا ، کیا اس بنیاد پر حالت صوم میں ٹیبلیٹ کا استعمال کیا جاسکتا ہے؟

ج۔ اگر شیاف یعنی شرمگاہ کے ذریعہ ٹیبلیٹ چڑھائی جائے تو روزہ صحیح رہے گا لیکن نگلنے کی صورت میں روزہ باطل ہوجائے گا۔

س۷۸۷۔ ماہ رمضان میں میری زوجہ نے مجھے جماع پر مجبور کیا ، اب ہمارے لئے شرعی حکم کیا ہے؟

ج۔ آ پ دونوں پر عمداً روزہ توڑنے کا حکم عائد ہوتا ہے لہذا آ پ پر قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔

س۷۸۸۔ کیا روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ سے خوش فعلی کی جاسکتی ہے؟

ج۔ اگر منی خارج ہونے کا سبب نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ورنہ جائز نہیں ہے۔




حالت جنابت پر باقی رہنا

س۷۸۹۔ اگر کوئی شخص بعض زحمتوں کی وجہ سے صبح کی اذان تک غسل جنابت نہ کرسکے تو کیا اس کا روزہ صحیح رہے گا؟

ج۔ رمضان کے علاوہ کسی اور روزے یا اس کی قضا میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن رمضان کے روزے یا اس کی قضا کے لئے اگر صبح کی اذان تک کسی عذر کی وجہ سے غسل جنابت نہ کرسکے تو اذان سے قبل تیمم واجب ہے، اور اگر تیمم بھی نہیں کیا تو روزہ صحیح نہیں ہے۔

س۷۹۰۔ اگو کوئی شخص نہ جانتا ہو کہ جنابت سے پاک ہونا روزے کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے اور اسی حالت میں چند روزے بھی رکہ ڈالے تو کیا صرف ان کی قضا واجب ہے یا کفارہ بھی ؟

ج۔ اگر جنابت کی طرف متوجہ تھا لیکن خود پر غسل یا تیمم کے واجب ہونے کو نہیں جانتا تھا تو بنابر احتیاط قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔ مگر یہ کہ اس کی جھالت کا سبب اس کی اپنی کوتاھی ھی رھی ہو تو اس صورت میں ظہر اً کفارہ واجب نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ بھی ادا کرے۔

س۷۹۱۔ اگر مجنب قضا یا مستحبی روزہ رکھنا چاھتا ہو تو کیا اس کے لئے طلوع آ فتاب کے بعد غسل جنابت جائز ہے؟

ج۔ اگر عمداً غسل جنابت نہیں کیا اور صبح ہوگئی تو رمضان کا روزہ اور اس کی قضا صحیح نہیں ہے۔ لیکن ان دونوں کے علاوہ اگر کوئی روزہ نہ ، خاص کر مستحبی روزہ تو اقویٰ یہ ہے کہ وہ صحیح ہے۔

س۷۹۲۔ ایک مرد مومن نے مجہ سے بتایا کھ، اس نے رمضان سے دس روز پھلے شادی کی تھی اوراس نے یہ سنا تھا کہ ماہ رمضان میں اذان صبح کے بعد مجنب ہونے والا اگر قبل از اذان ظہر غسل کرلے تو اس کا روزہ صحیح رہے گا۔ اس کا خیال تھا کہ یقینی طور پر حکم یھی ہے۔ لھذا اس خیال کے تحت وہ بعد از اذان صبح اپنی زوجہ سے جماع کرتا تھا بعد میں اس پر واضح ہوا کہ وہ مسئلہ غلط تھا ۔ اب اس کی ذمہ داری کیا ہے؟

ج۔ اذان صبح کے بعد عمداً مجنب ہونے والے کا حکم وھی ہے جو عمداً افطار کرنے والے کا ہے۔ اس پر قضا و کفارہ دونوں واجب ہیں ۔

س۷۹۳۔ ایک مرد مومن ماہ رمضان میں ایک صاحب کے یھاں مھمان ہوئے آ دھی رات کو محتلم ہوگئے ۔ ان کے پاس مھمان ہونے کی وجہ سے زائد لباس نہیں تھا لھذا روزے سے بچنے کے لئے سفر کا ارادہ کرلیا اور اذان صبح کے بعد کچھ کھائے پئے بغیر سفر پر نکل پڑے اب سوال یہ ہے کہ قصد سفر اس شخص کو کفارہ سے بچاسکتا ہے یا نہیں ؟

ج۔ جب اس کو معلوم تھا کہ مجنب ہے اور اذان صبح سے قبل غسل یا تیمم نہیں کیا تو پہر نہ رات میں قصد سفر کفارہ سے بچاسکتا ہے اور نہ ھی دن میں سفر کرنے سے کفارہ ساقط ہوسکتا ہے۔

س۷۹۴۔ جس شخص کے پاس پانی نہ ہو یا تنگی وقت کے علاوہ کوئی اور عذر ہو جس کی وجہ سے غسل جنابت نہ کرسکتا ہو تو کیا ماہ مبارک کی راتوں میں عمداً اپنے کو مجنب کرسکتا ہے؟

ج۔اگر فریضہ تیمم ہو اور تیمم کے لئے وقت بھی کافی ہو تو اپنے کو مجنب کرنا جائز ہے۔

س۷۹۵۔ ایک شخص رمضان کی راتوں میں اذان صبح سے پھلے بیدار ہوا مگر وہ متوجہ نہیں ہوا کہ محتلم ہے لھذا پہر سوگیا۔ اذان کے درمیان آ نکہ کھلی تو اپنے آ پ کو محتلم پایا اور یہ بھی یقین ہے کہ اذان سے قبل محتلم ہوا ہے تو ایسی صورت میں روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر اذان سے قبل اپنے احتلام کی طرف متوجہ نہیں تھا تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

س۷۹۶۔ اذان صبح کے بعد بیدار ہونے والا اگر اپنے کو محتلم پائے اور دوبارہ طلوع آ فتاب تک نماز صبح پڑہے بغیر سوجائے اور اذان ظہر کے بعد غسل کرکے ظہر ین بجالائے تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اس کا روزہ صحیح ہے اور ظہر تک غسل جنابت کی تاخیر اس کے لئے مضر نہیں ہے۔

س۷۹۷۔ اگر مکلف ماہ مبارک رمضان میں اذان صبح سے پھلے بیدار ہو اور شک کرے کہ کہیں محتلم تو نہیں ہے لیکن اپنے شک کو اھمیت نہ دیتے ہوئے دوبارہ سوجائے اذان صبح کے بعد جب اٹہے تو اپنے کو محتلم پائے اور اس کو یقین بھی ہو کہ اذان سے پھلے محتلم ہوا ہے تو اس کے روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر پھلی مرتبہ اٹھنے کے بعد احتلام کی کوئی علامت نہ دیکہے صرف احتلام کا شک ھی ہو اور اپنی حالت کی تفتیش کے بغیر سوجائے اور اذان کے بعد اٹہے تو ایسی صورت میں روزہ صحیح ہے خواہ بعد میں یہ ثابت کیوں نہ ہوجائے کہ اذان سے قبل محتلم ہوا تھا۔

س۷۹۸۔ اگر ماہ مبارک میں کسی نے نجس پانی سے غسل کیا اور ایک ھفتہ بعد اس کو پانی کی نجاست کا علم ہوا تو اس مدت میں اس کی نما زو روزوں کا کیا حکم ہے؟۔

ج۔ نما زتو باطل ہے اس کی قضا کرے گا لیکن روزہ صحیح ہے۔

س۷۹۹۔ ایک شخص جب پیشاب کرتا ہے تو گھنٹہ بہر یا اس سے زیادہ دیر تک پیشاب کے قطرے ٹپکتے رھتے ہیں ۔ اسی طرح جب رمضان کی بعض راتوں میں ایک گھنٹہ اذان سے قبل مجنب ہوتا ہے تو احتمال یہ رھتا ہے کہ پیشاب کے ساتھ منی بھی خارج ہورھی ہے ۔ ایسے میں طہر ت کے ساتھ روزہ شروع کرنے کے لئے اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج۔ اگر اذان صبح سے قبل تیمم کرلے تو روزہ صحیح ہے چہے غسل کے بعد بلا اختیار منی خارج کیوں نہ ہو۔

س۸۰۰۔ اگر کوئی شخص اذان صبح سے قبل یا اس کے بعد سوجائے اور جب بعد اذان بیدار ہو تو اپنے کو محتلم پائے، یہ شخص کب تک غسل میں تاخیر کرسکتا ہے ؟

ج۔ مفروضہ سوال کی روشنی میں جنابت اس دن کے روزہ کے لئے مضر نہیں ہے لیکن نماز کے لئے غسل واجب ہے لھذا وقت نماز میں تاخیر کرسکتا ہے۔

س۸۰۱۔ اگر رمضان یا کسی اور روزے کے لئے غسل جنابت بہول جائے اور دن میں کسی وقت یاد آ ئے تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے

ج۔ اگر ماہ مبارک کے روزوں کے لئے اذان صبح سے پھلے غسل جنابت بہول جائے اور جنابت کی حالت میں صبح کردے تو اس کا روزہ باطل ہے ۔ اور احتیاط واجب یہ ہے کہ رمضان کے قضا روزے کے لئے بھی یھی حکم ہے۔ لیکن دوسرے روزے غسل جنابت کی فراموشی سے باطل نہیں ہوتے۔




استمناء کے احکام

س۸۰۲۔ تقریبا سات سال قبل میں نے اپنے رمضان مبارک کے کچھ روزوں کو استمناء سے باطل کیا مجھے ان دنوں کی تعداد یاد نہیں ہے کہ میں نے ماہ مبارک کے تین مھینوں میں کتنے روزے توڑے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ۲۵، ۳۰ دن سے کم بہر حال نہیں ہے، اب میرا شرعی فریضہ کیا ہے براہ کرم کفارہ کی قیمت بھی معین فرمائیں؟

ج۔ استمناء ایک فعل حرام ہے۔ اس عمل سے روزہ باطل کرنے پر دو کفارے واجب ہیں ۔ یعنی ساٹھ روزے رکھنا اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ کھانا کھلانے کے بجائے یہ ممکن ہے کہ آ پ ساٹھ آ دمیوں کو علیحدہ علیحدہ ایک مد طعام دے دیں۔ لیکن نقد رقم کو کفارہ میں شمار نہیں کیا جائے گا البتہ نقد پیسہ اگر فقیر کو دیا جائے کہ وہ آ پ کا نائب بن کر طعام خریدے اور بعد میں اس کو کفارہ میں قبول کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چونکہ طعام کفارہ کی قیمت کی تعیین چاول ، گیہوں یا دوسرے کھانوں کی جنس کے تابع ہے جسے آ پ کفارہ کے طور پر دینا چاھتے ہیں ۔ لھذا قیمت بھی اسی اعتبار سے کم و زیادہ ہوگی۔

رہ گیا باطل روزوں کی تعداد کا تعین، جن کو آ پ نے استمناء کے ذریعہ باطل کیا ہے تو ان کی قضا اور کفارہ دینے میں آ پ کے لئے ان کی یقینی مقدار پر اکتفاء کرنا جائز ہے۔

س۸۰۳۔ اگر مکلف جانتا ہو کہ استمناء سے روزہ باطل ہوجاتا ہے اس کے باوجود وہ جان بوجہ کر اس کا مرتکب ہوجائے تو کیا اس پر دوہر ا کفارہ واجب ہے؟ اور اگر اسے علم نہ ہو کہ استمناء سے روزہ باطل ہوتا ہے تو اس وقت اس کا حکم کیا ہے؟

ج۔ دونوں صورتوں میں اگر استمناء عمداً کیا ہے تو ا س پر دوہر ے کفارے واجب ہیں ۔

س۸۰۴۔ میں رمضان المبارک میں ایک نامحرم عورت سے فون پر بات کررہا تھا گفتگو کے دوران جو تصورات پیدا ہوئے اس سے بے اختیار منی خارج ہوگئی جبکہ خروج منی کا کوئی سبب نہیں تھا اور نہ ھی گفتگو لذت و شہوت کی نیت سے کی گئی تھی۔ برائے مہر بانی یہ فرمائیے کہ میرا روزہ باطل ہے یا نہیں ؟ اور اگر باطل ہے تو مجہ پر کفارہ بھی واجب ہے یا نہیں ؟

ج۔ اگر اس سے قبل عورتوں سے بات کرتے وقت منی خارج نہیں ہوتی تھی اور جس گفتگو میں منی خارج ہوئی وہ بھی لذت و شہوت کی نیت سے نہ رھی ہو اس کے باوجود غیر اختیاری طور پر منی نکل جائے تو اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا اور آ پ پر قضا و کفارہ بھی واجب نہیں ہے۔

س۸۰۵۔ ایک شخص برسوں سے ماہ مبارک رمضان او ر اس کے علاوہ استمناء کا مرتکب ہوتا رہا اس کے نماز روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔ استمناء مطلقاً حرام ہے اور اگر منی خارج ہوجائے تو غسل جنابت واجب ہے اور اگر روزہ کی حالت میں استمناء کیا جائے تو وہ حرام چیز سے روزہ توڑنے کے حکم میں ہے۔ اب اگر غسل جنابت یا تیمم کے بغیر نمازیں پڑہیں یا روزے رکھے ہوں تو دونوں باطل ہیں اور دونوں کی قضا واجب ہے۔

س۸۰۶۔ کیا شوہر کے لئے بیوی کے ھاتہوں استمناء کرانا جائز ہے اور کیا اس سلسلہ میں جماع اور غیر جماع کے احکام میں کوئی فرق ہے؟

ج۔ شوہر کا زوجہ سے خوش فعلی کرنا اور اپنے بدن کو اس کے بدن سے مس کرنا یھاں تک کہ منی نکل آ ئے اور یوں ھی زوجہ کا شوہر کے آ لہ تناسل سے کھیلنا یھانں تک کہ منی خارج ہوجائے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کو حرام استمناء نہیں کھتے۔

س۸۰۷۔ اگر کسی غیر شادی شدہ کو اپنی منی کی جانچ کرانا ہو اور منی کا اخراج بغیر استمناء کے ممکن نہ ہو تو کیا استمناء کرسکتا ہے؟

ج۔ اگر علاج اسی پر موقوف ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۰۸۔ بعض طبی مراکز استمناء کے ذریعہ مرد سے منی لینا چاھتے ہیں تاکہ جانچ کرسکیں کہ یہ شخص جماع پر قادر ہے یا نہیں ۔ کیا یہ استمناء جائز ہے؟

ج۔ اس کے لئے استمناء شرعاً جائز نہیں ہے خواہ قوت تولید کی تحقیق کی خاطر ھی کیوں نہ ہو لیکن اگر شادی کے بعد اولاد نہ ہورھی ہو اور اس کی تحقیق استمناء پر منحصر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۰۹۔ کیا پاخانے کے مقام میں انگلی سے شہوانی غدود کو حرکت میں لا کر منی خارج کرنا جائز ہے جبکہ ایسی حرکت میں نہ بدن میں سستی پیدا ہوتی ہے اور نہ منی اچھل کر نکلتی ہے؟

ج۔ یہ فعل بذاتہ جائز نہیں ہے کیونکہ یہ حرام استمناء کے زمرے میں آ تا ہے۔

س۸۱۰۔ جس شخص کی زوجہ دور ہو ، کیا وہ اپنی شہوت کو بھڑکانے کے لئے اس کا تصور کرسکتا ہے؟

ج۔ اگر شہوانی تصورات اخراج منی کی خاطر ہوں یا تصور کرنے والا جانتا ہو کہ ان شہوانی تصورات سے منی خارج ہوجائے گی تو حرام ہے۔

س۸۱۱۔ ایک شخص نے ابتداء بلوغ سے روزے رکھے لیکن روزوں کے درمیان استمناء کے ذریعہ اپنے کو مجنب کرتا رہا چونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ روزہ کے لئے غسل جنابت ضروری ہے ۔ لھذا حالت جنابت کرتا رہا چونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ روزہ کے لئے غسل جنابت ضروری ہے۔ لھذا حالت جنابت میں روزے بھی رکھے آ یا اس شخص پر صرف قضا ہے یا کفارہ بھی ؟

ج۔ سوال کی روشنی میں قضا و کفارہ دونوں واجب ہوں گے۔

س۸۱۲۔ ایک روزہ دار نے شہوت ابہر نے والے منظر کو دیکھا جس کے بعد مجنب ہوگیا ۔ کیا اس کا روزہ باطل ہے ؟

