فصل اول: مشقت عمل
749
۔ امام علی (ع
)!
میرے شیعو ! اس عمل کے سلسلہ میں زحمت برداشت کرو جس کے ثواب سے بے نیاز نہیں ہوسکتے ہو اور اس عمل سے پرہیز کرنے کی کوشش کرو جس کے عذاب کو برداشت نہیں کرسکتے ہو میں یہ
جانتا ہوں
کہ عمل کی راہ میں زحمت برداشت کرلینا عذاب الہی برداشت کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے، یاد رکھو کہ اس دنیا کی مدت محدود ہے اور اس کی امیدیں دراز ہیں ، یہ صرف چند روزہ ہے اور اسے ایک دن ختم ہوجاناہے جب خواہشیں بھی لپیٹ دی جائیں گی اور سانسیں بھی تمام
ہو جائیں
گی ، یہ
فرما کر
آپ نے رونا شروع کردیا اور اس آیت کی تلاوت فرمائی ” تم پر کراماً کاتبین کو نگراں معین کردیا گیا ہے جو تمھارے تمام اعمال سے باخبر ہیں، سورہ الفطازا
12
( امالی صدوق (ر)
96
/
5
روایت مسعدہ بن صدقہ عن الصادق ، روضة الواعظین ص
535
، شرح نہج البلاغہ
20
ص
281
/
223
)۔
750
۔ امام زین العابدین (ع)! میرے اصحاب میں تمہیں آخرت کی وصیت کررہاہوں دنیا کی نہیں ، اس لئے کہ اس کی ضرورت نہیں ہے، اس کی حرص تم خود ہی رکھتے ہو اور اس سے تم خود ہی وابستہ ہو۔
میرے اصحاب ! یہ دنیا گزرگاہ ہے اور آخرت قرار کی منزل ہے لہذا اس گزرگاہ سے وہاں کے لئے فراہم کرلو، اپنے پردہٴ حیا کو اس کے سامنے چاک نہ کرو جو تمھارے اسرار سے بھی باخبر ہے، اس دنیا سے اپنے دلوں کو نکال لو قبل اس کے کہ تمھارے جسموں کو نکالا جائے ( امالی صدوق (ر) روایت طاؤس یمانی)۔
751
۔ عمرو بن سعید بن
بلال!
میں امام باقر (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ ایک جماعت اور تھی ، آپ نے فرمایا کہ تم لوگ معتدل امت بنو کہ آگے بڑھ جانے والے تمھاری طرف پلٹ کر آئیں اور پیچھے رہ جانے والے تمھاری طرف پلٹ کر آئیں اور پیچھے رہ جانے والے تم سے ملحق
ہو جائیں
۔
شیعیان آل محمد ! عمل کرو عمل ! کہ ہمارے اور خدا کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ ہمارا خدا پر
کوئی حق ہے، اس کا تقرب صرف اطاعت سے حاصل ہوتا ہے ، جو اس کی اطاعت کرے گا اسے ہماری محبت فائدہ پہنچائے گی اور جو اس کی معصیت کرے گا اسے ہماری محبت سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اس کے بعد حضرت نے ہماری طرف رخ کرکے فرمایا خبردار دھوکہ میں نہ رہنا اور عمل میں سستی نہ کرنا !
میں نے عرض کیا کہ حضور یہ نمرقہ وسطیٰ (معتدل امت) کیا ہے؟ فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ حد اعتدال کو ایک مخصوص فضیلت حاصل ہوتی ہے۔( مشکوٰة الانوار ص
60
، شرح الاخبار
3
ص
502
/
1440
)۔
752
۔ جابر امام باقر (ع) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نے مجھے سے فرمایا،
جابر!
کیا ہمارے شیعہ بننے والے لوگ اس بات کو کافی سمجھتے ہیں کہ ہماری محبت کا دعویٰ کردیں، خدا گواہ ہے کہ ہمارا شیعہ صرف وہ ہے جو اللہ سے ڈرے اور اس کی اطاعت کرے۔
جابر ! ہمارے شیعہ تواضع ، خضوع و خشوع، امانتداری ، کثرت ذکر خدا، روزہ ، نماز ، احسان والدین ، ہمسایہ کے فقراء و مساکین کے حالات کی نگرانی ، قرضداروں کے خیال ، ایتام کی سرپرستی ، سچائی ، تلاوت قرآن ، حرف غلط سے پرہیز اور سارے قبیلہ کے امین ہونے کی بنیاد پر پہچانے جاتے ہیں۔
جابر نے عرض کی مولا پھر تو آج کل کوئی شیعہ نہیں ہے، فرمایا جابر ! تمھارا خیال ِ ادھر ادھر نہ جانے پائے، سوچو کیا یہ بات کافی ہوسکتی کہ کوئی شخص محبت علی (ع) کا دعویٰ کردے اور عمل نہ کرے، اس سے بہتر تو یہ ہے کہ محبت رسول کا دعویٰ کردے جن کا مرتبہ علی (ع) سے بالاتر ہے، تو کیا سنت و سیرت پیغمبر سے انحراف کرنے والوں کو یہ دعویٰ محبت فائدہ پہنچا سکتاہے؟ ہرگز نہیں ۔
اللہ سے ڈرو اور خدا کے لئے عمل کرو، خدا کی کسی سے قرابتداری نہیں ہے ، اس کی نظر میں محبوب ترین اور محترم ترین انسان وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار اور اطاعت گذار ہو۔
جابر ! خدا کی قسم تقرب الہی عمل کے بغیر ممکن نہیں ہے، ہمارے پاس جہنم سے بچنے کا کوئی پروانہ نہیں ہے اور نہ ہمارا خدا پر کوئی حق ہے، جو اللہ کا اطاعت گذار ہوگا ہمارا دوست ہوگا، اور جو اس کی معصیت کرے گا وہ ہمارا دشمن ہوگا ، ہماری ولایت و محبت عمل اور
تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔( کافی
2
ص
74
/
3
، امالی صدوق (ر)
499
/
3
، صفات الشیعہ
90
/
422
، تنبیہ الخواطر
2
ص
185
امالی طوسی (ر)
296
/
582
)۔
753
۔ امام باقر (ع
)!
