read

2۔ تمسک

828
۔ رسول
اکرم!
میں اور میرے اہلبیت (ع) جنت کے ایک شجر کے مانند ہیں جس کی شاخیں اس دنیا میں بھی ہیں لہذا اگر کوئی شخص ہم سے متمسک ہوگیا تو گویا اس نے پروردگار کے راستہ کو پالی۔( ذخائر العقبیٰ ص
16
از عبدالعزیز باسنادہ ینابیع المودة
2
ص
113
/
366
ص
439
/
209
829
۔ رسول
اکرم!
جو میرے بعد میری عترت سے وابستہ رہے گا اس کا شمار کامیاب لوگوں میں ہوگا ۔( کفایة الاثر ص
22
روایت ابن عباس)۔
830
۔ رسول
اکرم! میرے
بعد بارہ امام ہوں گے جن میں سے نو حسین (ع) کے صلب سے ہوں گے اور ہمیں میں سے اس امت کا مہدی بھی ہوگا، جو میرے بعد ان سے متمسک رہے گا وہ ریسمان ہدایت خدا سے متمسک ہوگا اور جو ان سے الگ ہوجائے گا وہ پروردگار سے الگ ہوجائے گا۔(کفایة الاثر ص
94
از عثمان بن عفان)۔
381
۔ رسول
اکرم!
اپنے ائمہ کی اطاعت سے وابستہ رہو اور ان کی مخالفت نہ کرو کہ ان کی اطاعت اطاعتِ خدا ہے اور ان کی معصیت معصیت پروردگار ہے۔( المعجم الکبیر
22
/
374
/
935
/
936
، تہذیب تاریخ دمشق
7
ص
197
، السنتہ لابن ابی عاصم
499
/
1080
در منثور
5
ص
178
نقل از ابن مردویہ روایت ابولیلی اشعری ، احقاق الحق
18
ص
522
/
112
نقل از مودة القربیٰ ) ۔
832
۔ رسول
اکرم!
جو شخص سفینہ نجات پر سوار ہونا چاہتاہے اور عروة الوثقیٰ سے متمسک ہونا چاہتاہے اور خدا کی مضبوط رسی کو پکڑنا چاہتاہے، اس کا فرض ہے کہ میرے بعد علی (ع) سے محبت کرے اور ان کے دشمن سے دشمنی رکھے اور ان کی اولاد کے ائمہ کی اقتدا کرے کہ یہ سب میرے خلفاء اوصیاء اور میرے بعد مخلوقات پر اللہ کی حجت ہیں ، یہی میری امت کے سردار اور جنت کی طرف اتقیاء کے قائد ہیں، ان کا گروہ میرا گروہ ہے اور میرا گروہ اللہ کا گروہ ہے اور ان کے دشمنوں کا گروہ شیطان کا گروہ ہے۔( امالی صدوق (ر) ص
26
/
5
، عیون اخبار الرضا (ع) )۔
833
۔
ابوذر!
میں نے رسول اکرم کو حضرت علی (ع) سے یہ فرماتے سنا ہے کہ جو تم سے محبت کرے گا اور وابستہ رہے گا وہ عروة الوثقیٰ سے متمسک رہے گا۔ (کفایہ الاثر ص
71
، ارشاد القلوب ص
215
834
۔امام علی (ع
)!
مجھ سے رسول اکرم نے فرمایاہے، یا علی (ع) ! تم تمام مخلوقات پر اللہ کی حجت اور عروة الوثقیٰ ہو کہ جو اس سے متمسک جائے گا ہدایت پاجائے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا گمراہ ہوجائے گا ۔( امالی مفید (ر) ص
110
/
9
روایت محمد بن عبداللہ بن علی بن الحسین بن زید بن علی (ع) بن الحسین (ع) از امام رضا (ع) )۔
835
۔ امام علی (ع)! جو ہم سے متمسک ہوگا وہ ہم سے ملحق ہوجائے گا اور جو ہم سے الگ ہوجائے گا وہ ڈوب مرے گا ۔( امالی الطوسی (ر) ص
654
/
1354
، مناقب ابن شہر
1
شوب
4
ص
206
، کمال الدین ص
206
/
20
روایت خشیمہ عن الباقر (ع) ، تحف العقول ص
116
، غرر الحکم
7891
،
8792
836
۔ امام علی (ع
)!