ج۔ اگر اس ارادہ سے دیکہے کہ منی خارج ہوجائے یا وہ اپنے بارے میں جانتا ہو کہ دیکہنے سے مجنب ہوجائے گا یا اس کی عادت یہ ہو کہ ایسا منظر دیکہنے سے مجنب ہوجاتا ہو اورعمداً دیکہے اور مجنب ہوجائے تو وہ عمداً مجنب ہونے والے کے حکم میں ہے۔




احکام افطار

س۸۱۳۔ آ یا سرکاری اور عوامی اجتماعات وغیرہ میں روزہ افطار کے لئے اھل سنت کی پیروی جائز ہے اور اگر مکلف یہ دیکہے کہ ان کی پیروی نہ تقیہ کے مصادیق میں سے ہے اور نہ کسی اور وجہ سے ضروری ہے تو اس کی ذمہ داری کیا ہے؟

ج۔ افطار میں غیروں کے وقت کا اتباع جائز نہیں ہے ۔ جب تک شرعی طور پر دلیل سے یا ذاتی وجدان سے رات کے داخل ہونے اور دن کے خاتمہ کا یقین نہ ہوجائے اختیاری طور سے افطار کرنا جائز نہیں ہے۔

س۸۱۴۔ میں روزے سے تھا میری والدہ نے مجھے کہنے یا پینے پر مجبور کردیا تو کیا اس سے میرا روزہ باطل ہوگیا؟

ج۔ کہنے پینے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے خواہ کسی کے شدید اصرار پر ہویا کسی کے دعوت پر۔

س۸۱۵۔ اگر کوئی زبردستی کسی روزہ دار کے منہ میں کوئی چیز ڈال دے یا اس کے سر کو پانی میں ڈبو دے یا مجبور کرے کہ اگر روزہ نہیں توڑا تو تمہر ی جان و مال کو خطرہ ہے، تو اگر وہ خطرہ ٹالنے کے لئے کچھ کھالے تو کیا اس کا روزہ باطل ہوجائے گا؟

ج۔ روزہ دار کے اختیار کے بغیر زبردستی اس کے منہ میں کوئی چیز ڈالنے یا پانی میں اس کا سر ڈبونے سے روزہ باطل نہیں ہوتا لیکن اگر کسی کے مجبور کردینے پر خود کچھ کھالے تو روزہ باطل ہوجاتا ہے۔

س۸۱۶۔ اگر روزہ دار کو معلوم نہ ہو کہ زوال سے پھلے حد ترخص تک نہ پھنچا تو افطار کرنا جائز نہیں ہے اور وہ اپنے کو مسافر تصور کرتے ہوئے حد ترخص سے پھلے ھی کچھ کھاپی لے تواس شخص کا کیا حکم ہے کیا اس پر قضا واجب ہے یا اس کا حکم کچھ اور ہے؟

ج۔ اس کا حکم وھی ہے جو عمداً افطار کرنے والے کا ہے۔

س۸۱۷۔ زکام میں مبتلا ہونے کی وجہ سے میرے حلق میں تہوڑا بلغم جمع ہوگیا ، جسے میں تہوکنے کے بجائے نگل گیا تو میرا روزہ صحیح ہے یا نہیں ؟

نیز میں ماہ رمضان کے کچھ دنوں اپنے عزیز کے گہر رہا اور شرم و حیاء کی وجہ سے غسل جنابت کے بدلے تیمم کرتا رہا اور ظہر تک غسل نہیں کرسکا۔ چند روز تک یھی سلسلہ چلتا رہا ۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دنوں کے روزے صحیح ہیں یا نہیں اور صحیح نہ ہونے کی صورت میں کیا قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے؟

ج۔ آ پ نے جو بلغم اور ناک کی رطوبت نگلی ہے اس سے آ پ کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ جب بلغم دھن کی فضا تک آ جائے اور آ پ اسے نگل لیں تو اس روزے کی قضا کی جائے گی۔

اب رہا روزے کے دن طلوع فجر سے پھلے آ پ کا غسل جنابت نہ کرنا، اور اس کے بدلے تیمم کرنا ۔ اگر یہ عذر شرعی کی وجہ سے تھا یا آ پ نے آ خر وقت کی تنگی کی وجہ سے تیمم کیا تھا تو اس تیمم کے ساتھ آ پ کا روزہ صحیح تھا اور اگر ایسا نہیں تھا تو ان دنوں میں آ پ کے روزے باطل ہیں ۔

س۸۱۸۔ میں لوہے کی کان میں ملازمت کرتا ہوں اور مجھے اپنی ملازمت کے پیش نظر ہر روز اس میں اترنا پڑتا ہے اور مشینوں سے کام کرتے وقت غبار منہ میں جاتا ہے اور پورے سال یھی سلسلہ جاری رھتھے ۔ میری ذمہ داری کیا ہے ؟ میرا روزہ اس حالت میں صحیح ہے یا نہیں ؟

ج۔ گرد و غبار کا روزے کی حالت میں نگلنا، روزہ کو باطل کردیتا ہے۔ اس سے پرھیز واجب ہے۔ لیکن صرف گرد و غبار کے ناک اور منہ میں جانے سے روزہ باطل نہیں ہوتا جب تک اسے نگلا نہ جائے۔

س۸۱۹۔ اگر روزہ دار ایسا انجیکشن لگوائے جس میں غذائیت اور وٹامن ہوں تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر اسے رگ میں انجیکشن لگوانا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ روزہ دار اس سے پرھیز کرے اور اگر ایسا کرلیا ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس روزے کی قضا کرے۔

س۸۲۰۔ ایک شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور روزوں کے درمیان ایسے کام انجام دئیے جن کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ یہ روزوں کے لئے مضر ہیں ۔لیکن رمضان کے بعد ثابت ہوا کہ وہ مضر نہیں تھے ۔ اس کے روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر روزہ توڑنے کا ارادہ نہیں کیا اور نہ روزے توڑنے والی چیز کا استعمال کیا تو روزہ صحیح ہے۔



احکام کفارہ

س۸۲۱۔ کیا فقیر کو ایک مد ( ۷۵۰ گرام) طعام کی قیمت دیدینا کہ وہ اپنے لئے کہنے کا انتظام کرلے کافی ہے؟

اگر اطمینان ہو کہ فقیر و کالتا اس کی طرف سے کہنے کو خرید کر پہر خود اس کو کفارہ کے عنوان سے قبول کرلے گا تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۲۲۔ اگر کوئی شخص چند مسکینوں کو کھانا کھلانے پر وکیل ہو تو کیا وہ مال کفارہ میں سے پکانے کی مزدوری اور اپنی اجرت لے سکتھے ؟

ج۔ کام اور پکانے کی اجرت کا مطالبہ کرنا اس کے لئے جائز ہے لیکن یہ جائز نہیں ہے کہ مال کفارہ سے اس کا حساب کرے۔

س۸۲۳۔ ایک خاتون حاملگی یا زمانہ ولادت کے قریب ہونے کی وجہ سے روزہ رکہنے پر قادر نہیں تہیں اور یہ مسئلہ جانتی تہیں کہ ولادت کے بعد آ نے والے رمضان سے پھلے قضا کرنی ہوگی لیکن اس نے چند برسوں تک جان بوجہ کر یا غفلت کی وجہ سے قضا نہیں کی کیا اس پر صرف اسی سال کا کفارہ واجب ہے یا جتنے سال اس نے روزے رکہنے میں تاخیر کی ان سب کا کفارہ دینا واجب ہے؟ اس کی بھی وضاحت فرمادیں کہ عمدی اور غیر عمدی میں کیا فرق ہے؟

ج۔ تاخیر چہے جتنے سال کی ہو اس کا فدیہ صرف ایک مرتبہ واجب ہے۔ فدیہ سے مراد ہر روزے کے بدلے ایک مد طعام ہے ۔ اور یہ بھی اس وقت ہے جب قضا کی ادائیگی سستی کی وجہ سے اور عذر شرعی کے بغیر ہو ۔ لیکن اگر تاخیر ایسے عذر کی وجہ سے ہو جو روزہ کے صحیح ہونے میں مانع ہو تو فدیہ بھی نہیں ہے۔

س۸۲۴۔ ایک خاتون بیماری کی وجہ سے رمضان کا روزہ نہیں رکہ سکیں اور آ نے والے رمضان تک ادا کرنے پر قادر بھی نہیں تہیں ایسی حالت میں خود مریضہ پر کفارہ واجب ہے یا ان کے شوہر پر؟

ج۔ مفروضہ سوال کی روشنی میں ہر دن کے بدلے ایک مد طعام خود مریضہ پر واجب ہے۔ اس کے شوہر پر نہیں ۔

س۸۲۵۔ ایک شخص کے ذمہ رمضان کے دس روزے قضا تھے اس نے شعبان کی بیسویں سے اس قضا کو ادا کرنا شروع کیا اب یہ شخص کیا زوال سے قبل یا زوال کے بعد عمداً افطار کرسکتا ہے؟ اور اگر وہ زوال سے پھلے یااس کے بعد افطار کرلے تو کفارہ کی مقدارکیا ہوگی؟

ج۔ مذکورہ سوال کی روشنی میں اس کے لئے عمداً افطار کرنا جائز نہیں ہے۔ اور اگر زوال سے پھلے عمداً افطار کرے تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔ لیکن زوال کے بعد افطار کرنے پر کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا اور اگر اس پر قادر نہیں ہے تو اس پر تین روزے واجب ہوں گے۔

س۸۲۶۔ ایک عورت دو سال میں دو مرتبہ حاملہ ہوئی جس کی وجہ سے روزہ نہیں رکہ سکی اب وہ روزہ رکہنے پر قادر ہے۔ اس کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ کیا اس پر کفارہ جمع واجب ہے یا صرف قضا واجب ہے اور اس نے جو تاخیر کی ہے اس کا حکم کیا ہے؟

ج۔ اگر عذر شرعی کی وجہ سے روزے ترک ہوئے ہیں تو اس پر صرف قضا واجب ہے۔ اور اگر افطار کی وجہ یہ تھی کہ روزے سے حمل یا بچے کو ضرر پھنچنے کا ڈر تھا تو ایسی صورت میں قضا کے ساتھ ہر روزے کے بدلے ایک مد طعام بھی فقیر کو دینا ہوگا۔

س۸۲۷۔ کیا روزوں کے کفارے میں قضا اور کفارہ کے درمیان ترتیب واجب ہے ؟

ج۔ واجب نہیں ہے۔



احکام قضا

س۸۲۸۔ میں نے دینی امور کی انجام دھی کے لئے ماہ مبارک میں ۱۸ دن سفر میں گذارے تومیری تکلیف شرعی کیا ہے اور کیا مجہ پر قضا واجب ہے؟

ج۔ سفر کی وجہ سے ماہ رمضان کے جو روزے چہوٹے ہیں ان کی قضا واجب ہے۔

س۸۲۹۔ اگر اجرت پر روزے رکہنے والا زوال کے بعد افطار کرے تو اس پر کفارہ واجب ہے یا نہیں ؟

ج۔ کفارہ واجب نہیں ۔

س۸۳۰۔ جن افراد نے مذھبی امور کی انجام دھی کی وجہ سے رمضان میں سفر کیا اور روزے نہیں رکھے اب جبکہ کئی برس گذرنے کے بعد انہوں نے روزہ رکہنے کاارادہ کیا ہے تو کیا قضا کے ساتھ ساتھ ان پر کفارہ بھی واجب ہے؟

ج۔ اگر دوسرے رمضان تک عذر شرعی باقی رھنے کی وجہ سے قضا روزے نہ رکہ پائے ہوں تو ان کے لئے چہوٹے ہوئے روزوں کی قضا ھی کافی ہے ۔ ہر روزے کے لئے ایک مد طعام دینا واجب نہیں ہے، اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ روزے بھی رکہیں اور طعام فدیہ بھی دیں، لیکن تاخیر قضا کی وجہ اگر سستی ہو تو ایسی صورت میں ان پر قضا و فدیہ دونوں واجب ہیں ۔

س۸۳۱۔ ایک شخص نے جھالت کی وجہ سے دس سال نہ نماز پڑھی اور نہ روزے رکھے اب اس نے توبہ کی ہے اللہ کی طرف رجوع کیا ہے اور ان روزوں اور نمازوں کی قضا کا ارادہ کرلیا ہے لیکن فی الوقت وہ تمام روزوں کی قضا پر قدرت نہیں رکھتا اور نہ کفارہ کے لئے مال رکھتا ہے تو کیا ایسی صورت میں صرف استغفار پر اکتفاء کرسکتا ہے؟

ج۔ چہوٹے ہوئے روزوں کی قضا بہر حال معاف نہیں ہے لیکن کفارے میں اگر دو ماہ کے روزے اور ساٹھ مسکین کے کھانا کھلانے پر قادر نہیں ہے تو بقدر امکان فقیروں کو صدقہ دے ۔ اور احتیاط یہ ہے کہ استغفار بھی کرے اور اگر کسی بھی صورت میں فقراءکو کھانا دینے پر قدرت نہیں رکھتا ہے تو صرف کافی ہے کہ استغفار کرے یعنی یہ کہ دل اور زبان سے کہے استغفر اللہ (خدا وند تجھ سے مغفرت کرتا ہے )

س۸۳۲۔ اگر آ نے والے رمضان تک کسی نے روزوں کی قضا اس وجہ سے ادا نہ کی ہو کہ وہ آ نے والے رمضان سے پھلے وجوب قضا سے بے خبر تھا تو اس وقت اس کی شرعی ذمہ داری کیا ہے؟

ج۔ آ نے والے رمضان سے پھلے وجوب قضا کا علم نہ ہونے کی صورت میں بھی تاخیر قضا کا فدیہ اد اکرنا ہوگا۔

س۸۳۳ ۔ وہ شخص کہ جس نے ۱۲۰ دن روزے نہیں رکھے ایسے شخص کی کیا ذمہ داری ہے کیا وہ ہر روز کے عوض ۶۰ روزے رکھے گا ؟اور کیا اس پر کفارہ بھی واجب ہے ؟۔

ج۔ ماہ رمضان کے چہوٹے ہوئے روزوں کی قضا واجب ہے اور اگر عذر شرعی کے بغیر عمداً چھوڑا ہے تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے اور ہر روزے کا کفارہ ساٹھ دن کے روزے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا ساٹھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو ایک مد طعام دینا ہے۔

س۸۳۴۔ میں نے تقریباً ایک ماہ اس نیت سے روزے رکھے کہ اگر میرے ذمہ کچھ روزے ہیں تو یہ ان کی قضا ہے ورنہ صرف خدا کی قربت کی نیت سے ہے ۔ کیا یہ ایک مھینہ ان قضا روزوں میں حساب ہوگا جو میری گردن پرہیں ؟

ج۔ اگر آ پ کی نیت یہ رھی ہو کہ اس وقت میرے ذمہ واجب و سنت جو روزے ہیں میں ان کو ادا کررہا ہوں اور اتفاق سے آ پ کے ذمہ روزوں کی قضا تھی تو یہ روزے ان میں محسوب ہوجائیں گے۔

س۸۳۵۔ اگر قضا روزوں کی تعداد معلوم نہ ہو اور اس فرض کے ساتھ کہ اس کے ذمہ قضا واجب ہے ، مستحبی روزہ رکھے تو کیا یہ روزہ واجب روزوں میں محسوب ہوگا اور اگر اس نے اس نیت سے روزہ رکھا ہو کہ اس کے ذمہ قضا روزہ نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟

ج۔ مستحب کی نیت سے رکھا جانے والا روزہ قضا روزوں میں محسوب نہیں ہوگا۔

س۸۳۶۔ اگر کوئی شخص جاھل مسئلہ ہونے کی بناء پر بہوک و پیاس کے سبب عمداً افطار کرے تو کیا اس پر قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے؟

ج۔ اگر مسئلہ سے لاعلمی و کوتاھی کی وجہ سے ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرے۔

س۸۳۷۔ اگر کوئی شخص ابتدائے بلوغ میں ضعف و ناتوانی کی وجہ سے روزے نہ رکہ سکے تو کیا اس پر صرف قضا واجب ہے یا قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے؟

ج۔ اگر روزہ اس پر حرج و ضرر کا باعث نہ تھا اس کے باوجود اس نے عمداً افطار کیا ہو تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔

س۸۳۸۔ جس کو ترک شدہ روزے اور نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو اور روزوں کے بارے میں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ عذر شرعی سے چہوٹے ہیں یا عمداً ترک ہوئے ہیں تو اس انسان کا فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اس تعداد پر اکتفاء کرنا جائز ہے جس سے یقین پیدا ہوجائے کہ قضا نمازیں اور روزے ادا ہوگئے۔ اور اگر شک ہو کہ عمداً افطار کیا تھا یا نہیں تو کفارہ واجب نہیں ہے۔

