1۔ مودت
ارشاد احدیت ہوتاہے، پیغمبر آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ میں رسالت کا اجر قربا کی مودت کے علاوہ کچھ نہیں چاہتاہوں اور جو شخص ایک نیکی اختیار کرے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کردیں گے کہ خدا غفور بھی ہے اور شکور بھی ہے، سورہ شوریٰ آیت
23
۔
” آپ کہہ دیجیئے کہ میں نے جس اجر کا سوال کیا ہے اس کا فائدہ تمھیں کو ہے ورنہ میرا واقعی اجر تو خدا کے ذمہ ہے اور وہی ہر شے کا نگراں اور گواہ ہے“ سورہ سبا آیت
47
۔
” کہہ دیجئے کہ میں اس رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے پروردگار تک جانے کا راستہ اختیار کرنا چاہے، سورہ فرقان آیت
57
۔
804
۔ امام صادق (ع
)!
انصار ، رسول اکرم کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ ہم سب گمراہ تھے آپ نے ہمیں ہدایت دی ، ہم مفلس تھے خدا نے آپ کے ذریعہ غنی بنادیا، لہذا اب ہمارے اموال میں سے جو چاہیں طلب کرلیں۔ ہم حاضر ہیں ، جس کے بعد آیت مودت نازل ہوئی۔
یہ کہہ کر آپ نے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کئے اور رونے لگے یہاں تک کہ ریش مبارک تر ہوگئی اور فرمایا شکر ہے اس پروردگار کا جس نے ہمیں یہ فضیلت عنایت فرمائی ہے۔( دعائم الاسلام
1
ص
67
)۔
805
۔ طاؤس نے آیت مودت کے بارے میں ابن عباس سے سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ سعید بن جبیر کا کہنا تھا کہ اس سے آل محمد کے قرابتدار مراد ہیں
۔ (صحیح
بخاری
4
ص
1819
/
4541
،
3
ص
1289
/
3306
، اس مقام پر محمد کے قرابتداروں کا ذکر ہے، سنن ترمذی
5
ص
377
/
3251
، مسسند ابن حنبل
1
ص
614
/
2599
، احقاق الحق
3
۔
3
، مستدرک حاکم
2
ص
482
/
3659
) ۔
806
۔ ابن
عباس!
جب آیت مودت نازل ہوئی تو لوگوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ یہ قرابتدار کون ہیں جن کی مودت ہم پر واجب کی گئی ہے ؟ فرمایا علی (ع) ، فاطمہ ! اور ان کے دونوں فرزند ۔( فضائل الصحابہ ابن حنبل
2
ص
669
/
1141
، المعجم الکبیر
3
ص
47
/
2641
، کشاف
3
ص
402
، در منثور
7
ص
348
نقل از ابن المنذر ، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ ، تفسیر فرات
389
،
516
/
520
… شواہد التنزیل
2
ص
189
، الغدیر
2
ص
307
/
1
)۔
807
۔ ابن
عباس!
رسول اکرم نے آیت مودت کی تفسیر اس طرح فرمائی کہ اہلبیت (ع) کے ذیل میں میری حفاظت کرو اور میری وجہ سے ان سے محبت کرو۔
( در منثور
7
ص
348
نقل از ابونعیم ، دیلمی، مجمع البیان
9
ص
43
)۔
808
۔
جابر!
ایک اعرابی رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی حضور مجھے اسلام سکھائیں ؟ فرمایا کہ خدا کی وحدانیت اور میری بندگی اور رسالت کی گواہی دو… کہا اس کا کوئی اجر درکار ہے، فرمایا مودت اقرباء کے علاوہ کچھ نہیں۔
اس نے کہا کہ میرے اقربا آپ کے ؟ میرے اقربا … اس نے کہا ہاتھ بڑھائیے تا کہ میں آپ کی بیعت کروں ، جو آپ اور آپ کے اقربا سے محبت نہ کرے، اس پر خدا کی لعنت ہو… آپ نے فرمایا، آمین ۔( حلیة الاولیاء
3
ص
201
، کفایة الطالب ص
90
)۔
809
۔ ابن
عباس!
رسول اکرم نے مجھے ایک ضرورت سے بھیجتے ہوئے فرمایا کہ جب کوئی حاجت در کار ہو تو علی (ع) اور ان کی اولاد سے محبت کرنا کہ ان کی محبت پروردگار کی طرف سے تمام بندوں پر واجب ہے۔ ( ینابیع المودة
2
ص
292
/
842
)۔
810
۔ رسول اکرم ، جو شخص چاہتاہے کہ عروة الوثقیٰ سے تمسک کرے اسے چاہئے کہ علی (ع) … اور میرے تمام اہلبیت (ع) ، سے محبت کرے
۔ (عیون
اخبار الرضا
2
ص
58
/
216
روایت ابو محمد التمیمی از امام رضا (ع) ، ینابیع المودة
2
ص
268
/
761
) ۔
811
۔ رسول
اکرم!
