read

فصل دوم: تاکید محافظت حق اہلبیت (ع)

787
۔ رسول اکرم ۔ میں تمھیں اہلبیت (ع) کے بارے میں خدا کو یاد دلاتاہوں، میں تمھیں اہلبیت (ع) کے بارے میں خدا کو یاد دلاتاہوں
۔ (صحیح
مسلم
4
/
1873
/
2480
، سنن دارمی
2
ص
890
/
3198
، مسند ابن حنبل
7
ص
75
/
19285
، السنن الکبری
10
ص
194
/
20335
، تہذیب تاریخ دمشق
5
ص
439
، در منثور
7
ص
349
نقل از ترمذی و نسائی ، فرائد السمطین
2
ص
234
از زید بن ارقم ، احقاق
9
ص
391
) ۔
788
۔ رسول
اکرم!
تمھارے سامنے اہلبیت (ع) کے بارے میں خدا کو گواہ بناتاہوں (المعجم الکبیر
5
ص
183
/
5027
، کنز العمال
13
/
640
/
19
376
روایت زید بن ارقم ، احقاق الحق
9
ص
434
۔
789
۔ رسول
اکرم!
میں تمھین اپنی عترت کے بارے میں خیر کی وصیت کرتاہوں۔( مستدرک حاکم
2
ص
131
/
2559
، مجمع الزوائد
90
ص
257
/
14960
روایت عبدالرحمان بن عوف ، کفایة الاثر ص
41
روایت سلمان فارسی ص
129
روایت حذیفہ اسید ص
132
روایت عمران بن حصین ص
104
روایت زید بن ارقم ، احقاق الحق
9
ص
432
۔
790
۔ رسول
اکرم!
میں سب سے پہلے خدائے عزیز و جبار کی بارگاہ میں بروز قیامت قرآن واہلبیت (ع) کے ساتھ وارد ہوں گا، اس کے بعد امت وارد ہوگی تو میں سوال کروں گا کہ تم لوگوں نے کتاب و عترت کے ساتھ کیا سلو ک کیا ہے۔( کافی
2
ص
600
/
4
روایت ابوالجارود ، مختصر بصائر الدرجات ص
89
روایت شعیب الحداد)۔
791
۔ رسول
اکرم!
لوگو ! اللہ کو یاد رکھنا میرے اہلبیت (ع) کے بارے میں کہ یہ دین کے ارکان ، تاریکیوں کے چراغ اور علم کے معدن ہیں۔( خصائص الائمہ ص
75
روایت عینی الضریر عن الکاظم (ع) ، بحار
22
ص
487
/
31
792
۔ رسول
اکرم!
خدایا یہ میرے اہلبیت (ع) ہیں اور میں انھیں ہر مومن کے حوالہ کرکے جارہاہوں تہذیب تاریخ دمشق
4
ص
322
روایت انس، ینابیع المودہ
2
ص
71
/
11
، احقاق الحق
9
ص
435
۔
793
۔ رسول
اکرم!
جو میرے اہلبیت (ع) کے بارے میں میری حفاظت کرے گا اس نے گویا خدا کے نزدیک عہد لے لیا ہے( ذخائر العقبیٰ ص
18
روایت عبدالعزیز ، ینابیع المودة
2
ص
114
/
323
، احقا ق الحق
9
ص
918
794
۔ رسول
اکرم!
میری عترت کے بارے میں میری حفاظت کرو، ( مسند الشہاب
1
ص
419
،
474
روایت انس ، احقاق الحق
9
ص
434
795
۔ رسول
اکرم!
میرے اہلبیت (ع) کے بارے میں مجھے باقی رکھنا ( الصواعق المحرقہ ص
150
، الجامع الصغیر
1
ص
50
/
302
، مجمع الزوائد
9
ص
257
/
14961
، ینابیع المودة
1261
/
62
، احقاق الحق
9
ص
448
۔
796
۔ رسول
اکرم!
میری امت کے مومنین اہلبیت (ع) کے بارے میں میری امانت کی قیامت تک حفاظت کرتے رہی۔(کافی
2
ص
46
/
3
از عبدالعظیم الحسنئ)۔
797
۔ رسول
اکرم!
جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی مدت حیات بابرکت ہو اور اللہ اسے نعمتوں سے بہرہ اندوز کرے اس کا فرض ہے کہ میرے بعد میرے اہلبیت (ع) کے ساتھ بہترین برتاؤ کرے۔( کنز العمال
12
ص
99
/
4171
3
روایت عبداللہ بن بدر الحظمی)۔
798
۔ رسول
اکرم!
تم عنقریب میرے بعد میرے اہلبیت (ع) کے بارے میں آزمائے گے ۔( المعجم الکبیر
192
/
4111
روایت خالد بن عرفطہ)۔
799
۔ ابن
عباس!
رسول اکرم منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں کے اجتماع عام میں خطبہ ارشاد فرمایا، مومنو ! پروردگار نے مجھے اشارہ دیا ہے کہ میں عنقریب یہاں سے جانے والا ہو… تم میری بات سنو اور میری نصیحت کا حق پہچانو اور میرے اہلبیت (ع) کے ساتھ وہی برتاؤ کرنا جس کا تمھیں حکم دیا گیا ہے ، انھیں محفوظ رکھنا کہ وہ میرے خواص، قرابتدار، برادران اور اولاد ہیں اور تم ایک دن جمع کئے جاؤگے جب تم سے ثقلین کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو یہ دیکھتے رہنا کہ تم نے میرے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیاہے، دیکھو ! یہ سب میرے اہلبیت (ع) ہیں ۔( امالی صدوق (ر) ص
62
/
11
التحصین ص
598
باب
4
800
۔ ابن
عباس!
جب ہم حجة الوداع سے واپس ہوئے تو ایک دن رسول اکرم (ع) کے پاس ان کی مسجد میں بیٹھے تھے… کہ آپ نے فرمایا ایھا الناس ! میری عترت اور میرے اہلبیت (ع) کے بارے میں خدا کو یاد رکھنا ، فاطمہ (ع) میرے دل کا ٹکڑا ہے، حسن (ع) و حسین (ع) میرے بازو ہیں اور میں اور فاطمہ (ع) کے شوہر دونوں روشنی کے مانند ہیں، خدایا ! جو ان پر رحم کرے اس پر رحم کرنا اور جو ان پر ظلم کرے اسے ہرگز معاف نہ کرنا ( بحار الانوار
23
ص
143
/
97
نقل از الفضائل و کتاب الروضہ ، احقاق الحق
9
ص
198
801
۔ امام علی (ع
)!
دیکھو اللہ کو یاد رکھنا اپنے نبی کی ذریت کے بارے میں ، تمھارے ہوتے ہوئے ان پر ظلم نہ ہونے پائے جبکہ ان سے دفاع کی طاقت بھی رکھتے ہو۔( کافی
7
ص
52
/
7
روایت عبدالرحمان بن حجاج عن الکاظم (ع) ، تہذیب
9
ص
177
/
714
، روایت جابر عن الباقر (ع) ، الفقیہ
4
ص
191
/
433
، روایت سلیم بن قیس ، تحف العقول ص
198
کتاب سلیم بن قیس
2
ص
926
۔
802
۔ امام علی (ع
)! محمد
بن بکر کو والی مصر قرار دیتے ہوئے فرمایا، بندگان خدا ! اگر تم نے تقویٰ اختیار کیا اور اہلبیت (ع) کے ذریعہ اپنے نبی کا تحفظ کیا تو تم نے خدا کی بہترین عبادت کی اور اس کا
بہترین ذکر کیا اور بہترین شکر ادا کیا اور صبر و شکر دونوں کو جمع کرلیا اور بہترین کو شش سے کام لیا ہے چاہے تمھارے اغیار تم سے زیادہ طولانی نمازیں پڑھیں اور زیادہ روزے رکھیں لیکن تمھارا تقوی ان سے بالاتر ہے اور تم صاحبان امر کے زیادہ مخلص ہو۔( امالی طوسی (ر)
27
ص
31
از ابواسحاق الہمدانی )۔
803
۔ امام صادق (ع
)!
ہمارے بارے میں اسی طرح تحفظ سے کام لینا جس طرح بندہٴ صالح خضر نے دو یتیموں کے مال کا تحفظ کیا تھا کہ ان کا باپ صالح اور نیک تھا۔( امالی طوسی (ر) ص
273
/
514
روایت برذون بن شبیب )۔