س۸۳۹۔ اگر کوئی شخص رمضان میں روزے رکھتا ہو لیکن کسی روز سحر کہنے کے لئے نہ اٹھ پایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغرب تک روزہ کو پورا نہ کرسکا اور دن میں اس کو ایک حادثہ پیش آ گیا اور اس نے افطار کرلیا۔ کیا اس شخص پر قضا و کفارہ دونوں واجب ہیں ؟

ج۔ گر اس نے روزہ رکھا لیکن بعد میں روزہ بہوک پیاس وغیرہ کی وجہ سے مشقت کا سبب بن گیا اور افطار کرلیاتو اس پر صرف قضا واجب ہے کفارہ نہیں ۔

س۸۴۰۔ اگر مجھے شک ہو کہ اپنے قضا روزے ادا کئے ہیں یا نہیں تو میری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟

ج۔ اگر آ پ کو دونوں کی قضا کا یقین تھا تو ان کے ادا کرنے کا یقین پیدا کرنا بھی واجب ہے۔

س۸۴۱۔ اگر کسی شخص نے ابتدائے بلوغ کے سال گیارہ روزے رکھے ایک روزہ ظہر کے وقت توڑ دیا اور اٹہر ہ روزے چھوڑ دئیے اور ان اٹہر ہ روزوں کے بارے میں نہیں جانتا تھا کہ اس پر کفارہ واجب ہوجائے گا تو اب اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

ج۔ اگر رمضان کا روزہ عمداً اور اختیار سے توڑا ہے تو خواہ کفارہ سے آ گاہ ہو یا نہ ہو قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔

س۸۴۲۔ اگر ڈاکٹر کی تجویز یہ ہو کہ روزہ مضر ہے اور مریض نے اس پر اعتبار کرتے ہوئے روزہ نہیں رکھا برسوں کے بعد معلوم ہوا کہ اس طبیب کی تشخیص غلط تھی تو کیا اس پر قضا اور کفارہ واجب ہے؟

ج۔ اگر ماہر و امین ڈاکٹر کے کہنے سے خوف ضرر پیدا ہوجائے یاکوئی معقول وجہ ہو جس کی وجہ سے روزہ ترک کیا ہو تو صرف قضا واجب ہے۔


روزہ کے متفرق احکام

س۸۴۳۔ اگر عورت کو نذر معین کے روزہ کے درمیان خون حیض آ جائے تو اس کے روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔ حیض آ نے سے روزہ باطل ہوجائے گا اور طہر ت کے بعد اس پر قضا واجب ہے۔

س۸۴۴۔ ایک شخص ” دیر “ کی بندرگاہ کا رھنے والا ہے۔ اس نے یکم رمضان سے ستائیسویں رمضان تک روزے رکھے ۔ اٹھائیسویں کی صبح کو دبئی کے لئے روانہ ہوا اور انتیسویں کو وھاں پھنچ گیا۔دبئی میں اس دن عید تھی تو کیا وطن واپس آ نے کے بعد اس پر فوت شدہ روزے کی قضا واجب ہے؟ اب اگر اس نے ایک دن کی قضا کی تو جس دن وہ دبئی پھنچ گیا تھا وھاں عید کا اعلان ہوچکا تھا۔ ایسے شخص کا حکم کیا ہے؟

ج۔ اگر عید کا اعلان ۲۹ ویں رمضان کو شرعی ضابطوں کے مطابق تھا تو اس دن کے روزہ کی قضا واجب نہیں ہے لیکن اس سے یہ واضح ہوجائے گا کہ ابتدائے ماہ کے روزے اس سے چہوٹے ہیں تو اس پر واجب ہے کہ یقینی طور سے چہوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے۔

س۸۴۵۔ اگر روزہ دار نے اپنے شہر میں افطار کیا اور پہر کسی ایسے شہر کا سفر کیا جھاں ابھی سورج غروب نہیں ہوا ہے تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے ۔ کیا یہ شخص اس شہر کے غروب آ فتاب سے قبل اس شہر میں کھاپی سکتا ہے؟

ج۔ روزہ صحیح ہے اور جب اپنے شہر میں غروب آ فتاب کے بعد افطار کرچکا ہے تو جس شہر میں ابھی غروب نہیں ہوا ہے وھاں کھاپی سکتا ہے۔

س۸۴۶۔ ایک شھید نے اپنے دوست کو وصیت کی کہ میری شھادت کے بعد احتیاطاً کچھ روزے میری طرف سے رکہ لینا، شھید کے ورثاء ان باتوں کے پابند نہیں ہیں اور نہ ھی ان کو اس پر آ مادہ کیا جاسکتا ہے جبکہ شھید کے دوست کے لئے روزہ رکھنا سخت ہے کیا اس کا کوئی اور حل ہے؟

ج۔ اگر شھید نے دوست سے وصیت کی تھی تو شھید کے ورثاء سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب اگر دوست پر نیابتاً روزہ رکھنا باعث مشقت ہے تو اس پر سے تکلیف ساقط ہے۔

س۸۴۷۔ میں کثیر الشک بلکہ کثیر الوسواس ہوں۔ فروعی مسائل میں تو بہت زیادہ شکی ہوں۔ فی الحال مجھے شک ہے کہ رمضان میں جو روزے رکھے تھے کہیں ایسا تو نہیں کہ جو گرد و غبار منہ میں گیا تھا اس کو نگل لیا ہو۔ یا جو پانی منہ میں لیا تھا اس کو ٹھیک سے تہوکا تھا یا نہیں ۔ کیا اس شک کے بعد روزہ صحیح ہے؟

ج۔ اس سوال کی روشنی میں روزہ صحیح ہے اور اس طرح کہ شک کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

س۸۴۸۔ کیا حدیث کساء معتبر ہے جس کی روایت حضرت فاطمہ زہر ا سلام اللہ علیھا سے ہے اور روزوں میں اس کی نسبت شھزادی (س) کی طرف دی جاسکتی ہے؟

ج۔ اگر شھزادی علیھاالسلام کی طرف نسبت ” حکایت “ اور ان کتابوں کے ذریعہ ” نقل قول “ ہو جن میں حدیث کساء منقول ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۴۹۔ میں نے بعض علماء اور غیر علماء سے یہ سنا ہے کہ اگر کسی کو مستحبی روزے میں کسی نے دعوت دی تو اس کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے کھاپی لینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا اور ثواب بھی باقی رھتا ہے۔ آ پ کا اس سلسلہ میں کیا نظریہ ہے ؟

ج۔ مومن کی دعوت کو مستحب روزے میں قبول کرنا رجحان شرعی رکھتا ہے اور اس کی دعوت پر کھاپی لینے سے روزہ تو باطل ہوجاتا ہے لیکن روزے کے اجر و ثواب سے محروم نہیں رہے گا۔

س۸۵۰۔ ماہ مبارک کے پھلے روز سے تیسویں روز تک کے لئے مخصوص دعائیں وارد ہوئی ہیں ۔ اگر ان کی صحت میں شک ہو تو ان کے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر یہ دعائیں اس نیت سے پڑھی جائیں کہ وارد ہوئی ہیں اور مطلوب ہیں تو ان کے پڑھنے میں بہر حال کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۵۱۔ ایک شخص روزے رکہنے کے ارادے سے سوگیا لیکن سحر کے وقت کہنے کے لئے بیدار نہ ہوسکا ، جس کے سبب اس میں روزہ رکہنے کی طاقت نہ رھی تو روزہ نہ رکہنے کا عذاب خود اس پر ہے یا اس شخص پر ہے جس نے اس کو بیدار نہیں کیا۔ اور کیا سحر کھائے بغیر اس کا روزہ رکھنا صحیح ہے؟

ج۔ ناتوانی کی وجہ سے روزہ افطار کرلینا اگرچہ سحر نہ کہنے کی وجہ سے ہو گناہ اور معصیت نہیں ہے۔ بہر حال نہ جگانے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے اورسحر کھائے بغیر روزہ رکھنا صحیح ہے۔

س۸۵۲۔ اگر کوئی شخص مسجد الحرام میں اعتکاف کررہا ہو تو تیسرے دن کے روزے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر اعتکاف کرنے والا مسافر ہے اور مکہ مکرمہ میں دس روز اقامت کا ارادہ رکھتھے ۔ یا سفر میں روزہ رکہنے کی نذر کی ہے تو دو روز روزہ رکہنے کے بعد اعتکاف کو پورا کرنے کے لئے تیسرے دن کا روزہ واجب ہے۔ اور اگر دس روز اقامت کی نیت نہیں کی اور نہ سفر میں روزہ رکہنے کی نذر کی تو اس کا سفر میں روزہ رکھنا دوست نہیں ہے اور روزے کی صحت کے بغیر اعتکاف صحیح نہیں ہے۔



رویت ھلال

س ۸۵۳۔ آ پ جانتے ہیں کہ ابتداء ماہ اور آ خر ماہ میں چاند حسب ذیل حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں ہوتا ہے:

۱۔ غروب آ فتاب سے پھلے ( چاند) ھلال ڈوب جاتا ہے۔

۲۔ کبھی چاند اور سورج دونوں ایک ساتھ غروب ہوجاتے ہیں ۔

۳۔ کبھی چاند آ فتاب کے بعد غروب ہوتا ہے۔

مہر بانی کرکے ان چند امور کی وضاحت فرمائیں:

الف ۔ مذکورہ تین حالتوں میں سے وہ کون سی حالت ہے جس کو فقھی نقطہ نظر سے مھینے کی پھلی تاریخ مانا جائے گا۔

ب۔ اگر ھم یہ مان لیں کہ آ ج کے الیکٹرانک دور میں مذکورہ تمام شکلوں کو دنیا کے آ خری نقطے میں دقیق الیکٹرانک نظام کے حساب سے دیکہ لیا جاتا ہے ، تو کیا اس نظام کے تحت ممکن ہے کہ پھلی تاریخ کے پھلے سے طے کرلیا جائے یا آ نکہ سے ھلال کا دیکھنا ضروری ہے؟

ج۔ اول ماہ کا معیار اس چاند پر ہے جو غروب آ فتاب کے بعد غروب ہوتا ہے اور جس کو غروب سے پھلے عام طریقہ سے دیکھا جاسکتا ہو۔

س۸۵۴۔ اگر شوال کا چاند ملک کے کسی شہر میں دکھائی نہیں دیا لیکن ریڈیو اور ٹی وی نے اول ماہ کا اعلان کردیا تو کیا یہ اعلان کافی ہے یا تحقیق ضروری ہے؟

ج۔ اگر رویت ھلال کا یقین ہوجائے یا اعلان رویت ولی فقیھہ کی طرف سے ہو تو پہر تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔

س۸۵۵۔ اگر رمضان کی پھلی تاریخ یا شوال کی پھلی تاریخ کا تعین بادل یا دیگر اسباب کی وجہ سے ممکن نہ ہو اور رمضان و شعبان کے تیس دن پورے نہ ہوئے ہوں تو کیا ایسی صورت میں جبکہ ھم لوگ جاپان میں ہوں، ایران کے افق پر عمل کرسکتے ہیں یا جنتری پر اعتماد کرسکتے ہیں ؟

ج۔ اگر اول ماہ نہ چاند دیکہ کر ثابت ہو، چہے ان قریبی شہر وں کے افق میں سھی جن کا افق ایک ہو، نہ دو شاھد عادل کی گواھی سے اور نہ حکم حاکم سے ثابت ہو تو ایسی صورت میں احتیاط واجب ہے کہ اول ماہ کا یقین حاصل کیا جائے۔ اور چونکہ ایران، جاپان کے مغرب میں واقع ہے اس لئے جاپان میں رھنے والوں کے لئے ایران میں چاند کا ثابت ہوجانا کوئی اعتبار نہیں رکھتا۔

س۸۵۶۔ رویت ھلال کے لئے اتحاد افق کا معتبر ہونا شرط ہے یا نہیں ؟

ج۔ کسی شہر میں چاند کا دیکھا جانا اس کے ھم افق یا نزدیک کے افق والے شہر وں کے لئے کافی ہے اسی طرح مشرق میں واقع شہر وں کی رویت مغرب میں واقع شہر وں کے لئے کافی ہے۔

س۸۵۷۔ اتحاد افق سے کیا مراد ہے؟

ج۔ اس سے وہ شہر مراد ہیں جو ایک طول البلد پر واقع ہوں اور اگر دو شہر ایک طول البلد پر واقع ہوں تو ان کو متحد الافق کھا جاتا ہے ۔ یھاں طول البلد علم ھئیت کی اصطلاح کے اعتبار سے ہے۔

س۸۵۸۔ اگر ۲۹ تاریخ کو خراسان اور تہر ان میں عید ہو تو کیا بو شہر کے رھنے والوں کےلئے بھی افطار کرلینا جائز ہے جبکہ بو شہر اور تہر ان کے افق میں فرق ہے؟

ج۔ اگر دونوں شہر وں کے درمیان اختلاف افق اتنا ہو کہ اگر ایک شہر میں چاند دیکھا جائے تو دوسرے شہر میں دکھائی نہ دے توایسی صورت میں مغربی شہر وں کی رویت مشرقی شہر وں کے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ مشرقی شہر وں میں سورج مغربی شہر وں سے پھلے غروب ہوتا ہے۔ لیکن اس کے برخلاف اگر مشرقی شہر وں میں چاند دکھائی دے تو رویت ثابت و محقق مانی جائے گی۔

س۸۵۹۔ اگر ایک شہر کے علماء کے درمیان رویت ھلال کے ثابت ہونے میں اختلاف ہوگیا ہو یعنی بعض کے نزدیک ثابت ہو اور بعض کے نزدیک ثابت نہ ہو اور مکلف کی نظر میں دونوں گروہ کے علماء عادل اور قابل اعتماد ہوں تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اگر اختلاف شھادتوں کی وجہ سے ہے یعنی بعض کے نزدیک چاند کا ہونا ثابت ہو اور بعض کے نزدیک چاند کا نہ ہونا ثابت ہو، ایسی صورت میں چونکہ دونوں شھادتیں ایک دوسرے سے متعارض ہیں لھذا قابل عمل نہیں ہوں گی۔ اس لئے مکلف پر واجب ہے کہ اصول کے مطابق عمل کرے۔ لیکن اگر اختلاف خود رویت ھلال میں ہو یعنی بعض کہیں کہ چاند دیکھا ہے اور بعض کہیں کہ چاند نہیں دیکھا ہے۔ تو اگر رویت کے مدعی دو عادل ہوں تو مکلف کے لئے ان کا قول دلیل اور حجت شرعی ہے اور اس پر واجب ہے کہ ان کی پیروی کرے اسی طرح اگر حاکم شرع نے ثبوت ھلال کا حکم دیا ہو تو اس کا حکم بھی تمام مکلفین کے لئے شرعی حجت ہے اور ان پر واجب ہے کہ اس کا اتباع کریں۔

س۸۶۰۔ اگر ایک شخص نے چاند دیکھا اوراس کو علم ہو کہ اس شہر کا حکم شرعی بعض وجوہ کی بنا پر رویت سے آ گاہ نہیں ہوپائے گا تو کیا اس شخص پر لازم ہے کہ حاکم کو رویت کی خبر دے؟

ج۔ خبر دینا واجب نہیں ہے بشرطیکہ نہ بتانے پر کوئی فساد نہ برپا ہو۔

س۸۶۱۔ زیادہ تر فقھا افاضل کی توضیح المسائل میں ماہ شوال کی پھلی تاریخ کے اثبات کے لئے پانچ طریقے بتائے گئے ہیں مگر حاکم شرع کے نزدیک ثابت ہونے کا اس میں ذکر نہیں ہے۔ اگر ایسا ھی ہے تو پہر اکثر مومنین مراجع عظام کے نزدیک ماہ شوال کا چاند ثابت ہونے پر کیونکر افطار کرتے ہیں ۔ اور اس شخص کی تکلیف کیا ہے جس کو اس طریقے سے رویت کے ثابت ہونے پر اطمینان نہ ہو؟

ج۔ جب تک حاکم ثبوت ھلال کا حکم نہ دے اتباع واجب نہیں ہے پس تنھا اس کے نزدیک چاند کا ثابت ہونا دوسروں کے اتباع کے لئے کافی نہیں ہے لیکن حکم نہ دینے کے باوجود اگر ثبوت ھلال پر اطمینان حاصل ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۶۲۔ اگر ولی امر مسلمین یہ حکم فرمائیں کہ کل عید ہے اور ریڈیو اور ٹی وی پربھی اعلان کریں کہ فلاں فلاں شہر میں چاند دیکھا گیا ہے تو کیا تمام شہر وں کے لئے عید ثابت ہوجائے گی یا صرف ان شہر وں کے لئے ہوگی جو افق میں متحد ہیں ؟