تم لوگ کدھر جارہے ہو اور کہاں بہک رہے ہو جبکہ نشانیاں قائم ہیں اور آیات واضح ہیں، منارہٴ ہدایت نصب ہوچکاہے، تمھیں کدھر بہکایا جارہاہے اور تم کیسے گمراہ ہوئے جارہے ہو جبکہ تمھارے درمیان تمھارے نبی کی عترت موجود ہے جو حق کے
زمان دار، دین کے پرچم اور صداقت کی زبان میں ، انھیں قرآن کی بہترین منزلوں پر رکھو اور ان کے پاس اس طرح وارد ہو جس طرح پیاسے چشمہ پر وارد ہوتے ہیں ۔( نہج البلاغہ خطبہ
87
837
۔ امام علی (ع
)!
تمھارا فرض ہے کہ تقویٰ الہی اختیار کرو اور ان اہلبیت (ع) کی اطاعت کرو جو پروردگار کے اطاعت گذار ہیں، وہ تمھاری اطاعت کے ان لوگوں سے کہیں زیادہ حقدار ہیں اور ہم سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ، حالانکہ ہمارے ہی فضل سے فضیلت حاصل کرتے ہیں اور پھر ہمیں سے مقابلہ کرتے ہیں اور ہمارے حق کو چھین کر ہم کو الگ کردینا چاہتے ہیں ، بہر حال ان لوگوں نے اپنے کئے کا مزہ چکھ لیاہے اور عنقریب اپنی گمراہی کا سامنا کرین گے۔( وقعة صفین ص
4
، شرح نہج البلاغہ ابن الحدید
3
ص
1030
838
۔ امام علی (ع)! اپنے نبی کے اہلبیت (ع) پر نگاہ رکھو، انھیں کے راستہ کو اختیار کرو اور انھیں کے آثار کا اتباع کرو، یہ تمھیں نہ ہدایت سے باہر لے جاسکتے ہیں اور نہ ہلاکت میں واپس کرسکتے ہیں ، یہ ٹھہر جائیں تو ٹھہر جاؤ اور یہ اٹھ جائیں تو اٹھ جاؤ، خبردار ان سے آگے نہ نکل جانا کہ گمراہ ہوجاؤ اور پیچھے بھی نہ رہ جانا کہ ہلاک ہوجاؤ ۔( نہج البلاغہ خطبہ
97
839
۔ امام علی (ع
)!
ہمارے پاس پرچم حق ہے جو اس کے زیر سایہ آجائے گا محفوظ ہوجائے گا اور جو اس کی طرف سبقت کرے گا کامیاب ہوجائے گا اور جو اس سے الگ ہوجائے گا ہلاک ہوجائے گا ۔ اس سے جدا ہوجانے والا گڑھے میں گرا اور اس سے تمسک کرنے والا نجات پاگیا ۔( خصال
633
/
10
روایت ابوبصیر و محمد بن مسلم عن الصادق (ع))۔
840
۔ امام علی (ع
)!
