فصل اول: معرفت حقوق
781
۔ رسول اکرم ، قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ہمارے حق کی معرفت کے بغیر کسی بندہ کا کوئی
عمل مفید نہیں ہوسکتاہے
۔ (
المعجم الاوسط
2
ص
360
/
2230
روایت ابن ابی لیلیٰ از امام حسن (ع) ینابیع المودہ
2
ص
272
/
775
روایت جابر ، مجمع الزوائد
0
ص
272
/
15007
، امالی مفید
44
/
2
، محاسن
1
ص
134
/
169
، الغدیر
2
ص
301
/
10
ص
280
، احقاق الحق
9
ص
428
) ۔
782
۔ رسول
اکرم!
مومن کا چراغ ہمارے حق کی معرفت ہے اور بدترین اندھاپن ہمارے فضل سے آنکھیں بندکر لیناہے۔( جامع الاخبار ص
505
/
1399
، الخصال ص
633
/
60
روایت ابوبصیر و محمد بن مسلم عن الصادق (ع) ، تفسیر فرات ص
368
/
499
از امام علی(ع))۔
783
۔ امام علی (ع
)!
ہمارا ایک حق ہے جو دیدیا گیا تو خیر ورنہ ہم پشت ناقہ پر سوار ہی رہیں گے چاہے سفر کتنا ہی طویل کیوں نہ ہوجائے۔ (نہج البلاغہ حکم نمبر
22
)۔
784
۔ امام علی (ع
)!
جو شخص اپنے خدا ، رسول اور اہلبیت (ع) کے حق کی معرفت کے ساتھ اپنے بستر پر مرجائے وہ بھی شہید ہی مرتاہے اور اس کا اجر پروردگار کے ذمہ ہوتاہے اور وہ اپنے نیک اعمال کی نیت کے ثواب کا بھی حقدار ہوتاہے اور اس کی نیت جہاد کے مانند ہوتی ہے کہ ہر شے کی ایک مدت معین ہے، اس سے آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے، دوام صرف نیک میں ہوتاہے۔(غرر الحکم ص
9061
)۔
785
۔ جابر بن یزید الجعفی امام محمد باقر (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے ٌضرت سے
آیت”
ثم اورثنا الکتاب
“کے
بارے میں سوال کیا تو فرمایا کہ ظالم وہ ہے جو حق امام سے ناآشنا ہو، مقتصد حق امام کا جاننے والا ہے اور سابق بالخیرات خود امام ہے۔” جنات عدن یدخلونھا
“یہ
انعام صرف سابق اور میانہ رو کے لئے ہے، ظالم کے لئے نہیں ہے
۔ (معانی
الاخبار ص
104
، کافی
1
ص
214
) ۔
786
۔ امام صادق (ع
)!
پروردگار عالم نے ائمہ ہدیٰ کے ذریعہ اپنے دین کو واضح کردیا ہے اور اپنے راستہ کو روشن کردیا ہے اور علم کے مخفی چشموں کے نمایاں کردیا ہے لہذا امت محمد میں جو شخص بھی امام کے واجب حق کو پہچان لے گا وہی ایمان کی حلاوت اور اسلام کی طراوت و تازگی سے آشناہوسکے گا ۔( کافی
1
ص
203
، الغیبتہ للنعمانی ص
224
/
7
، مختصر بصائر الدرجات ص
89
روایت اسحاق بن غالب ، بصائر الدرجات
413
/
2
روایت ابن اسحاق غالب )۔