ج۔ اگر حکم حاکم تمام شہر وں کے لئے ہے تو اس کا حکم اس ملک کے تمام شہر وں کے لئے معتبر ہے۔

س ۸۶۳ ۔ آیا چاند کے چہوٹا ، باریک اور اس میں شب اول کے دوسرے صفات اس کی دلیل ہیں کہ پھلی (چاند رات ) کا چاند ہے یعنی گزرا دن پھلی نہیں بلکہ ماہ گذشتہ کی تیسویں تہیں اگر کسی کے لئے عید ثابت ہوچکی ہو اور اس طرح یقین کرلے کہ گزشتہ روز عید نہیں بلکہ تیسویں رمضان المبارک تھی ، آیا اس دن کے روزے کی قضا کرے گا ؟

ج۔ چاند کا چہوٹا ہونا، نیچے ہونا، بڑا ہونا، بلند ہونا یا چوڑا یا باریک ہونا گذشتہ شب یا دوسری رات کے چاند ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ لیکن اگر مکلف کو ان علائم سے علم و یقین حاصل ہوجائے تو اس وقت اپنے علم کی روشنی میں عمل کرنا واجب ہے۔

س۸۶۴۔ کیا چودہویں کے چاند کو اول ماہ کی تعیین میں قرینہ قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ چودہویں کی شب میں چاند کامل ہوجاتا ہے اور اس طرح یوم شک کی تعیین ہوجائے گی کہ وہ تیسویں رمضان ہے تاکہ جس نے اس دن روزہ نہیں رکھا ہے اس پر حجت شرعی ہو کہ اس پر قضا واجب ہے اور جس نے اس دن رمضان سمجہ کر روزہ رکھا ہے وہ بری الذمہ ہے؟

ج۔ مذکورہ چیزیں کسی کے لئے حجت شرعی نہیں ہیں لیکن اگر مکلف کو ان سے علم حاصل ہو تو ایسی صورت میں وہ اپنے علم و یقین کے مطابق علم کرسکتا ہے۔

س۸۶۵۔ کیا چاند کا دیکھنا واجب کفائی ہے یا احتیاط واجب ہے؟

ج۔ چاند کا دیکھنا بذات خود واجب شرعی نہیں ہے۔

س۸۶۶۔ ماہ رمضان کی پھلی اور آ خری تاریخ چاند دیکہنے سے طے ہوگی یا جنتری سے؟ جبکہ ماہ رمضان کے تیس دن پورے نہ ہوئے ہوں؟

ج۔ پھلی اور آ خری تاریخ درج ذیل طریقوں سے ثابت ہوگی:

خود چاند دیکہے ، دو عادل گواھی دیں، اتنی شہر ت ہو جس سے یقین حاصل ہوجائے، تیس دن گذر جائیں یا حاکم شرع حکم صادر فرمائے۔

س۸۶۷۔ اگر کسی بھی حکومت کے اعلان رویت کو تسلیم کرنا جائز ہے اور وہ اعلان دوسرے شہر وں کے ثبوت ھلال کے لئے علمی معیار ہے تو کیا اس حکومت کا اسلامی ہونا شرط اور ضروری ہے یا حکومت ظالم و فاجر کا اعلان بھی ثبوت ھلال کے لئے کافی ہوگا؟

ج۔ اس میں اصل اور قاعدہ کلی یہ ہے کہ مکلف جس علاقے میں رھتا ہو اس میں ثبوت ھلال کا اطمینان پید ہوجائے تو اول ماہ ثابت ہوجائے گا۔

کتابِ صوم



روزہ کے وجوب اور صحت کے شرائط

س۷۴۷۔ اگر کوئی لڑکی سن بلوغ تک پہنچنے کے بعد جسمانی اعتبار سے کمزور ہونے کی وجہ سے ماہ رمضان کے روزے نہ رکہ سکتی ہو اور نہ آ نے والے رمضان تک ان کی قضا کی طاقت رکھتی ہو تو اس کے روزوں کا کیا حکم ہے؟

ج۔ صرف کمزوری و ناتوانی کے سبب روزہ اور اس کی قضا سے معذوری قضا کو ساقط نہیں کرتی بلکہ اس پر ماہ رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہے۔

س۷۴۸۔ اگر نوبالغ لڑکیوں پر روزہ حد سے زیادہ شاق ہو تو ان کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ اور کیا لڑکیوں کے لئے بلوغ نو سال ہے؟

ج۔ مشہور یہ ہے کہ قمری نو سال پورے ہونے کے بعد لڑکیاں بالغ ہوجاتی ہیں ، اس وقت ان پر روزہ رکھنا واجب ہے اور کسی عذر کی وجہ سے ان کے لئے روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر روزہ دن کے دوران نہیں ضرر پہنچائے یا عسرو حرج کا سبب ہو تو اس وقت ان کے لئے افطار کرنا جائز ہے۔

س۷۴۹۔ میں قطعی طور سے نہیں جانتا کہ کب بالغ ہوا ہوں لھذا یہ بتائیے کہ مجہ پر کب سے نماز و روزوں کی قضا واجب ہے اور کیا مجہ پر روزوں کی قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے جبکہ میں مسئلہ سے واقف نہیں تھا؟

ج۔ جب سے آ پ کو بلوغ کا یقین ہوا ہے اسی وقت سے آ پ پر نما زاور روزوں کی قضا واجب ہوگی لیکن ان روزوں کی قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے جن کے بارے میں آ پ کو یقین ہے کہ یہ روزے آ پ نے جان بوجہ کر اس وقت چھوڑے جب بالغ ہوچکے تھے ۔

س۷۵۰۔ اگر نو سالہ لڑکی روزہ شاق ہونے کی وجہ سے توڑ دے تو کیا اس کی قضا واجب ہے؟

ج۔ ماہ رمضان کے جو روزے اس نے توڑے ہیں ان کی قضا واجب ہے۔

س۷۵۱۔ اگر کوئی شخص پچاس فیصد سے زیادہ احتمال اور معقول عذر کی بنا پر یہ خیال کرے کہ اس پر روزہ واجب نہیں ہے اور روزہ نہ رکھے کہ اس پر روزے واجب نہیں ہیں لیکن بعد میں اس کو معلوم ہو کہ اس پر روزہ واجب تھا ایسی صورت میں قضا اور کفارہ کے اعتبار سے اس کا کیا حکم ہے ؟

ج۔اگر صرف اسی احتمال کی بنا پر کہ اس پر روزہ واجب نہیں ہے اس نے ماہ مبارک رمضان کا روزہ توڑدیا ہو تو مذکورہ سوال کی روشنی میں اس پر قضا و کفارہ دونوں واجب ہیں ۔ لیکن اگر اس نے نقصان کے خوف سے روزے نہ رکھے ہوں اور اس خوف کی کوئی عقلائی وجہ بھی ہو تو اس صورت میں قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں ہے۔

س۷۵۲۔ ایک شخص فوج میں ملاز م ہے اور سفر اور ڈیوٹی پر رھنے کی وجہ سے پچھلے سال روزے نہیں رکہ سکا۔ دوسرا رمضان بھی شروع ہوچکا ہے اور وہ ابھی تک اسی علاقہ ھی میں ہے اور احتمال ہے کہ اس سال بھی روزے نہیں رکہ سکے گا تو جب اس نے فوجی خدمت سے فارغ ہونے کے بعد ان دو ماہ کے روزے رکہنے کا ارادہ کرلیا ہے، کیا اس پر روزوں کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے؟

ج۔ اگر سفر کی وجہ سے روزے ترک ہوئے ہوں اور یہ عذر دوسرے رمضان تک باقی ہو تو ( اس صورت میں ) صرف قضا واجب ہے۔ اس کے ساتھ فدیہ دینا واجب نہیں ہے۔

س۷۵۳۔ اگر روزہ دار اذان ظہر سے قبل تک متوجہ نہ ہو کہ مجنب ہوا ہے پہر اس کے بعد جب متوجہ ہو تو غسل ارتماسی کر ڈالے تو کیا اس سے اس کا روزہ باطل ہوجائے گا؟ اور اگر غسل ارتماسی کے بعد متوجہ ہو کہ وہ روزے سے تھا تو کیا اس پر روزے کی قضا واجب ہے؟

ج۔ اگر روزے سے غفلت و فراموشی کی بنا پر غسل ارتماسی کرلی ہو تو اس کا روزہ اور غسل صحیح ہے اور اس پر روزہ کی قضا واجب نہیں ہے۔

س۷۵۴۔ اگر روزہ دار کا یہ ارادہ ہو کہ زوال سے قبل محل اقامت تک پھنچ جائے گا لیکن کسی عذر کی وجہ سے نہ پھنچ سکا تو کیا اس کے روزے میں اشکال ہے؟ اور کیا اس پر کفارہ بھی واجب ہے یا صرف اس دن کے روزہ کی قضا کرے گا؟

ج۔ سفر میں اس کا روزہ صحیح نہیں ہے اور جس دن وہ زوال سے پھلے قیام گاہ تک نہیں پھنچ سکا تھا صرف اس دن کے روزہ کی قضا کرے گا، کفارہ واجب نہیں ہے۔

س۷۵۵۔ سطح زمین سے کافی بلندی پر ڈھائی تین گھنٹے کی پرواز کرنے والے پائیلٹ اور جھاز کے میزبانوں کو جسمی توانائی برقرار رکہنے کے لئے ہر بیس منٹ پر پانی پینے کی ضرورت ہے تو کیا ایسی صورت میں قضا و کفارہ دونوں لازم ہیں ۔

ج۔ اگر روزہ مضر ہو تو پانی پی کر افطار کرسکتا ہے لیکن بعد میں صرف قضا کرے گا ایسی حالت میں کفارہ واجب نہیں ہے۔

س۷۵۶۔ اگر غروب آ فتاب سے گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ قبل روزہ دار عورت حائضہ ہوجائے تو کیا اس کا روزہ باطل ہوگا؟

ج۔ باطل ہوجائے گا۔

س۷۵۷۔ اگر غوطہ خوری کے مخصوص لباس کو پھن کر کوئی شخص پانی میں جائے جس سے اس کا جسم تر نہ ہو تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر لباس سر سے چسپیدہ ہو تو اس کے روزہ کا صحیح ہونا مشکل ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ قضا کرے۔

س۷۵۸۔ کیا روزہ کی زحمت سے فرار کی خاطر عمداً سفر کرنا جائز ہے؟

ج۔ کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ چہے اگر روزہ سے بچنے کے لئے ھی سفر پر نکلے اس پر افطار کرنا واجب ہے۔

س۷۵۹۔ اگر کسی شخص کے ذمہ روزہ واجب ہو اور اس نے روزہ رکہنے کا ارادہ کیا ہو لیکن کوئی ایسا عذر پیش آ جائے جو روزہ رکہنے میں مانع ہو مثلاً طلوع آ فتاب کے بعد درپیش سفر کی وجہ سے روزہ نہ رکہ سکا اور ظہر کے بعد گہر واپس ہوا اور راستہ میں کسی روزہ شکن چیز کا استعمال نہیں کیا تھا مگر واجب روزہ کی نیت کا وقت گذر چکا تھا اور یہ دن ایام میں سے تھا جس میں روزہ رکھنا مستحب ہے توکیا یہ شخص مستحب روزہ کی نیت کرسکتا ہے؟

ج۔ جب تک ماہ رمضان کے روزوں کی قضا اس پر واجب ہو سنتی روزہ کی نیت صحیح نہیں ہوگی خواہ واجب روزہ کی نیت کا وقت گذر ھی کیوں نہ چکا ہو۔

س۷۶۰۔ میں سگریٹ نوشی کا بہت عادی ہوں اور رمضان مبارک میں ہرچند کوشش کرتا ہوں کہ مزاج میں تندی نہ آ جائے مگر پیدا ہوجاتی ہے جس کے سبب بیوی بچوں کے لئے باعث اذیت ہوجاتا ہوں اور میں خود بھی اپنی اس تند مزاجی سے رنجیدہ ہوں ۔ ایسی صورت میں میری شرعی تکلیف کیا ہے؟

ج۔ آ پ پر ماہ رمضان کے روزے واجب ہیں اور روزہ کی حالت میں سگریٹ نوشی جائز نہیں ہے۔ بلا عذر دوسروں سے تند خوی بھی جائز نہیں ہے اور سگریٹ ترک کرنے کا غصہ سے کوئی ربط نہیں ہے۔


حاملہ اور دودہ پلانے والی عورت کے احکام

س۷۶۱۔ کیا حمل کے ابتدائی مہینوں میں عورت پر روزے واجب ہیں ؟

ج۔ صرف حمل روزہ کے واجب ہونے میں مانع نہیں ہوتا لیکن اگر روزہ رکہنے میں ماں یا باپ کے لئے ضرر کا خوف ہو اور اس خوف کی وجہ عقلائی ہو تو پہر روزہ واجب نہیں ہے۔

س۷۶۲۔ اگر حاملہ عورت یہ نہ جانتی ہو کہ اس کا روزہ بچہ کے لئے نقصان دہ نہیں تو کیا اس پر روزہ واجب ہے؟

ج۔ اگر اس کے روزہ سے بچے کو نقصان پہنچنے کا ڈر ہو اور اس ڈر کی معقول وجہ ہو تو روزہ ترک کرنا واجب ہے ورنہ اس پر روزہ رکھنا واجب ہے۔

س۷۶۳۔ اگر کسی عورت نے زمانہ حمل میں بچوں کو دودہ بھی پلایا اور روزے بھی رکھےلیکن جو بچہ پیدا ہوا وہ مردہ تھا اب اگر ضرر کا احتمال پھلے سے تھا اس کے باوجود اس نے روزے رکھے تو ایسی صورت میں:

الف۔ ماں کے روزے صحیح ہوں گے یا نہیں ؟

ب۔ ماں پر بچہ کی دیت واجب ہے یا نہیں ؟

ج۔ اور اگر پھلے ضرر کا احتمال نہیں تھا لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ نقصان روزوں ھی سے پھنچا ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر ضرر کا خوف رہا ہو اور خوف کا سبب بھی عقلائی ہو اس کے باوجود روزے رکھے یا بعد میں ثابت ہو کہ روزے بچہ یا حاملہ عورت کے لئے نقصان دہ تھے توروزے باطل ہیں اور ان کی قضا واجب ہے۔ لیکن دیت اس وقت عائد ہوگی جب یہ ثابت ہوجائے کہ بچہ کی موت روزے ھی سے ہوئی ہو۔

س۷۶۴۔ خالق نے مجھے بچہ عطا فرمایا ہے جسے میں دودہ پلا رھی ہوں اور ماہ رمضان انشاء اللہ آ نے والا ہے۔ رمضان میں روزہ بھی رکہ سکتی ہوں لیکن روزوں کی وجہ سے دودہ خشک ہوجائے گا۔ یہ واضح رہے کہ میں جسمانی اعتبار سے کمزور ہوں اور ہر دس منٹ کے وقفہ سے بچہ کو دودہ پلانے کی ضرورت ہے ایسے میں میرا شرعی فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اگر روزوں کی وجہ سے دودہ خشک ہوجائے یا کم ہوجائے اور اس سے بچہ کو خطرہ درپیش ہو تو ایسی صورت میں روزہ ترک کرنا جائز ہے لیکن ہر روزے کے عوض تین پاوٴ ( ۷۵۰ گرام) فدیہ فقیر کو دینا ہوگا اور عذر برطرف ہوجانے پر روزوں کی قضا کرنا پڑے گی۔



بیماری اور ڈاکٹر کی طر ف سے ممانعت

س۷۶۵۔ بعض غیر متدین ڈاکٹر خوف ضرر کی دلیل سے مریض کو روزہ سے روکتے ہیں ایسے ڈاکٹروں کا قول حجت ہے یا نہیں ؟

ج۔ اگر ڈاکٹر متدین نہیں ہے اور مریض کو اس کے قول پر اطمینان بھی نہیں ہے اور نہ ھی روزوں سے ضرر کا خوف ہے تو ایسی صورت میں اس کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔

س۷۶۶۔ میری والدہ تقریباً ۱۳ سال بیمار رہیں لھذا روزے رکہنے سے محروم رہیں اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ اس فریضہ سے ان کی محرومیت کی وجہ یہ تھی کہ دن میں ان کے لئے دوا کا استعمال ضروری تھا ، اب برائے مہر بانی یہ فرمائیں کہ کیا ان پر روزوں کی قضا واجب ہے؟