جو اللہ کی مضبوط رسی سے متمسک رہنا چاہتاہے، اس کا فرض ہے کہ علی (ع) بن ابی طالب (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) سے محبت کرے کہ اللہ بھی عرض اعظم پر ان سے محبت کرتاہے۔( کامل الزیارات ص
51
از جابر عن الباقر (ع))۔
812
۔ امام علی (ع
)!
تمھارا فرض ہے کہ آل نبی سے محبت کرو ، یہ خدا کا حق ہے جسے اس نے تم پر واجب بنایاہے، کیا تم نے آیت مودت کی تلاوت نہیں کی ہے۔( غرر الحکم ص
6169
)۔
813
۔ زاذان نے حضرت علی (ع) کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ آل حم ہمارے درمیان ہے اور ہماری محبت کی حفاظت صرف مومن ہی کرسکتاہے اور اس کے بعد آپ نے آیت مودت کی تلاوت فرمائی
۔ (تاریخ
اصفہان
2
ص
134
/
1309
، کنز العمال
2
ص
290
/
4030
از ابن مردویہ و ابن عساکر ، صواعق محرقہ ص
170
، شواہد التنزیل
2
ص
205
/
838
مجمع البیان
9
ص
43
، الغدیر
2
ص
308
/
6
) ۔
814
۔ امام علی (ع) العروة الوثقی مودت آل محمد کا نام ہے
۔ (
ینابیع المودة
1
ص
331
/
2
روایت حصین بن مخارق عن الکاظم (ع
))
۔
815
۔ امام زین العابدین (ع)! حضرت علی (ع) کی شہادت کے بعد امام حسن (ع) نے خطبہ دیا تو حمد و ثنائے الہی کے بعد فرمایا ، ہم ان اہلبیت (ع) میں ہیں جن کی موت کو
اللہ نے واجب قرار دیا ہے اور آیت مودت ہی ہے۔( مستدرک حاکم
3
ص
189
/
4803
، روایت عمر بن علی ، مجمع الزوائد
1
ص
203
/
14798
روایت ابوالطفیل عن الحسن (ع) ،تاویل الآیات الظاہرہ ص
530
روایت حسن بن زید)۔
816
۔امام حسین (ع
)!
آیت مودت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جن قرابتداروں سے ارتباط کا حکم دیا گیا ہے اور ان کا حق عظیم ہے اور سارا خیر انھیں میں ہے وہ ہم اہلبیت (ع) ہیں کہ ہمارا حق ہر مسلمان پر واجب ہے۔( تاویل الآیات الظاہرہ ص
531
روایت عبدالملک بن عمیر )۔
817
۔ حکیم بن
جبیر!
میں نے امام سجاد (ع) سے اس آیت موت کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا کہ ہم اہلبیت (ع) پیغمبر کی قرابت ہے۔( تفسیر فرات کوفی ص
392
/
523
)۔
818
۔
ابوالدیلم!
جب حضرت علی (ع) بن الحسین (ع) کو قیدی بناکر لایا گیا اور دمشق کے دروازہ پر کھڑا کردیا گیا تو ایک مرد شامی نے آکر کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے تمھیں قتل کیا اور تمھارا خاتمہ کردیا اور فتنہ کی سینگ توڑدی تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو نے قرآن پڑھاہے؟ اس نے کہا بیشک۔
فرمایا کیا آل حم پڑھاہے ؟ کہا کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص قرآن پڑھے اور اس سورہ کونہ پڑھے۔
فرمایا مگر تو نے آیت مودت کو نہیں پڑھاہے، اس نے کہا کہ یہ قرابتدار آپ ہی ہیں ؟ فرمایا ، بیشک ( تفسیر طبری
13
/
25
، العمدة ص
51
/
46
، الغدیر
2
ص
409
/
8
)۔
819
۔ سلام بن
المستنیر!
میں نے امام باقر (ع) سے پوچھا کہ آیت مودت کا مفہوم کیا ہے ؟ توفرمایا کہ یہ مودت اہلبیت (ع) پیغمبر کے لئے خدا کی طرف سے ایک فریضہ ہے۔( محاسن
1
ص
240
/
441
دعائم الاسلام
1
ص
68
)۔
820
۔ عبداللہ بن عجلان نے امام باقر (ع
) سے
آیت مودت کی تفسیر میں یہ فقرہ نقل کیاہے کہ قربیٰ سے مراد ائمہ ہیں
۔ (کافی
1
ص
413
/
17
محاسن
1
ص
241
/
2
۔
821
۔ امام باقر (ع
)”
قل ما سئلتکم من اجوفہم لکم
“کے
ذیل میں فرماتے ہیں کہ اجر سے مراد اقربا کی محبت ہے جس کے علاوہ کسی شے کا سوال نہیں کیا گیاہے اور اس میں بھی تمھارا ہی فائدہ ہے کہ اس سے ہدایت حاصل کرتے ہو، اس
کے طفیل میں نیک بخت بنتے ہو اور عذاب روز قیامت سے نجات پاتے ہو
۔ (ینابیع
المودة
1
ص
316
/
5
) ۔
822
۔ فضیل نے امام (ع) باقر سے نقل کیا ہے کہ آپ نے لوگوں کو خانہ کعبہ کے گردطواف کرتے دیکھ کر فرمایا کہ یہ طواف تو جاہلیت میں بھی ہورہا تھا ، مسلمانوں کا فرض تھا کہ طواف کرنے کے بعد ہمارے پاس آکر اپنی ولایت و مودت کا ثبوت دیتے اور اپنی نصرت پیش کرتے جیسا کہ پروردگار نے کہا
ہے”
خدایا لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے، سورہٴ ابراہیم ص
37
(کافی
1
ص
392
/
1
) ۔
823
۔ امام باقر (ع
)!