جو ہم سے متمسک ہوگا وہ لاحق ہوجائے گا اور جو کسی دوسرے راستہ پر چلے گا غرق ہوجائے گا ، ہمارے دوستوں کے لئے رحمت الہی کی فوجیں ہیں اور ہمارے دشمنوں کے لئے
غضب الہی کی افواج ہیں ، ہمارا راستہ درمیانی ہے اور ہمارے امور میں حکمت و دانائی ہے۔( خصال
627
/
10
روایت ابوبصیر و محمد بن مسلم عن الصادق (ع) )۔
841
۔ ابوعبیدہ معمر بن المثنئ و غیرہ کا بیان ہے کہ امیر المومنین (ع) نے لوگوں سے بیعت لینے کے بعد پہلا خطبہ ارشاد فرمایا ۔
یاد رکھو کہ میری عترت کے پاکیزہ کردار اور میری اصل کے بزرگ ترین افراد جوانی میں سب سے زیادہ حلیم اور بڑھاپے میں سب سے زیادہ عالم ہوتے ہیں ، ہم وہ اہلبیت (ع) ہیں جن کا علم علم خداسے نکلا ہے اور ہمارا حکم بھی حکم الہی سے پیدا ہوتاہے، ہم قول صادق کو اختیار کرتے ہیں لہذا گر تم نے ہمارے آثار کا اتباع کیا تو ہماری بصیرتوں سے ہدایت پاجاؤگے اور اگر ایسا نہ کروگے تو اللہ تمھیں ہمارے ہی ہاتھ سے ہلاک کردے گا، ہمارے ساتھ پرچم حق ہے جو اس کے ساتھ رہے گا وہ ہم سے مل جائے گا اور جو ہم سے الگ ہوجائے گا وہ غرق ہوجائے گا ، ہمارے ہی ذریعہ ہر مومن کا خوں بہا لیا جاتاہے اور ہمارے ہی وسیلہ سے گردنوں سے ذلت کا طوق اتارا جاتاہے۔
خدا نے ہمیں سے آغاز کیا ہے نہ کہ تم سے اور ہمیں پر اختتام کرے گا نہ کہ تم پر ۔( ارشاد مفید (ر)
1
ص
240
شرح الاخبار
3
ص
562
/
1231
، ینابیع المودة
1
ص
80
/
19
، العقد الفرید
3
ص
119
، احقاق الحق
9
ص
476
، کنز العمال
14
ص
592
/
39679
، کتاب سلیم بن قیس
2
ص
716
842
۔ جابر بن عبداللہ امام صادق (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آل محمد ہی وہ ریسمان ہدایت ہیں جن سے تمسک کا حکم دیا گیا ہے اور واعتصموا … کی آیت نازل ہوئی ہے
۔ (تفسیر
عیاشی
1
ص
194
/
123
) ۔
843
۔ امام صادق (ع
)!
واعتصموا کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ حبل اللہ ہم ہیں“ ( امالی طوسی (ر)
272
/ مجمع البیان
2
ص
805
، ینابیع المودة
1
ص
356
، احقاق الحق
13
ص
84
844
۔ امام صادق (ع
)!
تمھارے لئے کیا مشکل ہے کہ جب لوگ تم سے بحث کریں تو صاف کہہ دو کہ ہم اس طرح گئے ہیں جدھر خدا ہے اور انھیں اختیار کیا ہے جنھیں خدا نے اختیار کیا ہے ، خدا نے حضرت محمد کو اختیار کیا ہے تو ہم نے انھیں کی آل کو اختیار کیا ہے اور ہم اسی انتخاب الہی سے وابستہ ہیں۔( امالی طوسی (ر)
227
/
397
) بشارة المصطفیٰ ص
11
روایت کلیب بن معاویہ الصیداوی )۔
845
۔امام صادق (ع
)!
جوہمارے غیر سے وابستہ ہوکر ہماری معرفت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔( معانی الاخبار ص
399
/
57
روایت ابراہیم بن زیاد، صفات الشیعہ
82
/
4
روایت مفضل بن عمر )۔
846
۔ یونس بن
عبدالرحمان!
میں نے امام ابوالحسن الاول سے عرض کی کہ توحید الہی کا راستہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ
دین میں بدعت مست ایجاد کرنا کہ اپنی رائے سے فیصلہ کرنے والا ہلاک ہوجاتاہے اور اہلبیت (ع) پیغمبر سے انحراف کرنے والا گمراہ ہوجاتاہے اور کتاب خدا اور قول رسول کو چھوڑ دینے والا کافر ہوجاتاہے۔( کافی
1
ص
56
/
10
847
۔ سوید
السائی!
حضرت ابوالحسن (ع) اول نے میرے پاس خط بھیجا کہ میں سب سے پہلے اپنے مرنے کی خبر دے رہاہوں اور اس مرحلہ پر نہ پریشان ہوں اور نہ پشیمان اور نہ قضا و قدر الہی میں کسی طرح کا شک کرنے والا، لہذا تم دین کی مضبوط رسی آل محمد سے وابستہ رہو کہ عروة الوثقیٰ یہی اوصیاء کا سلسلہ ہے لہذا تم ان کے احکام کے آگے سراپا تسلیم رہو۔( قرب الاسناد
333
/
1335