ج۔ اگر وہ مرض کی وجہ سے روزے رکہنے پر قادر نہیں تہیں تو پہر قضا نہیں ہے۔

س۷۶۷۔ میں نے آ غاز بلوغ سے بارہ سال کی مدت تک اپنی جسمانی کمزوریوں کی وجہ سے روزے نہیں رکھے ، اس وقت میرا فریضہ کیا ہے؟

ج۔ بلوغ کے بعد جتنے روزے ترک ہوئے ہیں ان کی قضا واجب ہے اور اگر عمداً و اختیاراً اور کسی شرعی عذر کے بغیر ترک کئے ہیں تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔

س۷۶۸۔ آ نکہوں کے ڈاکٹر نے مجھے روزے رکہنے سے منع کیا اور کھا کہ تمہاری آ نکھ میں جو مرض ہے ، اس کی وجہ سے تمہارے لئے روزہ رکھنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے لیکن میرا دل نہیں مانا اور میں نے روزے شروع کردئیے جس کی وجہ سے مجھے مشکلیں پیش آ ئیں۔ کسی دن تو افطار تک مجھے کسی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ اور کسی دن عصر کے وقت تکلیف شروع ہوجاتی تھی اور میں اس شک و تردید کی حالت میں کہ روزہ توڑ دوں یا رکہوں ، روزہ پورا کرتاتھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا مجھ پر روزہ رکھنا واجب ہے؟ اور جن ایام میں روزہ رکھتا تھا لیکن نہیں جانتا تھا کہ مغرب تک روزہ رکہ پاوٴں گا کیا ان میں مجھے روزے کی حالت میں باقی رھنا چاھئیے ؟ اور یہ کہ میری نیت کیا ہونی چاھئیے؟

ج۔ اگر متدین اور امین ڈاکٹر کے کہنے پر آ پ کو اطمینان حاصل ہوگیا کہ روزہ آ پ کے لئے باعث ضرر ہے یا روزے سے آ پ کی آ نکھوں کو خطرہ ہے تو ایسی صورت میں روزہ واجب نہیں ہے۔ بلکہ روزہ رکھنا جائز ھی نہیں ہے اور ضرر کے خوف کے ساتھ روزہ کی نیت کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ اور اگر خوف ضرر نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن آ پ کا روزہ اسی وقت صحیح ہوگا جب واقعی ضرر نہ پایا جاتا ہو۔

س۷۶۹۔ میری آ نکہوں کی بینائی بہت کمزور ہے۔ اور میں بڑے نمبر والی عینک استعمال کرتا ہوں میرے ڈاکٹر کا کھنا ہے کہ اگر آ نکھوں کی تقویت کا خیال نہ کیا تو بینائی مزید کم ہوجائے گی۔ ایسی صورت میں اگر ماہ رمضان کے روزے نہ رکہ سکوں تو میرا فریضہ کیا ہوگا؟

ج۔ اگر روزہ آ نکھوں کے لئے مضر ہے تو واجب نہیں ہے بلکہ روزہ نہ رکھنا آ پ پر واجب ہے اور اگر یہ عذر اگلے رمضان المبارک تک باقی رہے تو ہر روزے کے بدلے ایک مد طعام فقیر کو دیا جائے گا۔

س۷۷۰۔ میری والدہ ایک شدید مرض میں مبتلا ہیں اور والد صاحب بھی بہت کمزور ہیں لیکن اس کے باوجود روزے رکھتے ہیں ۔ اکثر اوقات معلوم ہوتھے کہ روزہ ان کے مرض میں اضافہ کا باعث ہورہا ہے ۔ میں بار بار سمجھتا رہا ہوں کہ بیماری میں روزہ ساقط ہے لیکن والدین مطمئن نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں آ پ میری راھنمائی فرمائیں؟

ج۔اگر یہ علم ہو کہ روزہ نقصان دہ ہے اس کے باوجود روزہ رکھا جائے تو حرام ہے لیکن روزہ کس وقت باعث مرض ہوگا، کب مرض میں اضافہ کا سبب بنے گا اور کب رکہنے کی طاقت و قوت نہیں ہے۔ ان سارے امور کی تعیین و تشخیص خود روزہ دار پر منحصر ہے۔

س۷۷۱۔ گزشتہ سال میں نے اپنے گردوں کا آ پریشن اس کے مہر ڈاکٹر سے کرایا اس کی تجویز یہ تھی کہ میں کبھی بھی روزے نہ رکہوں فی الحال میں معمول کے مطابق کھاتا پیتا ہوں اور کسی قسم کا احساس مرض اپنے میں نہیں پاتا اس وقت میرا شرعی فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اگر آ پ اپنے تئیں روزہ رکہنے میں خوف ضرر نہیں محسوس کرتے اور ترک صوم کے لئے کوئی عذر شرعی بھی نہیں پاتے تو آ پ پر رمضان کا روزہ واجب ہے۔

س۷۷۲۔ اگرمسائل شرعیہ سے ناواقف ڈاکٹر روزہ نہ رکہنے کا حکم دیتے ہیں تو کیا ان کی تجویز پر عمل کیا جاسکتا ہے؟

ج۔ اگرمریض کو ڈاکٹر کے قول و تجویز کی بناء پر یا اس کے خبر دینے یا کسی اور معقول ذریعہ سے اطمینان پیدا ہوجائے کہ روزہ اس کے لئے مضر ہے تو اس پر روزہ واجب نہیں ہے۔

س۷۷۳۔ میرے گردوں میں پتہر ی ہے۔ اس سے چھٹکارے کا واحد راستہ یہ ہے کہ میں مسلسل رقیق چیزیں استعمال کرتا رہوں ڈاکٹروں کا عقیدہ ہے کہ روزہ رکھنا میرے لئے جائز نہیں ہے۔ پس ماہ رمضان کے روزوں کے سلسلہ میں میرا کیا فریضہ ہے؟

ج۔ اگر دن میں پانی یا اس جیسی چیز کے استعمال سے ھی پتہر ی سے چھٹکارا مل سکتا ہے تو ایسی صورت میں آ پ پر روزہ واجب نہیں ہے۔

س۷۷۴۔ چونکہ شوگر کے مریض مجبور ہوتے ہیں کہ روزانہ دو ایک مرتبہ انسولین کا انجیکشن کریں۔ ( اس حالت میں) دیر سے کھانا کہنے یا کہنے میں زیادہ فاصلہ خون میں شکر کی مقدار کم ہونے کی باعث ہوتی ہے اور اس طرح بے ہوشی اور تشنج کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے بسا اوقات ڈاکٹر ایسے مریض کو دن میں چار بار کھانا کہنے کی تاکید کرتے ہیں ۔ ایسے افراد کے روزے کے سلسلے میں آ پ کی کیا رائے ہے؟

ج۔ اگر صبح صادق سے غروب آ فتاب تک کہنے پینے سے پرھیز ان کے لئے ضرر کا باعث ہو تو ان پر روزہ واجب نہیں بلکہ جائز نہیں ہے۔


وہ امور جن سے امساک واجب ہے

س۷۷۵۔ اگر روزہ دار کے منہ سے خون خارج ہو تو کیا اس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟

ج۔ روزہ باطل تو نہیں ہوتا لیکن خون کو گلے تک نہیں پھنچنا چاھئیے۔

س۷۷۶۔ کیا حالت روزہ میں نسوار لی جاسکتی ہے؟

ج۔ اگر ناک کے راستے حلق تک جانے کا اندیشہ ہو تو روزہ دار کے لئے اس کا لینا جائز نہیں ہے۔

س۷۷۷۔ نسوار جو تمباکو سے بنائی جاتی ہے اور جس کو کچھ دیر زبان کے نیچے رکہنے کے بعد تہوک دیا جاتا ہے۔ کیا اس کا استعمال روزہ کو باطل کردیتا ہے؟

ج۔ اگر لعاب دھن سے مخلوط ہو کر حلق سے نیچے اتر جائے تو روزہ باطل ہے۔

س۷۷۸۔ جو افراد تنفس کے شدید مریض ہیں ان کے لئے ایک طبی اسپرے ہے۔ جسے دھن میں چھڑکاجاتا ہے ، حلق کے ذریعہ دوا مریض کے پھیپھڑوں تک منتقل ہوتی ہے جس سے سانس لینے میں آ سانی ہوجاتی ہے۔ بسا اوقات تو مریض کو دن میں کئی کئی بار اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے بغیر اس کے یا تو وہ روزہ رکہ نہیں سکتا یا اس کے لئے بہت سخت ہوگا۔ کیا مریض کے لئے ان اسپرے کے ساتھ روزہ جائز ہے؟

ج۔ اگر اسپرے کے ذریعہ جس مادہ کو پھیپھڑوں تک پھنچایا ہے ، صرف ہوا ہے تو اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا لیکن اگر اس میں دوا ملی ہوئی ہے خواہ غبار و سفوف ھی کی شکل میں کیوں نہ ہو اور اگر وہ حلق میں داخل ہوجائے تو ایسی صورت میں روزہ کا صحیح ہونا مشکل ہے۔ اس سے اجتناب واجب ہے۔ لیکن اگر اس کے بغیر روزہ رکھنا مشقت و زحمت کا باعث ہو تو پہر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

س۷۷۹۔ بسا اوقات میرے لعاب دھن میں مسوڑہوں کا خون مل جاتا ہے لھذا جو لعاب میرے پیٹ میں جتھے اس کے بارے میں مجھے نہیں معلوم کہ اس میں خون بھی ملا ہے یا نہیں ۔ اس حالت میں میرے روزوں کا کیا حکم ہے۔ اور یہ مشکل کیسے حل ہوسکتی ہے؟

ج۔ مسوڑہوں کا خون اگر لعاب دھن سے مل کر مستھلک و نابود ہوجائے توپاک ہے اس کے نگلنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اور اگر شک ہو کہ لعاب خون آ لود ہوا ہے یا نہیں تو اسے نگلا جاسکتا ہے اور اس سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

س۷۸۰۔ میں نے رمضان کے ایام میں ایک دن اپنے دانتوں کو برش نہیں کیا۔ دانتوں میں پھنسی ہوئی غذا میں نے جان بوجہ کر نہیں نگلی وہ خود بخود اندر چلی گئی کیا مجھے اس روزہ کی قضا کرنی پڑے گی؟

ج۔ اگر آ پ کو یہ علم نہیں تھا کہ غذا دانتوں میں پھنسی رہ گئی ہے یا یہ یقین نہیں تھا کہ غذا اندر چلی جائے گی۔ اگر توجہ و اختیار کے بغیر وہ اندر چلی جائے تو آ پ کا روزہ صحیح ہے۔

س۷۸۱۔ اگر روزہ دار کے مسوڑہے سے کافی مقدار میں خون خارج ہو تو کیا اس کا روزہ باطل ہوجائے گا اور کیا وہ کسی برتن سے اپنے سر پر پانی ڈال سکتھے ؟

ج۔ جب تک خون نگلا نہ جائے روزہ باطل نہیں ہوتا، اسی طرح برتن وغیرہ سے سر پر پانی ڈالنے سے بھی اس کے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

س۷۸۲۔ بعض نسوانی امراض کے علاج کے لئے کچھ اینما جیسی خاص دوائیں ہیں جن کو شرم گاہ سے داخل کرتے ہیں ، کیا اس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے؟

ج۔ ان دواوٴں کے استعمال سے روزہ باطل نہیں ہوتا۔

س۷۸۳۔ روزے کی حالت میں درد کو روکنے کے لئے دانتوں کے ڈاکٹر جو انجکشن لگاتے ہیں اور اسی طرح دوسرے انجیکشن جو مریض روزہ داروں کو لگائے جاتے ہیں ، ان کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر انجیکشن قوت کے لئے نہیں ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اگر قوت کا ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں اس سے پرھیز کیا جائے۔

س۷۸۴۔ آ ج کل رگوں کے ذریعہ طاقت کی دوائیں جسم میں منتقل کی جاتی ہیں ، کیا یہ روزہ کو باطل کردیتی ہیں ؟

ج۔ روز کی حالت میں رگوں کے ذریعہ دواوٴں کا اندر تک منتقل کیا جانا محل اشکال ہے۔ لھذا اس سے اجتناب کی احتیاط کو ترک نہ کیا جائے۔

س۷۸۵۔ کیا بلڈ پریشر کے مریض روزہ کی حالت میں ٹیبلیٹ کا استعمال کرسکتے ہیں ؟

ج۔ اگر ٹیبلیٹ کا استعمال ضروری ہے تو کھائی جاسکتی ہے لیکن روزہ باطل ہوجائے گا۔

س۷۸۶۔ عرف عام میں علاج کے لئے ٹیبلیٹ کے استعمال پر کھانا پینا نہیں کھا جاتا ، کیا اس بنیاد پر حالت صوم میں ٹیبلیٹ کا استعمال کیا جاسکتا ہے؟

ج۔ اگر شیاف یعنی شرمگاہ کے ذریعہ ٹیبلیٹ چڑھائی جائے تو روزہ صحیح رہے گا لیکن نگلنے کی صورت میں روزہ باطل ہوجائے گا۔

س۷۸۷۔ ماہ رمضان میں میری زوجہ نے مجھے جماع پر مجبور کیا ، اب ہمارے لئے شرعی حکم کیا ہے؟

ج۔ آ پ دونوں پر عمداً روزہ توڑنے کا حکم عائد ہوتا ہے لہذا آ پ پر قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔

س۷۸۸۔ کیا روزہ کی حالت میں اپنی زوجہ سے خوش فعلی کی جاسکتی ہے؟

ج۔ اگر منی خارج ہونے کا سبب نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ورنہ جائز نہیں ہے۔




حالت جنابت پر باقی رہنا

س۷۸۹۔ اگر کوئی شخص بعض زحمتوں کی وجہ سے صبح کی اذان تک غسل جنابت نہ کرسکے تو کیا اس کا روزہ صحیح رہے گا؟

ج۔ رمضان کے علاوہ کسی اور روزے یا اس کی قضا میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن رمضان کے روزے یا اس کی قضا کے لئے اگر صبح کی اذان تک کسی عذر کی وجہ سے غسل جنابت نہ کرسکے تو اذان سے قبل تیمم واجب ہے، اور اگر تیمم بھی نہیں کیا تو روزہ صحیح نہیں ہے۔

س۷۹۰۔ اگو کوئی شخص نہ جانتا ہو کہ جنابت سے پاک ہونا روزے کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے اور اسی حالت میں چند روزے بھی رکہ ڈالے تو کیا صرف ان کی قضا واجب ہے یا کفارہ بھی ؟

ج۔ اگر جنابت کی طرف متوجہ تھا لیکن خود پر غسل یا تیمم کے واجب ہونے کو نہیں جانتا تھا تو بنابر احتیاط قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔ مگر یہ کہ اس کی جھالت کا سبب اس کی اپنی کوتاھی ھی رھی ہو تو اس صورت میں ظہر اً کفارہ واجب نہیں ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ بھی ادا کرے۔

س۷۹۱۔ اگر مجنب قضا یا مستحبی روزہ رکھنا چاھتا ہو تو کیا اس کے لئے طلوع آ فتاب کے بعد غسل جنابت جائز ہے؟

ج۔ اگر عمداً غسل جنابت نہیں کیا اور صبح ہوگئی تو رمضان کا روزہ اور اس کی قضا صحیح نہیں ہے۔ لیکن ان دونوں کے علاوہ اگر کوئی روزہ نہ ، خاص کر مستحبی روزہ تو اقویٰ یہ ہے کہ وہ صحیح ہے۔

س۷۹۲۔ ایک مرد مومن نے مجہ سے بتایا کھ، اس نے رمضان سے دس روز پھلے شادی کی تھی اوراس نے یہ سنا تھا کہ ماہ رمضان میں اذان صبح کے بعد مجنب ہونے والا اگر قبل از اذان ظہر غسل کرلے تو اس کا روزہ صحیح رہے گا۔ اس کا خیال تھا کہ یقینی طور پر حکم یھی ہے۔ لھذا اس خیال کے تحت وہ بعد از اذان صبح اپنی زوجہ سے جماع کرتا تھا بعد میں اس پر واضح ہوا کہ وہ مسئلہ غلط تھا ۔ اب اس کی ذمہ داری کیا ہے؟

ج۔ اذان صبح کے بعد عمداً مجنب ہونے والے کا حکم وھی ہے جو عمداً افطار کرنے والے کا ہے۔ اس پر قضا و کفارہ دونوں واجب ہیں ۔