جب رسول اکرم کا انتقال ہوا تو آل محمد نے انتہائی سخت رات گذاری اور اسی عالم میں ایک آنے والا آیا جس کی آواز سنی گئی لیکن اسے نہیں دیکھا گیا اور اس نے کہا کہ سلام ہو تم پر اے اہلبیت (ع) اور رحمت و برکت الہی تم پر ، تم وہ امانت ہو جسے امت کے حوالہ کیا گیا ہے اور تمھارے لئے واجب مودت اور فریضہ اطاعت ہے۔( کافی
1
ص
445
/
19
روایت یعقوب بن سالم )۔
824
۔ اسماعیل بن
عبدالخالق!
میں نے امام صادق (ع) کو ابوجعفر احول سے یہ کہتے ہوئے سناہے ، کیا تم بصرہ گئے تھے؟ عرض کی جی ہاں !
فرمایا وہاں لوگوں کی رفتار ہماری جماعت میں داخلہ کی کیا تھی؟ عرض کی بہت تھوڑی ، لوگ آپ کی طرف آرہے ہیں مگر بہت کم۔
فرمایا نوجوانوں پر توجہ دو کہ یہ ہر نیکی کی طرف تیزی سے دوڑتے ہیں، اس کے بعد فرمایا کہ وہاں لوگ آیت مودت کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟
عرض کی کہ میں آپ پر قربان، ان کا خیال ہے کہ رسول اکرم کے تمام قرابتدار مراد ہیں !
فرمایا جھوٹے ہیں، اس سے مراد صرف ہم اہلبیت (ع) اصحاب کساء علی (ع) و فاطمہ (ع) اور حسن (ع) و حسین (ع) ہیں ۔( کافی
8
ص
93
/
66
، قرب الاسناد ص
128
/
450
)۔
825
۔ امام صادق (ع
)!
بعض اوقات انسان ایک شخص کو دوست رکھتاہے اور اس کی اولاد سے نفرت کرتاہے تو پروردگار نے چاہا کہ ہماری محبت کو واجب قرار دیدے کہ جو لیلے اس نے ایک واجب کو لیاہے اور جس نے چھوڑ دیاہے اس نے ایک واجب کو چھوڑا ہے۔( محاسن
1
ص
240
/
440
روایت محمد بن مسلم)۔
826
۔ امام ہادی (ع
)!
زیارت جامعہ میں فرماتے ہیں ، تم پر میرے ماں باپ قربان تمھاری محبت کے ذریعہ ہی پروردگار نے ہمیں آثار دین کی تعلیم دی ہے اور ہماری تباہ ہوجانے والی دنیا کی اصلاح کی ہے، آپ کی محبت ہی سے کلمہ کی تکمیل ہوئی ہے، نعمت باعظمت ہوئی ہے اور افتراق میں اجتماع پیدا ہوا ہے آپ کی محبت ہی سے واجب اطاعت قبول ہوئی ہے اور خود آپ کی موت بھی واجبات میں ہے ۔( تہذیب
6
ص
100
/
177
)۔
827
۔ دعائے
ندبہ!
خدا یا اس کے بعد تو نے پیغمبر کا اجر اپنی کتاب میں اہلبیت (ع) کی محبت کو قرار دیا ہے اور فرمایاہے کہ میں ” مودت القربیٰ کے علاوہ کوئی اجر نہیں چاہتاہوں“ اور ” میں نے جو اجر مانگاہے وہ تمھارے ہی لئے ہے“ اور ” میں جس اجر کا سوال کرتاہوں وہ صرف ان کیلئے ہے جو خدا کے راستہ کو اختیار کرنا چاہیں“ اہلبیت (ع) ہی تیرا راستہ اور تیری رضا کا مسلک ہی ں۔( بحار ص
102
/
105
نقل از مصباح الزائر)۔
نوٹ! اس دعا کی سندیوں نقل کی گئی ہے کہ محمد بن علی بن ابی قرہ کا بیان ہے کہ میں نے اسے محمد بن الحسین بن سفیان بزوفری کی کتاب سے نقل کیا ہے اور یہ دعا حضرت صاحب العصر (ع) کی ہے جسے چاروں عیدوں کے دن پڑھاجاتاہے۔