دیکھو تقویٰ کے ذریعہ ہماری مدد کرو اس لئے کہ جو تقویٰ لے کر خدا کی بارگاہ میں حاضر
ہوتا ہے
اسے کشائش احوال مل جاتی ہے، پروردگار کا ارشاد ہے، جو خدا و رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ رہے گا جن پر خدا نے نعمتیں نازل کی ہیں، انبیاء و مرسلین،شہداء، صدیقین اور یہ سب بہترین رفیق ہیں۔( نساء
69
) اور ہمارے گھرانے میں نبی، صدیق ، شہداء اور صالحین سب پائے جاتے ہیں۔( کافی
2
ص
78
/
12
روایت ابوالصباح الکنانی)۔
754
۔ امام باقر (ع) نے فضیل سے فرمایا کہ ہمارے چاہنے والوں سے ہمارے اسلام کہہ دینا اور کہنا کہ تقویٰ کے بغیر تمھارے کام آنے والے نہیں ہیں لہذا اپنی زبانوں کی حفاظت کرو، اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو اور صبر اور صلوة سے وابستہ رہو کہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
۔ (تفسیر
عیاشی
1
ص
68
/
123
، دعائم الاسلام
1
ص
133
، مستطرفات السرائر
74
/
517
مشکوة الانوار ص
44
) ۔
755
۔ امام صادق (ع) یابن
جندب!
ہمارے شیعوں کو ہمارا سلام پہنچا دینا اور کہنا کہ خبردار ادھر ادھر کے چکر میں نہ رہنا ، خدا کی قسم ہماری محبت تقویٰ اور کوشش عمل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ہے، برادران ایمانی سے ہمدردی علامت محبت ہے، وہ ہمارا شیعہ ہرگز نہیں ہے جو لوگوں پر ظلم کرے۔( تحف العقول ص
303
)۔
756
۔ امام صادق (ع
)!
تمھارا فرض ہے کہ تقویٰ الہی ، احتیاط ، مشقت عمل ، صدق حدیث ، اداء امانت، حسن اخلاق، حسن جوار کا راستہ اختیار کرو، لوگوں کو اپنی طرف زبان کے بغیر دعوت دو ، ہمارے لئے زینت بنو اور باعث عیب نہ بنو، رکوع و سجوع میں طول دو کہ جب کوئی شخص رکوع و سجود میں طول دیتاہے تو شیطان فریاد کرتاہے کہ صد حیف اس نے اطاعت کی اور میں نے معصیت کی ، اس نے سجدہ کیا اور میں نے انکار کردیا تھا۔( کافی
2
ص
77
/
9
از ابواسامہ)۔
757
۔ امام صادق (ع
)!
ہمارے شیعو ! ہمارے لئے زینت بنو، عیب نہ بنو، لوگوں سے اچھی باتیں کرو، زبانوں کو محفوظ رکھو اور اسے فضول و بیہود ہ باتوں سے روک کر رکھو ۔( امالی صدوق
336
/
17
، امالی طوسی (ر)
440
/
987
، بشارة المصطفیٰ
10
ص
70
از سلیمان بن مہران )۔
758
۔ امام صادق (ع
)!
لوگوں کو زبان کے بغیر دعوت خیر دو، وہ تمھارے کردار میں تقویٰ ، سعی عمل ، نماز اور خیرات کو دیکھیں کہ یہ بات خود دعوت خیر دیتی ہے۔( کافی
2
ص
78
/
14
، از ابن ابی یعفور)۔
759
۔ امام صادق (ع) نے مفضل سے فرمایا کہ میرے شیعوں سے کہہ دینا کہ ہماری طرف لوگوں کو دعوت دیں اس طرح کہ محرمات سے پرہیز کریں، معصیت نہ کریں اور رضائے الہی کا اتباع کریں کہ اگر وہ ایسے ہوجائیں گے تو لوگ دوڑ کر ہماری طرف آئیں گے
۔ (دعائم
الاسلام
1
ص
58
، شرح الاخبار
3
ص
506
/
1453
) ۔
760
۔ امام صادق (ع
)! خبردار
تم لوگ کوئی ایسا عمل نہ کرنا جس کی بنا پر لوگ ہمیں برا کہیں، اس لئے کہ نالائق بیٹے کے اعمال پر باپ ہی کو برا کہا جاتاہے، جن کے درمیان رہتے ہوا ن کے لئے ہمارے واسطے زینت بنو، باعث عیب نہ بنو( کافی ص
219
/
11
، روایت ہشام کندی)۔