س۷۹۳۔ ایک مرد مومن ماہ رمضان میں ایک صاحب کے یھاں مھمان ہوئے آ دھی رات کو محتلم ہوگئے ۔ ان کے پاس مھمان ہونے کی وجہ سے زائد لباس نہیں تھا لھذا روزے سے بچنے کے لئے سفر کا ارادہ کرلیا اور اذان صبح کے بعد کچھ کھائے پئے بغیر سفر پر نکل پڑے اب سوال یہ ہے کہ قصد سفر اس شخص کو کفارہ سے بچاسکتا ہے یا نہیں ؟

ج۔ جب اس کو معلوم تھا کہ مجنب ہے اور اذان صبح سے قبل غسل یا تیمم نہیں کیا تو پہر نہ رات میں قصد سفر کفارہ سے بچاسکتا ہے اور نہ ھی دن میں سفر کرنے سے کفارہ ساقط ہوسکتا ہے۔

س۷۹۴۔ جس شخص کے پاس پانی نہ ہو یا تنگی وقت کے علاوہ کوئی اور عذر ہو جس کی وجہ سے غسل جنابت نہ کرسکتا ہو تو کیا ماہ مبارک کی راتوں میں عمداً اپنے کو مجنب کرسکتا ہے؟

ج۔اگر فریضہ تیمم ہو اور تیمم کے لئے وقت بھی کافی ہو تو اپنے کو مجنب کرنا جائز ہے۔

س۷۹۵۔ ایک شخص رمضان کی راتوں میں اذان صبح سے پھلے بیدار ہوا مگر وہ متوجہ نہیں ہوا کہ محتلم ہے لھذا پہر سوگیا۔ اذان کے درمیان آ نکہ کھلی تو اپنے آ پ کو محتلم پایا اور یہ بھی یقین ہے کہ اذان سے قبل محتلم ہوا ہے تو ایسی صورت میں روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر اذان سے قبل اپنے احتلام کی طرف متوجہ نہیں تھا تو اس کا روزہ صحیح ہے۔

س۷۹۶۔ اذان صبح کے بعد بیدار ہونے والا اگر اپنے کو محتلم پائے اور دوبارہ طلوع آ فتاب تک نماز صبح پڑہے بغیر سوجائے اور اذان ظہر کے بعد غسل کرکے ظہر ین بجالائے تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اس کا روزہ صحیح ہے اور ظہر تک غسل جنابت کی تاخیر اس کے لئے مضر نہیں ہے۔

س۷۹۷۔ اگر مکلف ماہ مبارک رمضان میں اذان صبح سے پھلے بیدار ہو اور شک کرے کہ کہیں محتلم تو نہیں ہے لیکن اپنے شک کو اھمیت نہ دیتے ہوئے دوبارہ سوجائے اذان صبح کے بعد جب اٹہے تو اپنے کو محتلم پائے اور اس کو یقین بھی ہو کہ اذان سے پھلے محتلم ہوا ہے تو اس کے روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر پھلی مرتبہ اٹھنے کے بعد احتلام کی کوئی علامت نہ دیکہے صرف احتلام کا شک ھی ہو اور اپنی حالت کی تفتیش کے بغیر سوجائے اور اذان کے بعد اٹہے تو ایسی صورت میں روزہ صحیح ہے خواہ بعد میں یہ ثابت کیوں نہ ہوجائے کہ اذان سے قبل محتلم ہوا تھا۔

س۷۹۸۔ اگر ماہ مبارک میں کسی نے نجس پانی سے غسل کیا اور ایک ھفتہ بعد اس کو پانی کی نجاست کا علم ہوا تو اس مدت میں اس کی نما زو روزوں کا کیا حکم ہے؟۔

ج۔ نما زتو باطل ہے اس کی قضا کرے گا لیکن روزہ صحیح ہے۔

س۷۹۹۔ ایک شخص جب پیشاب کرتا ہے تو گھنٹہ بہر یا اس سے زیادہ دیر تک پیشاب کے قطرے ٹپکتے رھتے ہیں ۔ اسی طرح جب رمضان کی بعض راتوں میں ایک گھنٹہ اذان سے قبل مجنب ہوتا ہے تو احتمال یہ رھتا ہے کہ پیشاب کے ساتھ منی بھی خارج ہورھی ہے ۔ ایسے میں طہر ت کے ساتھ روزہ شروع کرنے کے لئے اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

ج۔ اگر اذان صبح سے قبل تیمم کرلے تو روزہ صحیح ہے چہے غسل کے بعد بلا اختیار منی خارج کیوں نہ ہو۔

س۸۰۰۔ اگر کوئی شخص اذان صبح سے قبل یا اس کے بعد سوجائے اور جب بعد اذان بیدار ہو تو اپنے کو محتلم پائے، یہ شخص کب تک غسل میں تاخیر کرسکتا ہے ؟

ج۔ مفروضہ سوال کی روشنی میں جنابت اس دن کے روزہ کے لئے مضر نہیں ہے لیکن نماز کے لئے غسل واجب ہے لھذا وقت نماز میں تاخیر کرسکتا ہے۔

س۸۰۱۔ اگر رمضان یا کسی اور روزے کے لئے غسل جنابت بہول جائے اور دن میں کسی وقت یاد آ ئے تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے

ج۔ اگر ماہ مبارک کے روزوں کے لئے اذان صبح سے پھلے غسل جنابت بہول جائے اور جنابت کی حالت میں صبح کردے تو اس کا روزہ باطل ہے ۔ اور احتیاط واجب یہ ہے کہ رمضان کے قضا روزے کے لئے بھی یھی حکم ہے۔ لیکن دوسرے روزے غسل جنابت کی فراموشی سے باطل نہیں ہوتے۔




استمناء کے احکام

س۸۰۲۔ تقریبا سات سال قبل میں نے اپنے رمضان مبارک کے کچھ روزوں کو استمناء سے باطل کیا مجھے ان دنوں کی تعداد یاد نہیں ہے کہ میں نے ماہ مبارک کے تین مھینوں میں کتنے روزے توڑے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ۲۵، ۳۰ دن سے کم بہر حال نہیں ہے، اب میرا شرعی فریضہ کیا ہے براہ کرم کفارہ کی قیمت بھی معین فرمائیں؟

ج۔ استمناء ایک فعل حرام ہے۔ اس عمل سے روزہ باطل کرنے پر دو کفارے واجب ہیں ۔ یعنی ساٹھ روزے رکھنا اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ کھانا کھلانے کے بجائے یہ ممکن ہے کہ آ پ ساٹھ آ دمیوں کو علیحدہ علیحدہ ایک مد طعام دے دیں۔ لیکن نقد رقم کو کفارہ میں شمار نہیں کیا جائے گا البتہ نقد پیسہ اگر فقیر کو دیا جائے کہ وہ آ پ کا نائب بن کر طعام خریدے اور بعد میں اس کو کفارہ میں قبول کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چونکہ طعام کفارہ کی قیمت کی تعیین چاول ، گیہوں یا دوسرے کھانوں کی جنس کے تابع ہے جسے آ پ کفارہ کے طور پر دینا چاھتے ہیں ۔ لھذا قیمت بھی اسی اعتبار سے کم و زیادہ ہوگی۔

رہ گیا باطل روزوں کی تعداد کا تعین، جن کو آ پ نے استمناء کے ذریعہ باطل کیا ہے تو ان کی قضا اور کفارہ دینے میں آ پ کے لئے ان کی یقینی مقدار پر اکتفاء کرنا جائز ہے۔

س۸۰۳۔ اگر مکلف جانتا ہو کہ استمناء سے روزہ باطل ہوجاتا ہے اس کے باوجود وہ جان بوجہ کر اس کا مرتکب ہوجائے تو کیا اس پر دوہر ا کفارہ واجب ہے؟ اور اگر اسے علم نہ ہو کہ استمناء سے روزہ باطل ہوتا ہے تو اس وقت اس کا حکم کیا ہے؟

ج۔ دونوں صورتوں میں اگر استمناء عمداً کیا ہے تو ا س پر دوہر ے کفارے واجب ہیں ۔

س۸۰۴۔ میں رمضان المبارک میں ایک نامحرم عورت سے فون پر بات کررہا تھا گفتگو کے دوران جو تصورات پیدا ہوئے اس سے بے اختیار منی خارج ہوگئی جبکہ خروج منی کا کوئی سبب نہیں تھا اور نہ ھی گفتگو لذت و شہوت کی نیت سے کی گئی تھی۔ برائے مہر بانی یہ فرمائیے کہ میرا روزہ باطل ہے یا نہیں ؟ اور اگر باطل ہے تو مجہ پر کفارہ بھی واجب ہے یا نہیں ؟

ج۔ اگر اس سے قبل عورتوں سے بات کرتے وقت منی خارج نہیں ہوتی تھی اور جس گفتگو میں منی خارج ہوئی وہ بھی لذت و شہوت کی نیت سے نہ رھی ہو اس کے باوجود غیر اختیاری طور پر منی نکل جائے تو اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا اور آ پ پر قضا و کفارہ بھی واجب نہیں ہے۔

س۸۰۵۔ ایک شخص برسوں سے ماہ مبارک رمضان او ر اس کے علاوہ استمناء کا مرتکب ہوتا رہا اس کے نماز روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔ استمناء مطلقاً حرام ہے اور اگر منی خارج ہوجائے تو غسل جنابت واجب ہے اور اگر روزہ کی حالت میں استمناء کیا جائے تو وہ حرام چیز سے روزہ توڑنے کے حکم میں ہے۔ اب اگر غسل جنابت یا تیمم کے بغیر نمازیں پڑہیں یا روزے رکھے ہوں تو دونوں باطل ہیں اور دونوں کی قضا واجب ہے۔

س۸۰۶۔ کیا شوہر کے لئے بیوی کے ھاتہوں استمناء کرانا جائز ہے اور کیا اس سلسلہ میں جماع اور غیر جماع کے احکام میں کوئی فرق ہے؟

ج۔ شوہر کا زوجہ سے خوش فعلی کرنا اور اپنے بدن کو اس کے بدن سے مس کرنا یھاں تک کہ منی نکل آ ئے اور یوں ھی زوجہ کا شوہر کے آ لہ تناسل سے کھیلنا یھانں تک کہ منی خارج ہوجائے ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کو حرام استمناء نہیں کھتے۔

س۸۰۷۔ اگر کسی غیر شادی شدہ کو اپنی منی کی جانچ کرانا ہو اور منی کا اخراج بغیر استمناء کے ممکن نہ ہو تو کیا استمناء کرسکتا ہے؟

ج۔ اگر علاج اسی پر موقوف ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۰۸۔ بعض طبی مراکز استمناء کے ذریعہ مرد سے منی لینا چاھتے ہیں تاکہ جانچ کرسکیں کہ یہ شخص جماع پر قادر ہے یا نہیں ۔ کیا یہ استمناء جائز ہے؟

ج۔ اس کے لئے استمناء شرعاً جائز نہیں ہے خواہ قوت تولید کی تحقیق کی خاطر ھی کیوں نہ ہو لیکن اگر شادی کے بعد اولاد نہ ہورھی ہو اور اس کی تحقیق استمناء پر منحصر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۰۹۔ کیا پاخانے کے مقام میں انگلی سے شہوانی غدود کو حرکت میں لا کر منی خارج کرنا جائز ہے جبکہ ایسی حرکت میں نہ بدن میں سستی پیدا ہوتی ہے اور نہ منی اچھل کر نکلتی ہے؟

ج۔ یہ فعل بذاتہ جائز نہیں ہے کیونکہ یہ حرام استمناء کے زمرے میں آ تا ہے۔

س۸۱۰۔ جس شخص کی زوجہ دور ہو ، کیا وہ اپنی شہوت کو بھڑکانے کے لئے اس کا تصور کرسکتا ہے؟

ج۔ اگر شہوانی تصورات اخراج منی کی خاطر ہوں یا تصور کرنے والا جانتا ہو کہ ان شہوانی تصورات سے منی خارج ہوجائے گی تو حرام ہے۔

س۸۱۱۔ ایک شخص نے ابتداء بلوغ سے روزے رکھے لیکن روزوں کے درمیان استمناء کے ذریعہ اپنے کو مجنب کرتا رہا چونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ روزہ کے لئے غسل جنابت ضروری ہے ۔ لھذا حالت جنابت کرتا رہا چونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ روزہ کے لئے غسل جنابت ضروری ہے۔ لھذا حالت جنابت میں روزے بھی رکھے آ یا اس شخص پر صرف قضا ہے یا کفارہ بھی ؟

ج۔ سوال کی روشنی میں قضا و کفارہ دونوں واجب ہوں گے۔

س۸۱۲۔ ایک روزہ دار نے شہوت ابہر نے والے منظر کو دیکھا جس کے بعد مجنب ہوگیا ۔ کیا اس کا روزہ باطل ہے ؟

ج۔ اگر اس ارادہ سے دیکہے کہ منی خارج ہوجائے یا وہ اپنے بارے میں جانتا ہو کہ دیکہنے سے مجنب ہوجائے گا یا اس کی عادت یہ ہو کہ ایسا منظر دیکہنے سے مجنب ہوجاتا ہو اورعمداً دیکہے اور مجنب ہوجائے تو وہ عمداً مجنب ہونے والے کے حکم میں ہے۔




احکام افطار

س۸۱۳۔ آ یا سرکاری اور عوامی اجتماعات وغیرہ میں روزہ افطار کے لئے اھل سنت کی پیروی جائز ہے اور اگر مکلف یہ دیکہے کہ ان کی پیروی نہ تقیہ کے مصادیق میں سے ہے اور نہ کسی اور وجہ سے ضروری ہے تو اس کی ذمہ داری کیا ہے؟

ج۔ افطار میں غیروں کے وقت کا اتباع جائز نہیں ہے ۔ جب تک شرعی طور پر دلیل سے یا ذاتی وجدان سے رات کے داخل ہونے اور دن کے خاتمہ کا یقین نہ ہوجائے اختیاری طور سے افطار کرنا جائز نہیں ہے۔

س۸۱۴۔ میں روزے سے تھا میری والدہ نے مجھے کہنے یا پینے پر مجبور کردیا تو کیا اس سے میرا روزہ باطل ہوگیا؟

ج۔ کہنے پینے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے خواہ کسی کے شدید اصرار پر ہویا کسی کے دعوت پر۔

س۸۱۵۔ اگر کوئی زبردستی کسی روزہ دار کے منہ میں کوئی چیز ڈال دے یا اس کے سر کو پانی میں ڈبو دے یا مجبور کرے کہ اگر روزہ نہیں توڑا تو تمہر ی جان و مال کو خطرہ ہے، تو اگر وہ خطرہ ٹالنے کے لئے کچھ کھالے تو کیا اس کا روزہ باطل ہوجائے گا؟

ج۔ روزہ دار کے اختیار کے بغیر زبردستی اس کے منہ میں کوئی چیز ڈالنے یا پانی میں اس کا سر ڈبونے سے روزہ باطل نہیں ہوتا لیکن اگر کسی کے مجبور کردینے پر خود کچھ کھالے تو روزہ باطل ہوجاتا ہے۔

س۸۱۶۔ اگر روزہ دار کو معلوم نہ ہو کہ زوال سے پھلے حد ترخص تک نہ پھنچا تو افطار کرنا جائز نہیں ہے اور وہ اپنے کو مسافر تصور کرتے ہوئے حد ترخص سے پھلے ھی کچھ کھاپی لے تواس شخص کا کیا حکم ہے کیا اس پر قضا واجب ہے یا اس کا حکم کچھ اور ہے؟

ج۔ اس کا حکم وھی ہے جو عمداً افطار کرنے والے کا ہے۔

س۸۱۷۔ زکام میں مبتلا ہونے کی وجہ سے میرے حلق میں تہوڑا بلغم جمع ہوگیا ، جسے میں تہوکنے کے بجائے نگل گیا تو میرا روزہ صحیح ہے یا نہیں ؟

نیز میں ماہ رمضان کے کچھ دنوں اپنے عزیز کے گہر رہا اور شرم و حیاء کی وجہ سے غسل جنابت کے بدلے تیمم کرتا رہا اور ظہر تک غسل نہیں کرسکا۔ چند روز تک یھی سلسلہ چلتا رہا ۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دنوں کے روزے صحیح ہیں یا نہیں اور صحیح نہ ہونے کی صورت میں کیا قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے؟

ج۔ آ پ نے جو بلغم اور ناک کی رطوبت نگلی ہے اس سے آ پ کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ جب بلغم دھن کی فضا تک آ جائے اور آ پ اسے نگل لیں تو اس روزے کی قضا کی جائے گی۔

اب رہا روزے کے دن طلوع فجر سے پھلے آ پ کا غسل جنابت نہ کرنا، اور اس کے بدلے تیمم کرنا ۔ اگر یہ عذر شرعی کی وجہ سے تھا یا آ پ نے آ خر وقت کی تنگی کی وجہ سے تیمم کیا تھا تو اس تیمم کے ساتھ آ پ کا روزہ صحیح تھا اور اگر ایسا نہیں تھا تو ان دنوں میں آ پ کے روزے باطل ہیں ۔

س۸۱۸۔ میں لوہے کی کان میں ملازمت کرتا ہوں اور مجھے اپنی ملازمت کے پیش نظر ہر روز اس میں اترنا پڑتا ہے اور مشینوں سے کام کرتے وقت غبار منہ میں جاتا ہے اور پورے سال یھی سلسلہ جاری رھتھے ۔ میری ذمہ داری کیا ہے ؟ میرا روزہ اس حالت میں صحیح ہے یا نہیں ؟

ج۔ گرد و غبار کا روزے کی حالت میں نگلنا، روزہ کو باطل کردیتا ہے۔ اس سے پرھیز واجب ہے۔ لیکن صرف گرد و غبار کے ناک اور منہ میں جانے سے روزہ باطل نہیں ہوتا جب تک اسے نگلا نہ جائے۔

س۸۱۹۔ اگر روزہ دار ایسا انجیکشن لگوائے جس میں غذائیت اور وٹامن ہوں تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر اسے رگ میں انجیکشن لگوانا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ روزہ دار اس سے پرھیز کرے اور اگر ایسا کرلیا ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس روزے کی قضا کرے۔

س۸۲۰۔ ایک شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور روزوں کے درمیان ایسے کام انجام دئیے جن کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ یہ روزوں کے لئے مضر ہیں ۔لیکن رمضان کے بعد ثابت ہوا کہ وہ مضر نہیں تھے ۔ اس کے روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر روزہ توڑنے کا ارادہ نہیں کیا اور نہ روزے توڑنے والی چیز کا استعمال کیا تو روزہ صحیح ہے۔



احکام کفارہ

س۸۲۱۔ کیا فقیر کو ایک مد ( ۷۵۰ گرام) طعام کی قیمت دیدینا کہ وہ اپنے لئے کہنے کا انتظام کرلے کافی ہے؟

اگر اطمینان ہو کہ فقیر و کالتا اس کی طرف سے کہنے کو خرید کر پہر خود اس کو کفارہ کے عنوان سے قبول کرلے گا تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۲۲۔ اگر کوئی شخص چند مسکینوں کو کھانا کھلانے پر وکیل ہو تو کیا وہ مال کفارہ میں سے پکانے کی مزدوری اور اپنی اجرت لے سکتھے ؟

ج۔ کام اور پکانے کی اجرت کا مطالبہ کرنا اس کے لئے جائز ہے لیکن یہ جائز نہیں ہے کہ مال کفارہ سے اس کا حساب کرے۔

س۸۲۳۔ ایک خاتون حاملگی یا زمانہ ولادت کے قریب ہونے کی وجہ سے روزہ رکہنے پر قادر نہیں تہیں اور یہ مسئلہ جانتی تہیں کہ ولادت کے بعد آ نے والے رمضان سے پھلے قضا کرنی ہوگی لیکن اس نے چند برسوں تک جان بوجہ کر یا غفلت کی وجہ سے قضا نہیں کی کیا اس پر صرف اسی سال کا کفارہ واجب ہے یا جتنے سال اس نے روزے رکہنے میں تاخیر کی ان سب کا کفارہ دینا واجب ہے؟ اس کی بھی وضاحت فرمادیں کہ عمدی اور غیر عمدی میں کیا فرق ہے؟

ج۔ تاخیر چہے جتنے سال کی ہو اس کا فدیہ صرف ایک مرتبہ واجب ہے۔ فدیہ سے مراد ہر روزے کے بدلے ایک مد طعام ہے ۔ اور یہ بھی اس وقت ہے جب قضا کی ادائیگی سستی کی وجہ سے اور عذر شرعی کے بغیر ہو ۔ لیکن اگر تاخیر ایسے عذر کی وجہ سے ہو جو روزہ کے صحیح ہونے میں مانع ہو تو فدیہ بھی نہیں ہے۔

س۸۲۴۔ ایک خاتون بیماری کی وجہ سے رمضان کا روزہ نہیں رکہ سکیں اور آ نے والے رمضان تک ادا کرنے پر قادر بھی نہیں تہیں ایسی حالت میں خود مریضہ پر کفارہ واجب ہے یا ان کے شوہر پر؟

ج۔ مفروضہ سوال کی روشنی میں ہر دن کے بدلے ایک مد طعام خود مریضہ پر واجب ہے۔ اس کے شوہر پر نہیں ۔

س۸۲۵۔ ایک شخص کے ذمہ رمضان کے دس روزے قضا تھے اس نے شعبان کی بیسویں سے اس قضا کو ادا کرنا شروع کیا اب یہ شخص کیا زوال سے قبل یا زوال کے بعد عمداً افطار کرسکتا ہے؟ اور اگر وہ زوال سے پھلے یااس کے بعد افطار کرلے تو کفارہ کی مقدارکیا ہوگی؟

ج۔ مذکورہ سوال کی روشنی میں اس کے لئے عمداً افطار کرنا جائز نہیں ہے۔ اور اگر زوال سے پھلے عمداً افطار کرے تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔ لیکن زوال کے بعد افطار کرنے پر کفارہ میں دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا اور اگر اس پر قادر نہیں ہے تو اس پر تین روزے واجب ہوں گے۔

س۸۲۶۔ ایک عورت دو سال میں دو مرتبہ حاملہ ہوئی جس کی وجہ سے روزہ نہیں رکہ سکی اب وہ روزہ رکہنے پر قادر ہے۔ اس کے روزوں کا کیا حکم ہے؟ کیا اس پر کفارہ جمع واجب ہے یا صرف قضا واجب ہے اور اس نے جو تاخیر کی ہے اس کا حکم کیا ہے؟

ج۔ اگر عذر شرعی کی وجہ سے روزے ترک ہوئے ہیں تو اس پر صرف قضا واجب ہے۔ اور اگر افطار کی وجہ یہ تھی کہ روزے سے حمل یا بچے کو ضرر پھنچنے کا ڈر تھا تو ایسی صورت میں قضا کے ساتھ ہر روزے کے بدلے ایک مد طعام بھی فقیر کو دینا ہوگا۔

س۸۲۷۔ کیا روزوں کے کفارے میں قضا اور کفارہ کے درمیان ترتیب واجب ہے ؟

ج۔ واجب نہیں ہے۔



احکام قضا

س۸۲۸۔ میں نے دینی امور کی انجام دھی کے لئے ماہ مبارک میں ۱۸ دن سفر میں گذارے تومیری تکلیف شرعی کیا ہے اور کیا مجہ پر قضا واجب ہے؟

ج۔ سفر کی وجہ سے ماہ رمضان کے جو روزے چہوٹے ہیں ان کی قضا واجب ہے۔

س۸۲۹۔ اگر اجرت پر روزے رکہنے والا زوال کے بعد افطار کرے تو اس پر کفارہ واجب ہے یا نہیں ؟

ج۔ کفارہ واجب نہیں ۔

س۸۳۰۔ جن افراد نے مذھبی امور کی انجام دھی کی وجہ سے رمضان میں سفر کیا اور روزے نہیں رکھے اب جبکہ کئی برس گذرنے کے بعد انہوں نے روزہ رکہنے کاارادہ کیا ہے تو کیا قضا کے ساتھ ساتھ ان پر کفارہ بھی واجب ہے؟

ج۔ اگر دوسرے رمضان تک عذر شرعی باقی رھنے کی وجہ سے قضا روزے نہ رکہ پائے ہوں تو ان کے لئے چہوٹے ہوئے روزوں کی قضا ھی کافی ہے ۔ ہر روزے کے لئے ایک مد طعام دینا واجب نہیں ہے، اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ روزے بھی رکہیں اور طعام فدیہ بھی دیں، لیکن تاخیر قضا کی وجہ اگر سستی ہو تو ایسی صورت میں ان پر قضا و فدیہ دونوں واجب ہیں ۔

س۸۳۱۔ ایک شخص نے جھالت کی وجہ سے دس سال نہ نماز پڑھی اور نہ روزے رکھے اب اس نے توبہ کی ہے اللہ کی طرف رجوع کیا ہے اور ان روزوں اور نمازوں کی قضا کا ارادہ کرلیا ہے لیکن فی الوقت وہ تمام روزوں کی قضا پر قدرت نہیں رکھتا اور نہ کفارہ کے لئے مال رکھتا ہے تو کیا ایسی صورت میں صرف استغفار پر اکتفاء کرسکتا ہے؟

ج۔ چہوٹے ہوئے روزوں کی قضا بہر حال معاف نہیں ہے لیکن کفارے میں اگر دو ماہ کے روزے اور ساٹھ مسکین کے کھانا کھلانے پر قادر نہیں ہے تو بقدر امکان فقیروں کو صدقہ دے ۔ اور احتیاط یہ ہے کہ استغفار بھی کرے اور اگر کسی بھی صورت میں فقراءکو کھانا دینے پر قدرت نہیں رکھتا ہے تو صرف کافی ہے کہ استغفار کرے یعنی یہ کہ دل اور زبان سے کہے استغفر اللہ (خدا وند تجھ سے مغفرت کرتا ہے )

س۸۳۲۔ اگر آ نے والے رمضان تک کسی نے روزوں کی قضا اس وجہ سے ادا نہ کی ہو کہ وہ آ نے والے رمضان سے پھلے وجوب قضا سے بے خبر تھا تو اس وقت اس کی شرعی ذمہ داری کیا ہے؟

ج۔ آ نے والے رمضان سے پھلے وجوب قضا کا علم نہ ہونے کی صورت میں بھی تاخیر قضا کا فدیہ اد اکرنا ہوگا۔

س۸۳۳ ۔ وہ شخص کہ جس نے ۱۲۰ دن روزے نہیں رکھے ایسے شخص کی کیا ذمہ داری ہے کیا وہ ہر روز کے عوض ۶۰ روزے رکھے گا ؟اور کیا اس پر کفارہ بھی واجب ہے ؟۔

ج۔ ماہ رمضان کے چہوٹے ہوئے روزوں کی قضا واجب ہے اور اگر عذر شرعی کے بغیر عمداً چھوڑا ہے تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے اور ہر روزے کا کفارہ ساٹھ دن کے روزے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یا ساٹھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو ایک مد طعام دینا ہے۔

س۸۳۴۔ میں نے تقریباً ایک ماہ اس نیت سے روزے رکھے کہ اگر میرے ذمہ کچھ روزے ہیں تو یہ ان کی قضا ہے ورنہ صرف خدا کی قربت کی نیت سے ہے ۔ کیا یہ ایک مھینہ ان قضا روزوں میں حساب ہوگا جو میری گردن پرہیں ؟

ج۔ اگر آ پ کی نیت یہ رھی ہو کہ اس وقت میرے ذمہ واجب و سنت جو روزے ہیں میں ان کو ادا کررہا ہوں اور اتفاق سے آ پ کے ذمہ روزوں کی قضا تھی تو یہ روزے ان میں محسوب ہوجائیں گے۔

س۸۳۵۔ اگر قضا روزوں کی تعداد معلوم نہ ہو اور اس فرض کے ساتھ کہ اس کے ذمہ قضا واجب ہے ، مستحبی روزہ رکھے تو کیا یہ روزہ واجب روزوں میں محسوب ہوگا اور اگر اس نے اس نیت سے روزہ رکھا ہو کہ اس کے ذمہ قضا روزہ نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟

ج۔ مستحب کی نیت سے رکھا جانے والا روزہ قضا روزوں میں محسوب نہیں ہوگا۔

س۸۳۶۔ اگر کوئی شخص جاھل مسئلہ ہونے کی بناء پر بہوک و پیاس کے سبب عمداً افطار کرے تو کیا اس پر قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے؟

ج۔ اگر مسئلہ سے لاعلمی و کوتاھی کی وجہ سے ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرے۔

س۸۳۷۔ اگر کوئی شخص ابتدائے بلوغ میں ضعف و ناتوانی کی وجہ سے روزے نہ رکہ سکے تو کیا اس پر صرف قضا واجب ہے یا قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے؟

ج۔ اگر روزہ اس پر حرج و ضرر کا باعث نہ تھا اس کے باوجود اس نے عمداً افطار کیا ہو تو قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔

س۸۳۸۔ جس کو ترک شدہ روزے اور نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو اور روزوں کے بارے میں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ عذر شرعی سے چہوٹے ہیں یا عمداً ترک ہوئے ہیں تو اس انسان کا فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اس تعداد پر اکتفاء کرنا جائز ہے جس سے یقین پیدا ہوجائے کہ قضا نمازیں اور روزے ادا ہوگئے۔ اور اگر شک ہو کہ عمداً افطار کیا تھا یا نہیں تو کفارہ واجب نہیں ہے۔

س۸۳۹۔ اگر کوئی شخص رمضان میں روزے رکھتا ہو لیکن کسی روز سحر کہنے کے لئے نہ اٹھ پایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغرب تک روزہ کو پورا نہ کرسکا اور دن میں اس کو ایک حادثہ پیش آ گیا اور اس نے افطار کرلیا۔ کیا اس شخص پر قضا و کفارہ دونوں واجب ہیں ؟

ج۔ گر اس نے روزہ رکھا لیکن بعد میں روزہ بہوک پیاس وغیرہ کی وجہ سے مشقت کا سبب بن گیا اور افطار کرلیاتو اس پر صرف قضا واجب ہے کفارہ نہیں ۔

س۸۴۰۔ اگر مجھے شک ہو کہ اپنے قضا روزے ادا کئے ہیں یا نہیں تو میری شرعی ذمہ داری کیا ہے؟

ج۔ اگر آ پ کو دونوں کی قضا کا یقین تھا تو ان کے ادا کرنے کا یقین پیدا کرنا بھی واجب ہے۔

س۸۴۱۔ اگر کسی شخص نے ابتدائے بلوغ کے سال گیارہ روزے رکھے ایک روزہ ظہر کے وقت توڑ دیا اور اٹہر ہ روزے چھوڑ دئیے اور ان اٹہر ہ روزوں کے بارے میں نہیں جانتا تھا کہ اس پر کفارہ واجب ہوجائے گا تو اب اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

ج۔ اگر رمضان کا روزہ عمداً اور اختیار سے توڑا ہے تو خواہ کفارہ سے آ گاہ ہو یا نہ ہو قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہے۔

س۸۴۲۔ اگر ڈاکٹر کی تجویز یہ ہو کہ روزہ مضر ہے اور مریض نے اس پر اعتبار کرتے ہوئے روزہ نہیں رکھا برسوں کے بعد معلوم ہوا کہ اس طبیب کی تشخیص غلط تھی تو کیا اس پر قضا اور کفارہ واجب ہے؟

ج۔ اگر ماہر و امین ڈاکٹر کے کہنے سے خوف ضرر پیدا ہوجائے یاکوئی معقول وجہ ہو جس کی وجہ سے روزہ ترک کیا ہو تو صرف قضا واجب ہے۔


روزہ کے متفرق احکام

س۸۴۳۔ اگر عورت کو نذر معین کے روزہ کے درمیان خون حیض آ جائے تو اس کے روزہ کا کیا حکم ہے؟

ج۔ حیض آ نے سے روزہ باطل ہوجائے گا اور طہر ت کے بعد اس پر قضا واجب ہے۔

س۸۴۴۔ ایک شخص ” دیر “ کی بندرگاہ کا رھنے والا ہے۔ اس نے یکم رمضان سے ستائیسویں رمضان تک روزے رکھے ۔ اٹھائیسویں کی صبح کو دبئی کے لئے روانہ ہوا اور انتیسویں کو وھاں پھنچ گیا۔دبئی میں اس دن عید تھی تو کیا وطن واپس آ نے کے بعد اس پر فوت شدہ روزے کی قضا واجب ہے؟ اب اگر اس نے ایک دن کی قضا کی تو جس دن وہ دبئی پھنچ گیا تھا وھاں عید کا اعلان ہوچکا تھا۔ ایسے شخص کا حکم کیا ہے؟

ج۔ اگر عید کا اعلان ۲۹ ویں رمضان کو شرعی ضابطوں کے مطابق تھا تو اس دن کے روزہ کی قضا واجب نہیں ہے لیکن اس سے یہ واضح ہوجائے گا کہ ابتدائے ماہ کے روزے اس سے چہوٹے ہیں تو اس پر واجب ہے کہ یقینی طور سے چہوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے۔

س۸۴۵۔ اگر روزہ دار نے اپنے شہر میں افطار کیا اور پہر کسی ایسے شہر کا سفر کیا جھاں ابھی سورج غروب نہیں ہوا ہے تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے ۔ کیا یہ شخص اس شہر کے غروب آ فتاب سے قبل اس شہر میں کھاپی سکتا ہے؟

ج۔ روزہ صحیح ہے اور جب اپنے شہر میں غروب آ فتاب کے بعد افطار کرچکا ہے تو جس شہر میں ابھی غروب نہیں ہوا ہے وھاں کھاپی سکتا ہے۔

س۸۴۶۔ ایک شھید نے اپنے دوست کو وصیت کی کہ میری شھادت کے بعد احتیاطاً کچھ روزے میری طرف سے رکہ لینا، شھید کے ورثاء ان باتوں کے پابند نہیں ہیں اور نہ ھی ان کو اس پر آ مادہ کیا جاسکتا ہے جبکہ شھید کے دوست کے لئے روزہ رکھنا سخت ہے کیا اس کا کوئی اور حل ہے؟

ج۔ اگر شھید نے دوست سے وصیت کی تھی تو شھید کے ورثاء سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب اگر دوست پر نیابتاً روزہ رکھنا باعث مشقت ہے تو اس پر سے تکلیف ساقط ہے۔

س۸۴۷۔ میں کثیر الشک بلکہ کثیر الوسواس ہوں۔ فروعی مسائل میں تو بہت زیادہ شکی ہوں۔ فی الحال مجھے شک ہے کہ رمضان میں جو روزے رکھے تھے کہیں ایسا تو نہیں کہ جو گرد و غبار منہ میں گیا تھا اس کو نگل لیا ہو۔ یا جو پانی منہ میں لیا تھا اس کو ٹھیک سے تہوکا تھا یا نہیں ۔ کیا اس شک کے بعد روزہ صحیح ہے؟

ج۔ اس سوال کی روشنی میں روزہ صحیح ہے اور اس طرح کہ شک کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

س۸۴۸۔ کیا حدیث کساء معتبر ہے جس کی روایت حضرت فاطمہ زہر ا سلام اللہ علیھا سے ہے اور روزوں میں اس کی نسبت شھزادی (س) کی طرف دی جاسکتی ہے؟

ج۔ اگر شھزادی علیھاالسلام کی طرف نسبت ” حکایت “ اور ان کتابوں کے ذریعہ ” نقل قول “ ہو جن میں حدیث کساء منقول ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۴۹۔ میں نے بعض علماء اور غیر علماء سے یہ سنا ہے کہ اگر کسی کو مستحبی روزے میں کسی نے دعوت دی تو اس کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے کھاپی لینے سے روزہ باطل نہیں ہوتا اور ثواب بھی باقی رھتا ہے۔ آ پ کا اس سلسلہ میں کیا نظریہ ہے ؟

ج۔ مومن کی دعوت کو مستحب روزے میں قبول کرنا رجحان شرعی رکھتا ہے اور اس کی دعوت پر کھاپی لینے سے روزہ تو باطل ہوجاتا ہے لیکن روزے کے اجر و ثواب سے محروم نہیں رہے گا۔

س۸۵۰۔ ماہ مبارک کے پھلے روز سے تیسویں روز تک کے لئے مخصوص دعائیں وارد ہوئی ہیں ۔ اگر ان کی صحت میں شک ہو تو ان کے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر یہ دعائیں اس نیت سے پڑھی جائیں کہ وارد ہوئی ہیں اور مطلوب ہیں تو ان کے پڑھنے میں بہر حال کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۵۱۔ ایک شخص روزے رکہنے کے ارادے سے سوگیا لیکن سحر کے وقت کہنے کے لئے بیدار نہ ہوسکا ، جس کے سبب اس میں روزہ رکہنے کی طاقت نہ رھی تو روزہ نہ رکہنے کا عذاب خود اس پر ہے یا اس شخص پر ہے جس نے اس کو بیدار نہیں کیا۔ اور کیا سحر کھائے بغیر اس کا روزہ رکھنا صحیح ہے؟

ج۔ ناتوانی کی وجہ سے روزہ افطار کرلینا اگرچہ سحر نہ کہنے کی وجہ سے ہو گناہ اور معصیت نہیں ہے۔ بہر حال نہ جگانے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے اورسحر کھائے بغیر روزہ رکھنا صحیح ہے۔

س۸۵۲۔ اگر کوئی شخص مسجد الحرام میں اعتکاف کررہا ہو تو تیسرے دن کے روزے کا کیا حکم ہے؟

ج۔ اگر اعتکاف کرنے والا مسافر ہے اور مکہ مکرمہ میں دس روز اقامت کا ارادہ رکھتھے ۔ یا سفر میں روزہ رکہنے کی نذر کی ہے تو دو روز روزہ رکہنے کے بعد اعتکاف کو پورا کرنے کے لئے تیسرے دن کا روزہ واجب ہے۔ اور اگر دس روز اقامت کی نیت نہیں کی اور نہ سفر میں روزہ رکہنے کی نذر کی تو اس کا سفر میں روزہ رکھنا دوست نہیں ہے اور روزے کی صحت کے بغیر اعتکاف صحیح نہیں ہے۔



رویت ھلال

س ۸۵۳۔ آ پ جانتے ہیں کہ ابتداء ماہ اور آ خر ماہ میں چاند حسب ذیل حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں ہوتا ہے:

۱۔ غروب آ فتاب سے پھلے ( چاند) ھلال ڈوب جاتا ہے۔

۲۔ کبھی چاند اور سورج دونوں ایک ساتھ غروب ہوجاتے ہیں ۔

۳۔ کبھی چاند آ فتاب کے بعد غروب ہوتا ہے۔

مہر بانی کرکے ان چند امور کی وضاحت فرمائیں:

الف ۔ مذکورہ تین حالتوں میں سے وہ کون سی حالت ہے جس کو فقھی نقطہ نظر سے مھینے کی پھلی تاریخ مانا جائے گا۔

ب۔ اگر ھم یہ مان لیں کہ آ ج کے الیکٹرانک دور میں مذکورہ تمام شکلوں کو دنیا کے آ خری نقطے میں دقیق الیکٹرانک نظام کے حساب سے دیکہ لیا جاتا ہے ، تو کیا اس نظام کے تحت ممکن ہے کہ پھلی تاریخ کے پھلے سے طے کرلیا جائے یا آ نکہ سے ھلال کا دیکھنا ضروری ہے؟

ج۔ اول ماہ کا معیار اس چاند پر ہے جو غروب آ فتاب کے بعد غروب ہوتا ہے اور جس کو غروب سے پھلے عام طریقہ سے دیکھا جاسکتا ہو۔

س۸۵۴۔ اگر شوال کا چاند ملک کے کسی شہر میں دکھائی نہیں دیا لیکن ریڈیو اور ٹی وی نے اول ماہ کا اعلان کردیا تو کیا یہ اعلان کافی ہے یا تحقیق ضروری ہے؟

ج۔ اگر رویت ھلال کا یقین ہوجائے یا اعلان رویت ولی فقیھہ کی طرف سے ہو تو پہر تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔

س۸۵۵۔ اگر رمضان کی پھلی تاریخ یا شوال کی پھلی تاریخ کا تعین بادل یا دیگر اسباب کی وجہ سے ممکن نہ ہو اور رمضان و شعبان کے تیس دن پورے نہ ہوئے ہوں تو کیا ایسی صورت میں جبکہ ھم لوگ جاپان میں ہوں، ایران کے افق پر عمل کرسکتے ہیں یا جنتری پر اعتماد کرسکتے ہیں ؟

ج۔ اگر اول ماہ نہ چاند دیکہ کر ثابت ہو، چہے ان قریبی شہر وں کے افق میں سھی جن کا افق ایک ہو، نہ دو شاھد عادل کی گواھی سے اور نہ حکم حاکم سے ثابت ہو تو ایسی صورت میں احتیاط واجب ہے کہ اول ماہ کا یقین حاصل کیا جائے۔ اور چونکہ ایران، جاپان کے مغرب میں واقع ہے اس لئے جاپان میں رھنے والوں کے لئے ایران میں چاند کا ثابت ہوجانا کوئی اعتبار نہیں رکھتا۔

س۸۵۶۔ رویت ھلال کے لئے اتحاد افق کا معتبر ہونا شرط ہے یا نہیں ؟

ج۔ کسی شہر میں چاند کا دیکھا جانا اس کے ھم افق یا نزدیک کے افق والے شہر وں کے لئے کافی ہے اسی طرح مشرق میں واقع شہر وں کی رویت مغرب میں واقع شہر وں کے لئے کافی ہے۔

س۸۵۷۔ اتحاد افق سے کیا مراد ہے؟

ج۔ اس سے وہ شہر مراد ہیں جو ایک طول البلد پر واقع ہوں اور اگر دو شہر ایک طول البلد پر واقع ہوں تو ان کو متحد الافق کھا جاتا ہے ۔ یھاں طول البلد علم ھئیت کی اصطلاح کے اعتبار سے ہے۔

س۸۵۸۔ اگر ۲۹ تاریخ کو خراسان اور تہر ان میں عید ہو تو کیا بو شہر کے رھنے والوں کےلئے بھی افطار کرلینا جائز ہے جبکہ بو شہر اور تہر ان کے افق میں فرق ہے؟

ج۔ اگر دونوں شہر وں کے درمیان اختلاف افق اتنا ہو کہ اگر ایک شہر میں چاند دیکھا جائے تو دوسرے شہر میں دکھائی نہ دے توایسی صورت میں مغربی شہر وں کی رویت مشرقی شہر وں کے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ مشرقی شہر وں میں سورج مغربی شہر وں سے پھلے غروب ہوتا ہے۔ لیکن اس کے برخلاف اگر مشرقی شہر وں میں چاند دکھائی دے تو رویت ثابت و محقق مانی جائے گی۔

س۸۵۹۔ اگر ایک شہر کے علماء کے درمیان رویت ھلال کے ثابت ہونے میں اختلاف ہوگیا ہو یعنی بعض کے نزدیک ثابت ہو اور بعض کے نزدیک ثابت نہ ہو اور مکلف کی نظر میں دونوں گروہ کے علماء عادل اور قابل اعتماد ہوں تو اس کا فریضہ کیا ہے؟

ج۔ اگر اختلاف شھادتوں کی وجہ سے ہے یعنی بعض کے نزدیک چاند کا ہونا ثابت ہو اور بعض کے نزدیک چاند کا نہ ہونا ثابت ہو، ایسی صورت میں چونکہ دونوں شھادتیں ایک دوسرے سے متعارض ہیں لھذا قابل عمل نہیں ہوں گی۔ اس لئے مکلف پر واجب ہے کہ اصول کے مطابق عمل کرے۔ لیکن اگر اختلاف خود رویت ھلال میں ہو یعنی بعض کہیں کہ چاند دیکھا ہے اور بعض کہیں کہ چاند نہیں دیکھا ہے۔ تو اگر رویت کے مدعی دو عادل ہوں تو مکلف کے لئے ان کا قول دلیل اور حجت شرعی ہے اور اس پر واجب ہے کہ ان کی پیروی کرے اسی طرح اگر حاکم شرع نے ثبوت ھلال کا حکم دیا ہو تو اس کا حکم بھی تمام مکلفین کے لئے شرعی حجت ہے اور ان پر واجب ہے کہ اس کا اتباع کریں۔

س۸۶۰۔ اگر ایک شخص نے چاند دیکھا اوراس کو علم ہو کہ اس شہر کا حکم شرعی بعض وجوہ کی بنا پر رویت سے آ گاہ نہیں ہوپائے گا تو کیا اس شخص پر لازم ہے کہ حاکم کو رویت کی خبر دے؟

ج۔ خبر دینا واجب نہیں ہے بشرطیکہ نہ بتانے پر کوئی فساد نہ برپا ہو۔

س۸۶۱۔ زیادہ تر فقھا افاضل کی توضیح المسائل میں ماہ شوال کی پھلی تاریخ کے اثبات کے لئے پانچ طریقے بتائے گئے ہیں مگر حاکم شرع کے نزدیک ثابت ہونے کا اس میں ذکر نہیں ہے۔ اگر ایسا ھی ہے تو پہر اکثر مومنین مراجع عظام کے نزدیک ماہ شوال کا چاند ثابت ہونے پر کیونکر افطار کرتے ہیں ۔ اور اس شخص کی تکلیف کیا ہے جس کو اس طریقے سے رویت کے ثابت ہونے پر اطمینان نہ ہو؟

ج۔ جب تک حاکم ثبوت ھلال کا حکم نہ دے اتباع واجب نہیں ہے پس تنھا اس کے نزدیک چاند کا ثابت ہونا دوسروں کے اتباع کے لئے کافی نہیں ہے لیکن حکم نہ دینے کے باوجود اگر ثبوت ھلال پر اطمینان حاصل ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

س۸۶۲۔ اگر ولی امر مسلمین یہ حکم فرمائیں کہ کل عید ہے اور ریڈیو اور ٹی وی پربھی اعلان کریں کہ فلاں فلاں شہر میں چاند دیکھا گیا ہے تو کیا تمام شہر وں کے لئے عید ثابت ہوجائے گی یا صرف ان شہر وں کے لئے ہوگی جو افق میں متحد ہیں ؟

ج۔ اگر حکم حاکم تمام شہر وں کے لئے ہے تو اس کا حکم اس ملک کے تمام شہر وں کے لئے معتبر ہے۔

س ۸۶۳ ۔ آیا چاند کے چہوٹا ، باریک اور اس میں شب اول کے دوسرے صفات اس کی دلیل ہیں کہ پھلی (چاند رات ) کا چاند ہے یعنی گزرا دن پھلی نہیں بلکہ ماہ گذشتہ کی تیسویں تہیں اگر کسی کے لئے عید ثابت ہوچکی ہو اور اس طرح یقین کرلے کہ گزشتہ روز عید نہیں بلکہ تیسویں رمضان المبارک تھی ، آیا اس دن کے روزے کی قضا کرے گا ؟

ج۔ چاند کا چہوٹا ہونا، نیچے ہونا، بڑا ہونا، بلند ہونا یا چوڑا یا باریک ہونا گذشتہ شب یا دوسری رات کے چاند ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ لیکن اگر مکلف کو ان علائم سے علم و یقین حاصل ہوجائے تو اس وقت اپنے علم کی روشنی میں عمل کرنا واجب ہے۔

س۸۶۴۔ کیا چودہویں کے چاند کو اول ماہ کی تعیین میں قرینہ قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ چودہویں کی شب میں چاند کامل ہوجاتا ہے اور اس طرح یوم شک کی تعیین ہوجائے گی کہ وہ تیسویں رمضان ہے تاکہ جس نے اس دن روزہ نہیں رکھا ہے اس پر حجت شرعی ہو کہ اس پر قضا واجب ہے اور جس نے اس دن رمضان سمجہ کر روزہ رکھا ہے وہ بری الذمہ ہے؟

ج۔ مذکورہ چیزیں کسی کے لئے حجت شرعی نہیں ہیں لیکن اگر مکلف کو ان سے علم حاصل ہو تو ایسی صورت میں وہ اپنے علم و یقین کے مطابق علم کرسکتا ہے۔

س۸۶۵۔ کیا چاند کا دیکھنا واجب کفائی ہے یا احتیاط واجب ہے؟

ج۔ چاند کا دیکھنا بذات خود واجب شرعی نہیں ہے۔

س۸۶۶۔ ماہ رمضان کی پھلی اور آ خری تاریخ چاند دیکہنے سے طے ہوگی یا جنتری سے؟ جبکہ ماہ رمضان کے تیس دن پورے نہ ہوئے ہوں؟

ج۔ پھلی اور آ خری تاریخ درج ذیل طریقوں سے ثابت ہوگی:

خود چاند دیکہے ، دو عادل گواھی دیں، اتنی شہر ت ہو جس سے یقین حاصل ہوجائے، تیس دن گذر جائیں یا حاکم شرع حکم صادر فرمائے۔

س۸۶۷۔ اگر کسی بھی حکومت کے اعلان رویت کو تسلیم کرنا جائز ہے اور وہ اعلان دوسرے شہر وں کے ثبوت ھلال کے لئے علمی معیار ہے تو کیا اس حکومت کا اسلامی ہونا شرط اور ضروری ہے یا حکومت ظالم و فاجر کا اعلان بھی ثبوت ھلال کے لئے کافی ہوگا؟

ج۔ اس میں اصل اور قاعدہ کلی یہ ہے کہ مکلف جس علاقے میں رھتا ہو اس میں ثبوت ھلال کا اطمینان پید ہوجائے تو اول ماہ ثابت ہوجائے گا۔